Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "I used to recognize the end of the Messenger of Allah’s (peace be upon him) prayer by the Takbir." [Agreed upon]
Abu Al-Hasan Ibn Battal said in his explanation of Al-Bukhari: "This could refer to the Mujahideen (those engaged in jihad). If so, then it remains applicable, and it is practiced that when the Mujahideen pray the five prayers, it is recommended for them to say Takbir aloud, raising their voices to intimidate the enemy. If it is not understood in this context, then it is abrogated by consensus, as we do not know of any scholar who holds this opinion."
In Al-Binayah, Abu Bakr Ar-Razi said: "Our scholars said: Saying Takbir aloud outside the days of Tashreeq is not Sunnah except when facing an enemy or thieves. It is also said to apply during fires and all situations of fear."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر کی آواز سننے
سے مجھے اطلاع ہوتی تھی کہ حضور گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے۔ (اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 842 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 583a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابوالحسن ابن بطال رحمة اللہ علیہ نے شرح بخاری میں اس حدیث کی اس طرح تاویل کی
ہے کہ حدیث شریف میں فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہنے کا جو ذکر ہے وہ ہر فرض نماز سے متعلق
نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کے موقع سے ہے جبکہ مجاہدین ہر فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہا
کرتے تھے تاکہ کفار پر رعب طاری ہو، اگر اس حدیث سے یہی مراد ہے تو یہ عمل اب بھی جاری ہے کہ
مجاہدین جب نماز پنجگانہ سے فارغ ہوں تو ان کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے بعد دشمن کو
ڈرانے کے لئے آواز سے اللہ اکبر کہا کریں۔
ابن بطال رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کا تعلق مجاہدین کے ہر فرض نماز کے بعد جہر سے
اللہ اکبر کہنے سے نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے یہ مراد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے ختم
ہونے کے بعد جہر سے اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس کو ختم نماز کی
علامت سمجھتے تھے تو یہ عمل اب اجماع سے منسوخ ہے کیونکہ ہم نے نماز کے ختم پر بلند آواز سے اللہ اکبر
کہنے کے قائل کسی عالم کو نہیں پایا۔
صاحب بنایہ نے امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ، ہمارے علماء
نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے سوا دوسرے ایام میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا
مسنون نہیں ہے بلکہ جہر سے اللہ اکبر کہنے کے مواقع یہ ہیں: جبکہ دشمنوں کے مقابل ہوں یا ڈاکوؤں
کے مقابل ہوں یا آگ لگی ہو اور ایسے ہی تمام خوف اور دہشت کے موقعوں پر جہر سے اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔
Abdullah ibn Az-Zubayr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) would say aloud after finishing his prayer:
"There is no god but Allah alone, with no partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise, and He is over all things competent. There is no power nor strength except with Allah. There is no god but Allah, and we worship none but Him. To Him belongs all favor, grace, and excellent praise. There is no god but Allah, sincere in faith to Him, even if the disbelievers dislike it." [Narrated by Muslim]
In Al-Umm, this is understood as a method of teaching. Once the teaching is accomplished, it is stopped. As mentioned in Al-Mirqah. In Al-Madkhal, it is said: "People should be cautious of raising their voices in remembrance and supplication after finishing the prayer in congregation, as this is an innovation."
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم (فرض) نماز کے سلام پھیرنے کے بعد (تعلیماً) یہ دعاء بلند آواز سے فرماتے تھے ”لَا إِلٰهَ
نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، سارا اقتدار اعلیٰ اسی کا ہے اور اسی کے لئے سب تعریف ہے
اور وہ ہر شئے پر قادر ہے گناہوں سے باز رہنا اور نیکیاں کرنا بغیر اللہ کی مدد کے نہیں ہوسکتا، اللہ تعالیٰ
کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس لئے ہم اس کی عبادت کرتے ہیں، سب نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں۔
سب سے زیادہ فضیلت اسی کو ہے، جتنی بہترین تعریفیں ہیں سب اسی کو سزاوار ہیں (پھر ہم کہتے ہیں
کہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لئے ہم اسی کی طاعت و عبادت اخلاص سے کرتے ہیں،
ہمارا یہ اخلاص گو کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that it was said: "O Messenger of Allah, which supplication is most likely to be answered?" He said: "In the last third of the night and after the obligatory prayers."
ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ کس وقت کی دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے ارشاد فرمایا کہ رات کے آخری نصف کے درمیانی وقت کی دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے، ایسا
ہی فرض نمازوں کے بعد کی دعاء بھی بہت مقبول ہوتی ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Al-Aswad, from his father (may Allah be pleased with him), reported: "I prayed Fajr with the Messenger of Allah (peace be upon him). When he finished, he turned and raised his hands and supplicated." [Narrated by Ibn Abi Shaybah in Al-Musannaf]
This is supported by what Ibn As-Sunni narrated in Amal Al-Yawm wa Al-Laylah from Anas, from the Prophet (peace be upon him), who said: "There is no servant who spreads his hands after every prayer and says:
“O Allah, my Lord and the Lord of Ibrahim, Ishaq, and Yaqub, the Lord of Jibril, Mika’il, and Israfil, I ask You to answer my supplication, for I am in need. Protect me in my religion, for I am tested. Grant me Your mercy, for I am sinful. Remove poverty from me, for I am in need”
… except that Allah Almighty, in His infinite mercy, takes it upon Himself not to return his hands empty."
These narrations confirm the practice of supplication and raising the hands after the obligatory prayers, as established by the leader of the Prophets and the model of the righteous, as is clear to the wise scholars. This was stated by Mawlana Abdul Hayy Al-Laknawi in his Fatawa.
اسود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے (ختم نماز
پر) سلام پھیرا تو پلٹ گئے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعا فرمائی۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے
مصنف میں کی ہے اور اس حدیث کی تائید ابن سنی کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت انہوں
نے کتاب ”عَمَلُ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ“، میں انس رضی اللہ عنہ سے کی ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی بندہ ہر (فرض) نماز کے بعد دونوں
ہاتھ پھیلا کر یوں دعا کرتا ہے ”اللّٰهُمَّ إِلٰهِى وَإِلٰهَ إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَإِلٰهَ جِبْرَئِيْلَ
(اے اللہ! میرے معبود! اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق وحضرت یعقوب علیہم السلام کے معبود!
اور جبرئیل ومیکائیل واسرافیل علیہم السلام کے معبود! میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ میری دعا
قبول فرمائیں اس لئے کہ میں بیقراری اور پریشانی کی حالت میں دعا کر رہا ہوں، اور میں آپ سے
سوال کرتا ہوں کہ آپ میرے دین کی حفاظت فرمائیں اس لئے کہ میں آزمائش میں پھنسا ہوا ہوں
اور میں یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی رحمت سے میرے گناہوں کو معاف فرما دیجئے، اس
لئے کہ میں گنہگار ہوں اور میری یہ بھی عرض ہے کہ آپ میری محتاجی کو دور فرما دیں اس لئے کہ میں محتاج
وتنگدست ہوں۔) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ ایسے شخص کی دعا کو قبول فرمائے اور اس کے ہاتھوں کو
ناکام نہ لوٹائیں۔
ف: مولانا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ ان احادیث سے فرض نماز
کے بعد دعا کرنا اور دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا یہ دونوں باتیں سید الانبیاء اور پیشوائے اتقیاء صلی اللہ
علیہ وسلم سے ثابت ہیں جو علماء اذکیاء پر مخفی نہیں۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) would not sit after finishing the prayer except long enough to say:
"O Allah, You are As-Salam (the Source of Peace), and from You is peace. Blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جن فرضوں کے بعد سنتیں ہوتی ہیں) ان کا سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ”اَللّٰهُمَّ
عیوب اور نقصانوں سے پاک و سالم ہیں اور تمام بندوں کو بلیات و آفات سے سلامت رکھتے ہیں
آپ بہت برکت والے ہیں اے وہ پاک ذات! عظمت و جلال کے آپ ہی مستحق ہیں) کہنے کی
مقدار بیٹھتے۔ (پھر مختصر دعا فرماتے اور سنتوں کے لئے کھڑے ہو جاتے۔)
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Al-Azraq ibn Qays reported: "An Imam led us in prayer—he was nicknamed Abu Rimthah. He said: 'I prayed this prayer or a similar prayer with the Messenger of Allah (peace be upon him).' He said: 'Abu Bakr and Umar stood in the front row to his right. A man who had witnessed the first Takbir of the prayer prayed with the Prophet (peace be upon him). When the Prophet finished, he turned to his right and left in the Salam until we saw the whiteness of his cheeks. Then he turned away like Abu Rimthah (meaning himself). The man who had joined the prayer from the first Takbir stood up to pray an additional prayer. Umar jumped up, grabbed him by the shoulders, shook him, and said: 'Sit down! The People of the Book were not destroyed except because they did not leave any distinction between their prayers.' The Prophet (peace be upon him) raised his gaze and said: 'Allah has guided you, O son of Al-Khattab.'" [Narrated by Abu Dawud]
In Sharh Al-Munyah: "Staying for the duration of saying اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ إِلى آخره 'O Allah, You are As-Salam...' is a virtue, but there is no evidence for staying longer than that. It is disliked to go against his usual practice, as understood from the hadith of Aisha."
ازرق بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک امام
نے نماز پڑھائی جنہیں ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا (ازرق کا بیان ہے کہ) ابورمثہ نے کہا کہ میں
نے بھی (ایک دفعہ) یہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی تھی، ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی
فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پہلی صف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھی جانب
کھڑے ہوئے تھے، ایک شخص تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا (اور وہ مسبوق نہ تھا) نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ختم نماز پر اپنے سیدھے اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آئی، ابورمثہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری
طرح قبلہ کی طرف سے پھر کر بیٹھے تو وہی شخص جو تکبیر تحریمہ میں آ کر شریک نماز ہوا تھا (بغیر کسی توقف
کے اور جگہ بدلنے کے) سنتیں ادا کرنے کے لئے فوراً کھڑا ہو گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے
اٹھے اور اس شخص کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر ہلا دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، اہل کتاب اسی سبب سے تباہ
ہوئے کہ وہ فرضوں اور سنتوں کے درمیان (ایسا) فصل نہیں کرتے تھے (جس سے معلوم ہو سکے کہ
فرض ختم ہو چکے ہیں اور سنتیں شروع ہو رہی ہیں) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر اٹھا کر دیکھے
اور ارشاد فرمائے اے ابن الخطاب (تم نے سچ کہا) اللہ تعالیٰ ایسا ہی تمہارے ذریعہ سے لوگوں کی صحیح
رہبری فرمائے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1007 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں فرض نمازوں اور سنتوں کے درمیان فصل کرنے کا ذکر ہے، فصل کی کیا
مقدار ہونی چاہئے اس کو شرح منیہ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ایسی فرض نمازوں کے ختم پر جن کے بعد
سنتیں ہوں ”اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ کا
پڑھنا یا اس کے مقدار کوئی اور مختصر دعاء کرنا فصل ہے اس طرح مختصر فصل کر کے سنتوں کا پڑھنا مسنون
ہے، اگر مختصر دعاء کے بجائے طویل دعائیں کی جائیں یا دیگر اوراد و وظائف پڑھ کر سنتوں کی ادائی میں
دیر کی جائے تو اس سے سنتیں ادا تو ہو جائیں گی لیکن سنتوں کے ادا کرنے کا جو مسنون وقت ہے وہ فوت
ہو جائے گا اور تاخیر کے ساتھ سنتوں کی اس طرح ادائی مکروہ تنزیہی ہوگی۔ ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) would seek forgiveness three times after finishing his prayer and say:
"O Allah, You are As-Salam, and from You is peace. Blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor."
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نماز ختم پر جب سلام پھیرتے تو تین دفعہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ (اللہ تعالیٰ سے میں اپنے گناہوں کی
مغفرت چاہتا ہوں) کہنے کے بعد اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا
الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فرماتے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Al-Mughirah ibn Shu'bah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) would say after every obligatory prayer:
"There is no god but Allah alone, with no partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise, and He is over all things competent. O Allah, none can withhold what You give, and none can give what You withhold. The might of the mighty cannot benefit them against You."
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے
بعد یہ فرماتے تھے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى
مِنْكَ الْجَدُّ“ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی
اصل حکومت ہے اور اسی کو سب تعریف سزاوار ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اے اللہ! جب آپ کسی
کو دینا چاہیں تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جب آپ کسی کو نہ دینا چاہیں تو اس کا دینے والا کوئی نہیں
اور کسی مالدار کو اس کا مال آپ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
متفقہ طور پر کی ہے۔)
Abdur-Rahman ibn Ghanm reported from the Prophet (peace be upon him): "Whoever says before turning away and lifting his foot after Maghrib and Fajr prayers:
'There is no god but Allah alone, with no partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. In His hand is all good, He gives life and causes death, and He is over all things competent'
… ten times, will have ten good deeds recorded for him, ten sins erased, and ten degrees raised for him. It will be a protection for him from every evil, a protection from the accursed Satan, and no sin will overtake him except shirk (associating partners with Allah). He will be among the best in deeds, except for a man who surpasses him by saying more than he said." [Narrated by Ahmad]
Al-Tirmidhi narrated a similar hadith from Abu Dharr up to the words: "except for shirk," without mentioning "the Maghrib prayer" or "بِيَدِهِ الْخَيْرُ" He said: "This is a Hasan Sahih Gharib hadith."
عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کی (کی سنت کے) اور نماز فجر کے فرض کے
بعد کسی طرف پلٹے بغیر اس حالت میں کہ وہ ہیئت نماز پر ہی اپنے پیروں کو موڑے ہوئے (یعنی تشہد
میں جیسا بیٹھا تھا ویسا ہی بیٹھا ہو) یہ دعا دس بار کہے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ
الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“، تو ہر بار کے
کہنے پر اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے دس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کے
دس درجے بلند کر دیئے جاتے ہیں اور وہ شخص تمام دن ہر آفت و ناپسندیدہ چیز اور شیطان مردود سے
اللہ کی حفاظت و نگہبانی اور امان میں رہے گا (یہ دعاء پڑھنے کے بعد پھر اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے
تو اس دعا کی برکت سے اس کو توبہ کی توفیق ہوگی) اور وہ اس گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہوگا،
ہاں اگر اس نے اس دعاء کے پڑھنے کے بعد شرک کیا (تو اس دعاء میں جو توحید تھی وہ شرک سے زائل
ہوگئی اور وہ مذکورہ ثواب سے محروم ہو کر عذاب میں گرفتار ہو جائے گا) اور اس دعاء کے پڑھنے والے کے
نیک عمل اُن لوگوں کے مقابلہ میں جو اس کو نہ پڑھتے ہوں زیادہ لکھے جائیں گے البتہ جو شخص اس دعا کو دس
مرتبہ سے زیادہ پڑھے تو اس کے اعمال اس دس مرتبہ پڑھنے والے کے اعمال سے زیادہ ہوں گے۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں صلوٰۃ مغرب کے بعد مذکورہ دعاء پڑھنے کا جو ذکر ہے یہاں صلوٰۃ مغرب
سے مراد فرض مع سنت ہے کیونکہ صلوٰۃ مغرب کا اطلاق فرض اور سنت دونوں پر ہوتا ہے اس لئے اس
دعاء کو پڑھنے والا مغرب کی دو سنتوں کے پڑھنے کے بعد ہیئت نماز پر ہی جیسے کہ وہ تشہد میں بیٹھا تھا
ویسے ہی بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے البتہ فجر کے فرض کے بعد چونکہ سنتیں نہیں ہیں اس لئے فجر کے فرض
کے بعد بھی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے۔
اور ترغیب و ترہیب میں نسائی کی جو روایت مذکور ہے اس میں بجائے مغرب کے عصر کا ذکر ہے
اس لئے فجر اور عصر کے فرض کے بعد اسی ہیئت نماز پر یہ دعاء پڑھی جائے تو اس کے پڑھنے والے کو
مذکورہ ثواب حاصل ہوگا۔ (اعلاء السنن)
Ka'b bin 'Ujrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are some acts of remembrance after every obligatory prayer that will not cause the one who says or does them to be disappointed: thirty-three Tasbeeh (سبحان الله), thirty-three Tahmeed (الحمد لله), and thirty-four Takbeer (الله اكبر)." [Narrated by Muslim]
In the explanation of "Al-Munyah": The statement of 'Aisha, "The amount he used to say, etc." indicates that it is not meant that he (the Prophet) used to say exactly that, but rather he would sit for a while, glorifying Allah approximately that amount or something similar. This is because the mentioned amount is approximate and not precise, so it does not contradict what is in these hadiths.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کچھ الفاظ فرض نماز کے بعد پڑھنے کے ہیں جن کا پڑھنے والا (جنت اور
ثواب سے) محروم نہیں ہوسکتا وہ الفاظ یہ ہیں کہ ہر فرض نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس
بار اَلْحَمْدُلِلّٰهِ اور چونتیس بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھنا چاہئے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 596a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں فرض نمازوں کے بعد جن تسبیحات کے پڑھنے کا ذکر ہے اس سے فرض
کے بعد سنتوں سے پہلے ہی ان تسبیحات کا پڑھنا مراد نہیں ہے بلکہ سنتوں کے بعد ان تسبیحات کو پڑھنا
چاہئے کیونکہ سنتیں فرائض کے لواحق، توابع اور مکملات ہیں اس لئے (ان تسبیحات کا سنتوں کے بعد
پڑھا جانا گویا فرض کے بعد ہی پڑھا جانا ہے، یہی وجہ ہے کہ جو چیزیں سنتوں کے بعد پڑھی جاتی ہیں ان
کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فرائض کے بعد ہی پڑھی گئیں۔ (ردالمحتار)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the poor among the Muhajireen came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "The wealthy have taken the highest ranks and eternal bliss." He asked, "How is that?" They replied, "They pray as we pray, fast as we fast, but they give in charity, and we do not, and they free slaves, and we do not." The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Shall I not teach you something by which you can catch up with those who have preceded you and surpass those who come after you, and no one will be better than you except those who do the same as you?" They said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, "Say سبحان الله, الحمد لله, and الله اكبر thirty-three times after every prayer."
Abu Salih said: The poor Muhajireen returned to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said, "Our wealthy brothers heard what we did and did the same." The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "That is the favor of Allah, which He gives to whom He wills."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں (ایک بار) چند فقراء مہاجرین نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم جنت کے) بڑے بڑے درجات اور لازوال نعمت کے حصول میں دولت مند لوگ (صدقہ اور
خیرات کی وجہ سے) ہم سے سبقت لے گئے، فرمایا کس طرح؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور جس طرح
ہم نماز پڑھتے ہیں یہ بھی پڑھتے ہیں، جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں یہ بھی رکھتے ہیں، مگر یہ خیرات
کرتے ہیں اور ہم خیرات نہیں کرسکتے، یہ غلام، باندی آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے تو حضور علیہ
السلام نے ان سے فرمایا کہ میں تم کو ایسی بات بتاتا ہوں کہ جس پر عمل کرکے تم ثواب حاصل کرنے
میں اپنے سے آگے بڑھ جانے والوں تک پہنچ جاؤ گے اور پیچھے رہنے والوں میں سے کوئی شخص تمہاری
برابری کو نہ پہنچ سکے گا اور کوئی شخص تم سے افضل نہ ہوگا، ہاں جو تمہاری طرح کرے گا وہ تمہارے برابر
ہوجائے گا مہاجرین نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ضرور فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس بار اَلْحَمْدُلِلّٰهِ اور چونتیس بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ
پڑھا کرو ابوصالح راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ کچھ زمانہ بعد فقراء مہاجرین پھر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے کہ ہمارے دولت مند بھائیوں کو ہمارے اس عمل کا پتہ چل
گیا ہے اور وہ بھی ہماری طرح ان تسبیحات کو پڑھنے لگے ہیں (اب ہم کیا کریں؟) اس پر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو خدا داد فضل ہے خدا جس کو چاہتا ہے سرفراز فرماتا ہے۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) ابوصالح راوی کا قول ”آخِر تک“ نہیں ہے سوائے مسلم کے۔
اور بخاری کی ایک روایت میں تینتیس کے بجائے دس مرتبہ سبحان اللہ اور دس
مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہر فرض نماز کے بعد ذکر ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Unnumbered commentary
Say سبحان الله ten times, الحمد لله ten times, and الله اكبر ten times after every prayer, instead of thirty-three.
The statement of Abu Salih to the end is only found in Muslim. In a narration by Al-Bukhari: "Say سبحان الله ten times, الحمد لله ten times, and الله اكبر ten times after every prayer, instead of thirty-three."
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever glorifies Allah thirty-three times, praises Allah thirty-three times, and magnifies Allah thirty-three times after every prayer, that makes ninety-nine. And to complete one hundred, say:
(There is no god but Allah alone, with no partner, to Him belongs the dominion and praise, and He is over all things competent). His sins will be forgiven, even if they are like the foam of the sea."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز کے بعد چونتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور
تینتیس بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھے گا تو یہ ننانوے دفعہ ہوئے اور سو کی تکمیل کے لئے ایک بار ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
وَحْدَهُ لَاشَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ کہے گا تو اس کے کل گناہ
معاف کر دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے کف کے برابر ہوں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Zaid bin Thabit (may Allah be pleased with him) narrated: "We were commanded to say سبحان الله thirty-three times, الحمد لله thirty-three times, and الله اكبر thirty-four times after every prayer. Then a man from the Ansar saw a dream in which he was told, 'Did the Messenger of Allah (peace be upon him) command you to say سبحان الله, الحمد لله, and الله اكبر after every prayer?' The Ansari said in his dream, 'Yes.' He was told, 'Make it twenty-five and include the Tahlil (لا اله الا الله) twenty-five times.' When he woke up, he went to the Prophet (peace be upon him) and informed him. The Messenger of Allah (peace be upon him) said, 'Do so.'"
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم کو حکم دیا گیا
ہے کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس بار الْحَمْدُ لِلّٰهِ اور چونتیس بار اللّٰهُ أَكْبَرُ
پڑھا کریں، اس کے بعد ایک انصاری کے خواب میں فرشتے نے آ کر پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد اتنی بار سُبْحَانَ اللّٰهِ اور اتنی بار ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ اور اتنی بار اللّٰهُ
أَكْبَرُ پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ ان انصاری نے خواب میں جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی حضور علیہ السلام کا حکم
ہوا ہے، پس ان کو خواب ہی میں اس فرشتے نے کہا کہ ان تینوں کلمات کی تعداد کو (25,25) بار کر لو اور
اس میں (25) بار لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا بھی اضافہ کر دو اس طرح یہ سو ہوئے) جب صبح ہوئی تو انصاری
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ ہاں اس پر بھی عمل کرو تو بہتر ہے۔
(اس کی روایت امام احمد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated that he used to teach his children these words and said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) used to seek refuge with these words after prayer:
'O Allah, I seek refuge with You from cowardice, miserliness, the burden of old age, the trials of this world, and the punishment of the grave.'"
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے
اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد (ذیل میں آنے والی چیزوں سے ان الفاظ
میں پناہ مانگتے تھے ”اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ
مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ“ (اے اللہ! مجھے بزدلی اور کم
ہمتی سے بچائیے، اے اللہ مجھے بخل سے بچائیے ایسا نہ ہو کہ میں مال خرچ کرنے کی جگہ خرچ نہ کروں
اور ایسا نہ ہو کہ لوگوں کو علم پہنچانے میں کوتاہی کروں اور نہ ایسا ہو کہ جہاں مجھے خیرخواہی کرنا ہے وہاں
خیرخواہی نہ کروں، اے اللہ! مجھے ایسی عمر کو نہ پہنچائیے کہ جس میں قویٰ ناکارہ ہو جانے سے میں آپ
کی عبادت نہ کر سکوں، اے اللہ! مجھے دنیا کے فتنے سے بچائیے کہ دنیا اپنی زیب و زینت کے ساتھ
میرے سامنے آ کر میرا دل لبھائے اور آخرت کو بھلا دے، اے اللہ! مجھے قبر کے عذاب سے بچائیے
کہ مجھ سے ایسے کام نہ ہوں جن کی وجہ سے قبر میں عذاب ہونے لگے۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
'Uqbah bin 'Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded me to recite Al-Mu'awwidhat (Surah Al-Falaq and Surah An-Nas) after every prayer."
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ہر نماز کے بعد ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“ اور ”قُلْ أَعُوذُ
بِرَبِّ النَّاسِ“ کی سورتوں کو پڑھ لیا کروں۔
(اس کی روایت امام احمد ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی الدعوات الکبیر میں اس کی
روایت کی ہے۔)
Ali (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) on this pulpit saying: 'Whoever recites Ayat al-Kursi after every prayer, nothing will prevent him from entering Paradise except death. And whoever recites it when he goes to bed, Allah will protect him, his house, his neighbor's house, and the houses around him.'" [Narrated by Al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman"]
In the explanation of "Al-Munyah": The hadiths about remembrance after prayer do not indicate that they must be done immediately after the obligatory prayer before the Sunnah prayer. Rather, they are to be done after the Sunnah prayer. The Sunnah prayer is connected to the obligatory prayer, so what is done after it is considered as being done after the obligatory prayer.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر پر کھڑے ہو کر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص آیت الکرسی کو ہر نماز کے
بعد پڑھتا ہے تو اس کے لئے جنت میں داخل ہونے سے موت کے بعد قبر میں رہنے کے سوائے کوئی
اور چیز مانع نہ ہوگی (جب قبر سے اٹھے گا تو جنت میں داخل ہو جائے گا اور قیامت کے سب تکالیف
سے محفوظ رہے گا) اور جو شخص سوتے وقت بستر پر لیٹ کر آیت الکرسی پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معہ
اس کے گھر کے آفات و بلیات سے محفوظ رکھتے ہیں اور اسی طرح اس کے پڑوس کے گھر کو اور اس کے
اطراف کے گھر والوں کو بھی آفات و بلیات سے محفوظ رکھیں گے۔
(اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ”صلاۃ“، یعنی نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کا ذکر ہے اور صلاۃ کا
اطلاق فرض اور سنت دونوں پر ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آیۃ الکرسی کو سنتوں کے بعد پڑھنا چاہئے۔
اسی طرح جن جن حدیثوں میں فرض نمازوں کے بعد وظائف اور اوراد پڑھنے کا ذکر ہے،
وہاں بھی یہی مراد ہے کہ ان وظائف کو سنتوں کے بعد ہی پڑھنا چاہئے اس لئے کہ سنتیں فرائض کے تابع
ہیں البتہ جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں وہاں آیۃ الکرسی یا دیگر وظائف کو فرض کے بعد ہی
پڑھنا چاہئے۔ (ردالمحتار۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Sitting with a group of people who remember Allah from the Fajr prayer until sunrise is more beloved to me than freeing four slaves from the descendants of Isma'il. And sitting with a group of people who remember Allah from the Asr prayer until sunset is more beloved to me than freeing four slaves." [Narrated by Abu Dawud]
Ibn Al-Malik said: The freeing of slaves is obligatory and specific.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: (فرض کرو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد غلام ہوگئی ہے تو شرافت نسبی کی وجہ
سے ان کو آزاد کرنا بہت بڑے ثواب کی بات ہے مگر مجھے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے چار
غلام آزاد کرنے سے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں نماز صبح کے بعد سے طلوع آفتاب تک ان لوگوں
کے ساتھ بیٹھا رہوں، جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں (اسی طرح) مجھے چار غلام آزاد کرنے
سے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک ان لوگوں کے ساتھ بیٹھا رہوں
جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) sent an expedition towards Najd, and they returned quickly with abundant spoils. A man among us who did not go out said, "We have never seen an expedition return faster or with greater spoils than this one." The Prophet (peace be upon him) said, "Shall I not guide you to people who have a faster return and greater spoils? They are those who attend the Fajr prayer in congregation, then sit remembering Allah until the sun rises. They are the ones with the fastest return and greatest spoils."
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
نجد کی جانب ایک فوج روانہ فرمائی اس فوج نے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور بہت جلد واپس آگئی
ہم میں سے ایک ایسے شخص نے جو اس فوج کے ساتھ نہیں گیا تھا کہا ہم نے اس لشکر سے زیادہ کسی لشکر کو
اتنا جلدی واپس آتے اور اتنا زیادہ مال غنیمت لاتے نہیں دیکھا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا
میں تم لوگوں کو اس جماعت کا پتہ نہ دیدوں جو مال غنیمت لوٹنے میں بہتر اور واپس ہونے میں اس
سے بھی تیز تر ہو؟ (لو سنو) یہ وہ لوگ ہیں جو صبح کی نماز میں حاضر ہوں (یعنی صبح کی نماز جماعت سے
پڑھیں) پھر بیٹھ کر آفتاب طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتے رہیں تو یہ لوگ اس سے جلد واپس آنے
والے اور بہتر مال غنیمت حاصل کرنے والے ہیں (کیونکہ ان لوگوں کو متاع دنیا ہاتھ لگی اور وہ فانی
ہے اور ان کو تھوڑی دیر میں بہت ثواب عقبیٰ حاصل ہوا اور وہ باقی ہے۔)
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays Fajr in congregation, then sits remembering Allah until the sun rises, and then prays two Rak'ahs, will have a reward like that of Hajj and Umrah." He said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) said, 'Complete, complete, complete.'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی پھر (مسجد ہی میں بیٹھ کر سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر
کرتا رہا (پھر سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے پر) دو رکعت نماز پڑھ لی تو اس کو ایک حج اور ایک عمرہ کا
ثواب ملے گا، انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کو پورے
حج اور عمرے کا ثواب ملے گا اس کو پورے حج اور عمرے کا ثواب ملے گا اس کو پورے حج اور عمرے کا
ثواب ملے گا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابوالحسن ابن بطال رحمة اللہ علیہ نے شرح بخاری میں اس حدیث کی اس طرح تاویل کی ہے کہ حدیث شریف میں فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہنے کا جو ذکر ہے وہ ہر فرض نماز سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کے موقع سے ہے جبکہ مجاہدین ہر فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہا کرتے تھے تاکہ کفار پر رعب طاری ہو، اگر اس حدیث سے یہی مراد ہے تو یہ عمل اب بھی جاری ہے کہ مجاہدین جب نماز پنجگانہ سے فارغ ہوں تو ان کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے بعد دشمن کو ڈرانے کے لئے آواز سے اللہ اکبر کہا کریں۔ ابن بطال رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کا تعلق مجاہدین کے ہر فرض نماز کے بعد جہر سے اللہ اکبر کہنے سے نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے یہ مراد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے ختم ہونے کے بعد جہر سے اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس کو ختم نماز کی علامت سمجھتے تھے تو یہ عمل اب اجماع سے منسوخ ہے کیونکہ ہم نے نماز کے ختم پر بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے کے قائل کسی عالم کو نہیں پایا۔ صاحب بنایہ نے امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے سوا دوسرے ایام میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا مسنون نہیں ہے بلکہ جہر سے اللہ اکبر کہنے کے مواقع یہ ہیں: جبکہ دشمنوں کے مقابل ہوں یا ڈاکوؤں کے مقابل ہوں یا آگ لگی ہو اور ایسے ہی تمام خوف اور دہشت کے موقعوں پر جہر سے اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔