طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما
سے دریافت کیا گیا کہ کیا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں) مغرب کے فرض سے پہلے دو
رکعتیں پڑھی جاتی تھیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے زمانہ میں کسی کو مغرب کے فرض سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
حماد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی رضی
اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ مغرب کے فرض سے پہلے کیا کوئی نماز پڑھنی چاہئے؟ تو حضرت ابراہیم نخعی
رضی اللہ عنہ نے مجھے مغرب کے فرض سے پہلے نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور کہا (کہ میں تم کو اس لئے
منع کر رہا ہوں کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما
مغرب کے فرض سے پہلے (کبھی) کوئی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے، اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں۔)
منصور رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا کہ
حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی کبھی
مغرب کے فرض سے پہلے دو رکعت نہیں پڑھے ہیں۔ (اس کی روایت عبدالرزاق اور مسدد نے کی ہے)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کے فرض کے بعد چھ رکعتیں پڑھے (ان کو صلاۃ اوابین
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کہتے ہیں، درمختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ مغرب کے بعد کے دو رکعت سنت مؤکدہ ان چھ رکعتوں
میں داخل ہیں، پہلے دو رکعت سنت کو ایک سلام سے پڑھے اور بعد کے چار رکعت میں اختیار ہے خواہ
ایک سلام سے پڑھے یا دو سلام سے، صلاۃ اوابین کو پڑھنے کا یہ طریقہ ہے، ملتقیٰ میں لکھا ہے کہ
مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھ کر اس کے بعد چھ رکعتیں صلاۃ اوابین اداء
کرے، ردالمحتار میں مذکور ہے کہ ان چھ رکعتوں کو تین سلام سے اداء کرے تاکہ یہ پوری چھ رکعتیں
ایک نہج پر اداء ہوسکیں، صلاۃ اوابین کو اداء کرنے کا یہ دوسرا طریقہ ہے) ان چھ رکعتوں کو اس طرح
پڑھے کہ ان کے درمیان کوئی ایسی بات نہ کہے جس سے کسی کا دل دکھے یا اس سے اللہ تعالیٰ ناراض
ہوں تو اس کو ان چھ رکعتوں کے اس طرح پڑھنے سے بارہ سال کی عبادت کا ثواب دیا جائے گا۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کے فرض کے بعد بیس رکعت (صلاۃ اوابین
اس طرح) پڑھا کرے (کہ دو رکعت ۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔12۔ سنت مؤکدہ (20) میں
داخل رہیں تو اس کے صلہ میں) اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک (عالی شان) محل تیار کرتے
ہیں (جس میں طرح طرح کی نعمتیں ہوں گی)۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
مکحول رضی اللہ عنہ ایک صحابی کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کے فرض
کے بعد بات کرنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھا کرتا ہے (جو سنت مؤکدہ ہیں):
اور دوسری روایت میں ہے کہ (مغرب کے فرض کے بعد) چار رکعت نماز
پڑھا کرتا ہے (جس میں دو تو سنت مؤکدہ ہیں اور بقیہ دو صلاۃ اوابین اور یہ صلاۃ اوابین کی کم سے کم
تعداد رکعات ہے) تو اس کی یہ نماز اللہ تعالیٰ قبول فرما کر اعلیٰ علیین میں رکھتے ہیں۔
اور حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت (سنت
مؤکدہ) ادا کرنے میں جلدی کیا کرو، اس لئے کہ یہ دو رکعتیں بھی فرض کے ساتھ اٹھائی جاتی ہیں۔
(ان دونوں حدیثوں کی روایت رزین نے کی ہے)
اور بیہقی نے بھی صرف اضافہ کو حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح شعب
الایمان میں روایت کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (بیان جواز کے
لئے یعنی یہ بتلانے کے لئے کہ سنتیں مسجد میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں اور سنتوں کو طویل قرآت سے بھی
پڑھ سکتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے فرض کے بعد (بھی) اس سنت مؤکدہ کو
(مسجد میں) پڑھتے ہیں (اور آپ کی اتباع میں) سب صحابہ بھی (مسجد میں) سنتیں ادا کئے، اس
سنت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر قرآت طویل فرمائے کہ مسجد کے نمازی اپنی اپنی سنتیں
پڑھ کر مسجد سے باہر چلے گئے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی عشاء کے فرض پڑھ کر میرے پاس تشریف لاتے تو دو رکعت سنت
مؤکدہ پڑھتے اور دو نفل (یہ آپ کا ہمیشہ کا عمل درآمد تھا اور کبھی دو نفل کے بعد) آپ اور دو نفل بھی
پڑھتے ہیں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتوں پر جس قدر زیادہ پابندی فرمایا کرتے تھے کہ اس سے بڑھ کر
پابندی سنتوں میں سے کسی سنت پر نہیں فرماتے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1169 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 724a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He was not more consistent in any voluntary prayers than he was in the two rak'ahs of Fajr
(1) His statement: "He was not more consistent in any voluntary prayers than he was in the two rak'ahs of Fajr" – The most emphasized Sunnah prayers are the two rak'ahs of Fajr by consensus. Then come the four rak'ahs before Dhuhr, according to the most correct opinion, due to the Hadith: "Whoever abandons them will not attain my intercession." The rest of the Sunnah prayers are equal in status. Some scholars even considered them obligatory, so they cannot be prayed while sitting or riding, by consensus. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: أشد تعاهدا إلخ والسنن أكدها سنة الفجر اتفاقا ، ثم الأربع قبل الظهر في الأصح؛ لحديث: من تركها لم تنله شفاعتي، ثم الكل سواء. وقيل بوجوبها، فلا تجوز صلاتها قاعدا ولا راكبا اتفاقا. قاله في «الدر المختار».
Note 1
ف: درمختار میں لکھا ہے کہ تمام ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام سنتوں میں سب سے زیادہ
مؤکدہ فجر کی سنتیں ہیں، فجر کی دو سنتوں کے بعد باقی سب سنتوں میں ظہر کی چار سنتیں جو فرض سے پہلے
پڑھی جاتی ہیں نہایت مؤکدہ ہیں، اس لئے کہ حدیث شریف میں ارشاد ہے جو شخص ظہر کی ان چار
سنتوں کو ترک کرتا ہے وہ میری شفاعت سے محروم ہوگا۔ فجر اور ظہر کی سنتوں کے علاوہ بقیہ تمام سنتیں
مؤکدہ ہونے میں برابر ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ فجر کی سنتیں واجب ہیں اس لئے احتیاط یہ ہے کہ بلا
عذر فجر کی سنتوں کو بیٹھ کر یا سواری کی حالت میں پڑھنا جائز نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فجر کے فرض سے پہلے کی دو رکعت سنتیں دنیا سے اور دنیا میں جو
کچھ (مال و دولت اور جاہ و ثروت) ہے ان سب سے کہیں بہتر ہے (یعنی اگر کوئی انہیں خیرات کرے
تو ان کے خیرات کرنے کے ثواب سے دو رکعت سنت فجر پڑھنے کا ثواب زیادہ ہوگا)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کہتے ہیں، درمختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ مغرب کے بعد کے دو رکعت سنت مؤکدہ ان چھ رکعتوں میں داخل ہیں، پہلے دو رکعت سنت کو ایک سلام سے پڑھے اور بعد کے چار رکعت میں اختیار ہے خواہ ایک سلام سے پڑھے یا دو سلام سے، صلاۃ اوابین کو پڑھنے کا یہ طریقہ ہے، ملتقیٰ میں لکھا ہے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھ کر اس کے بعد چھ رکعتیں صلاۃ اوابین اداء کرے، ردالمحتار میں مذکور ہے کہ ان چھ رکعتوں کو تین سلام سے اداء کرے تاکہ یہ پوری چھ رکعتیں ایک نہج پر اداء ہوسکیں، صلاۃ اوابین کو اداء کرنے کا یہ دوسرا طریقہ ہے) ان چھ رکعتوں کو اس طرح پڑھے کہ ان کے درمیان کوئی ایسی بات نہ کہے جس سے کسی کا دل دکھے یا اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوں تو اس کو ان چھ رکعتوں کے اس طرح پڑھنے سے بارہ سال کی عبادت کا ثواب دیا جائے گا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)