العربية
Typed, pending editorial approval
۱۱۰۷ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه): أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا رَفَعَ الْمُصَلِّي رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ وَقَضَى تَشَهُدَهُ ثُمَّ أَحْدَثَ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ، فَلَا يَعُوْدُ لَهَا». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالدَّارَ قُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) ، وَعَنْ عَلَيَّ (رضي الله عنه) نَحْوَهُ مَرْفُوْعًا وَمَوْقُوْفًا.
وَقَدْ سَكَتَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ هَذَا الْحَدِيْثِ، وَهُوَ إِذَا سَكَتَ عَنْ حَدِيثٍ كَانَ عِنْدَهُ حَسَنًا أَوْ صَحِيحًا، وَقَدْ قَالَ التَّرْمِذِيُّ: كُلُّ مَا ذَكَرْتُهُ فِي كِتَابِي هَذَا حُجَّةٌ إِلَّا أَرْبَعَةُ أَحَادِيثَ»، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْهَا، كَذَا فِي السَّعَايَةِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 408 (unverified) 90% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 617 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے) اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے، اور ابوداؤد کی عادت یہ ہے کہ جب وہ کسی حدیث کے متعلق سکوت اختیار کرتے ہیں تو ان کے پاس وہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے، اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ جتنی حدیثیں میں نے جامع صحیح یعنی ترمذی میں بیان کی ہیں صرف چار حدیثوں کے سوا باقی سب حدیثیں حجت اور دلیل ہیں اور یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے نہیں ہے۔ (یہ سعایہ میں مذکور ہے۔) ف: ابوداؤد، ترمذی، طحاوی وغیرہم کی اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ نمازی قعدۂ اخیر میں تشہد پڑھنے کے بعد سلام سے پہلے عمداً حدث کر کے نماز کو ختم کردے تو نماز پوری ہوجاتی ہے جس کا اعادہ ضروری نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس مسلک کی وجہ سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ پر یہ اہانت آمیز اعتراض کیا ہے کہ ان کے مذہب میں نماز عمداً حدث کرنے سے بھی پوری ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کو بھی ان مستند صحیح احادیث سے اخذ کیا ہے جن کی روایتیں متعدد اسناد اور مختلف طریق سے حدیث کی مستند کتابوں ابوداؤد، ترمذی، بیہقی، دارقطنی اور طحاوی وغیرہ میں مروی ہیں اس صورت میں امام اعظم رحمہ اللہ پر ایسا اعتراض کرنا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا ہے۔ (یہ مضمون ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ کے رسالہ سے ماخوذ ہے جسکو عمدۃ الرعایہ نے نقل کیا ہے۔)