العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٢٧ - وَعَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامُ لَنَا - يُكَنَّى أَبَا رِمْثَةَ - قَالَ: صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ (رضي الله عنهما) يَقُوْمَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكَبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ، فَصَلَّى نَبِيُّ اللهِ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْئَةَ، يَعْنِي نَفْسَهُ.
فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكَبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ ؛ فَإِنَّهُ لَنْ يُهْلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَاتِهِمْ فَضْلُ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ بَصَرَهُ فَقَالَ: «أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَابِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَفِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ»: إِنَّ الْمُكْثَ مِقْدَارَ اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ إِلى آخره» فَضْلُ، وَلَا دَلِيْلَ عَلَى الْمُكْثِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَيُكْرَهُ لِمُخَالَفَةِ مَا كَانَ دَأْبُهُ ، كَمَا هُوَ مَفْهُوْمُ حَدِيْثِ عَائِشَةَ ما . انْتَهَى
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1007 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں فرض نمازوں اور سنتوں کے درمیان فصل کرنے کا ذکر ہے، فصل کی کیا مقدار ہونی چاہئے اس کو شرح منیہ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ایسی فرض نمازوں کے ختم پر جن کے بعد سنتیں ہوں ”اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ کا پڑھنا یا اس کے مقدار کوئی اور مختصر دعاء کرنا فصل ہے اس طرح مختصر فصل کر کے سنتوں کا پڑھنا مسنون ہے، اگر مختصر دعاء کے بجائے طویل دعائیں کی جائیں یا دیگر اوراد و وظائف پڑھ کر سنتوں کی ادائی میں دیر کی جائے تو اس سے سنتیں ادا تو ہو جائیں گی لیکن سنتوں کے ادا کرنے کا جو مسنون وقت ہے وہ فوت ہو جائے گا اور تاخیر کے ساتھ سنتوں کی اس طرح ادائی مکروہ تنزیہی ہوگی۔ ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔