Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales · Chapter 19

Chapter: Found Property

7 narrations · In source reading order

Hadith 3148a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4136Noor 4137
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کو کوئی لقطہ یعنی گری پڑی چیز مل جائے تو اس کو چاہئے کہ اس پر ایک صاحب عدل یا دو صاحب عدل کو گواہ بنائے اور لقطہ کو نہ چھپائے اور غائب بھی نہ کرے اور اگر اس کے مالک کو پائے تو اس کو واپس کر دے ورنہ (یعنی اگر مالک کو نہ پائے تو) وہ اللہ کا مال ہے اللہ جس کو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔ اور امام طحاوی نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے اور کہا ہے کہ لقطہ پر دو صاحب عدل کو گواہ بنائے بغیر کسی شک کے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1709 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Have witnesses—The apparent command indicates the obligation of witnessing, which is one of Shafi’i’s opinions and Abu Hanifah’s view. There are two opinions on the method of witnessing. First

(1) The statement: Have witnesses—The apparent command indicates the obligation of witnessing, which is one of Shafi’i’s opinions and Abu Hanifah’s view. There are two opinions on the method of witnessing. First: Testify that a lost item was found without mentioning its details or features, lest a liar use this to claim it. Second: Testify to all its characteristics, so if the finder dies, the heir does not dispose of it. Some Shafi’is suggested a middle ground: Mention some characteristics but not all. An-Nawawi said: This is the sounder view. Shafi’i’s second opinion, along with Malik, Ahmad, and others, is that witnessing is not obligatory but recommended for caution, as the Prophet (ﷺ) did not command it in Zayd ibn Khalid’s narration, and if it were obligatory, he would have clarified it. I say: According to the Hanafis, witnessing is for establishing trust and removing liability only. They differed on this. According to Abu Hanifah, if they witness, there is no liability. If they do not witness and the owner confirms the finder took it to return it, this confirmation removes liability. If the owner denies it and the finder did not witness, they are liable. According to Abu Yusuf and Muhammad, trust is established in two ways: the owner’s confirmation of the intent to return it or an oath. In Al-Bada’i: Liability arises if taken for oneself, as it is usurped, with no dispute. The disagreement is on establishing trust, which relates to liability, either through confirmation or witnessing according to Abu Hanifah, or confirmation or an oath according to Abu Yusuf and Muhammad. If it perishes and the owner confirms the intent to return it, there is no liability by consensus, even without witnessing, as trust is established by confirmation. If denied, Abu Yusuf and Muhammad say there is no liability, witnessed or not, and the finder’s word with an oath prevails. According to Abu Hanifah, if witnessed, there is no liability, as witnessing shows it was taken for the owner, establishing trust. If not witnessed, liability applies. Ash-Shawkani said: The statement, He gives to whomever He wills, is evidence for those who say the finder owns the lost property after announcing it for a year, like Abu Hanifah, but only if poor. They cited, It is Allah’s property, saying what is attributed to Allah is owned by those eligible for charity. I say: The Hanafis did not say it is owned after a year’s announcement. They said it remains the owner’s property, and if a poor finder consumes it, it is consumed under the owner’s ownership by legal permission, not ownership, as the permitted does not own but consumes under the owner’s permission. As stated in Bazl Al-Majhood.

Note 1

قوله

(۱)قوله: فليشهد ظاهر الأمر يدلُّ على وجوب الإشهاد، وهو أحد قول الشافعي، وبه قال أبو حنيفة. وفي كيفية الإشهاد قولان، أحدهما: يشهد أنه وجد لقطة، ولا يعلم بالعقاص ولا غيره؛ لئلا يتوسل بذلك الكاذب إلى أخذها. والثاني: يشهد على صفاتها كلها حتى إذا مات لم يتصرف فيها الوارث. وأشار بعض الشافعية إلى التوسط بين الوجهين، فقال: لا يستوعب الصفات، ولكن يذكر بعضها. قال النووي: وهو الأصح والثاني من قول الشافعي: أنه لا يجب الإشهاد، وبه قال مالك وأحمد، وغيرهما قالوا: وإنما يستحب احتياطاً؛ لأن النبي الله لم يأمر به في حديث زيد بن خالد، ولو كان واجبا لبينه. قلت: إن الإشهاد عند الحنفية لعيين جهة الأمانة ورفع الضمان فقط. واختلف فيه، فعند أبي حنيفة اذا أشهد ل ضمان عليه. وإذا لم يشهد وصدقه المالك بأن الملتقط أخذه ليرده على مالكه فتصديقه يرفع الضمان. وأما اذا كذبه وكان الملتقط لم يشهد عليه فعليه الضمان حينئذ أيضًا، وأما عندهما فتحقق الأمانة بوجهين: إما بالتصديق من المالك بأن يصدقه في الأخذ له أو باليمين. قال في البدائع: وأما حالة الضمان فهي أن يأخذها لنفسه؛ لأن المأخوذ لنفسه مغصوب، وهذا لا خلاف فيه، وإنما الخلاف في شيء آخر، وهو أن جهة الأمانة إنما تعرف من جهة الضمان، إما بالتصديق أو بالاشهاد عند أبي حنيفة، وعندهما بالتصديق أو باليمين، حتى لو هلكت فجاء صاحبها وصدقه في الأخذ له لا يجب عليه الضمان بالإجماع، وإن لم يشهد ؛ لأن جهة الأمانة قد ثبتت بتصديقه، وإن كذبه في ذلك فكذا عند أبي يوسف ومحمد رحمنا، أشهد أو لم يشهد، ويكون القول قول الملتقط مع يمينه. وأما عند أبي حنيفة، فإن أشهد فلا ضمان عليه؛ لأنه بالإشهاد ظهر كان الأخذ أن لصاحبه، فظهر أن يده يد أمانة، وإن لم يشهد يجب عليه الضمان انتهى. قال الشوكاني: قوله: يؤتيه من يشاء استدل به من قال: إن الملتقط يملك اللقطة بعد أن يعرف بها حولاً وهو أبو حنيفة، لكن بشرط أن يكون فقيرًا. واستدلوا على اشتراط الفقر بقوله في هذا الحديث: فهو مال الله، قالوا: وما يضاف إلى الله إنما يتملكه من يستحق الصدقة. قلت: لم يقل الحنفية بتملكها بعد التعريف حولاً، بل قالوا: إن اللقطة تبقى على ملك مالكها، وإن أكلها الملتقط حال كونه فقيرًا، فإن الأكل لم يقع على ملكه، بل وقع على ملك مالكه بالإباحة الشرعية، والمباح له لا يكون مالكا، بل يكون أكلا على ملك المبيح. كذا في بذل المجهود.

Note 1

ف: واضح ہو کہ ظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لقطہ کے ملنے پر گواہ بنانا واجب ہے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے البتہ گواہ بنانے کی کیفیت کے بارے میں دو قول ہیں۔ اجمالاً یوں گواہ بنائے کہ اس کو ایک چیز ملی ہے اس کی تفصیل نہ بتائے دوسرے یہ ہے کہ لقطہ کی پوری تفصیل بتائے اس لیے کہ اگر صاحب لقطہ مر جائے تو اس کے وارثین اس میں تصرف نہ کر سکیں۔ احناف کے پاس لقطہ پر گواہ بنانا اس لئے ضروری ہے کہ لقطہ کی حیثیت امانت کی طرح ہے اگر صاحب لقطہ گواہ بنا لے تو تلف ہونے کی صورت میں صاحب لقطہ پر تاوان عائد نہیں ہوگا۔ اگر صاحب لقطہ گواہ نہیں بنایا لیکن مالک لقطہ نے تصدیق کر دی کہ اس نے لقطہ مالک کو واپس کرنے کے لیے اٹھایا ہے تو اس صورت میں لقطہ کے تلف ہونے پر اٹھانے والے پر تاوان عائد نہ ہوگا اور اگر مالک جھٹلا دے کہ لقطہ اٹھانے والے کی نیت ٹھیک نہ تھی اور اس نے گواہ بھی نہیں بنایا تو تلف ہونے کی صورت میں صاحب لقطہ پر تاوان عائد ہوگا۔ لقطہ اٹھانے والے پر یہ ضروری ہے کہ ایک سال تک لقطہ کا اعلان کرتا رہے خصوصاً ایسے مقامات پر جہاں لوگ جمع ہوا کرتے ہیں جیسے جامع مسجد، عیدگاہ اور میلے وغیرہ اور اس مدت کے گذر جانے کے بعد اگر لقطہ اٹھانے والا محتاج ہے تو وہ اس کو استعمال کر سکتا ہے اور اگر وہ غنی ہے تو اس کو خیرات کر دے۔ (ماخوذ از: بذل المجہود)

Hadith 3149a

Volume 2

اردو

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے (تو آپ نے دیکھا کہ) حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما رو رہے ہیں حضرت علیؓ نے دریافت فرمایا کہ کس چیز نے ان کو رلایا ہے؟ بی بی فاطمہؓ فرمائیں کہ بھوک (ان کو رلا رہی ہے) حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے آپ کو بازار میں ایک دینار ملا۔ تو آپ بی بی فاطمہؓ کے پاس تشریف لائے اور ان کو (دینار کے ملنے کی) خبر دی۔ بی بی فاطمہؓ نے فرمایا آپ فلاں یہودی کے پاس جا کر ہمارے لئے آٹا لے آئیے آپ اس یہودی کے پاس گئے اور اس (دینار) سے آٹا خریدا۔ اس یہودی نے کہا (کیا) تم ان حضرت کے داماد ہو جو کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں! حضرت علیؓ نے فرمایا: ہاں! تو اس (یہودی) نے کہا اپنا دینار آپ لے لیجئے اور آٹا بھی (بغیر قیمت کے) آپ کا ہے۔ حضرت علیؓ اس کے پاس سے نکلے اور آٹا لے کر بی بی فاطمہ کے پاس پہنچے اور ان کو (یہودی کا واقعہ) سنایا۔ بی بی فاطمہؓ نے فرمایا اس (دینار) کو فلاں قصاب کے پاس لے جاؤ اور ہمارے لئے ایک درہم کا گوشت لاؤ، حضرت علیؓ (قصاب کے پاس) پہنچے اور اس دینار کو رہن رکھ کر ایک درہم کا گوشت لائے۔ بی بی فاطمہؓ نے آٹا گوندھا چولہا سلگایا اور روٹی پکائی اور اپنے ابّا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کو بلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے بی بی فاطمہؓ نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کو (پہلے) پورا واقعہ سناتی ہوں اگر آپ اس (کھانے) کو ہمارے لئے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں گے اور آپ بھی ہمارے ساتھ کھائیں گے۔ اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے (پھر بی بی فاطمہؓ نے دینار کے ملنے اور اس کے خرچ کرنے کا پورا واقعہ سنایا، واقعہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”بسم اللہ“ کہو اور کھاؤ۔ سب نے کھانا شروع کیا ابھی سب کھانا کھا رہے تھے کہ اس اثناء میں ایک لڑکا اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنے دینار (کے گم ہو جانے) کا اعلان کر رہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو بلایا جائے تو اس کو بلایا گیا۔ اس سے آپ نے (دینار کے بارے میں) دریافت کیا تو اس نے جواب دیا (دینار) بازار میں مجھ سے گر گیا تھا تو (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یا علی! اس قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے فرمایا ہے کہ اس دینار کو میرے پاس بھیج دیں اور درہم (کا جو گوشت لیا گیا ہے اس کی ادائی) میرے ذمہ ہے اس (قصاب) نے دینار کو بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینار اس کے مالک کو دے دیا۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور اس حدیث کی روایت عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں کی ہے اور اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ آپ تین دن تک اس (دینار کے ملنے) کا اعلان فرماتے رہے۔ اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) لقطہ کا اعلان کرتے رہو، اگر کوئی (ایسا شخص جو اس کا مالک ہو) آئے اور تمہیں اس کی تعداد اور وہ ظرف یا تھیلی جس میں وہ رکھی ہوئی ہو اور سربند (یہ سب تفصیل) بتائے تو تم اس کو دیدو ورنہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے (راستہ میں) ایک تھیلی پائی جس میں ایک سو(100) دینار تھے میں (اس کو لے کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو تو میں ایک سال تک اعلان کرتا رہا (مالک نہ ملا) تو میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ایک سال اور اعلان کرتے رہو تو میں ایک سال اور اعلان کرتا رہا (پھر بھی مالک نہ ملا) تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے (تیسری بار) فرمایا: ایک سال اور اعلان کرتے رہو تو میں (تیسرے) سال پھر اعلان کرتا رہا (مالک نہ ملا) تو میں حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ (یا رسول اللہ!) ان (دیناروں) کو پہچان کر لینے والا نہ ملا تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ان کی تعداد، تھیلی اور سربند (سب) یاد رکھو اور اگر ان کا مالک آ جائے (تو اس کو دیدو) ورنہ ان کو (استعمال کرو) اور فائدہ اٹھاؤ۔ اور بزار اور دارقطنی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا (بغیر اعلان کے) لقطہ میں سے کوئی چیز (کا استعمال) جائز نہیں تو ایک سال تک اس کا اعلان کرنا چاہئے۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کو واپس کر دے اگر وہ نہ آئے تو اس کو خیرات کر دے اور (خیرات کرنے کے بعد مالک) آئے تو اس کو اختیار دیدے کہ وہ (خیرات کا) ثواب لے لے یا اپنا حق لے لیوے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ (اگر مالکِ لقطہ نہ آئے) اور لقطہ اٹھانے والا غنی ہے تو اس کو خیرات کر دے اور اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور اس کو اپنی ملکیت میں بھی نہ رکھے۔ اور ابوداود کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ایک سال تک اعلان کرتے رہو اگر اس کا تلاش کرنے والا آجائے تو اس کو دیدو ورنہ پھر اس کی تھیلی اور سربند کو یاد رکھو پھر اس کو کھالو (یعنی استعمال کرلو) اس کے بعد اس کا تلاش کرنے والا آئے تو اس کو (اس کا بدل) دے دو۔ اور بخاری اور مسلم کی روایتوں میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ لقطہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اگر وہ سونے اور چاندی کی چیزیں ہوں (تو کیا کیا جائے؟) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان کے سربند اور تھیلی کو اچھی طرح پہچان لو پھر ایک سال تک ان کا اعلان کرتے رہو اور اگر تم کو (مالک) نہ ملے ان کو خرچ کرلو اور وہ تمہارے پاس بطور امانت کے ہوں گے پھر اس کا طالب آئندہ کسی وقت بھی آجائے تو تم اس کو اس کے (درہم یا دینار) دیدو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1716 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (21)

Note 1

fa

(1) The statement: They ate—There is no indication of not announcing it or not waiting until it is likely the owner will not claim it. The “fa” may indicate mere sequence, not immediate succession, depending on the context. For example, it is said, “So-and-so married, and a child was born to him,” even if the interval is only the pregnancy period, though it is long. Allah says: Have you not seen that Allah sends down water from the sky, and the earth becomes green? [Al-Hajj: 63]. As stated in Al-Marqah. In Nasb Ar-Rayah: Perhaps the interpretation is that announcement has no specific form to be valid, and consulting the Messenger of Allah (ﷺ) publicly is an announcement, supporting sufficing with one announcement. They differed on the announcement period. Muhammad, Malik, and Shafi’i set it at a year, regardless of value, based on some narrations’ apparent meaning. The sounder view according to Abu Hanifah and Abu Yusuf is that it is not fixed but delegated to the finder’s judgment, announcing until they believe the owner will not claim it. This is the chosen view of Shams Al-A’immah As-Sarakhsi, and the fatwa is based on it, as in Jami’ Al-Mudmarat and Al-Jawhara. The mention of a year in the narration is incidental, based on the norm, as stated in Sharh Al-Wiqayah, Umdat Ar-Ri’ayah, and Al-Luma’at.

Note 2

(2) The statement: Announced it for three days—This supports Shams Al-A’immah’s chosen view that fixing a year or otherwise is not binding, but it is until the finder is satisfied the owner has given up. As stated in Fath Al-Qadir.

Note 3

(3) The statement: Announce it, etc.—The sounder view is that no fixed announcement period is binding, and it is delegated to the finder’s judgment due to this narration’s generality. The restriction to a year may be because the property in question required it. As stated in Al-Marqah.

Note 4

(4) The statement: Announced it for a year, etc.—This supports Shams Al-A’immah’s view that a year is not a fixed requirement, but it depends on the finder’s belief about the owner’s intent, varying by the property’s value. Since it was valuable, he was ordered to announce for three years. As stated in Fath Al-Qadir.

Note 5

O Messenger of Allah, Allah says, You will not attain righteousness until you spend of what you love [Aal-E-Imran: 92]. The property I love most is Bayrha’. What do you think, O Messenger of Allah?

(5) The statement: Use it—This narration apparently contradicts the Hanafis’ view that a rich finder may not use it. The narration suggests a rich finder may use it, as Ubayy ibn Ka’b was among the Prophet’s wealthy companions, yet the Messenger of Allah (ﷺ) permitted him to use it. The response is the narration in the two Sahihs from Abu Talhah: “O Messenger of Allah, Allah says, You will not attain righteousness until you spend of what you love [Aal-E-Imran: 92]. The property I love most is Bayrha’. What do you think, O Messenger of Allah?” He said, “Give it to the poor among your relatives.” Abu Talhah gave it to Ubayy and Hassan. This clearly shows Ubayy was poor, though he may have become wealthy later. When circumstances allow for probability, evidence is weakened. As stated in Bazl Al-Majhood and Nasb Ar-Rayah, summarized. In Al-Hidayah: Ubayy’s use was with the leader’s permission, which is permissible. Tirmidhi said after Ubayy’s narration: This is the practice among scholars, the view of Shafi’i, Ahmad, and Ishaq, who said the finder may use it if rich. If found property were only lawful for those eligible for charity, it would not be lawful for Ali ibn Abi Talib, yet he was ordered to consume the dinar when he found it and no one recognized it. Tirmidhi’s point is that use does not mean charity. Imam As-Sarakhsi responded in Al-Mabsut: Regarding Ali’s narration, obligatory charity was not lawful for him, but this was not of that type. It was voluntary charity, permissible for the Prophet’s family according to most of us, so we permit found property for ascendants and descendants, distinguishing between zakat and giving found property in charity. As stated in Bazl Al-Majhood and Al-Arf Ash-Shadhi.

Note 6

Give it in charity, etc.—Al-Qadi said

(6) The statement: Give it in charity, etc.—Al-Qadi said: If someone finds property, announces it for a year, and the owner does not appear, they may own it, whether rich or poor, as held by Shafi’i and Ahmad. Ibn Abbas said: The rich give it in charity and neither use nor own it, as held by Abu Hanifah’s companions, supported by this narration. As stated in Al-Marqah.

Note 7

(7) The statement: It is narrated from Ibn Abbas, etc.—As stated in Al-Marqah.

Note 8

Then consume it, and if its seeker comes, deliver it to them—Al-Hafiz said

(8) The statement: Then consume it, and if its seeker comes, deliver it to them—Al-Hafiz said: Scholars differed on whether, after announcing for a year and disposing of the property, the finder is liable if the owner comes. The majority said the item must be returned if it exists, or its value if consumed. Al-Karabisi, a Shafi’i companion, disagreed, as did Bukhari and Dawud ibn Ali, the Zahiri leader, though Dawud agreed with the majority if the item exists. The majority’s evidence includes the upcoming narration, Let it remain a trust with you, and Muslim’s narration, Note its container and tie, then consume it, and if its owner comes, deliver it to them, and more explicitly, Abu Dawud’s narration: If its seeker comes, deliver it to them; otherwise, note its container and tie, then consume it, and if its seeker comes, deliver it to them. The command to deliver it before and after permitting consumption is the majority’s strongest evidence. As stated in Bazl Al-Majhood.

Note 9

(9) The statement: Deliver it to them—Meaning if the claimant proves its mark, it is lawful to deliver, but not obligatory without proof, according to us. Shafi’i said delivery is obligatory if the mark is proven. According to us, delivery is not judicially required without evidence, but conscientiously, it should be returned. As stated in Sharh Al-Wiqayah and Al-Arf Ash-Shadhi. In Al-Inayah: We say the command in this narration must be interpreted as permission to reconcile with the well-known narration, The burden of proof is on the claimant. If not interpreted as permission but obligation, it would lead to contradiction necessitating abandonment.

Note 10

(10) The statement: Spend it, etc.—This indicates clearly that found property is a trust with the finder. The command to spend on oneself is not for ownership but because its purpose is charity. If the finder is poor and needy, it is permitted to give charity to oneself, as the Messenger of Allah (ﷺ) ordered delivery to the owner after spending, meaning the item if it exists or its value if consumed. As stated in Bazl Al-Majhood.

Note 1

قوله

(۱)قوله: فأكلوا وليس فيه ما يدلُّ على عدم التعريف، ولا على عدم التوقف قدر ما يغلب على الظن أن صاحبه لا يطلبه، فإن الفاء قد تأتي لمجرد البعدية، فتقييد الترتيب، وعلى تقدير أن تكون للتعقيب فهو في كل شيء بحسبه. ألا ترى أنه يقال : تزوج فلان فولد له إذا لم يكن بينهما إلا مدة الحمل، وإن كانت مدة متطاولة، وقال تعالى: ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَةً (الحج: ٦٣). قاله في المرقاة». وقال في «نصب الراية»: ولعل تأويله أن التعريف ليس له صيغة يعتد بها، فمراجعته لرسول الله ﷺ على ملأ الخلق إعلان به ، فهذا يؤيد الاكتفاء بالتعريف مرة واحدة، انتهى. ثم اختلفوا في مدة التعريف قدرها محمد ومالك والشافعي بحول من غير فصل بين القليل وبين الكثير بظاهر بعض الأحاديث. والصحيح عند أبي حنيفة وأبي يوسف أنها غير مقدرة بمدة معلومة، بل هي مفوضة بهذه الأحاديث إلى رأي الملتقط، فيعرفها إلى أن يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك، هذا هو الذي اختاره الشمس الأئمة السرخسي. وفي جامع المضمرات» و «الجوهرة»: عليه الفتوى. وذكرُ السَّنَةِ في الحديث وقع اتفاقا باعتبار الغالب، شرح الوقاية» و «عمدة الرعاية» و«اللمعات» ملتقط منها.

Note 2

قوله

(۲) قوله : عرفه ثلاثة أيام فيه دليل لمختار شمس الأئمة من أن التقدير بحول وغيره ليس بلازم، بل إلى أن تسكن نفسه إلى أن طالبه قطع نظره عنه. كذا في «فتح القدير».

Note 3

قوله

(۳) قوله : عرفها إلخ والصحيح أن شيئًا من تقدير التعريف ليس بلازم، وإن تفويض التقدير إلى رأي الملتقط لإطلاق هذا الحديث. والتقييد بالسنة لعله لكون اللقطة المسئول عنها كانت تقتضي ذلك، كذلك في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤)قوله: فعرفتها حولا إلخ واستدل على ما اختاره شمس الأئمة بهذا الحديث أن ليس السنة بتقدير لازم، بل ما يقع عند المتلقط أن صاحبه يتركه أولا، وهذا يختلف باختلاف خطر المال. ألا ترى أن المال لما كان ذا خطر كبير أمره أن يعرفه ثلاث سنين. قاله في فتح القدير».

Note 5

قوله

(٥)قوله: فاستمتع بها هذا الحديث بظاهره يخالف ما ذهب إليه الأحناف من أنه إذا كان الملتقط غنيا لا يجوز له الانتفاع بها. وهذا الحديث يدلُّ على أن الملتقط إذا كان غنيا يجوز له الانتفاع بها؛ لأن أبي بن كعب كان من مياسير أصحاب النبي له وأغنيائهم، ومع هذا فأباح رسول الله ﷺ الانتفاع بها. فالجواب عنه ما في الصحيحين عن أبي طلحة. قلت: يا رسول الله، إن الله تعالى يقول: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ٩٢) وإن أحب أموالي إلي بيرحاء، فما ترى يا رسول الله ؟ فقال رسول الله : اجعلها في فقراء قرابتك، فجعلها أبو طلحة في أبي وحسان، انتهى. فهذا صريح في أن أبيا كان فقيرًا، لكن يحتمل أنه أيسر بعد ذلك، وقضايا الأحوال متى تطرق إليها الاحتمال سقط منها الاستدلال، بذل المجهود» و «نصب الراية» ملخصا. وقال في «الهداية»: وانتفاع أبي الله كان بإذن الإمام، وهو جائز بإذنه، انتهى. وقال الترمذي عقيب حديث أبي: والعمل عليه عند أهل العلم، وهو قول الشافعي وأحمد وإسحاق قالوا لصاحب اللقطة: إن ينتفع بها إذا كان غنيا. ولو كانت اللقطة لا تحل إلا لمن تحل له الصدقة، لم تحل لعلي بن أبي طالب، وقد أمره عليه بأكل الدينار حين وجده ولم يجد من يعرفه، انتهى. وغرض الترمذي أنه انتفاع به لا تصدق. وقد أجاب عنه الإمام السرخسي في مبسوطه فقال: وأما حديث علي فنقول: إن الصدقة الواجبة كانت لا تحل، وهذا لم تكن من تلك الجملة، بل أنه صدقة نافلة، وهي جائزة لأهل البيت عند أكثرنا، ولذا قلنا بجواز اللقطة على الفروع والأصول، فافترق الزكاة والتصدق باللقطة بذل المجهود و العرف الشذي ملتقط منهما.

Note 6

قوله

(٦)قوله: فليتصدق به إلخ : قال القاضي : إن من التقط لقطة وعرفها سَنَةً ولم يظهر صاحبها، كان له تملكها، سواء كان غنيا أو فقيرًا، وإليه ذهب الشافعي وأحمد. وروي عن ابن عباس لما أنه قال: يتصدق بها الغني، ولا ينتفع بها، ولا يتملكها، وبه قال أصحاب أبي حنيفة ، ويؤيدنا هذا الحديث، أخذته من «المرقاة».

Note 7

قوله

(٧)قوله: روي عن ابن عباس إلخ : كذا في «المرقاة».

Note 8

قوله

(۸) قوله : ثم كلها فإن جاء باغيها فأدها إليه : قال الحافظ واختلف العلماء فيما إذا تصرف في اللقطة بعد تعريفها سنة، ثم جاء صاحبها هل يضمنها له أم لا ؟ فالجمهور على وجوب الرد إن كانت العين موجودة أو البدل إن كانت استهلكت. وخالف في ذلك الكرابيسي صاحب الشافعي، ووافقه صاحباه البخاري وداود بن علي إمام الظاهرية لكن وافق داود الجمهور إذا كانت العين قائمة. ومن حجة الجمهور قوله في الرواية الآتية: ولتكن وديعة عندك»، وقوله أيضًا عند مسلم: فأعرف عفاصها ووكائها، ثم كلها، فإن جاء صاحبها فأدها إليه وأصرح من ذلك رواية أبي داود بلفظ: فإن جاء باغيها فأدها إليه وإلا فاعرف عفاصها ووكائها، ثم كلها، فإن جاء باغيها فأدها إليه فأمر بأدائها إليه قبل الإذن في أكلها وبعده، وهي أقوى حجة الجمهور. كذا في بذل المجهود».

Note 9

قوله

(٩)قوله: فأدها إليه: يعني فإن بين مدعيها علامتها حل الدفع، ولا يجب بلا حجة، هذا عندنا. وعند الشافعي يجب الدفع إن بين العلامة، أي لا يجب عندنا الدفع قضاء بلا بينة، وأما ديانة فيردها شرح الوقاية» و«العرف الشذي» ملتقط منهما، وقال في العناية»: ونحن نقول: الأمر في هذا الحديث وجب حمله للإباحة لأجل العمل بالحديث المشهور، وهو قوله : البينة على المدعي الحديث. فإنه لو لم يحمل على الإباحة وحمل الوجوب لزم التعارض المستلزم للترك.

Note 10

قوله

(۱۰) قوله: فاستنفقها إلخ: وفي هذه الجملة دلالة ظاهرة على أن اللقطة وديعة عند الملتقط، فالأمر بالاستنفاق على نفسه ما كانت على سبيل التمليك، بل لأنها كانت سبيلها التصدق، فإذا كان الملتقط محلا للصدقة فقيرا ذا حاجة أباحله التصدق على نفسه؛ لأن رسول الله له أمر بعد الإنفاق على نفسه إن جاء صاحبها بعد الإنفاق فأدها إليه أي إن كان موجودًا، وبالبدل إن كان مستهلكا. كذا في بذل المجهود».

Note 1

ف: واضح ہو کہ لقطہ کے ملنے پر اعلان کرنے کے بارے میں احادیث شریفہ میں مختلف مدتوں کا ذکر ہے۔ ایک حدیث میں ایک سال، ایک اور حدیث میں تین سال دوسری حدیث میں تین دن اعلان کرتے رہنے کا ذکر ہے۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ لقطہ ملنے پر اعلان کی کوئی مقررہ مدت نہیں بلکہ لقطہ اٹھانے والے کی رائے پر اس کا انحصار ہے، لقطہ اٹھانے والا اتنی مدت تک اعلان کرتا رہے یہاں تک کہ اس کو گمان غالب نہ آجائے کہ اب لقطہ کا مالک اس کو طلب نہیں کرے گا۔ شمس الائمہ سرخسی نے اسی کو اختیار کیا ہے اور جامع المضمرات اور جوہرہ میں اسی پر فتویٰ دیا گیا ہے۔ (یہ شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ اور لمعات سے ماخوذ ہے)۔

Hadith 3150a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4146
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اجازت دی ہے کہ لاٹھی، کوڑا، رسّی اور اس طرح کی دوسری (معمولی) چیزیں بطور لقطہ کے مل جائیں تو آدمی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1717 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Whoever finds their property is most entitled to it.

(1) The statement: Use it—Imam As-Sarakhsi said in Al-Mabsut: Found items are of two types. First: Those the owner is unlikely to seek, like pomegranate peels or date pits. Second: Those the owner is likely to seek. The first type may be taken and used, but if the owner finds it in the finder’s possession after collecting it, they may take it, as the owner’s discarding it permits use, not ownership, as ownership from an unknown person is invalid. The owner’s ownership does not cease by permission, but the permitted may use it while the owner’s ownership remains. If the owner finds it, they find their property, as the Prophet (ﷺ) said, “Whoever finds their property is most entitled to it.” The second type, which the owner seeks, must be preserved and announced to return to its owner. Summarized. I say: If a stick, whip, or rope is among trivial items the owner does not seek, it need not be announced, and the finder may use it. If it is of the second type, it may not be used, and announcement is required based on its value. As stated in Bazl Al-Majhood.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ينتفع به قال الإمام السرخسي في مبسوطه ثم ما يجده نوعان، أحدهما ما يعلم أن مالكه لا يطلبه كقشور الرمان والنوى والثاني: ما يعلم أن مالكه يطلبه، فالنوع الأول له أن يأخذه وينتفع به إلا أن صاحبه إذا وجده في يده بعد ما جمعه كان له أن يأخذ منه؛ لأن إلقاء ذلك من صاحبه كان إباحة الانتفاع به للواجد ولم يكن تمليكا من غيره، فإن التمليك من المجهول لا يصح، وملك المبيح لا يزول بالإباحة، ولكن للمباح له أن ينتفع به مع بقاء ملك المبيح فإذا وجده في يده فقد وجد عين ملكه ، قال : من وجد عين ماله فهو أحق به»، وأما النوع الثاني فهو ما يعلم أن صاحبه يطلبه، فمن يرفعه فعليه أن يحفظه ويعرفه ليوصله إلى صاحبه ملخصا . قلت: فالعصا والسوط والحبل إن كان بحيث تدخل في الأشياء التافهة التي لا تطلبه المالك، فحكمها أنه لا يجب تعريفها، ويجوز الانتفاع بها للملتقط. وإن كان من النوع الثاني فلا يجوز الانتفاع بها، ويجب تعريفها على حسب قيمتها. كذا في بذل المجهود».

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی چیز اگر لقطہ میں مل جائے تو اس کا اعلان ضروری نہیں ہے معمولی چیز کی حد میں علماء کا اختلاف ہے اور تحقیق یہ ہے کہ دس درہم یا دینار یا اس سے کم مالیتی چیز معمولی چیز میں شمار ہوگی۔ (لمعات)۔ ف(2): امام سرخسی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ لقطہ میں جو چیزیں ملتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں (1) ایسی چیزیں جو معمولی ہوں اور ان کا مالک ان کو طلب نہ کرے جیسے انار کے چھلکے (یا اور پھلوں کے چھلکے) اور پھلوں کی گٹھلیاں تو ایسی چیزیں اٹھالی جاسکتی ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اگر مالک ان کو اٹھالینے کے بعد یہ کہے کہ میں ان کو کسی ضرورت کے لئے ڈال رکھا ہے تو اس کو حق ہے کہ واپس لے لے۔ اس وجہ سے ایسی چیزوں کو مباحات کہتے ہیں کہ ان کو اٹھالیا جاسکتا ہے لیکن اٹھانے سے اٹھانے والا ان کا مالک نہیں بن سکتا کیونکہ ایسی چیزوں کا شمار مجہولات میں ہے اور مجہول چیز کی ملکیت درست نہیں ان کا مالک اصل شخص ہی ہوگا اس لئے دوسروں کے لینے کے بعد بھی وہ اپنی چیز کو واپس لے سکتا ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کسی کو اپنا مال مل جائے تو وہ اس کا زیادہ مستحق ہے۔ البتہ دوسروں کے لئے ایسی چیزوں سے استفادہ کرنا درست ہے جبکہ مالک کو دوسروں کے استفادہ سے انکار نہ ہو۔ چنانچہ لاٹھی، کوڑا اور رسی وغیرہ اسی قسم کی چیزیں معمولی چیزوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ ان کے ملنے پر اعلان ضروری نہیں اور ان سے استفادہ بھی درست ہے اور ان کے مالک کو ان کے واپس لینے کا اختیار ہے۔ اور لقطہ کی دوسری قسم ایسی چیزیں ہیں جن کو مالک طلب کرتا ہے ان کے بارے میں ان کی قیمت کے اعتبار سے ان کا اعلان ضروری ہے جیسا کہ سابق میں ان کے مسائل اور احکام بیان کئے گئے ہیں۔ بذل المجہود۔

Hadith 3151a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4147Noor 4148Noor 4149Noor 4150
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک مرتبہ) راستہ میں (پڑے ہوئے) ایک کھجور سے گزرے (اس کو دیکھ کر) آپ نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ وہ صدقہ کا ہے تو میں اس کو ضرور کھالیتا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور بخاری اور مسلم کی متفقہ روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ (ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے) عرض کیا کہ گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا پھر وہ بھیڑیئے کی ہے (اس کا مطلب یہ ہے کہ بکری پکڑ لے، نہ چھوڑے، اگر مالک آ جاوے تو اس کے حوالے کردے نہیں تو اپنے کام میں لاوے اگر چھوڑ دے گا تو اندیشہ ہے کہ بھیڑیا اس کو پھاڑ ڈالے یا کوئی جانور اس کو ہلاک کردے، بہرحال مسلمان کے مال کو ضائع نہ کرے۔) (ان صحابی نے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا (ارشاد ہو) کہ گم شدہ اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم کو اس کی کیوں فکر ہے! اس کے ساتھ اس کی مشک ہے (یعنی اس کے پیٹ میں پانی بھرا رہتا ہے اور وہ کئی دن تک پیاس کا متحمل ہوسکتا ہے) اور اس کے ساتھ اس کے موزے ہیں (یعنی اس کے تلوے مضبوط ہیں کہ چلنے سے گھستے نہیں) وہ پانی پینے کے لئے (کہیں بھی) پہنچ سکتا ہے اور درخت (کے پتوں) کو کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے۔ اور امام مالک نے موطا میں ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ گم شدہ اونٹ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں آزادانہ چھٹے ہوئے رہتے تھے اس حالت میں کہ ان کو بچے بھی ہوجاتے تھے اور ان کو کوئی نہیں پکڑتا تھا یہاں تک کہ جب امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے حکم دیا کہ ان کا اعلان کیا جائے پھر ان کو بیچا جاتا پھر ان کا مالک آتا تو اس کو ان کی قیمت دیدی جاتی۔ اور امام محمد نے اپنی موطا میں اسی طرح روایت کی ہے۔ اور ان کی روایت میں ”مؤبلة“ کے بجائے ”مرسلة“ ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2431 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1071a (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

Immediately—In Al-Hidayah

(1) The statement: Immediately—In Al-Hidayah: If it is something the owner is unlikely to seek, like date pits or pomegranate peels, discarding it permits use without announcement, but it remains the owner’s property, as ownership from an unknown person is invalid.

Note 2

(2) The statement: Stray camels, etc.—Its apparent meaning is that stray camels should not be taken, as there is no fear of loss, as held by Shafi’i, Malik, and Ahmad for cows, camels, and horses, preferring leaving them. Our scholars and others said this was due to the prevalence of righteous people then. In our time, there is risk of dishonest hands, so taking it preserves it, making it preferable. Ibn Al-Humam elaborated on this. This is supported by Uthman’s practice, as times changed, ordering announcement after taking due to fear of betrayal, then sale, with the price held in the treasury for the owners. As stated in At-Ta’liq Al-Mumajjad.

Note 1

قوله

(۱)قوله: في الحال وقال في الهداية»: وإن كانت شيئًا يعلم أن صاحبها لا يطلبها كالنواة وقشور الرمان يكون إلقائه إباحة حتى جاز الانتفاع به من غير تعريف، ولكنه مبقى على ملك مالكه؛ لأن التمليك من المجهول لا يصح.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فضالة الإبل إلخ فظاهره أن ضالة الإبل لا ينبغي أخذها؛ لعدم خوف ضياعها، وبه قال الشافعي ومالك وأحمد في البقر والإبل والفرس أن الترك أفضل. وقال أصحابنا وغيرهم كان ذلك إذ ذاك لغلبة أهل الصلاح. وفي زماننا لا يأمن وصول يد خائنة، ففي أخذه أحياؤها ، فهو أولى. وقد بسط الكلام فيه ابن الهمام. ويؤيد ما قال أصحابنا ما ثبت في زمان عثمان لانقلاب الزمان حيث أمر بتعريفها بعد التقطها خوفا من الخيانة، ثم بيعها وإمساك ثمنها في بيت المال لأربابها. كذا في التعليق الممجد».

Note 1

اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ معمولی چیزیں جو (راستہ میں) گری پڑی رہتی ہیں ان سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔

Note 2

ف: واضح ہو کہ حدیث شریف میں گم شدہ اونٹوں کو نہ پکڑنے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ ان کے تلف ہونے کا خوف نہیں تھا چنانچہ امام شافعیؒ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ نے گم شدہ گائے، اونٹ اور گھوڑوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کو چھوڑے رکھنا افضل ہے، ہمارے ائمہ احناف اور دوسرے فقہاء نے کہا ہے کہ یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جبکہ لوگوں کی کثرت تھی اور خیانت کا ذمن نہ تھا اور اس زمانہ میں خیانت کا ذمن عام ہو چکا ہے تو ایسی صورت میں ان جانوروں کا پکڑ رکھنا ان کی حفاظت ہے اور یہی بہتر ہے۔ امام ابن الہمامؒ نے اس مسئلہ میں کافی بحث کی ہے اور ہمارے فقہاء کی رائے کی تائید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایسے جانوروں کو پکڑ لینے کا حکم اور ان کا اعلان انقلاب زمانہ کی وجہ سے تھا کہ لوگ خیانت نہ کر بیٹھیں پھر آپ ان کو بکوا دیتے اور ان کی قیمت کو مالکین کے لئے بیت المال میں محفوظ کروا دیتے تھے۔ (تعلیق ممجد سے ماخوذ ہے)۔

Hadith 3152a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4151Noor 4152
زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کسی بھٹکے ہوئے جانور کو پناہ دے تو وہ خود گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کا اعلان نہ کر دے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں یعنی جو شخص بھٹکے ہوئے جانور کو (اپنے گھر بغیر کسی اعلان کے) لے جائے (وہ گمراہ ہے) البتہ جو ایسے جانور کو اس لئے پکڑے کہ اس کو (اس کے مالک) کے حوالہ کر دے گا یا اس کا اعلان کرتا رہے گا تو ایسے شخص کے لئے کوئی حرج نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1725 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

A Muslim’s stray is the fire’s fuel,

(1) The statement: Is astray unless they announce it—This restricts going astray to one who does not announce, so there is no evidence for those who dislike found property absolutely in Umar’s report or the saying, “A Muslim’s stray is the fire’s fuel,” as we interpret it as taking without announcement. As stated in At-Ta’liq Al-Mumajjad.

Note 1

قوله

(۱) قوله : فهو ضال ما لم يعرفها فقيد الضلال بمن لم يعرفها فلا حجة لمن كره اللقطة مطلقا في أثر عمر، ولا في قوله : ضالة المسلم حرق النار ؛ لأننا حملناه على ما إذا أخذه من غير تعريف. كذا في التعليق الممجد».

Hadith 3153a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4153
جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمان کی گم شدہ چیز (کو بغیر اعلان کے رکھ لینے کی نیت سے لے لینا) آگ کا شعلہ ہے۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3040 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Sunan al-Darimi 2641 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 3040

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3154a

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4154Noor 4155
معاذ عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ میں نے حرم میں ایک گم شدہ چیز (گری ہوئی) پائی اور میں نے اس کا اعلان بھی کیا مگر میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس چیز کو پہچانتا ہو (یعنی اس کا مالک ہو) تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب دیا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔ اور ابن المنذر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ایسی ہی حدیث میں ہمیں حضرت عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن المسیب رضی اللہ عنہم سے ملی ہے۔
[Narrated by As-Sahawi]
Commentary and footnotes (2)

Note 1

Its found property is not lawful except for its announcer,

(1) The statement: Use it—Scholars differed on found property in Makkah. One group said it is not lawful to own after announcement; the finder must preserve it forever for its owner, only announcing it until the owner comes, based on the saying about the Sanctuary: “Its found property is not lawful except for its announcer,” as held by Shafi’i. Another group said there is no difference between the Sanctuary and elsewhere; its ruling is like other places, as held by Abu Hanifah, Malik, and Ahmad. Ibn Al-Mundhir said: We narrate this view from Umar, Ibn Abbas, Aishah, and Ibn Al-Musayyib, supported by these reports and the general saying, Note its container and tie, and announce it for a year, without distinguishing between the lawful and the Sanctuary. Giving it in charity after the announcement period preserves the owner’s ownership in a way, as it earns reward, like other cases. The saying about Makkah, Its found property is not lawful except for its announcer, does not contradict, as it means it is only lawful for one who announces, not for themselves. Specifying Makkah is to dispel the notion that announcement is unnecessary due to Makkah being a place of strangers coming from afar and dispersing, suggesting the property is likely a stranger’s with unknown return, making announcement futile. The Messenger of Allah (ﷺ) dispelled this by saying, Its found property is not lawful except for its announcer. The saying, He prohibited the found property of pilgrims, as Ibn Wahb said in Al-Fath, means to leave it until its owner comes. This is not practiced today due to widespread theft in Makkah, even around the Ka’bah, let alone abandoned items. Rulings established with a condition, if contradicted with a corrupting factor, are discontinued, unlike rulings established for a reason whose absence does not corrupt continuity, like brisk walking and uncovering the shoulder in tawaf to show strength. Summarized from Umdat Al-Qari, Al-Marqah, Al-Binayah, and Fath Al-Qadir.

Note 1

قوله

(۱) قوله: استنفعي بها اختلف العلماء في لقطة مكة، فقالت طائفة: لا يحل لأحد تملكها بعد التعريف، بل يجب على الملتقط أن يحفظها أبدا لمالكها، وليس لواجدها إلا إنشادها، ويجب التعريف فيها إلى أن يجيء صاحبها؛ لقوله في الحرم: ولا يحل لقطتها إلا لمنشدها، وبه قال الشافعي وقالت طائفة : لا فرق بين لقطة الحرم وغيره، حكمها كحكم سائر البلدان فلقطة الحل والحرم سواء، وهو قول أبي حنيفة ومالك وأحمد. وقال ابن المنذر: وروينا هذا القول عن عمر وابن عباس وعائشة وابن المسيب. ولنا هذه الآثار، وإطلاق قوله : اعرف عفاصها أي وعائها، ووكائها أي رباطها، وعرفها سنة من غير فصل بين الحل والحرم، ولأنها لقطة، وفي التصدق بعد مدة التعريف إبقاء ملك المالك من وجه؛ لتحصيل الثواب فيملكه، كما في سائرها، وأما قوله في مكة:ولا تحل لقطتها إلا لمنشدها، فقال في «الفتح»: لا يعارضه؛ لأن معناه لا يحل إلا لمن يعرف، ولا يحل لنفسه. وتخصيص مكة حينئذ لدفع وهم سقوط التعريف بها بسبب أن الظاهر أن مكة مكان الغرباء؛ لأن الناس يأتون إليه من كل فج عميق ثم يتفرقون، فالغالب أن اللقطة للغريب، لا يدرى عوده، فلا فائدة إذا في التعريف، فينبغي أن يسقط التعريف؛ لعدم الفائدة، فأزال رسول الله له ذلك الوهم بقوله : لا تحل لقطتها إلا لمنشدها. وأما قوله : نهى عن لقطة الحاج، فقال في «الفتح»: قال ابن وهب يعني يتركها حتى يجيء صاحبها. ولا عمل على هذا في هذا الزمان لفشو السرقة بمكة من حوالي الكعبة فضلا عن المتروك، فالأحكام إذا علم شرعيتها باعتبار شرط، ثم علم ثبوت ضده متضمنا مفسدة بتقدير شرعيته معه علم انقطاعها، بخلاف العلم بشرعيتها لسبب إذا علم انتفاؤه، ولا مفسدة في البقاء فإنه لا يلزم ذلك كالرمل والاضطباع في الطواف لإظهار الجلادة، عمدة القاري» و«المرقاة» و «البناية» و«فتح القدير» ملتقط منها.