ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر کی آواز سننے
سے مجھے اطلاع ہوتی تھی کہ حضور گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے۔ (اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 842 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 583a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابوالحسن ابن بطال رحمة اللہ علیہ نے شرح بخاری میں اس حدیث کی اس طرح تاویل کی
ہے کہ حدیث شریف میں فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہنے کا جو ذکر ہے وہ ہر فرض نماز سے متعلق
نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کے موقع سے ہے جبکہ مجاہدین ہر فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہا
کرتے تھے تاکہ کفار پر رعب طاری ہو، اگر اس حدیث سے یہی مراد ہے تو یہ عمل اب بھی جاری ہے کہ
مجاہدین جب نماز پنجگانہ سے فارغ ہوں تو ان کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے بعد دشمن کو
ڈرانے کے لئے آواز سے اللہ اکبر کہا کریں۔
ابن بطال رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کا تعلق مجاہدین کے ہر فرض نماز کے بعد جہر سے
اللہ اکبر کہنے سے نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے یہ مراد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے ختم
ہونے کے بعد جہر سے اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس کو ختم نماز کی
علامت سمجھتے تھے تو یہ عمل اب اجماع سے منسوخ ہے کیونکہ ہم نے نماز کے ختم پر بلند آواز سے اللہ اکبر
کہنے کے قائل کسی عالم کو نہیں پایا۔
صاحب بنایہ نے امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ، ہمارے علماء
نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے سوا دوسرے ایام میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا
مسنون نہیں ہے بلکہ جہر سے اللہ اکبر کہنے کے مواقع یہ ہیں: جبکہ دشمنوں کے مقابل ہوں یا ڈاکوؤں
کے مقابل ہوں یا آگ لگی ہو اور ایسے ہی تمام خوف اور دہشت کے موقعوں پر جہر سے اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم (فرض) نماز کے سلام پھیرنے کے بعد (تعلیماً) یہ دعاء بلند آواز سے فرماتے تھے ”لَا إِلٰهَ
نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، سارا اقتدار اعلیٰ اسی کا ہے اور اسی کے لئے سب تعریف ہے
اور وہ ہر شئے پر قادر ہے گناہوں سے باز رہنا اور نیکیاں کرنا بغیر اللہ کی مدد کے نہیں ہوسکتا، اللہ تعالیٰ
کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس لئے ہم اس کی عبادت کرتے ہیں، سب نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں۔
سب سے زیادہ فضیلت اسی کو ہے، جتنی بہترین تعریفیں ہیں سب اسی کو سزاوار ہیں (پھر ہم کہتے ہیں
کہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لئے ہم اسی کی طاعت و عبادت اخلاص سے کرتے ہیں،
ہمارا یہ اخلاص گو کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ کس وقت کی دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے ارشاد فرمایا کہ رات کے آخری نصف کے درمیانی وقت کی دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے، ایسا
ہی فرض نمازوں کے بعد کی دعاء بھی بہت مقبول ہوتی ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اسود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے (ختم نماز
پر) سلام پھیرا تو پلٹ گئے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعا فرمائی۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے
مصنف میں کی ہے اور اس حدیث کی تائید ابن سنی کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت انہوں
نے کتاب ”عَمَلُ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ“، میں انس رضی اللہ عنہ سے کی ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی بندہ ہر (فرض) نماز کے بعد دونوں
ہاتھ پھیلا کر یوں دعا کرتا ہے ”اللّٰهُمَّ إِلٰهِى وَإِلٰهَ إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَإِلٰهَ جِبْرَئِيْلَ
(اے اللہ! میرے معبود! اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق وحضرت یعقوب علیہم السلام کے معبود!
اور جبرئیل ومیکائیل واسرافیل علیہم السلام کے معبود! میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ میری دعا
قبول فرمائیں اس لئے کہ میں بیقراری اور پریشانی کی حالت میں دعا کر رہا ہوں، اور میں آپ سے
سوال کرتا ہوں کہ آپ میرے دین کی حفاظت فرمائیں اس لئے کہ میں آزمائش میں پھنسا ہوا ہوں
اور میں یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی رحمت سے میرے گناہوں کو معاف فرما دیجئے، اس
لئے کہ میں گنہگار ہوں اور میری یہ بھی عرض ہے کہ آپ میری محتاجی کو دور فرما دیں اس لئے کہ میں محتاج
وتنگدست ہوں۔) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ ایسے شخص کی دعا کو قبول فرمائے اور اس کے ہاتھوں کو
ناکام نہ لوٹائیں۔
ف: مولانا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ ان احادیث سے فرض نماز
کے بعد دعا کرنا اور دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا یہ دونوں باتیں سید الانبیاء اور پیشوائے اتقیاء صلی اللہ
علیہ وسلم سے ثابت ہیں جو علماء اذکیاء پر مخفی نہیں۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جن فرضوں کے بعد سنتیں ہوتی ہیں) ان کا سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ”اَللّٰهُمَّ
عیوب اور نقصانوں سے پاک و سالم ہیں اور تمام بندوں کو بلیات و آفات سے سلامت رکھتے ہیں
آپ بہت برکت والے ہیں اے وہ پاک ذات! عظمت و جلال کے آپ ہی مستحق ہیں) کہنے کی
مقدار بیٹھتے۔ (پھر مختصر دعا فرماتے اور سنتوں کے لئے کھڑے ہو جاتے۔)
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ازرق بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک امام
نے نماز پڑھائی جنہیں ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا (ازرق کا بیان ہے کہ) ابورمثہ نے کہا کہ میں
نے بھی (ایک دفعہ) یہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی تھی، ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی
فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پہلی صف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھی جانب
کھڑے ہوئے تھے، ایک شخص تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا (اور وہ مسبوق نہ تھا) نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ختم نماز پر اپنے سیدھے اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آئی، ابورمثہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری
طرح قبلہ کی طرف سے پھر کر بیٹھے تو وہی شخص جو تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا تھا (بغیر کسی توقف
کے اور جگہ بدلنے کے) سنتیں ادا کرنے کے لئے فوراً کھڑا ہو گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے
اٹھے اور اس شخص کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر ہلا دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، اہل کتاب اسی سبب سے تباہ
ہوئے کہ وہ فرضوں اور سنتوں کے درمیان (ایسا) فصل نہیں کرتے تھے (جس سے معلوم ہو سکے کہ
فرض ختم ہو چکے ہیں اور سنتیں شروع ہو رہی ہیں) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر اٹھا کر دیکھے
اور ارشاد فرمائے اے ابن الخطاب (تم نے سچ کہا) اللہ تعالیٰ ایسا ہی تمہارے ذریعہ سے لوگوں کی صحیح
رہبری فرمائے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1007 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں فرض نمازوں اور سنتوں کے درمیان فصل کرنے کا ذکر ہے، فصل کی کیا
مقدار ہونی چاہئے اس کو شرح منیہ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ایسی فرض نمازوں کے ختم پر جن کے بعد
سنتیں ہوں ”اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ کا
پڑھنا یا اس کے مقدار کوئی اور مختصر دعاء کرنا فصل ہے اس طرح مختصر فصل کر کے سنتوں کا پڑھنا مسنون
ہے، اگر مختصر دعاء کے بجائے طویل دعائیں کی جائیں یا دیگر اوراد و وظائف پڑھ کر سنتوں کی ادائی میں
دیر کی جائے تو اس سے سنتیں ادا تو ہو جائیں گی لیکن سنتوں کے ادا کرنے کا جو مسنون وقت ہے وہ فوت
ہو جائے گا اور تاخیر کے ساتھ سنتوں کی اس طرح ادائی مکروہ تنزیہی ہوگی۔ ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نماز ختم پر جب سلام پھیرتے تو تین دفعہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ (اللہ تعالیٰ سے میں اپنے گناہوں کی
مغفرت چاہتا ہوں) کہنے کے بعد اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا
الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فرماتے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے
بعد یہ فرماتے تھے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى
مِنْكَ الْجَدُّ“ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی
اصل حکومت ہے اور اسی کو سب تعریف سزاوار ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اے اللہ! جب آپ کسی
کو دینا چاہیں تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جب آپ کسی کو نہ دینا چاہیں تو اس کا دینے والا کوئی نہیں
اور کسی مالدار کو اس کا مال آپ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
متفقہ طور پر کی ہے۔)
عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کی (کی سنت کے) اور نماز فجر کے فرض کے
بعد کسی طرف پلٹے بغیر اس حالت میں کہ وہ ہیئت نماز پر ہی اپنے پیروں کو موڑے ہوئے (یعنی تشہد
میں جیسا بیٹھا تھا ویسا ہی بیٹھا ہو) یہ دعا دس بار کہے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ
الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“، تو ہر بار کے
کہنے پر اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے دس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کے
دس درجے بلند کر دیئے جاتے ہیں اور وہ شخص تمام دن ہر آفت و ناپسندیدہ چیز اور شیطان مردود سے
اللہ کی حفاظت و نگہبانی اور امان میں رہے گا (یہ دعاء پڑھنے کے بعد پھر اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے
تو اس دعا کی برکت سے اس کو توبہ کی توفیق ہوگی) اور وہ اس گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہوگا،
ہاں اگر اس نے اس دعاء کے پڑھنے کے بعد شرک کیا (تو اس دعاء میں جو توحید تھی وہ شرک سے زائل
ہوگئی اور وہ مذکورہ ثواب سے محروم ہو کر عذاب میں گرفتار ہو جائے گا) اور اس دعاء کے پڑھنے والے کے
نیک عمل اُن لوگوں کے مقابلہ میں جو اس کو نہ پڑھتے ہوں زیادہ لکھے جائیں گے البتہ جو شخص اس دعا کو دس
مرتبہ سے زیادہ پڑھے تو اس کے اعمال اس دس مرتبہ پڑھنے والے کے اعمال سے زیادہ ہوں گے۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں صلوٰۃ مغرب کے بعد مذکورہ دعاء پڑھنے کا جو ذکر ہے یہاں صلوٰۃ مغرب
سے مراد فرض مع سنت ہے کیونکہ صلوٰۃ مغرب کا اطلاق فرض اور سنت دونوں پر ہوتا ہے اس لئے اس
دعاء کو پڑھنے والا مغرب کی دو سنتوں کے پڑھنے کے بعد ہیئت نماز پر ہی جیسے کہ وہ تشہد میں بیٹھا تھا
ویسے ہی بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے البتہ فجر کے فرض کے بعد چونکہ سنتیں نہیں ہیں اس لئے فجر کے فرض
کے بعد بھی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے۔
اور ترغیب و ترہیب میں نسائی کی جو روایت مذکور ہے اس میں بجائے مغرب کے عصر کا ذکر ہے
اس لئے فجر اور عصر کے فرض کے بعد اسی ہیئت نماز پر یہ دعاء پڑھی جائے تو اس کے پڑھنے والے کو
مذکورہ ثواب حاصل ہوگا۔ (اعلاء السنن)
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کچھ الفاظ فرض نماز کے بعد پڑھنے کے ہیں جن کا پڑھنے والا (جنت اور
ثواب سے) محروم نہیں ہوسکتا وہ الفاظ یہ ہیں کہ ہر فرض نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس
بار اَلْحَمْدُلِلّٰهِ اور چونتیس بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھنا چاہئے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 596a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں فرض نمازوں کے بعد جن تسبیحات کے پڑھنے کا ذکر ہے اس سے فرض
کے بعد سنتوں سے پہلے ہی ان تسبیحات کا پڑھنا مراد نہیں ہے بلکہ سنتوں کے بعد ان تسبیحات کو پڑھنا
چاہئے کیونکہ سنتیں فرائض کے لواحق، توابع اور مکملات ہیں اس لئے (ان تسبیحات کا سنتوں کے بعد
پڑھا جانا گویا فرض کے بعد ہی پڑھا جانا ہے، یہی وجہ ہے کہ جو چیزیں سنتوں کے بعد پڑھی جاتی ہیں ان
کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فرائض کے بعد ہی پڑھی گئیں۔ (ردالمحتار)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں (ایک بار) چند فقراء مہاجرین نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم جنت کے) بڑے بڑے درجات اور لازوال نعمت کے حصول میں دولت مند لوگ (صدقہ اور
خیرات کی وجہ سے) ہم سے سبقت لے گئے، فرمایا کس طرح؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور جس طرح
ہم نماز پڑھتے ہیں یہ بھی پڑھتے ہیں، جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں یہ بھی رکھتے ہیں، مگر یہ خیرات
کرتے ہیں اور ہم خیرات نہیں کرسکتے، یہ غلام، باندی آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے تو حضور علیہ
السلام نے ان سے فرمایا کہ میں تم کو ایسی بات بتاتا ہوں کہ جس پر عمل کرکے تم ثواب حاصل کرنے
میں اپنے سے آگے بڑھ جانے والوں تک پہنچ جاؤ گے اور پیچھے رہنے والوں میں سے کوئی شخص تمہاری
برابری کو نہ پہنچ سکے گا اور کوئی شخص تم سے افضل نہ ہوگا، ہاں جو تمہاری طرح کرے گا وہ تمہارے برابر
ہوجائے گا مہاجرین نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ضرور فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس بار اَلْحَمْدُلِلّٰهِ اور چونتیس بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ
پڑھا کرو ابوصالح راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ کچھ زمانہ بعد فقراء مہاجرین پھر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے کہ ہمارے دولت مند بھائیوں کو ہمارے اس عمل کا پتہ چل
گیا ہے اور وہ بھی ہماری طرح ان تسبیحات کو پڑھنے لگے ہیں (اب ہم کیا کریں؟) اس پر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو خدا داد فضل ہے خدا جس کو چاہتا ہے سرفراز فرماتا ہے۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) ابوصالح راوی کا قول ”آخِر تک“ نہیں ہے سوائے مسلم کے۔
اور بخاری کی ایک روایت میں تینتیس کے بجائے دس مرتبہ سبحان اللہ اور دس
مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہر فرض نماز کے بعد ذکر ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Unnumbered commentary
Say سبحان الله ten times, الحمد لله ten times, and الله اكبر ten times after every prayer, instead of thirty-three.
The statement of Abu Salih to the end is only found in Muslim. In a narration by Al-Bukhari: "Say سبحان الله ten times, الحمد لله ten times, and الله اكبر ten times after every prayer, instead of thirty-three."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز کے بعد چونتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور
تینتیس بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھے گا تو یہ ننانوے دفعہ ہوئے اور سو کی تکمیل کے لئے ایک بار ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
وَحْدَهُ لَاشَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ کہے گا تو اس کے کل گناہ
معاف کر دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے کف کے برابر ہوں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم کو حکم دیا گیا
ہے کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس بار الْحَمْدُ لِلّٰهِ اور چونتیس بار اللّٰهُ أَكْبَرُ
پڑھا کریں، اس کے بعد ایک انصاری کے خواب میں فرشتے نے آ کر پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد اتنی بار سُبْحَانَ اللّٰهِ اور اتنی بار ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ اور اتنی بار اللّٰهُ
أَكْبَرُ پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ ان انصاری نے خواب میں جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی حضور علیہ السلام کا حکم
ہوا ہے، پس ان کو خواب ہی میں اس فرشتے نے کہا کہ ان تینوں کلمات کی تعداد کو (25,25) بار کر لو اور
اس میں (25) بار لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا بھی اضافہ کر دو اس طرح یہ سو ہوئے) جب صبح ہوئی تو انصاری
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ ہاں اس پر بھی عمل کرو تو بہتر ہے۔
(اس کی روایت امام احمد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے
اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد (ذیل میں آنے والی چیزوں سے ان الفاظ
میں پناہ مانگتے تھے ”اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ
مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ“ (اے اللہ! مجھے بزدلی اور کم
ہمتی سے بچائیے، اے اللہ مجھے بخل سے بچائیے ایسا نہ ہو کہ میں مال خرچ کرنے کی جگہ خرچ نہ کروں
اور ایسا نہ ہو کہ لوگوں کو علم پہنچانے میں کوتاہی کروں اور نہ ایسا ہو کہ جہاں مجھے خیرخواہی کرنا ہے وہاں
خیرخواہی نہ کروں، اے اللہ! مجھے ایسی عمر کو نہ پہنچائیے کہ جس میں قویٰ ناکارہ ہو جانے سے میں آپ
کی عبادت نہ کر سکوں، اے اللہ! مجھے دنیا کے فتنے سے بچائیے کہ دنیا اپنی زیب و زینت کے ساتھ
میرے سامنے آ کر میرا دل لبھائے اور آخرت کو بھلا دے، اے اللہ! مجھے قبر کے عذاب سے بچائیے
کہ مجھ سے ایسے کام نہ ہوں جن کی وجہ سے قبر میں عذاب ہونے لگے۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ہر نماز کے بعد ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“ اور ”قُلْ أَعُوذُ
بِرَبِّ النَّاسِ“ کی سورتوں کو پڑھ لیا کروں۔
(اس کی روایت امام احمد ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی الدعوات الکبیر میں اس کی
روایت کی ہے۔)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر پر کھڑے ہو کر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص آیت الکرسی کو ہر نماز کے
بعد پڑھتا ہے تو اس کے لئے جنت میں داخل ہونے سے موت کے بعد قبر میں رہنے کے سوائے کوئی
اور چیز مانع نہ ہوگی (جب قبر سے اٹھے گا تو جنت میں داخل ہو جائے گا اور قیامت کے سب تکالیف
سے محفوظ رہے گا) اور جو شخص سوتے وقت بستر پر لیٹ کر آیت الکرسی پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معہ
اس کے گھر کے آفات و بلیات سے محفوظ رکھتے ہیں اور اسی طرح اس کے پڑوس کے گھر کو اور اس کے
اطراف کے گھر والوں کو بھی آفات و بلیات سے محفوظ رکھیں گے۔
(اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ”صلاۃ“، یعنی نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کا ذکر ہے اور صلاۃ کا
اطلاق فرض اور سنت دونوں پر ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آیۃ الکرسی کو سنتوں کے بعد پڑھنا چاہئے۔
اسی طرح جن جن حدیثوں میں فرض نمازوں کے بعد وظائف اور اوراد پڑھنے کا ذکر ہے،
وہاں بھی یہی مراد ہے کہ ان وظائف کو سنتوں کے بعد ہی پڑھنا چاہئے اس لئے کہ سنتیں فرائض کے تابع
ہیں البتہ جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں وہاں آیۃ الکرسی یا دیگر وظائف کو فرض کے بعد ہی
پڑھنا چاہئے۔ (ردالمحتار۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: (فرض کرو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد غلام ہوگئی ہے تو شرافت نسبی کی وجہ
سے ان کو آزاد کرنا بہت بڑے ثواب کی بات ہے مگر مجھے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے چار
غلام آزاد کرنے سے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں نماز صبح کے بعد سے طلوع آفتاب تک ان لوگوں
کے ساتھ بیٹھا رہوں، جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں (اسی طرح) مجھے چار غلام آزاد کرنے
سے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک ان لوگوں کے ساتھ بیٹھا رہوں
جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
نجد کی جانب ایک فوج روانہ فرمائی اس فوج نے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور بہت جلد واپس آگئی
ہم میں سے ایک ایسے شخص نے جو اس فوج کے ساتھ نہیں گیا تھا کہا ہم نے اس لشکر سے زیادہ کسی لشکر کو
اتنا جلدی واپس آتے اور اتنا زیادہ مال غنیمت لاتے نہیں دیکھا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا
میں تم لوگوں کو اس جماعت کا پتہ نہ دیدوں جو مال غنیمت لوٹنے میں بہتر اور واپس ہونے میں اس
سے بھی تیز تر ہو؟ (لو سنو) یہ وہ لوگ ہیں جو صبح کی نماز میں حاضر ہوں (یعنی صبح کی نماز جماعت سے
پڑھیں) پھر بیٹھ کر آفتاب طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتے رہیں تو یہ لوگ اس سے جلد واپس آنے
والے اور بہتر مال غنیمت حاصل کرنے والے ہیں (کیونکہ ان لوگوں کو متاع دنیا ہاتھ لگی اور وہ فانی
ہے اور ان کو تھوڑی دیر میں بہت ثواب عقبیٰ حاصل ہوا اور وہ باقی ہے۔)
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی پھر (مسجد ہی میں بیٹھ کر سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر
کرتا رہا (پھر سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے پر) دو رکعت نماز پڑھ لی تو اس کو ایک حج اور ایک عمرہ کا
ثواب ملے گا، انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کو پورے
حج اور عمرے کا ثواب ملے گا اس کو پورے حج اور عمرے کا ثواب ملے گا اس کو پورے حج اور عمرے کا
ثواب ملے گا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابوالحسن ابن بطال رحمة اللہ علیہ نے شرح بخاری میں اس حدیث کی اس طرح تاویل کی ہے کہ حدیث شریف میں فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہنے کا جو ذکر ہے وہ ہر فرض نماز سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کے موقع سے ہے جبکہ مجاہدین ہر فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہا کرتے تھے تاکہ کفار پر رعب طاری ہو، اگر اس حدیث سے یہی مراد ہے تو یہ عمل اب بھی جاری ہے کہ مجاہدین جب نماز پنجگانہ سے فارغ ہوں تو ان کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے بعد دشمن کو ڈرانے کے لئے آواز سے اللہ اکبر کہا کریں۔ ابن بطال رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کا تعلق مجاہدین کے ہر فرض نماز کے بعد جہر سے اللہ اکبر کہنے سے نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے یہ مراد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے ختم ہونے کے بعد جہر سے اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس کو ختم نماز کی علامت سمجھتے تھے تو یہ عمل اب اجماع سے منسوخ ہے کیونکہ ہم نے نماز کے ختم پر بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے کے قائل کسی عالم کو نہیں پایا۔ صاحب بنایہ نے امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے سوا دوسرے ایام میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا مسنون نہیں ہے بلکہ جہر سے اللہ اکبر کہنے کے مواقع یہ ہیں: جبکہ دشمنوں کے مقابل ہوں یا ڈاکوؤں کے مقابل ہوں یا آگ لگی ہو اور ایسے ہی تمام خوف اور دہشت کے موقعوں پر جہر سے اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔