اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1022
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار نے کہا کہ ہم میں سے ایک امیر ہو اور آپ (مہاجرین) میں سے ایک
امیر ہو تو ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ گئے اور کہا کہ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو (اب میں تم سے
پوچھتا ہوں کہ) وہ کون شخص ہے (جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے) ان سے سبقت
کرنے کو پسند کرتا ہے، سب نے بیک زبان کہا کہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سبقت
کرنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 777 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view": The Shafi'i school uses the hadith of Abu Hurairah: "The Imam is a guarantor, and the Mu'adhdhin is a trustee. O Allah, guide the Imams and forgive the Mu'adhdhins," to argue that the Adhan is superior to leading prayer because the trustee is in a better position than the guarantor. However, this trustee only manages the timing, while the guarantor oversees the pillars of prayer and acts as an intermediary between the people and their Lord in supplication. How can the two be compared? The Imam is the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him), while the Mu'adhdhin is the successor of Bilal. Moreover, the supplication for guidance is higher than the supplication for forgiveness, as forgiveness implies prior sin, while guidance implies achieving one's goal. This is supported by the following hadiths, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: الإمامة أفضل من الأذان عندنا إلخ واستدلال الشافعي بحديث أبي هريرة: «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، اللهم أرشد الأئمة واغفر للمؤذنين على فضل الأذان على الإمامة؛ لأن حال الأمين أفضل من حال الضمين. وفيه أن هذا الأمين يتكفل الوقت فحسب، وهذا الضامن يتكفل أركان الصلاة، ويتعهد للسفارة بينهم وبين ربهم في الدعاء فأين أحدهما من الآخر؟ وكيف لا، والإمام خليفة رسول الله ، والمؤذن خليفة بلال له. وإن الدعاء بالإرشاد أعلى من الدعاء بالمغفرة؛ لأن الغفران يستدعي سبق ذنب، والإرشاد يستدعي وصول البغية. ويؤيده الأحاديث الآتية بعده، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف(1): امام ابن الہمام رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کرنے پر مداومت فرمائی ہے اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی امامت کرنے کی ہمیشہ پابندی کی ہے۔ ف(2): واضح ہو کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے، اس کے برخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس امامت سے اذان دینا افضل ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان کی فضیلت پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے کہ ”الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ. اَللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ“، امام ضامن ہے۔ (کہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی صحت نماز پر منحصر ہے) اور مؤذن امانت دار ہے۔ (کہ لوگ نمازوں کے پڑھنے اور روزوں کے افطار میں مؤذن پر اعتماد کرتے ہیں) اے اللہ! اماموں کو علم و عمل کی ہدایت فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ امین کی حالت ضامن کی حالت سے افضل ہوتی ہے، اس لئے امام پر مؤذن کو فضیلت حاصل ہے، لیکن اس حدیث کے بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے امام اور مؤذن میں کسی کی افضلیت ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کے حال کو بیان فرما کر ہر دو کیلئے دعائے خیر فرمائی ہے۔ (اشعۃ اللمعات کی عبارت ختم ہوئی) اگر اس حدیث سے کسی ایک کی فضیلت ظاہر کرنا مقصود ہے تو درحقیقت امام ہی کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ مؤذن تو صرف اوقات نماز پر امین ہے حالانکہ امام ارکان نماز کا ضامن ہوتا ہے، نیز امام بوقت دعا، مقتدیوں اور پروردگار کے درمیان سفارت اور واسطہ کا کام دیتا ہے، یہ کہاں اور وہ کہاں؟ امام افضل کیوں نہ ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اور مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کا جانشین ہے، اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ امام اور مؤذن میں افضل کون ہے؟ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اماموں کیلئے راہ حق پر قائم رہنے کی دعا فرمائی ہے اور مؤذنین کیلئے مغفرت کی دعا فرمائی ہے، واضح ہو کہ راہ حق پر قائم رہنے کی دعا مغفرت کی دعا سے اعلیٰ و ارفع ہے کیونکہ مغفرت کا تقاضہ یہ ہے کہ کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں اور ان کی بخشش کی دعا کی جا رہی ہے اس کے برخلاف راہ حق پر قائم رہنے کا تقاضہ مقصد کو پا لینا ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔) امامت کے افضل ہونے کی تائید میں اور حدیثیں ہیں جو ذیل میں آ رہی ہیں۔