Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 922

Chapter on the Virtues of the Adhan, the Excellence of Leading Prayer, and Responding to the Mu'adhdhin

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on the Virtues of the Adhan, the Excellence of Leading Prayer, and Responding to the Mu'adhdhin

Zujajat al-Masabih 922Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1030
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی مؤذن کی طرح کہو جو وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو، اس لئے کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک درود کے بدلے اس پر دس دفعہ رحمت بھیجتے ہیں پھر تم اللہ تعالیٰ سے میرے لئے مقام وسیلہ ملنے کی دعا کرو، کیوں کہ وسیلہ جنت میں ایک ایسا درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کسی ایک ہی کیلئے مخصوص ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا (جس کو مقام وسیلہ ملے گا) تو جو شخص میرے لئے مقام وسیلہ کے ملنے کی دعا کرے گا اس کیلئے میری شفاعت لازم ہوگی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 384 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 657 (unverified) 92% confidence · Validation similarity: 0.926

Mishkat (candidate) 657

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Say what he says

(1) Explanation of the statement: "Say what he says": This means responding to the Adhan is obligatory. However, Al-Hulwani said it is recommended. The obligatory part is responding promptly so as not to miss the congregational prayer, which would be sinful. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. There is further elaboration on this matter in Rad Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فقولوا مثل ما يقول: يعني ويُجيب وجوبا، وقال الحلواني: ندبًا، والواجب الإجابة بالقدم، أي لثلا تفوته الجماعة فيأثم، قاله في الدر المختار»، وفي المقام تفصيل آخر ، مَوْضِعُ بَسْطِهِ هو رد المحتار».

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ تم بھی اسی طرح کہو جو مؤذن کہتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اذان سننے والے پر واجب ہے کہ مؤذن جن الفاظ کو ادا کرے، جواب دینے والا بھی انہی الفاظ کو جواب میں ادا کرتا جائے لیکن امام حلوانی نے کہا ہے کہ مؤذن کا جواب دینا زبان سے مستحب ہے اور واجب یہ ہے کہ اذان سنتے ہی مسجد کی طرف چلتا کہ جماعت فوت نہ ہو۔ اگر اذان سن کر مسجد کو نہ جائے تو ترک واجب سے گنہگار ہوگا۔ (یہ درمختار میں مذکور ہے اور درمختار میں اس جگہ اور بھی تفصیل ہے۔ (جس کی تشریح ردالمحتار میں کی گئی ہے۔)