سیدتنا اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کے غائبانہ میں اس کی غیبت کرنے کو روکے گا
تو اللہ پر یہ حق ہے کہ اسے آگ سے آزاد کر دے۔ (بیہقی، شعب الایمان)۔
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی مسلمان اپنے بھائی کی عزت و آبرو کی مدافعت
کرتا ہے تو اللہ پر یہ حق ہے آتش جہنم کو اس سے ہٹا دے، پھر آپ نے تلاوت فرمائی: وَكَانَ حَقًّا
عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (21-الروم، آیت:47) (اور ہم پر حق ہے مومنین کی مدد کرنا)۔ (بغوی، شرح السنہ)۔
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: کوئی مسلمان نہیں ہے جو کسی مسلمان کی ایسے مقام میں مدد چھوڑ دیتا ہے جس میں
اسکی بے حرمتی کی جارہی ہے اور اسکی آبرو کو گھٹایا جارہا ہو مگر اللہ تعالیٰ اسکی ایسی جگہ مدد چھوڑ دیگا جہاں
وہ اپنی مدد چاہتا ہے اور ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ مدد کرتا ہے جس میں اسکی
عزت پامال کی جارہی ہو اور اسکی بے حرمتی کی جارہی ہو مگر اللہ تعالیٰ اسکی ایسی جگہ مدد فرمائے گا جس
میں وہ اپنی نصرت چاہتا ہے۔ (ابوداؤد)۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی عیب کو دیکھ لے اور اس کی ستر پوشی کرے گویا اس نے زندہ
درگور کی ہوئی لڑکی کو زندہ کیا۔
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی کسی مومن کو کسی منافق سے بچائے اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ
کو بھیجے گا جو اس کے گوشت کو بروز قیامت آتش جہنم سے بچائے گا اور جو کسی مسلمان پر کوئی تہمت
لگائے جس کے ذریعہ اسے عیب دار کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے
گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔ (ابوداؤد)۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری امت میں سے کسی کی کوئی حاجت کو پورا کردے جس کے ذریعہ اسکو
خوش کرنا چاہتا ہو تو اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ کو خوش کیا اور جس
نے اللہ کو خوش کیا تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
انہی سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی غم
زدہ کی فریاد رسی کرے اللہ تعالیٰ اس کیلئے 73 مغفرتیں لکھ دیتا ہے، ایک ایسی ہے جس میں اس کے
تمام معاملات کی درستگی ہے اور 72 اس کیلئے بروز قیامت درجات ہیں۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
ان سے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام مخلوق اللہ کی زیر پرورش ہے تو اللہ کے پاس سب سے زیادہ
محبوب وہ ہے جو اللہ کی عیال کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ نے کہا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی
کرنے پر بیعت کی۔ (متفق علیہ)۔
سیدنا تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے الدين النصيحة (دین صرف خیر خواہی ہے) تین مرتبہ فرمایا: ہم نے عرض
کیا: کس کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ اس کی کتاب کے ساتھ،
اس کے رسول اللہ کے ساتھ، ائمہ مسلمین اور انکے عوام کے ساتھ۔ (مسلم)۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: مومن الفت و محبت والا ہوتا ہے اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جو الفت و محبت نہیں
کرتا اور جس سے الفت و محبت نہیں کی جاتی۔ (احمد، بیہقی: شعب الایمان)۔
ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند بیٹھے ہوئے افراد
کے پاس کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: کیا تم کو تمہارے اچھے تمہارے برے نہ بتاؤں؟ راوی نے کہا:
وہ خاموش رہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا: تو ایک صاحب نے عرض کیا: کیوں نہیں یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے برے اور اچھے لوگوں کے بارے میں بتلائیے تو آپ نے فرمایا: تم
میں کا بہترین وہ ہے جس کے خیر کی امید کی جائے اور جس کے شر سے امن ہو اور تم میں کا برا وہ ہے
جس کے خیر کی امید نہ کی جائے اور جس کے شر سے امن نہ ہو۔ (ترمذی، بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے پاس بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ بہترین
ہو اور اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے ساتھ بہترین ہو۔ (ترمذی، دارمی)۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: بخدا وہ مومن نہیں ہوتا، بخدا وہ مومن نہیں ہوتا، بخدا! وہ مومن نہیں ہوتا، عرض کیا گیا: کون یا
رسول اللہ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ ہے جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو تقسیم فرما دیا ہے جیسا کہ تمہارے
درمیان تمہارے رزق کو تقسیم فرما دیا ہے: اللہ تعالیٰ دنیا اسکو بھی دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے اور اس کو
بھی جس کو وہ نہیں چاہتا اور دین اسی کو عطا کرتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ جسے دین عطا
فرمائے تو وہ اسے پسند فرما لیا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی
بندہ مسلمان نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا دل اور زبان فرمانبردار ہو جائیں، اور وہ مومن نہیں ہوتا یہاں
تک کہ اسکا پڑوسی اس کے ایذا رسانیوں سے امن میں ہو جائے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: جنت میں داخل نہ ہوگا وہ شخص جس کا ہم سایہ اس کی شرارتوں سے امن میں نہ رہے۔ (مسلم)۔
سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا: جبرئیل علیہ السلام مسلسل مجھ کو
وصیت پہنچاتے یہاں تک کہ میں گمان کیا وہ اس کو وارث بنا دیں گے۔ (متفق علیہ)۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ایک صاحب نے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھ کو کیسے معلوم ہو جب کہ میں
بھلائی کروں یا جب کہ میں برائی کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تو اپنے
پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنے تو نے بھلائی کی ہے 1 تو تو نے واقعی بھلائی کی ہے اور جب تو ان
کو یہ کہتے ہوئے سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو واقعی تو نے برائی کی ہے۔ (ابن ماجہ)۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوقراد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن وضو کیا تو آپ کے صحابہ آپ کے وضو کے پانی کو ملنے لگے، تو ان
سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم کو اس پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے عرض
کیا: اللہ اور اس کے رسول کی محبت، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو اس بات
سے خوشی ہوتی ہے 2 کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے
رسول محبت کریں تو وہ جب بات کرے تو سچی بات کرے، جب اسے امین بنایا جائے تو امانت
ادا کرے اور جس کے پڑوس میں رہتا ہے حق پڑوسی کو اچھی طرح نبھائے۔ (بیہقی: شعب الایمان)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Whoever is pleased to love Allah…
(1) His statement: “Whoever is pleased to love Allah…”: Al-Tayyibi said: Meaning, your claim of loving Allah and His Messenger is not fulfilled by wiping ablution water alone, but by truthfulness in speech, fulfilling trusts, and goodness to neighbors. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: من سره أن يحب الله إلخ : قال الطيبي: يريد أن ادعاءكم محبة الله ومحبة رسوله لا يتم، ولا يستتب بمسحالوضوء فقط، بل بالصدق في المقال وبأداء الأمانة وبالإحسان إلى الجار. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وہ مومن نہیں ہے جو خود پیٹ بھر کے کھا لے اشکم
سیر ہو جائے اور اس کا پڑوسی اس کے بازو میں بھوکا ہے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ایک صاحب نے
عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں خاتون کا اس کی نماز روزے صدقات کی کثرت کی وجہ سے چرچا ہوتا ہے
سوائے اس کے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے تو آپ نے فرمایا: وہ آگ
میں ہے، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ کہ فلاں عورت کے روزے اور اس کا صدقہ اور اس کی نماز کی
کمی کا ذکر ہوتا ہے اور وہ پنیر کے ٹکڑے خیرات کرتی ہے اور اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف
نہیں دیتی تو آپ نے فرمایا: وہ جنت میں ہے۔ (احمد، بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن دو جھگڑے والے جن کا پہلے جھگڑا چکایا جائے گا
وہ دو پڑوسی ہوں گے۔ (احمد)۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین ہو تو دو لوگ تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں1؎ یہاں
تک کہ تم لوگوں میں مل جاؤ اس وجہ سے کہ وہ اس کو رنجیدہ کرے گی۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6290 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2184a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
let not two whisper excluding the third…
(1) His statement: “let not two whisper excluding the third…”: An-Nawawi said: Prohibiting two whispering in the presence of a third, or more in the presence of one, is a prohibition of unlawfulness, so it is forbidden for the group to whisper excluding one without permission. This is Ibn Umar, Malik, our companions, and most scholars’ view. It is general for all times, in presence or travel. [As stated in Al-Mirqat] In Al-Musawa, it is said: Most scholars hold this; the prohibition is for etiquette.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فلا يتناجى اثنان دون الآخر إلخ : قال النووي: هذا النهي عن تناجي اثنين بحضرة ثالث، وكذا ثلاثة وأكثر بحضرة واحد، هو نهي تحريم، فيحرم على الجماعة المناجاة دون واحد منهم إلا بإذنه. وهذا مذهب ابن عمر ومالك وأصحابنا وجماهير العلماء، وهو عام في كل الأزمان حضرًا وسفرا. كذا في المرقاة». وقال في «المسوى» على هذا أهل العلم والنهي نهي تأديب.
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کوئی سائل یا ضرورت مند آتا تو آپ ارشاد فرماتے 1 سفارش کرو
اجر دئے جاؤ گے اور اللہ اپنے رسول کی زبان مبارک پر جو چاہے فیصلہ فرماتا ہے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1432 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2627a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Intercede and be rewarded
(1) His statement: “Intercede and be rewarded”: Scholars agree on prohibiting intercession in hudud after reaching the imam. Before, most permit if the interceded is not harmful or evil. For sins without hudud requiring ta’zir, intercession is permissible whether reaching the imam or not, recommended if the interceded is not harmful or evil. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: اشفعوا فلتؤجروا قال النووي: أجمعوا على تحريم الشفاعة في الحدود بعد بلوغها إلى الإمام، وأما قبله فقد أجاز الشفاعة فيه أكثر العلماء إذا لم يكن المشفوع فيه صاحب شر وأذى للناس، وأما المعاصي التي لا حد فيها والواجب التعزير، فيجوز الشفاعة والتشفع فيها، سواء بلغت الإمام أم لا ، ثم الشفاعة فيها مستحبة إذا لم يكن المشفوع فيه مؤذيا وشريرا. كذا في «المرقاة».
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Give people their due ranks
(1) His statement: “Give people their due ranks”: The lowly should not be in the noble’s place, nor the noble in the lowly’s. Preserve each one’s rank; do not equalize servant and master, leader and led. Honor each according to merit and honor. This Hadith initiates understanding scholars’ sayings on prophets’ differentiation, humans over angels, caliphs’ superiority, and similar discussions. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: أنزلوا الناس منازلهم فالوضيع لا يكون في موضع الشريف في منزل الوضيع، فاحفظوا على كل أحد منزلته، ولا تتسووا بين الخادم والمخدوم، والسائد والمسود، وأكرموا كلا على حسب فضله وشرفه. وهذا الحديث مبدأ فهم أقوال العلماء في تفاضل الأنبياء وتفضيل البشر على الملك، وتفضيل الخلفاء، وأمثال ذلك من المباحث. كذا في «المرقاة».
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔