اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 754
زید بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اپنے دادا حضرت
امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت علی ابن
ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی
تو میں نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
مجھ کو حکم دیا کہ بندے کی کھپچیوں پر مسح کیا کرو، اور تیمّم کی ضرورت نہیں ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ،
بیہقی اور دارقطنی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 657 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 532 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 532
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "He ordered me to wipe over the bandages" indicates that wiping over the bandages is sufficient, and washing the rest of the body with water is not required, according to the opinion of Abu Hanifa. This contrasts with the opinion of Al-Shafi'i, who holds that both wiping and washing the rest of the body with water are necessary. This interpretation is derived from "Al-Mirqat."
Note 1
(۱) قوله: فأمرني أن أمسح على الجبائر : هذا يدل على الاكتفاء بالمسح والغسل، كما هو مذهب أبي حنيفة، دون الجمع بين التيمم وغسل سائر البدن بالماء، كما ذهب إليه الشافعي. أخذته من «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زخم پر پٹی باندھی گئی ہو تو پٹی پر مسح کیا جائے اور بدن کے باقی صحیح حصہ کو دھولیا جائے اور صحیح حصہ بدن کو دھوکر پٹی پر مسح کے بجائے تیمم کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ اس سے وضوء اور تیمم کو جمع کرنا لازم آتا ہے، حالانکہ بدل اور مبدل کو جمع کرنا درست نہیں ہے، یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ پٹی پر مسح کرنے کے بجائے تیمم کیا جائے اور باقی حصہ بدن کو دھولیا جائے۔ (مرقات اور ملتقی)12۔