Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues · Chapter 16

Chapter on the Virtues of These Three (may Allah be pleased with them)

4 narrations · In source reading order

Hadith 5842

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7545
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر و عمر و عثمان بھی، تو ان کی وجہ سے وہ جھومنے لگا آپ نے اپنے پاؤں سے اس پر ضرب لگا کر فرمایا: اے اُحُد! ٹھہر جا(1)! تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔(بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3675 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Be still, Uhud, etc.

(1) His statement “Be still, Uhud, etc.”: meaning that the companionship of those with firmness and dignity must have an effect free of ostentation. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : أثبت أحد إلخ : أي وصحبة أهل التمكين والوقار لا بد لها من تأثير خال عن الإظهار. كذا في «المرقاة».

Note 1

(1) قولہ: اثبت احد الخ۔ مطلب یہ ہے کہ صاحب عظمت و اہل وقار حضرات کی محبت کی تاثیر ضرور ہوتی ہے اس کو ضبط کرنا اظہار کرنا نہیں۔

Hadith 5843

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7546
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں تھا کہ ایک صاحب آئے اور دروازہ کھولنے کو کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے لئے کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری سنا دو تو میں کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ابوبکر ہیں تو میں نے ان کو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا خوشخبری سنا دی تو وہ اللہ کا شکر ادا کئے پھر ایک صاحب آئے اور کھولنے کے لئے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری سنا دو تو میں نے ان کے لئے کھول دیا تو وہ تھے عمر اور میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ان کو بتا دیا تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا پھر ایک صاحب نے کھولنے کو کہا تو آپ نے مجھ سے فرمایا ان کے لئے کھول دو اور جنت کی خوشخبری دو اس مصیبت پر(2) جو ان پر آئے گی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان ہیں تو جو کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو بتا دیا تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا: الله المستعان. اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3693 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2403a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

despite a trial

(1) His statement “despite a trial”: meaning with a great affliction. Uthman was singled out with this despite Umar also facing trials, due to the magnitude of Uthman’s trial, especially with the prolonged duration and lack of support from prominent figures. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: على بلوى: أي مع بلية عظيمة، وإنما خص عثمان به مع أن عمر الله أيضًا ابتلي به لعظم ابتلاء عثمان، لا سيما مع امتداد الزمان وقلة الأعوان من الأعيان. كذا في «المرقاة».

Note 1

(2) قولہ: على بلوى۔ یعنی بڑی مصیبت آئے گی، اس میں حضرت عثمان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا حالانکہ حضرت عمر بھی مصیبت سے دوچار ہوئے اس لئے کہ حضرت عثمان پر آنے والی مصیبت بڑی تھی، اور طویل زمانہ تک چلتی رہی اور عظیم شخصیتوں میں ان کے لئے معاونین بھی کم تھے۔(مرقات)

Hadith 5844

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7547
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے آپ نے کہا کہ ہم کہا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ابوبکر و عمر اور عثمان ان سے اللہ راضی رہے (3)۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3707 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Abu Bakr, Umar, and Uthman, etc.

(1) His statement “Abu Bakr, Umar, and Uthman, etc.”: The commentator said: Abu Bakr and those conjoined with him are the subject, and “may Allah be pleased with them” is the predicate, with the phrase being the object of “say.” The statement “the Messenger of Allah was alive” is a parenthetical clause, meaning we used to mention these three as those whom Allah is pleased with. In some versions, after “alive,” it says: “the best of the Prophet’s nation are Abu Bakr, then Umar, then Uthman (may Allah be pleased with them),” meaning we remained silent about the rest. In a narration by At-Tirmidhi from him, he said: “We used to compare during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), saying: Abu Bakr, then Umar, then Uthman, and this reached the Messenger of Allah (ﷺ), and he did not object.” (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : أبو بكر وعمر وعثمان إلخ : قال شارح: أبو بكر وما عطف عليه مبتدأ خبره رضي الله عنهم، والجملة مقول القول، و«رسول الله حي جملة معترضة، أي كنا نذكر هؤلاء الثلاثة بأن الله تعالى رضي عنهم. وفي بعض النسخ بعد قوله: «حي»: أفضل أمة النبي الله أبو بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم، أي ونسكت عن الباقين. وفي رواية للترمذي عنه قال: كنا نفاضل على عهد رسول الله ، فنقول : أبو بكر ثم عمر ثم عثمان، فبلغ ذلك رسول الله ، فلا ينكره. كذا في «المرقاة».

Note 1

(3) قوله: ابوبكر وعمر وعثمان الخ. شارحین نے کہا ہے کہ ابوبکر و عمر و عثمان اپنے معطوف معطوف علیہ سے مل کر مبتداء ہے اور رضی اللہ عنہم (اللہ ان سے راضی ہے) خبر ہے اور یہ جملہ کا مقولہ ہے ورسول اللہ حتی جملہ معترضہ ہے یعنی ہم ان تین حضرات کا ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی رہے اور بعض نسخوں میں حتی کے بعد عبارت اس طرح ہے افضل امة النبى صلى الله عليه وسلم ابوبكر وعمر وعثمان رضى الله عنهم. مطلب یہ ہے کہ باقی حضرات کے ذکر سے خاموش رہتے تھے اور ترمذی شریف کی ان ہی سے ایک روایت ہے كنا نفاضل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم الخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم فضیلت کا ذکر کرتے تھے تو کہتے تھے ابوبکر ہیں پھر عمر ہیں پھر عثمان ہیں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ اس کا انکار نہیں فرمائے۔ (مرقات)

Hadith 5845

Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7548
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات ایک صالح بندے کو خواب میں دکھایا گیا (4) گویا ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیوست کر دئیے گئے اور عمر پیوست کر دئیے گئے ابوبکر کے ساتھ اور عثمان پیوست کر دئیے گئے عمر کے ساتھ حضرت جابر نے فرمایا جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا صالح بندے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اب رہا ان کا ایک دوسرے سے پیوست کر دیا جانا خلفاء ہیں دین کے، جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4634 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.471

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I was shown

(1) His statement “I was shown”: with a dammah on the hamzah, kasrah on the ra, and fathah on the ya, meaning I saw in my dream. His statement “tied” with a kasrah on the first letter, meaning connected or attached. His statement “leaders of this matter”: meaning the matter of religion. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أرى بضم الهمز وكسر الراء وفتح الياء، أي أبصر في منامه. وقوله: «نيط» بكسر أوله، أي علق. وقوله: ولاة الأمر» أي أمر الدين. كذا في «المرقاة».

Note 1

(4) قوله ارى. ہمزہ کو پیش، راء کو کسرہ (زیر) اور یاء کو فتحہ (زبر) یعنی خواب میں آپ نے دیکھا۔ وقوله: نيط حرف اول (ن) کو کسرہ (زیر) یعنی جوڑ دیا گیا۔ وقوله: ولاة الامر. یعنی امر دین کے خلفاء۔ (مرقات)