حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا ہم اصحاب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم پر کوئی حدیث کبھی مشکل نہیں ہوئی(15) اور ہم نے حضرت عائشہ سے پوچھا ہو مگر ان کے
پاس اس کا علم پایا۔(ترمذی)۔
اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
perplexed
(1) The statement “perplexed”: Meaning confused. The statement “the companions of the Messenger of Allah”: With the accusative case in all reliable manuscripts. At-Tibi said: With the genitive case as a substitute for the genitive, though the accusative is permissible for specificity. The statement “Hadith ever”: Meaning the meaning of a Hadith or the absence of a Hadith related to an important issue. We asked Aishah, and we found knowledge of it, i.e., of that Hadith and its related matters, with her. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: ما اشتكل: أي ما اشتبه. وقوله: أصحاب رسول الله ﷺ بالنصب في جميع النسخ الحاضرة المعتمدة. وقال الطيبي: بالجر» بدل من المجرور، ويجوز النصب على الاختصاص. وقوله: حديث قط» أي معنى حديث أو فقد حديث يتعلق بمسألة مهمة، فسألنا عائشة إلا وجدنا عندها منه أي من ذلك الحديث ومتعلقاته. التقطته من المرقاة».
Note 1
(15) قولہ: ما اشکل۔ یعنی شبہ نہیں ہوا۔ و قولہ: اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم معتمد علیہ
موجودہ تمام نسخوں میں نصب (زبر) ہے اور علامہ طیبی نے جر (زیر) فرمایا اور علینا کے مجرور سے بدل ہے اور اس کو
اختصاص کی بناء پر نصب بھی جائز ہے۔ و قولہ: حدیث قط۔ یعنی حدیث کے معنی یا اس حدیث کے کسی اہم مسئلہ کو سمجھنے
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) میں کوئی مشکل ہو اور ہم حضرت عائشہ سے پوچھتے تو اس حدیث اور اس کے متعلقات سے متعلق علم
پایا جاتا۔(ماخوذ از مرقات)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: بی بی صفیہ کو یہ خبر پہنچی کہ بی
بی حفصہ نے ان کو یہودی کی بیٹی کہا تو وہ روئیں تو ان کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے
جبکہ وہ رو رہی تھیں اور فرمایا: کیا چیز تم کو رلا رہی ہے؟ تو عرض کیں مجھ کو حفصہ نے کہا کہ میں یہودی
کی بیٹی ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم تو نبی کی بیٹی ہو(16)اور تمہارے چچا نبی ہیں
اور تم نبی کی بیوی ہو، تو کس چیز میں حفصہ تم پر فخر کرتی ہیں اور فرمایا: اے حفصہ! اللہ سے ڈرو۔
(ترمذی،نسائی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3894 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
you are the daughter of a prophet
(1) The statement “you are the daughter of a prophet”: Safiyyah was the daughter of Huyayy ibn Akhtab, the Jew, from the tribe of Harun, and her uncle was Musa (peace be upon them). In this regard, Safiyyah surpasses Hafsah, even though both share descent from Ibrahim, Ismail, and Ishaq. (As understood from Al-Lama’at and Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : إنك لابنة نبي: وكانت صفية بنت حيي بن أخطب اليهودي من سبط هارون وعمها موسى عليهما السلام في هذه الجهة تفضل صفية على حفصة وإن كانتا في كونهما من أولاد إبراهيم وإسماعيل وإسحاق مشتركتين، كذا يفهم من اللمعات» و «المرقاة».
Note 1
(16) قولہ: انك لابنة نبي۔ حضرت صفیہ حیی بن اخطب یہودی کی بیٹی تھیں جو ہارون علیہ السلام کے خاندان سے
ہیں اور ان کے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں، اس اعتبار سے بی بی صفیہ حضرت حفصہ پر فضیلت رکھتی ہیں اگرچہ یہ
دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسمعیل علیہ السلام اور ⟦?⟧ علیہ السلام کی اولاد سے ہونے میں مشترک ہیں۔
(مفہوم از لمعات و مرقات)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “perplexed”: Meaning confused. The statement “the companions of the Messenger of Allah”: With the accusative case in all reliable manuscripts. At-Tibi said: With the genitive case as a substitute for the genitive, though the accusative is permissible for specificity. The statement “Hadith ever”: Meaning the meaning of a Hadith or the absence of a Hadith related to an important issue. We asked Aishah, and we found knowledge of it, i.e., of that Hadith and its related matters, with her. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ما اشتكل: أي ما اشتبه. وقوله: أصحاب رسول الله ﷺ بالنصب في جميع النسخ الحاضرة المعتمدة. وقال الطيبي: بالجر» بدل من المجرور، ويجوز النصب على الاختصاص. وقوله: حديث قط» أي معنى حديث أو فقد حديث يتعلق بمسألة مهمة، فسألنا عائشة إلا وجدنا عندها منه أي من ذلك الحديث ومتعلقاته. التقطته من المرقاة».
Note 1
(15) قولہ: ما اشکل۔ یعنی شبہ نہیں ہوا۔ و قولہ: اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم معتمد علیہ موجودہ تمام نسخوں میں نصب (زبر) ہے اور علامہ طیبی نے جر (زیر) فرمایا اور علینا کے مجرور سے بدل ہے اور اس کو اختصاص کی بناء پر نصب بھی جائز ہے۔ و قولہ: حدیث قط۔ یعنی حدیث کے معنی یا اس حدیث کے کسی اہم مسئلہ کو سمجھنے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) میں کوئی مشکل ہو اور ہم حضرت عائشہ سے پوچھتے تو اس حدیث اور اس کے متعلقات سے متعلق علم پایا جاتا۔(ماخوذ از مرقات)