اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1510
ازرق بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک امام
نے نماز پڑھائی جنہیں ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا (ازرق کا بیان ہے کہ) ابورمثہ نے کہا کہ میں
نے بھی (ایک دفعہ) یہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی تھی، ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی
فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پہلی صف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھی جانب
کھڑے ہوئے تھے، ایک شخص تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا (اور وہ مسبوق نہ تھا) نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ختم نماز پر اپنے سیدھے اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آئی، ابورمثہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری
طرح قبلہ کی طرف سے پھر کر بیٹھے تو وہی شخص جو تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا تھا (بغیر کسی توقف
کے اور جگہ بدلنے کے) سنتیں ادا کرنے کے لئے فوراً کھڑا ہو گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے
اٹھے اور اس شخص کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر ہلا دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، اہل کتاب اسی سبب سے تباہ
ہوئے کہ وہ فرضوں اور سنتوں کے درمیان (ایسا) فصل نہیں کرتے تھے (جس سے معلوم ہو سکے کہ
فرض ختم ہو چکے ہیں اور سنتیں شروع ہو رہی ہیں) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر اٹھا کر دیکھے
اور ارشاد فرمائے اے ابن الخطاب (تم نے سچ کہا) اللہ تعالیٰ ایسا ہی تمہارے ذریعہ سے لوگوں کی صحیح
رہبری فرمائے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1007 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں فرض نمازوں اور سنتوں کے درمیان فصل کرنے کا ذکر ہے، فصل کی کیا مقدار ہونی چاہئے اس کو شرح منیہ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ایسی فرض نمازوں کے ختم پر جن کے بعد سنتیں ہوں ”اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ کا پڑھنا یا اس کے مقدار کوئی اور مختصر دعاء کرنا فصل ہے اس طرح مختصر فصل کر کے سنتوں کا پڑھنا مسنون ہے، اگر مختصر دعاء کے بجائے طویل دعائیں کی جائیں یا دیگر اوراد و وظائف پڑھ کر سنتوں کی ادائی میں دیر کی جائے تو اس سے سنتیں ادا تو ہو جائیں گی لیکن سنتوں کے ادا کرنے کا جو مسنون وقت ہے وہ فوت ہو جائے گا اور تاخیر کے ساتھ سنتوں کی اس طرح ادائی مکروہ تنزیہی ہوگی۔ ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔