اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 890
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ہمراہ سفر کی ایک منزل میں فروکش ہوئے تھے تو بلال رضی اللہ عنہ اذاں دینا چاہے تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ اے بلال! پھر انہوں نے تھوڑی دیر کے بعد ارادہ کیا کہ اذان دیں
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ٹھہر جاؤ اے بلال! یہاں تک کہ ہم کو ٹیلوں کا سایہ دکھائی دینے
لگا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے اس لئے تم
ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت پڑھا کرو جبکہ گرمی کا موسم سخت ہو جائے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی
ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 158 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ترمذی نے وضاحت کی ہے کہ جن ائمہ نے (جیسے امام اعظم، امام احمد اور ابن مبارک وغیرہم رحمہم اللہ) نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ سخت گرمی میں نماز ظہر میں تاخیر کی جائے یہ قول پیروی کیلئے مُرَجَّح اور اولیٰ ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جو مسلک اختیار کیا ہے کہ گرمی کے موسم میں تاخیر ظہر کی رخصت ان لوگوں کیلئے ہے جو دور سے آتے ہیں اس لئے ان کی مشقت دور کرنے کیلئے تاخیر کا حکم دیا گیا حالانکہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جو واقعہ مذکور ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی تائید نہیں کرتا کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جس مسلک کو اختیار کیا ہے اگر وہ درست ہوتا تو سفر کی حالت میں ابراد (یعنی ٹھنڈے وقت میں) نماز ظہر پڑھنا ایک بے معنی بات ہو جاتی، کیونکہ نماز ادا کرنے والے حالت سفر میں تھے اور ایک جگہ جمع تھے اور ان کو اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ دور سے آکر اکٹھے ہوں۔ (یہ پورا مضمون ترمذی میں مذکور ہے۔)