اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 100
مسلم بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے
(سورہ اعراف، آیت نمبر:172، پ:9، ع:22،) کی آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا ۞
پیغمبر! لوگوں کو وہ وقت بھی یاد دلادو) جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پشتوں سے
ان کی نسلوں کو باہر نکالا، اور ان کے مقابلہ میں خود ان کو گواہ بنایا (اس طرح پر کہ ان سے پوچھا) کیا
میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، سب نے کہا کہ ہاں ہم سب (اس بات کے) گواہ ہیں (اور یہ اس غرض
سے کیا کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں قیامت کے دن) تم کہنے لگو کہ ہم اس بات سے بے خبر ہی رہے (یعنی کسی
نے ہم سے کسی قسم کا عہد نہیں لیا تھا)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3075 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4703 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
”یوم اَلَست“ میں آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذریت کو باہر نکال لیا ان میں سے ایک حصہ تو جنتی تھا اور دوسرا دوزخی، جنتی جنت والے عمل پر مرے گا اور دوزخی دوزخ والے عمل پر مرے گا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے سنا ہے اس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا تو تب آپ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کی پشت پر اپنا سیدھا ہاتھ پھیرا اور ان کی ذریت (اولاد) کو باہر نکالا، اور فرمایا کہ میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ جنتیوں کا عمل کریں گے۔ پھر آدم علیہ السلام کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی ذریت کو نکالا اور کہا کہ میں نے ان کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں کا عمل کریں گے، پس ایک شخص نے کہا: پھر کیوں عمل کیا جائے یارسول اللہ! (جو ہونا تھا سو ہو چکا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جب بندہ کو جنت کے لئے پیدا کیا تو اس کو جنتیوں کے کام میں لگا دیا گیا یہاں تک کہ اس کی موت جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر ہوگی اور اس کی وجہ سے اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دیں گے اور اللہ نے جب بندہ کو دوزخ کے لئے پیدا کیا تو وہ دوزخیوں کے کام میں لگا دیا گیا یہاں تک کہ وہ دوزخیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرے گا، اور اس کی وجہ سے اس کو اللہ دوزخ میں داخل کر دیں گے۔ (اس کی روایت امام مالک، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے)۔