Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے) · Chapter 5

(عرفات سے مزدلفہ کو اور مزدلفہ سے منی کو واپسی کا بیان)

12 narrations · In source reading order

Hadith 3064

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3630
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر نویں ذوالحجہ کو عرفات میں قیام کرنے کے بعد مزدلفہ کے لئے) عرفہ سے روانہ ہوئے اور آپ اطمینان اور وقار کے ساتھ چلے اور (اونٹ پر) آپ کے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو (جب کہ وہ اپنی سواریوں کو تیز ہانک رہے تھے) مخاطب کر کے ارشاد فرمائے اے لوگو! وقار اور اطمینان کے ساتھ چلو، اس لئے کہ (تیز دوڑانے کے لئے) گھوڑوں اور اونٹوں کو مارنا نیکی نہیں ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1920 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله : فاذكروا الله بالتلبية والتهليل والتكبير والثناء والدعوات أو بصلاة المغرب والعشاء. كذا في المدارك».

Note 1

قوله

(۱) قوله: وعليه السكينة: أي أفاض الإمام والناس، وعليهم سكينة والوقار، فإذا وجد فرجة أسرع المشي بلا إيذاء، وقيل: لا يسن الإيضاع، أي لا يسن في زماننا للكثرة الإيذاء «اللباب وشرحه. كذا في رد المحتار» و«فتح القدير» مما في الصحيحين أنه عليه كان يسير العنق، فإذا وجد فجوة نص، وفسر بأن العنق خطا فسيحة محمول على خطا الناقة؛ لأنها فسيحة في نفسها، إذا لم تكن مثقلة جدا.

Note 1

ف: واضح ہو کہ صدر کی حدیث اور بعد میں آنے والی حدیثوں میں عرفات سے واپسی پر اطمینان اور وقار کے ساتھ روانگی کا جو حکم ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ واپسی پر اطمینان اور وقار کے ساتھ روانگی کا جو حکم ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ واپسی میں راستہ کشادہ ہو اور ہجوم کم ہو تو بغیر کسی کو تکلیف پہنچائے تیز سواری کو تیزی سے چلانا درست ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں چونکہ ایذا رسانی کے گناہ سے بچنے کا خیال ہی نہیں رہا ہے، اس لئے سواریوں کو تیز دوڑانا جس سے لازماً لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے ممنوع ہے۔ ردالمحتار۔12

Hadith 3065

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3631
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (عرفات سے مزدلفہ کو) روانہ ہوئے (اس موقع پر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیچھے (جانوروں کو) تیز ہانکنے اور اونٹوں کو سختی سے مارنے کا شور سنا تو آپ نے اپنے چابک کو حرکت دے کر اشارہ کیا اور (لوگوں کو مخاطب کر کے) فرمایا اے لوگو! تم پر اطمینان اور سکون سے چلنا واجب ہے اور تیز دوڑانے (کے لئے جانوروں کو مارنا) نیکی نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1671 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3066

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3632
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مزدلفہ سے (جب منی کے لئے) روانہ ہوئے تو آپ وقار اور متانت سے چلے اور لوگوں کو بھی حکم دیا کہ وہ بھی سکون اور اطمینان سے چلیں البتہ (جب آپ وادی محسّر میں جہاں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا تو) وادی محسّر سے تیزی سے گزر گئے اور (جب منی میں پہنچے تو) لوگوں کو حکم دیا کہ اپنے برابر کنکریوں سے رمی کریں اور آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا (مناسک حج کو اچھی طرح سمجھ لو اور دریافت کرلو) شائد کہ آئندہ سال میں تم کو نہ دیکھ سکوں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔

Hadith 3067

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3633Noor 3634Noor 3635
ابن عباس رضی اللہ عنہ (اپنے بھائی) فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فضل (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے جب لوگ (وقوف عرفات کے بعد، مزدلفہ جاتے ہوئے) شام کے وقت اور مزدلفہ میں قیام کے بعد صبح (منی کے لئے) روانہ ہونے لگے (تو تیز دوڑانے کے لئے سواریوں کو مار رہے تھے اور آوازیں بلند کر رہے تھے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سواری روک دی اور ارشاد فرمایا (تیزی مت کرو) بلکہ سکون اور اطمینان سے چلو، یہاں تک کہ آپ وادی محسّر میں داخل ہوگئے اور آپ نے ارشاد فرمایا یہاں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو تا کہ ان سے جمرہ پر رمی کرسکو۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دسویں ذوالحجہ کو جمرہ اولیٰ پر پہلی) کنکری مارنے تک لبیک فرماتے رہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ (اولیٰ) پہنچنے تک لبیک فرماتے رہے۔ اور بیہقی کی روایت میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ (احرام باندھنے کے بعد) لبیک فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرۂ عقبہ (یعنی اولیٰ) پر (دسویں ذوالحجہ کے دن) پہلی کنکری ماری (اور پہلی کنکری مارنے کے بعد آپ نے لبیک فرمانا بند کر دیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1282b (unverified) 82% confidence · Validation similarity: 0.519

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Until he entered Muhassir

(1) "Until he entered Muhassir" - This valley is part of Mina. The hadith clearly refutes the Shafi'i opinion that collecting the seven pebbles before Fajr is Sunnah, as their reasoning lacks substance. (Al-Maraqi)

Note 2

He continued reciting the Talbiyah

(2) "He continued reciting the Talbiyah" - This proves that Talbiyah should continue until beginning to stone Jamrat al-Aqabah on the morning of Eid. This is the position of al-Shafi'i, Sufyan al-Thawri, Abu Hanifah, Abu Thawr, and most scholars among the Companions, Tabi'in, and later jurists. Al-Hasan al-Basri said it continues until Fajr prayer on the day of Arafah. Some narrations from Ali, Ibn Umar, Aisha, Malik and the scholars of Madinah say it continues until Dhuhr on the day of Arafah. Ahmad, Ishaq and some early scholars said it continues until completing the stoning of Jamrat al-Aqabah. The strongest evidence supports the majority opinion, while other views lack definitive proof. The narration "until he stoned" may seem to support Ahmad's view, but scholars reconcile it by interpreting it to mean "until beginning to stone." (Al-Nawawi) Therefore, Al-Hidayah states: "One should stop Talbiyah with the first pebble."

Note 1

قوله حتى دخل محسرا

(۱)قوله حتى دخل محسرا : وهو من منى، قال: عليكم بحصي الخذف، والحديث صريح في الرد على الشافعية، حيث قالوا: السنة التقاط هذه السبع قبل الفجر، وعللوه بما لا طائل تحته. قاله في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲)قوله : لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة فيه دليل على أنه يستديم التلبية حتى يشرع في رمى جمرة العقبة غداة يوم النحر، وهذا مذهب الشافعي وسفيان الثوري وأبي حنيفة وأبي ثور وجماهير العلماء من الصحابة والتابعين وفقهاء الأمصار ومن بعدهم. وقال الحسن البصري: يلبي حتى يصلى الصبح يوم عرفة ثم يقطع. وحكي عن علي وابن عمر وعائشة ومالك وجمهور فقهاء المدينة أنه يلبي حتى تزول الشمس يوم عرفة ولم يلب بعد الشروع في الوقوف. وقال أحمد وإسحاق وبعض السلف: يلبي حتى يفرغ من رمي جمرة العقبة، ودليل الشافعي والجمهور هذا الحديث الصحيح مع الأحاديث بعده، ولا حجة للآخرين في مخالفتها، فيتعين اتباع السنة، وأما قوله في الرواية الأخرى: لم يزل يلبي حتى رمی جمرة العقبة فقد يحتج به أحمد وإسحاق المذهبهما، ويجيب المجهور عنه بأن المراد حتى شرع في الرمي ليجمع بين الروايتين قاله النووي، ولذلك قال في الهداية»: ويقطع التلبية مع أول حصاة.

Note 1

ف: واضح ہو کہ صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ مزدلفہ میں قیام کے بعد جب منٰی کو روانہ ہوں تو رمی جمار کے لئے مزدلفہ سے یا راستہ سے کنکریاں لیتے چلیں البتہ یہ کنکریاں کسی بڑے پتھر کو توڑ کر نہ بنانا چاہئے اور مستعملہ یعنی رمی کئے ہوئے کنکریوں سے بھی رمی کرنا جائز نہیں ہے اور اگر کنکریوں کی پاکی میں شبہ ہو تو ان کو دھو لینا چاہئے۔ 12

Hadith 3068

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3636
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ عمرہ کی نیت سے احرام باندھنے والا (احرام باندھنے کے بعد) حجر اسود کو بوسہ دینے تک لبیک کہتا رہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1817 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3069

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3637
عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباسؓ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ (کا احرام باندھنے کے بعد طواف) میں حجر اسود کو جب بوسہ دیتے تو تلبیہ کہنا بند فرما دیتے تھے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 919 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3070

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3638
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا فرمایا۔ مغرب کی نماز تین رکعتیں ادا فرمائیں اور عشاء کی نماز (بطور قصر) دو رکعتیں ادا فرمائیں اور (ان دونوں نمازوں کو ایک اذان اور) ایک ہی اقامت سے ادا فرمایا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1288a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3071

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3639
ابن شہاب رحمہ اللہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ عبیداللہ نے ابن شہاب سے بیان کیا کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ (اس طرح ادا فرمائیں کہ ان دو فرض نمازوں کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، اور مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشاء کی نماز (مسافر ہونے کی وجہ سے قصر کر کے) دو رکعتیں ادا فرمائیں تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی (اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) مزدلفہ میں ایسا ہی (دونوں نمازوں کو ایک ساتھ) پڑھتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1288a (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3072

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3640Noor 3641Noor 3642
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز اس کے مقررہ وقت پر ادا فرماتے تھے خواہ سفر ہو یا حضر اس لئے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ہر نماز اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے سوائے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کے، (آپ ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا فرماتے ہیں اور مغرب کو عشاء کے وقت میں پڑھا ہے) اور (مزدلفہ ہی میں میں نے آپ کو دیکھا کہ) آپ نے نماز فجر (وقت شروع ہوتے ہی اندھیرے میں) ادا فرمائی اور یہ آپ کے روزمرہ کے معمول کے وقت سے پہلے تھا (یعنی آپ روزانہ فجر کی نماز اسفار یعنی روشنی ہونے کے بعد ادا فرماتے لیکن اس روز اندھیرے میں فجر کا وقت شروع ہوتے ہی ادا فرمایا)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے نماز فجر اندھیرے میں اس کے معمولاً وقت (یعنی اسفار) سے پہلے ادا فرمائی ہے۔ اور بخاری اور مسلم نے بالاتفاق یہ بھی روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں یہ دونوں نمازیں (یعنی مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا فرمائی ہیں اور نماز فجر کو صبح صادق شروع ہوتے ہی (اندھیرے میں) ادا فرمایا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1289a (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1682 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

I never saw

(1) "I never saw" - Al-Nawawi said Abu Hanifah used Ibn Mas'ud's statement "I never saw him pray outside its time except..." to prohibit combining prayers while traveling, since Ibn Mas'ud was among the Prophet's closest companions and only reported this one instance of combination.

Note 2

Prayed Fajr earlier

(2) "Prayed Fajr earlier" - This supports Abu Hanifah's view that it is preferable to pray Fajr at the end of its timeframe on other days. (Al-Nawawi)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ما رأيت إلخ: قال النووي: أخذ أبو حينفة الله بقول ابن مسعود: وما رأيته صلى صلاة إلا لميقاتها إلخ على منع الجمع بين الصلاتين في السفر؛ لأن ابن مسعود من ملازمي النبي ، وقد أخبر أنه ما رآه يجمع إلا في هذه الليلة.

Note 2

قوله

(۲) قوله : قبل ميقاتها فيه حجة لأبي حنيفة في استحباب صلاة الفجر في آخر الوقت في غير هذا اليوم. قاله النووي.

Hadith 3073

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3643
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا کہ حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ (نویں ذوالحجہ کو) عرفہ کے دن ہم وقوف عرفات کے موقع پر (ظہر اور عصر کو) کس طرح ادا کریں، یہ اس سال کا واقعہ ہے جس سال حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا تھا (اس وقت سالم اپنے والد حضرت ابن عمر کے ساتھ تھے) سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (یہ سن کر حجاج سے) میں نے کہا اگر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو (زوال کے بعد) اول وقت ملا کر ادا کر (حضرت سالم کے اس جواب کو سن کر ان کے والد) حضرت ابن عمر نے فرمایا سالم نے سچ کہا ہے (اور حجاج جیسے ظالم کے روبرو کلمۂ حق کہہ کر اس کے ظلم سے صحیح و سالم رہا اور اس کی ماں نے اس کا نام جو سالم رکھا وہ درست ہے) کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں ظہر اور عصر کو (باجماعت عرفات میں) ملا کر ادا کرتے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں (یہ سن کر) میں نے حضرت سالم سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی عمل تھا (کہ آپ یہاں ظہر اور عصر کو ملا کر ادا فرمائے ہیں؟) تو حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ہی کرتے ہیں (اور اسی اتباع نبوی میں عرفات میں ظہر اور عصر کو باجماعت ایک ساتھ اول وقت ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کرتے تھے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1662 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Pray Zuhr early

(1) "Pray Zuhr early" - In Al-Nihayah: "Al-Tahjir means takbir in all things." Here it means praying Zuhr and Asr combined at the beginning of Zuhr time. This suggests they were residents (not travelers), indicating this combination is a ritual concession, not due to travel. (Al-Maraqi)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فهجر بالصلاة يوم عرفة: في النهاية»: التهجير التكبير في كل شئ فالمعنى صلى الظهر والعصر : جمعا أول وقت الظهر، والظاهر أن الحجاج وابن عمر وولده كانوا مقيمين، فيفيد أن هذا الجمع جمع نسك لا جمع سفر. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ عرفات میں عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھنا اس دن کی خصوصیت ہے اور یہ جمع بین الظہر والعصر مسافرت کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر اور ان کے صاحبزادے حضرت سالم مقیم تھے اور مقیم ہونے کے باوجود انہوں نے عرفات میں عرفہ کے دن ظہر اور عصر کو حجاج کے ساتھ ملا کر ادا فرمایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جمع بین الصلاتین جمع نُسُک ہے یعنی منجملہ مناسک حج کے ہے، جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12 ف(2): واضح ہو کہ عرفہ کے دن عرفات میں ظہر اور عصر کو ملا کر ادا کرنے کے کئی شرائط ہیں:۔ (1) ایک یہ کہ خلیفۂ وقت یا خلیفہ کا نائب امامت کرے ورنہ سارے حاجی اپنی اپنی جگہ ظہر اور عصر کو اس کے وقت پر ادا کریں اس لئے کہ پورے میدان عرفات میں سوائے وادی عرفہ کے ٹھہرنا درست ہے۔ اور اگر کوئی شخص تنہا ظہر پڑھے تو وہ عصر بھی تنہا ہی ادا کرے۔ (2) دوسری شرط یہ ہے کہ دونوں نمازوں کی ادائی کے وقت حج کا احرام ہو۔ (3) تیسری شرط یہ ہے کہ عرفہ کا دن ہو، اور عرفات کا میدان ہو۔ (4) چوتھی شرط یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہو۔ جس کا امام خلیفہ یا اس کا نائب ہو۔ (5) پانچویں شرط یہ ہے کہ زوال کے بعد پہلے ظہر پڑھی جائے اور پھر نماز عصر۔ درمختار فتاویٰ عالمگیری اور ردالمحتار میں مذکور ہے کہ آج کل مذکورہ شرائط مسجد نمرہ میں ہوتی ہیں۔12

Hadith 3074

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3644
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا کہ جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی رات اپنے اہل بیت کے ضعیف لوگوں یعنی بچوں اور عورتوں کو منیٰ روانہ فرما دیا تھا۔ تاکہ یہ حضرات سورج نکلنے کے بعد ہی اول وقت رمی جمار سے فارغ ہو جائیں اور ازدحام سے محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1678 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I was among those sent ahead

(1) "I was among those sent ahead" - This clearly supports Abu Hanifah's view that standing at Muzdalifah is wajib (obligatory) but not rukn (essential pillar), as sending the weak ahead at night would not be permitted if it were a pillar. Essential pillars cannot be waived due to difficulty - either the entire Hajj is invalidated or postponed if pillars cannot be performed. (Fath al-Qadir)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أنا ممن قدم إلخ : حجة هذا الحديث ظاهر في الدلالة لمذهب أبي حنيفة في أن الوقوف بالمزدلفة واجب عنده، وليس بركن حتى لو تركه بغير عذر يلزمه الدم؛ لأنه لا قدم ضعفة أهله بالليل، ولو كان ركنا لما فعل ذلك؛ لأن الركن لا يسقط للعذر ، بل إن كان عذر يمنع أصل العبادة سقطت كلها أو أخرت، أما أن شرع فيها، فلا تتم إلا بأركانها وكيف، وليست هي سوى أركانها، فعند عدم الأركان لم يتحقق مسمى تلك العبادة أصلا، هذا حاصل ما في فتح القدير».

Note 1

ف: فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر مناسک حج میں سے کوئی واجب عذر کی بناء پر ترک ہو جائے تو اس سے دم لازم نہیں آتا جیسا کہ صدر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات ہی میں بچوں اور عورتوں کو منیٰ روانہ فرما دیا اور ان پر دم بھی نہیں واجب کیا۔ البتہ بغیر عذر کے کوئی رات ہی میں مزدلفہ سے روانہ ہو جائے تو اس پر دم لازم آئے گا۔ اس لئے کہ وقوف مزدلفہ کا وقت صبح صادق کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک ہے۔12

Hadith 3075

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3645
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) حکم دیا تھا کہ عورتوں اور سامان کو مزدلفہ سے صبح صادق کے ساتھ ہی تاریکی میں روانہ کر دیا جائے لیکن وہ رمی جمار طلوعِ آفتاب کے بعد ہی کریں۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

Until after sunrise

(1) "Until after sunrise" - This establishes permissibility by this hadith, while the preferred time is established by other narrations. In Al-Nihayah, quoting from Sheikh al-Islam's Al-Mabsut: "After dawn on Eid day is the time of permissibility with some dislike, from sunrise to zawal is the recommended time, from zawal to sunset is permissible without dislike, and nighttime is permissible with dislike." The evidence comes from the Prophet's practice of stoning after sunrise (in Ibn Abbas' narration) and the preferred time (in other narrations). Some argue with Abu Dawud's narration from Aisha that Umm Salamah stoned before dawn, but its chain has issues. Another weak narration from Asma is disconnected. (Fath al-Qadir, Al-Binayah - summarized)

Note 1

قوله

(۱) قوله : مصبحين: فأثبتنا الجواز بهذا الحديث، والفضيلة بما بعده، وفي النهاية نقلا من مبسوط شيخ الإسلام: أن ما بعد طلوع الفجر من يوم النحر وقت الجواز مع الإساءة، وما بعد طلوع الشمس إلى الزوال وقت مسنون وما بعد الزوال إلى الغروب وقت الجواز بلا إساءة، والليل وقت الجواز مع الإساءة. فإن قلت ما وجه الدليل من هذه الأحاديث؟ قلت: الإصباح يوجد بعد الفجر، فيقول: ثبت أول الوقت برواية الطحاوي الله ووقت الأفضل بحديث ابن عباس . فإن قلت: احتج الخصم أيضًا بما رواه أبو داود له من حديث هشام بن عروة عن أبيهعن عائشة أنها قالت: أرسل رسول الله الله أم سلمة ليلة النحر، فرمت الجمرة قبل الفجر، ثم مضت ففاضت، وكان ذلك اليوم الذي يكون رسول الله ﷺ يعني عندها. وروي أبو داود الله أيضًا من حديث ابن جريج قال: أخبرنا عطاء الله قال: أخبرني مخبر عن أسماء أنها رمت الجمرة قلت: إنا رمينا الجمرة في ليلة، قال: إنما كنا نصنع هذا على عهد رسول الله . قلت : حديث أم سلمة روي من طرق، وليس فيها أنه أنه أمرها أن تربي ليلا، ولأن بين مكة وبين جمرة العقبة ميلين، فيجوز أن تكون رمت أول الفجر، ثم صلت الصبح بمكة، وأما حديث أسماء ها فمنقطع برواية جريج عن عطاء قال: أخبرني مخبر عن أسماء فهو منقطع مجهول، ثم أنه لم يذكر أن رسول الله علم بذلك، فلم يكره فتح القدير» و«البناية» ملتقط منهما.