ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ نماز کا اجر پانے والا شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ دور
سے مسجد کو آتا ہے پھر اس سے بڑھ کر اجر پانے والا وہ شخص ہے جو اس سے زائد دور سے آتا ہے اور جو
شخص امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا انتظار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو یہ
شخص اس شخص سے زیادہ اجر پانے والا ہے جو (تنہا) نماز پڑھ کر سو جایا کرتا ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ
وسلم) کے اطراف کے گھر خالی ہو گئے تو بنو سلمہ کے قبیلہ کے لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل
ہو جائیں، اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں
کے متعلق مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہو کر آ جانا چاہتے ہیں، بنو سلمہ والوں نے کہا
کہ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ہم نے ایسا ہی ارادہ کر لیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ اے بنی سلمہ کے قبیلہ والو! تم اپنے اپنے گھروں میں رہو تمہارے ہر ہر قدم پر ثواب لکھا جاتا
ہے۔ (مسجد کے نزدیک آ کر اپنے ثواب کو کم نہ کرو)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ سات شخص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا کہ جس دن
اللہ تعالیٰ کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ (1) ایک حاکم عادل، (2) دوسرا جوان صالح جو اللہ کی
عبادت کرتے ہوئے نشوونما پایا ہو، (3) تیسرے وہ شخص جس کا دل (مسجد کی محبت کی وجہ سے) مسجد سے
نکلتے وقت دوبارہ مسجد لوٹنے تک مسجد ہی میں لگا رہتا ہے، (4) چوتھے وہ شخص جو اللہ کے واسطے ایک
دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اور (کسی غرض کے بغیر) اللہ ہی کی محبت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور
اللہ ہی کی محبت سے جدا ہوتے ہیں (5) پانچویں وہ شخص جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے تو اس کے
آنسو بہنے لگتے ہیں، (6) چھٹے وہ شخص کہ جس کو ایک شریف الخاندان اور خوبصورت عورت (زنا کے واسطے)
اپنی جانب بلائے اور وہ خدا کا خوف کر کے (زنا سے باز رہے) اور (7) ساتویں وہ شخص کہ جس نے
(نفل) خیرات کی اور اس کو اس طرح چھپایا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ اس کے سیدھے ہاتھ نے کیا
خرچ کیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 660 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1031a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں چھپا کر خیرات دینے کا جو ذکر ہے وہ نفل خیرات سے متعلق ہے
اور فرض زکوٰۃ بھی چھپا کر دی جا سکتی ہے مگر افضل یہ ہے کہ زکوٰۃ علانیہ دی جائے۔ (مدارک، خازن)۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ (نماز باجماعت کے لئے) اندھیری رات میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کو
قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری سنا دو۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور اس کی روایت ابن ماجہ نے سہل بن سعد اور انس رضی اللہ عنہما سے کی ہے)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جس غرض کیلئے مسجد کو آئے اس کو وہی چیز ملے گی۔ (اگر وہ آخرت
کی غرض سے مسجد کو آیا ہے تو آخرت میں اس کو ثواب ملے گا اور اگر دنیوی غرض سے مسجد کو آئے تو
آخرت میں اس کیلئے کچھ ثواب نہ ہو گا۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو خصی بن جانے کی اجازت دیجئے (تاکہ عورتوں کی خواہش دل سے نکل جائے
کیونکہ اسی خواہش کی وجہ سے انسان نیکی سے دور ہو کر دنیا میں پھنس جاتا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص ہمارے طریقہ پر نہیں ہے جو (کسی کو) خصی بنائے اور نہ وہ شخص جو
خود خصی بنے، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے (اسی لئے روزہ رکھنے سے شہوت انسان کو بے قابو
نہیں کرتی ہے، بخلاف خصی ہونے کے کہ اس سے شہوت ہی ختم ہوجاتی ہے) عثمان بن مظعون رضی
اللہ عنہ نے کہا کہ حضور، ہم کو سیاحت کی اجازت دیں (تاکہ تمام عالم میں پھرنے سے عبرت حاصل
کرسکیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے (کہ
جس میں سیر عالم کے ساتھ ساتھ اشاعت اسلام بھی ہوتی ہے) عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا
کہ ہم کو راہب بن جانے کی اجازت دیجئے (جس سے ہم گوشہ نشین ہوکر دنیا سے دور ہوجائیں)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی رہبانیت نماز کے انتظار میں مسجدوں میں
بیٹھنا ہے (اس لئے کہ یہ ایسی رہبانیت ہے جس میں تعلیم و تَعَلُّم جاری رہنے کے علاوہ دنیا میں رہنے
کے باوجود دنیا سے دور رہتے ہیں۔)
(اس کی روایت بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔)
عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے پروردگار کو بہت حسین صورت میں دیکھا تو اللہ تعالیٰ
نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ وہ اعمال کیا ہیں جن کی فضیلت میں ملاء اعلیٰ کے فرشتے آپس میں بحث
کررہے ہیں؟ میں نے کہا کہ اے اللہ آپ ہی اس کو خوب جانتے ہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے
سینہ میں پائی، پس میں نے آسمانوں اور زمینوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو جان لیا، اور حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ”وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ“ (اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں
تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں)۔ (سورۂ انعام، پ:7، ع:9، آیت نمبر:75)۔
(اس کی روایت دارمی نے مرسلاً کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح عبدالرحمن بن عائش سے
روایت کی ہے۔)
اور ترمذی نے دوسری روایت جس کو ابن عباس اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما
سے کی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا تم
جانتے ہو کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ
ہاں جانتا ہوں (ملاء اعلیٰ کے فرشتے) کفارات یعنی ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گناہوں کے
مٹانے والے ہیں وہ تین عمل ہیں (1) پہلا نمازوں کے بعد (ذکر، دعا، اور دوسری نماز کے انتظار میں
مخلوق سے دوری اور مشغول بحق رہنے کیلئے) مسجدوں میں ٹھہرے رہنا، (2) دوسرا جماعت کے ساتھ
نماز پڑھنے کی غرض سے مسجدوں کو پیدل جانا، (3) تیسرا ناگوار حالات (جیسے بیماری اور موسم سرما)
میں اعضاء وضوء کا کامل طور پر دھونا۔ جس نے ان چیزوں پر عمل کیا تو وہ اچھی طرح (یعنی اطاعت الٰہی کی
لذت، عبادت کی توفیق، رزق حلال، قناعت اور قسمت پر راضی رہتے ہوئے) زندگی بسر کرے گا اور اس
کی موت بھی اچھی طرح (یعنی اعمال کی قبولیت، توبہ، حسن خاتمہ اور موت کے وقت فرشتوں کی خوش
خبری پر) ہوگی اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح وہ اپنی ماں سے پیدا ہونے
کے دن پاک تھا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جب تم نماز پڑھ لو تو یہ دعا کیا کرو:
(اے اللہ! میں تجھ سے نیک کاموں کے کرنے اور برے امور کے ترک کرنے اور مسکینوں
سے محبت رکھنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو اپنے بندوں کو فتنوں (یعنی دنیوی عذاب میں) مبتلا کرنے کا
ارادہ فرمائے تو مجھے اپنی جانب فتنے میں مبتلا کئے بغیر بلالے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی
فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے ان اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندوں کے درجات
بلند ہوتے ہیں اور وہ درجات بڑھانے والے اعمال یہ ہیں (1) پہلا (اپنے اور بیگانے کو) کثرت
سے سلام کرنا (2) دوسرا کھانا کھلانا اور (3) تیسرا رات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ
صُورَةٍ“ میں نے اللہ عزوجل کو نہایت حسین صورت میں دیکھا۔
واضح ہو کہ یہ اور اسی قسم کے مضامین جو اس حدیث میں اور اس حدیث کے بعد والی حدیث میں
مذکور ہیں، ان کا شمار متشابہات میں ہے اور متشابہات کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ
ہے کہ ان پر ایمان رکھا جائے اور ان کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ قرآن حکیم کے
سورہ آل عمران کی وہ آیت جس میں محکمات اور متشابہات کا ذکر ہے، اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے
: ”وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا“ (سورہ آل
عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7) (جو لوگ علم دین میں پختہ کار اور (”فہیم“) ہیں (وہ متشابہات کے بارے
میں) اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے)۔
الغرض متشابہات کے درپے ہونا دینداری کے خلاف اور گمراہ ہونے کی نشانی ہے۔ (مرقات۔)
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز صبح میں اس قدر تاخیر فرمائی قریب تھا کہ ہم آفتاب کو دیکھ لیتے حضور صلی
اللہ علیہ وسلم (حجرۂ مبارک سے) عجلت کے ساتھ نکلے اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی، رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور (خلاف عادت) اختصار کے ساتھ ادا فرمائی اور جب سلام پھیرے تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے ہم کو پکارا کہ اپنی اپنی صفوں میں جیسے ہو ویسے ہی بیٹھے رہو پھر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے فرمایا واضح ہو میں تم کو خبر دوں گا کہ آج
صبح کس چیز نے مجھے تمہارے پاس آنے سے روک رکھا تھا وہ یہ ہے کہ میں رات کو (تہجد کیلئے) اٹھا
میں نے وضوء کیا اور میرے لئے جتنی نماز تہجد مقدر تھی ادا کیا پس مجھے نماز میں غنودگی آ گئی یہاں تک
کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا، بس یکایک میں نے اپنے پروردگار تبارک و تعالیٰ کو نہایت حسین صورت میں
دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے رب!
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب
دیا کہ میں نہیں جانتا، یہ سوال و جواب تین مرتبہ ہوتے رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے
دیکھا اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے
انگلیوں کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی اور مجھ پر ہر ہر چیز منکشف ہوگئی اور میں نے سب کو
پہچان لیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے
رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے
جواب دیا کہ (ملاء اعلیٰ کے فرشتے) کفارات یعنی ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گناہوں کو مٹانے
والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون سے عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل یہ تین ہیں، (1) پہلا
نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کیلئے مسجدوں کو پیدل جانا، (2) دوسرا نمازوں کے بعد (ذکر)
دعاء اور دوسری نماز کیلئے انتظار میں مخلوق سے دوری اور مشغول بحق رہنے کیلئے مسجدوں میں ٹھہرے
رہنا، (3) تیسرا ناگوار حالات (جیسے بیماری اور موسم سرما) میں اعضاء وضوء کا مل طور پر دھونا، اللہ تعالیٰ
نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے اور کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا
کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے درجات یعنی ان کے اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندوں
کے درجے بلند ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون سے عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل
جن سے بندوں کے درجے بلند ہوتے ہیں وہ بھی تین ہیں۔ (1) پہلا کھانا کھلانا، (2) دوسرا نرمی سے
کلام کرنا (یعنی لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا) (3) تیسرا رات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے
ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو دعاء چاہو مانگ لو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا میں نے یہ دعا مانگی ”اللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْئَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ،
(اے اللہ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے، برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں
سے محبت کرنے اور اپنی مغفرت کرنے اور مجھ پر رحمت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب آپ
کسی قوم کو فتنے میں (یعنی عذاب دنیوی میں) مبتلا کرنے کا ارادہ کریں تو فتنے میں مبتلا کئے بغیر مجھے
وفات دیجئے اور میں آپ سے آپ کی محبت مانگتا ہوں اور ان کی محبت بھی مانگتا ہوں جو آپ سے محبت
رکھتے ہیں، اور ان اعمال کی محبت بھی مانگتا ہوں جو مجھے آپ کی محبت سے قریب کردیں۔) اس کے
بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ خواب سچا ہے اس لئے اس کو یاد رکھو اور اسے
دوسروں کو سکھلاؤ۔
(اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور میں نے اس حدیث کے متعلق محمد بن
اسماعیل یعنی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)
ابواُسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: ”اللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْ
(اے اللہ آپ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ
دعا پڑھے: ”اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ“۔
(اے اللہ میں آپ سے آپ کا فضل (یعنی روزی) طلب کرتا ہوں۔) (اس کی روایت مسلم
نے کی ہے۔)
فاطمہ بنت الحسین رضی اللہ عنہما اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہا سے روایت
فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ زہرہ کبریٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل
ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اپنے آپ پر درود اور سلام پڑھتے اور یہ دعاء پڑھتے: ”رَبِّ
اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ“۔ (اے رب میرے گناہوں کو بخش دے اور
میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے نکلتے تو پہلے کی طرح محمد صلی اللہ
علیہ وسلم پر یعنی اپنے آپ پر درود اور سلام پڑھتے اور یہ دعاء فرماتے ”رَبِّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ
لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ“ (اے میرے رب میرے گناہوں کو بخش دے اور اپنے فضل (یعنی روزی
کے) دروازوں کو مجھ پر کھول دے۔) (اس کی روایت ترمذی، امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
اور امام احمد اور ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح ہے کہ سیدتنا فاطمہ زہرہ رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے وقت اور اسی طرح مسجد سے
نکلتے وقت صلیٰ علیٰ محمد وسلم (درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر) کے بجائے: ”بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ
عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ“ فرماتے تھے (میں اللہ کے نام کے ساتھ مسجد میں داخل ہوتا ہوں اور مسجد سے
نکلتا ہوں اور سلام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرماتے تھے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے: ”أَعُوذُ بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
(خدائے بزرگ و برتر کی اور اس کریم ذات کی اور اس کے دیرینہ غلبہ کی پناہ میں آتا ہوں
شیطان مردود سے۔) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص یہ دعاء کرتا ہے تو
شیطان کہتا ہے کہ یہ شخص میرے (شر سے) تمام دن محفوظ رہا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس ہوتے تو بوقت چاشت دن کو تشریف لاتے اور گھر جانے سے قبل
مسجد جا کر مسجد میں دو رکعت نماز ادا فرماتے اس کے بعد مسجد میں تشریف رکھتے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت (تحیہ المسجد) پڑھ لیا
کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 444 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 714a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Let him pray two Rak'ahs before sitting
(1) Explanation of the statement: "Let him pray two Rak'ahs before sitting": In Ad-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar, it is said: "It is recommended to greet the Lord of the mosque, which is two Rak'ahs. Performing an obligatory prayer or another prayer suffices for it without specific intention, and it suffices once per day. It is not invalidated by sitting, according to our view. They said in Al-Hakim: 'If a judge enters the mosque, he may pray the greeting upon entering or leaving, as the purpose is achieved,' as mentioned in Al-Ghayah. As for the hadith in the Sahihayn: 'When one of you enters the mosque, he should not sit until he prays two Rak'ahs,' it explains the first recommendation. This is supported by the hadith of Ibn Hibban in his Sahih: 'O Abu Dharr, the mosque has a greeting, and its greeting is two Rak'ahs. Stand and pray them.' The full explanation is in Al-Hilyah."
Note 1
قوله
(۱) قوله: فليركع ركعتين قبل أن يجلس وقال في الدر المختار ورد المحتار: يسن تحية رب المسجد، وهي ركعتان، وأداء الفرض أو غيره ينوب عنها بلا نية، وتكفيه لكل يوم مرَّةً، ولا تسقط بالجلوس عندنا؛ فإنهم قالوا في الحاكم: إذا دخل المسجد للحكم إن شاء صلى التحية عند دخوله أو عند خروجه؛ لحصول المقصود، كما في الغاية». وأما حديث الصحيحين: إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين، فهو بيان للأولى؛ لحديث ابن حبان في صحيحه: يا أبا ذر إن للمسجد تحية، وإن تحيته ركعتان، فقم فاركعهما. وتمامه في الحلية».
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیہ
المسجد پڑھ لیا کرے، واضح ہو کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیہ المسجد کی نیت سے جو دو رکعتیں ادا کی
جاتی ہیں وہ دراصل تحیہ رب المسجد ہیں جن کو اختصار کی غرض سے تحیہ المسجد کہا جاتا ہے کیونکہ ان دو
رکعتوں سے مقصود تحیۃ المسجد نہیں بلکہ مقصود رب مسجد کا تحیہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہیں۔
درمختار اور ردالمحتار میں کہا ہے کہ تحیۃ المسجد کا ادا کرنا سنت ہے اور تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں ہیں،
مسجد میں داخل ہونے کے بعد کسی فرض نماز یا فرض نماز کے سوا کسی اور نماز کا ادا کرنا تحیۃ المسجد کے ادا
کرنے کا قائم مقام ہو جاتا ہے، اگرچہ کہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی جائے، اور تحیۃ المسجد کا دن میں ایک
دفعہ ادا کرنا پورے اس دن کیلئے کافی ہے، خواہ کتنے ہی مرتبہ مسجد میں آتا جاتا رہا ہو۔ حنفیوں کے پاس
تحیۃ المسجد مسجد میں داخل ہوکر بیٹھ جانے سے ساقط نہیں ہوتی اس لئے اگر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کرلی
جائے تو ادا کی جا سکتی ہے۔
فقہاء نے کہا ہے کہ حاکم وقت اگر فیصلہ کرنے کی خاطر مسجد میں داخل ہو تو خواہ وہ مسجد میں داخل
ہوتے ہی تحیۃ المسجد ادا کرلے یا چاہے تو مسجد سے نکلنے وقت تحیۃ المسجد پڑھ لے، اس سے بھی مقصود
حاصل ہو جاتا ہے کیوں کہ مقصود تو تحیۃ المسجد کا ادا کرنا ہے۔ یہ عنایہ سے ماخوذ ہے، لیکن بخاری اور مسلم
کی مذکور الصدر حدیث کے پیش نظر مذہب حنفی پر شبہ وارد ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مسجد میں داخل ہوکر
بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرنے کا حکم ہے اور حنفی مذہب میں بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کی جا سکتی
ہے جو بظاہر بخاری اور مسلم کی حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی اس مذکور الصدر حدیث میں جو ذکر ہے کہ مسجد میں
داخل ہوکر بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد ادا کرلیا جائے اس سے مراد یہ ہے کہ تحیۃ المسجد بیٹھنے سے پہلے ادا کرنا
اولیٰ ہے ضروری نہیں ہے بلکہ مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے کے بعد بھی تحیۃ المسجد ادا کرسکتے ہیں اس پر ابن
حبان کی حدیث جو اس حدیث کے بعد آرہی ہے دلیل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ مسجد
میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما تھے، ابوذر رضی اللہ عنہ خدمت مبارک
میں بیٹھ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر (رضی اللہ عنہ) مسجد میں آنے والے کیلئے
تحیۃ المسجد (مستحب ہے) اور تحیۃ المسجد یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نماز ادا کی
جائے، پس اٹھو ابوذر اور دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لو۔
ابن حبان کی اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اگر دخول مسجد کے بعد بیٹھ جانے سے تحیۃ
المسجد ساقط ہو جاتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر رضی اللہ عنہ کے بیٹھ جانے کے بعد ان کو تحیۃ المسجد
پڑھنے کا حکم نہ دیتے، اس سے ثابت ہو گیا کہ تحیۃ المسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے کے بعد بھی ادا کی جا سکتی
ہے۔ ردالمحتار میں کہا ہے کہ تفصیل حلیہ میں ملاحظہ ہو۔12
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو
کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرما ہیں تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں جا بیٹھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں (آنے والے کیلئے) تحیۃ المسجد (مستحب) ہے
اور تحیۃ المسجد دو رکعت ہیں اٹھو ابوذر (رضی اللہ عنہ) اور دو رکعت ادا کر لو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں اٹھا اور دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کیا۔ (اس کی روایت ابن حبان نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز پکار کر ڈھونڈتے ہوئے سنے تو وہ اس
سے کہدے کہ خدائے تعالیٰ تجھے تیری گم شدہ چیز واپس نہ کرے کیوں کہ مسجدیں آواز بلند کرنے کیلئے
نہیں بنائی گئی ہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد میں کوئی چیز بیچتا ہے یا خریدتا ہے تو کہو کہ اللہ
تعالیٰ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب تم کسی کو دیکھو کہ مسجد میں کسی گم شدہ چیز کو پکار کر ڈھونڈ رہا
ہے تو کہو کہ خدائے تعالیٰ تیری چیز تجھے واپس نہ کرے۔
(اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔)
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے سے منع فرمایا ہے (اور اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ مسجد میں)
اشعار پڑھے جائیں اور حد جاری کی جائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں کی ہے)۔
اور صاحب جامع الاصول میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی
ہے)۔
اور مصابیح میں بھی جابر رضی اللہ عنہ سے (اسی طرح روایت ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 449 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسجد میں اشعار نہ پڑھے جائیں،
واضح ہو کہ یہ ممانعت ایسے اشعار سے متعلق ہے جن میں فحش اور بیہودہ کلام، فسق و فجور اور لہو و لعب کی
باتیں بیان کی گئی ہوں، اس کے برعکس ایسے اشعار جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
نعت، سچے مضامین اور وعظ و نصیحت مذکور ہوں مسجد میں پڑھے جا سکتے ہیں کیوں کہ شاعر اسلام حضرت
حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس قسم کے اشعار
سنایا کرتے تھے۔ چنانچہ ترمذی اور بخاری کی روایتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے
کہ ” كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصِبُ لِحَسَّانَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ مِنْبَرًا فِى
الْمَسْجِدِ فَيَقُوْمُ عَلَيْهِ وَيَهْجُو الْكُفَّارَ ۔
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کیلئے مسجد نبوی میں منبر رکھتے جس پر وہ کھڑے
ہوتے اور مشرکین کی جواباً ہجو فرمایا کرتے۔)
اس کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے:
”قَالَ : مَرَّ عُمَرُ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ فِى الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَلَحَظَ إِلَيْهِ
فَقَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيْهِ ، وَفِيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلٰى أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ
عَنْهُ، فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ
عَنِّي، اللّٰهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ. قَالَ: نَعَمْ”.
(سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں سے گزرے اور حسان
رضی اللہ عنہ اس وقت اشعار پڑھ رہے تھے عمر رضی اللہ عنہ، حسان رضی اللہ عنہ کو گھور کر دیکھنے لگے تو حسان
رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اشعار پڑھا کرتا تھا جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی مسجد میں سنا کرتے تھے جو
آپ سے بہتر تھے (یہ کہہ کر) حضرت حسان، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا
میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ میں مسجد نبوی میں اشعار
سنایا کرتا تھا یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ اے حسان (رضی اللہ عنہ) تم میری طرف سے
(مشرکین کا) جواب دو (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے) اے اللہ آپ روح القدس یعنی
جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ حسان (رضی اللہ عنہ) کی مدد فرمائیے تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسا ہی فرمایا ہے۔) ترمذی اور بخاری کی ان دونوں حدیثوں سے
واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اشعار سنا کرتے اور حسان رضی
اللہ عنہ اشعار پڑھا کرتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں نعتیہ اشعار پڑھنا جائز ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد میں شعر پڑھنے کے جواز پر ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان
(باب الشعر فی المسجد) ہے اور اس عنوان کے تحت ایسی ہی حدیث بیان فرمائی ہے جو سعید بن المسیب رضی
اللہ عنہ سے ابھی اوپر نقل کی گئی ہے، اس حدیث کے فوائد میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ان الشعر الحق
لايحرم فى المسجد، والذى يحرم فيه ما فيه الخناء والزور، والكلام الساقط”.
(علامہ عینی فرماتے ہیں کہ سچے مضامین والے اشعار کا مسجد میں پڑھنا حرام نہیں ہے البتہ مسجد
میں ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے جن میں فحش، جھوٹ اور بیہودہ باتیں بیان کی گئی ہوں۔)
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو فوائد میں آگے چل کر کئی محدثین اور فقہاء کا قول نقل کیا
ہے جن میں حضرت سعید بن المسیب، امام شعبی، امام ابن سیرین، امام ثوری، امام اوزاعی، امام ابو حنیفہ،
امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ ہیں، ان سب حضرات کا مسجد میں
سچے مضامین والے اشعار کے پڑھنے کے جواز پر یہ قول ہے: ”ولا بأس بانشاد الشعر الذى ليس
فيه هجاء ولانكب عرض احد من المسلمين ولافحش“۔
مسجد میں ایسے اشعار کے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جن میں مسلمانوں کی ہجو،
آبرو ریزی اور فحش باتیں بیان نہ کی گئی ہوں)۔(یہ پورا مضمون عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔)12
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں، ان کے دادا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے کہ مسجد میں (لہو و
لعب) کے اشعار پڑھے جائیں (اور اس سے بھی منع فرمایا ہے) کہ مسجد میں خرید و فروخت کی جائے
اور لوگوں کو جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔(اس کی
روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلاً روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ اپنے دنیوی کاروبار کی باتیں
اپنی مسجدوں میں کیا کریں گے تو تم ان کے ساتھ مت بیٹھا کرو، اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی کوئی ضرورت
نہیں ہے۔(اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد کے ایک کنارے
میں بے چھت کا ایک کشادہ میدان تیار رکھا تھا جس کو بطحاء کہتے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم
دے رکھا تھا کہ جو شخص غُل مچانا چاہے یا بآواز بلند شعر پڑھنا چاہے یا آواز بلند کرنا چاہے وہ مسجد سے
نکل کر اس بطحاء میں آ جائے۔(اس کی روایت امام مالک نے مؤطا میں کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اس بدبودار درخت (یعنی پیاز اور لہسن کو جو پکائے ہوئے نہ ہوں)
کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد میں نہ آئے (یعنی خواہ مدینہ منورہ کی مسجد ہو یا کوئی اور مسجد ہو) کیوں کہ
فرشتوں کو بھی ان چیزوں کی بدبو سے تکلیف پہنچتی ہے جن سے انسان کو تکلیف پہنچتی ہو۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر
میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو (جس کو پکایا نہ گیا ہو) کھالے تو وہ ہرگز مسجدوں میں
نہ آئے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
معاویہ بن قرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں درختوں یعنی پیاز اور لہسن (کے کھانے) سے منع فرمایا
ہے (جو پکائے نہ گئے ہوں) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو پیاز اور لہسن کو (جو
پکائے نہ گئے ہوں) کھائے تو وہ ہماری مسجد کو ہرگز نہ آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تم
پیاز اور لہسن کو کھانا ہی چاہتے ہو تو ان کو پکا کر ان کی بدبو کو مار دو۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ راستہ
سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا بھی امت کے نیک اعمال میں شامل ہے اور میں نے دیکھا کہ امت کے
برے اعمال میں رینٹ اور بلغم بھی ہے جو مسجد میں ہو، اور اس کو دفن نہ کیا گیا ہو۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو زمین میں چھپا دیا جائے
۔(یا اس کو پاک کر دیا جائے)۔(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کیلئے کھڑا ہو تو اپنے سامنے قبلہ کی طرف نہ تھوکے
اس لئے کہ جب تک وہ اپنے مصلی پر رہتا ہے اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرتا رہتا ہے اور سیدھے جانب
بھی نہ تھوکے کیونکہ نمازی کے سیدھے جانب ایک فرشتہ رہا کرتا ہے (جو نمازی کی تائید اور اس کی دعاء
پر آمین کہنے کیلئے متعین رہتا ہے) اور نمازی کو چاہئے کہ اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے،
اور تھوک کو زمین میں چھپا دے۔
اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ اپنے بائیں پیر کے نیچے
تھوکے۔(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے، نمازی جب نماز کیلئے کھڑا ہو تو تعظیم قبلہ کی خاطر اپنے سامنے نہ
تھوکے اور اپنے سیدھے جانب بھی نہ تھوکے کیونکہ سیدھے جانب ایک فرشتہ رہتا ہے البتہ اپنے بائیں
جانب یا پیر کے نیچے تھوکے۔
واضح ہو کہ سامنے اور سیدھے جانب تھوکنے کی ممانعت عام ہے خواہ وہ مسجد میں نماز ادا کر رہا ہو
یا مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھ رہا ہو، ہر دو حالتوں میں نماز کے موقع پر سامنے اور سیدھے جانب تھوکنا
ممنوع ہے۔
نمازی اگر مسجد میں ہو تو خواہ وہ بائیں جانب تھوکے یا قدم کے نیچے تھوکے دونوں حالتوں میں
تھوک کو اپنے کپڑے میں لے لے، اور اگر مسجد کے سوا کسی اور جگہ ہو تو اپنی بائیں جانب یا پیر کے نیچے
زمین پر تھوک سکتا ہے۔ (مرقات)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے مسجد کی دیوار پر جو قبلہ کی طرف تھی رینٹھ دیکھا اور یہ چیز شاق گزری، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے چہرۂ مبارک پر ناراضی کے آثار دکھائی دیئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُٹھ کر خود دست
مبارک سے اس کو کھرچ دیا اور ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو وہ اپنے پروردگار
سے راز و نیاز کر رہا ہے (اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مسلمان کی معراج ہے) اور اس کا پروردگار اس کے
اور قبلہ کے درمیان ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص ہرگز قبلہ کی طرف نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں جانب
یا اپنے قدم کے نیچے تھوکے (جب کہ وہ مسجد میں نہ ہو) اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی
چادر کے ایک کنارے کو لے کر اس میں تھوکا پھر اس کے ایک حصہ کو دوسرے حصہ سے رگڑ دیا اور فرمایا
اس طرح کیا کرے (جب کہ وہ مسجد میں ہو)۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے صحابہ میں سے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے لوگوں کی امامت کی اس نے قبلہ کی جانب تھوکا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ رہے تھے، اس کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے اس کی قوم سے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص آئندہ سے نماز نہ پڑھائے، پھر اس کے بعد جب
اس نے لوگوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو روک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے ارشاد سے اس کو مطلع کیا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ نے
ارشاد فرمایا کہ ہاں میں نے منع کیا ہے، سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ
نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یقیناً تم نے اللہ اور اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (اس کی روایت
ابوداؤد نے کی ہے)۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی کچھ نہ کچھ (نفل) نمازیں گھروں میں بھی پڑھا کرو اور گھروں کو (نماز نہ
پڑھ کر) مثل قبروں کے نہ بناؤ) کیوں کہ قبروں میں مردے نماز نہیں پڑھا کرتے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں چھپا کر خیرات دینے کا جو ذکر ہے وہ نفل خیرات سے متعلق ہے اور فرض زکوٰۃ بھی چھپا کر دی جا سکتی ہے مگر افضل یہ ہے کہ زکوٰۃ علانیہ دی جائے۔ (مدارک، خازن)۔