ف: قرأت خلف الامام کے بارے میں جتنی حدیثیں آئی ہیں وہ امام اور منفرد کی قرأت سے
متعلق ہیں، اس لئے ان احادیث سے مقتدی کے لئے بھی قرأت کا وجوب ثابت کرنا درست نہیں،
ابتداء اسلام میں مقتدی کے لئے بھی سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کی قرأت جائز تھی پھر ضم سورہ کی قرأت
منسوخ ہوگئی اور مقتدی کے لئے جو سورہ فاتحہ کی قرأت باقی تھی وہ بھی بعد ازاں منسوخ ہوگئی۔ اب
مقتدی کو نہ تو سورہ فاتحہ پڑھنا چاہئے اور نہ ضم سورہ۔
(یہ اوجز المسالک میں مذکور ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: قرأت خلف الامام کے بارے میں جتنی حدیثیں آئی ہیں وہ امام اور منفرد کی قرأت سے متعلق ہیں، اس لئے ان احادیث سے مقتدی کے لئے بھی قرأت کا وجوب ثابت کرنا درست نہیں، ابتداء اسلام میں مقتدی کے لئے بھی سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کی قرأت جائز تھی پھر ضم سورہ کی قرأت منسوخ ہوگئی اور مقتدی کے لئے جو سورہ فاتحہ کی قرأت باقی تھی وہ بھی بعد ازاں منسوخ ہوگئی۔ اب مقتدی کو نہ تو سورہ فاتحہ پڑھنا چاہئے اور نہ ضم سورہ۔ (یہ اوجز المسالک میں مذکور ہے۔)