Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6054

Chapter on the Reward of This Ummah

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Reward of This Ummah

Zujajat al-Masabih 6054Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7780
حضرت جعفر صادق اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوش ہو جاؤ خوش ہو جاؤ میری امت کی مثال ایسے نفع بخش بارش کی جیسی ہے کہ بتایا نہیں جا سکتا اس کا آخر کا حصہ خیر ہے یا اس کے اول کا حصہ یا ایسے باغ کے جیسی ہے(14) جس میں سے ایک سال ایک جماعت کو کھلایا گیا دوسرے سال اس سے دوسری جماعت کو کھلایا گیا اور ہوسکتا ہے اس کی آخری جماعت چوڑائی میں زیادہ چوڑی ہو اور گہرائی میں زیادہ گہری اور حسن میں زیادہ حسین ہو۔ وہ امت کیسے ہلاک ہوگی جس کے اول میں میں ہوں اور جس کے درمیان میں مہدی ہیں اور جس کے آخر میں مسیح ہیں۔ اور لیکن اس کے درمیان میں ٹیڑھی جماعتیں ہیں وہ مجھ سے نہیں ہیں اور نہ میں ان سے ہوں۔ (رزین)

[Narrated by Razeen]

Commentary and footnotes (3)

Note 1

or like a garden

(1) His statement: “or like a garden” means like an orchard with fruitful trees, likened to the religion with its laws, pillars, branches, and offshoots. “Fed” means benefited. “Group” means a gathering. “Crooked group” refers to a group, singular in form but plural in meaning. “Not from me” means not among my followers or beloved, and I am not from them, disavowing their disobedience and injustice. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : أو كحديقة والمعنى كمثل بستان ذي أشجار ذات أثمار، وشبه به الدين باعتبار شرائعه وأركانه وشعبه وأغصانه. وقوله: «أطعم بصيغة المجهول، أي انتفع وقوله: «فوج» أي جمع. وقوله: «فيح» بفتح فاء وسكون ياء فجيم، أي فوج. وقوله: «أعوج وأفرد باعتبار لفظ. وقوله: «ليسوا أي ذلك الفوج، وجمعه باعتبار المعنى. وقوله: مني» أي من أتباعي وأحبابي ولا أنا منهم، بل أنا متبرئ منهم وغير راض عنهم بفسقهم وظلمهم. كذا في «المرقاة».

Note 1

(14) قوله: او كحديقة. یعنی ایک ایسا باغ جو درختوں سے ہرا بھرا اور پھولوں سے لدا ہوا ہے دین کو اس کی شریعت اس کے ارکان اس کے شعبہ جات اور اس کے اقسام کے اعتبار سے حدیقہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ وقوله: اطعم صیغہ مجہول ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس جماعت نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ وقوله: فوج. یعنی جماعت وقوله: بفوج. فاء کو زیر (فتحہ) اور باء کو سکون پھر جیم ہے اس سے مراد جماعت ہے۔ وقوله: اعوج. لفظ کا اعتبار کر کے واحد کا صیغہ لایا گیا۔ وقوله: ليسوا. یعنی وہ جماعت مجھ سے نہیں ہے اور اس کو معنی کا اعتبار کر کے جمع لایا گیا ہے۔ وقوله: منى. یعنی میرے تابعین اور میرے پسندیدہ نہیں ہیں۔ ولا انا منهم بلکہ میں ان سے بیزار ہوں اور ان کے فسق و ظلم کی وجہ سے ان سے ناراض ہوں۔ (مرقات)