اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 76
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: درحقیقت ہر انسان پر ایک تصرف تو شیطان کا ہوا کرتا ہے اور دوسرا فرشتہ کا۔ شیطان کا تصرف
(یعنی وسوسہ) برائی پر انسان کو ابھارنا اور حق کا جھٹلانا ہے، اور فرشتہ کا تصرف (یعنی الہام) نیکی پر
ابھارنا اور حق کی تصدیق کرنا ہے، پس جس نے یہ کیفیت پائی تو یقین کرلے کہ یہ اللہ کی طرف سے
ہے، پس اللہ کا شکر بجالائے اور جس نے دوسری کیفیت (یعنی وسوسہ شیطانی) پائی تو اسے چاہئے کہ
شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے، پھر آپ نے (سورہ بقرہ، پ:3، ع:37، آیت
نمبر:268 کی) یہ آیت ﴿الشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ﴾ تلاوت فرمائی (یعنی
شیطان تم کو فقر و فاقہ سے ڈراتا ہے اور بے حیائی اور بری بات یعنی بخل پر ابھارتا ہے)۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2988 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.