العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٦٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافُ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيَّ، فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ لْيَيْنِ عَلَى صَلَاتِهِ1، وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.
وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالدَّارَ قُطْنِي وَالْبَيْهَقِيُّ عَنْ عَليَّ الله نَحْوَهُ مَوْقُوْفًا. وَرَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مُرْسَلًا أَيْضًا.
قَالَ فِي الْفَتْحِ وَابْنُ عَيَّاشٍ قَدْ وَثَقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَزَادَ فِي الْإِسْنَادِ: «عَنْ عَائِشَةَ» وَالزَّيَادَةُ مِنَ الثَّقَةِ مَقْبُولَةٌ، وَالْمُرْسَلْ عِنْدَنَا وَعِنْدَ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ حُجَّةٌ، كَذَا فِي جَامِعِ الآثار».
وَقَالَ الْعَيْنِيُّ فِي الْبِنَايَةِ»: فَإِنْ قُلْتَ: اسْتَدْلَلْتُمْ بِحَدِيثَيْنِ، أَحَدُهُمَا: مُرْسَلٌ، وَالْآخَرُ: ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: لَا يَضُرُّنَا إِرْسَالُهُ ؛ لِأَنَّ الْمُرْسَلَ عِنْدَنَا حُجَّةٌ، وَيَقْوَى الضَّعِيفُ بِمَا نُقِلَ عَنِ الصَّحَابَةِ ، وَهُوَ مَا أَخْرَجَهُ ابْن أَبِي شَيْبَةَ فِي مُصَنَّفِهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ وَسَلْمَانَ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ. (رضي الله عنهم) وَرُوِيَ مِنَ التَّابِعِينَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَطَاوُسٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ وَعَطَاءٍ وَمَكْحُوْلٍ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ.
وَكَيْفَ يَذْهَبُ إِلَى الْقِيَاسِ بِتَرْكِ قَوْلِ هَؤُلَاءِ، وَقَوْلُهُمْ فِيْمَا لَا يُدْرِكُ بِالْقِيَاسِ كَالنَّصَّ فِي كَوْنِهِ رَاجِحًا عَلَى الْقِيَاسِ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ فِي الْمَسْأَلَةِ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ؛ فَإِنَّهُ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، وَعَلِيَّ وَالْعَبَادِلَةِ الثَّلَاثَةِ وَأَنَسٍ وَسَلْمَانَ (رضي الله عنهم) ، جَوَازُ الْبِنَاءُ. وَالْمُرَادُ إِجْمَاعُ فُقَهَائِهِمْ، وَبِقَوْلِهِمْ يُتْرَكُ الْقِيَاسُ، هَذَا وَرُوْيَ أَيْضًا مِثْلُ مَا قُلْنَا عَنِ الْأَوْزَاعِيَّ وَابْنِ أَبِي لَيْلَى وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الله.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1221 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "Then let them resume their prayer, etc." means that if someone is afflicted with a natural bodily occurrence that necessitates ablution during prayer, they should leave immediately, perform ablution without engaging in anything unnecessary, and then resume their prayer according to the Hanafi school, provided nothing invalidating occurs. If they are following an imam, their ruling is like that of a follower (muqtadi): they do not recite, do not perform sahw (prostration of forgetfulness), and their obligation does not change by intending to establish the prayer. They begin by making up what they missed, unlike someone who joins late, and then follow the imam if they can catch up; otherwise, they follow and then pray what they missed without recitation. The other three Imams (Maliki, Shafi'i, and Hanbali) disagreed, stating that if an involuntary occurrence happens during prayer, the prayer is invalidated. This is mentioned in "Sharh Al-Munyah" with additional details.
Note 1
(۱) قوله : ثم ليين على صلاته إلخ يعني من سبقه حدث سماوي من بدنه موجب للوضوء في الصلاة انصرف من فوره وتوضأ من غير أن يشتغل بشيء غير ضروري في وضوئه، وبنى على صلاته عند الحنفية إن لم يعرض له ما ينافيها لهذا الحديث، وإن كان مقتديا فحكمه كمؤتم، فلا يأتي بقراءة ولا سهو، ولا يتغير فرضه بنية إقامة، ويبدأ بقضاء ما فاته عكس المسبوق، ثم يتابع إمامه إن أمكنه إدراكه، وإلا تابعه، ثم صلى ما فاته بلا قراءة. وخالفنا الأئمة الثلاثة؛ فإنهم قالوا: إذا سبقه الحدث وهو في الصلاة من غير اختياره بطلت صلاته. كذا في شرح المنية» مع زيادة.
Note 1
ف(1): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں وضوء ٹوٹ جانے سے نماز کی جگہ سے ہٹ کر وضوء کر کے پہلی نماز پر بناء کرنا جائز ہے، واضح ہو کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابہ کرامؓ اور تابعین کا اجماع ہے، چنانچہ ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں صحابہ میں سے حضرت علی بن ابی طالب، ابوبکر صدیق، سلمان فارسی، ابن عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے اور تابعین میں سے حضرت علقمہ، طاؤس، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر، شعبی، ابراہیم نخعی، عطاء مکحول اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہم اجمعین سے بناء کرنے کے ثبوت پر متعدد روایتیں کی ہیں، اسی وجہ سے بعض علماء نے کہا ہے کہ بناء کرنے کے اس مسئلہ پر صحابہ کرام کا اجماع ہے کیونکہ بناء کا جواز حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، عبداللہ ابن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، انس اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے نیز فقہاء و تابعین میں سے حضرات اوزاعی، ابن ابی لیلیٰ، حسن بصری، سفیان ثوری اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہم بھی جواز بناء کے قائل ہیں۔ (بنایہ یعنی عینی ہدایہ۔) ف(2): واضح ہو کہ نماز میں حدث ہونے کی دو صورتیں ہیں (1) اختیاری (2) غیر اختیاری، اختیاری حدث اس حدث کو کہتے ہیں کہ جس کے واقع ہونے میں بندے کے اختیار کو دخل ہو، مثلاً کوئی شخص نماز میں قہقہہ کے ساتھ ہنسے یا اپنے بدن پر کوئی ضرب لگا کر خون نکالے یا عمداً اخراج ریح کرے، ان سب صورتوں میں نماز فاسد ہو جائے گی، حدث غیر اختیاری اس حدث کو کہتے ہیں جس میں نمازی کے ارادے کے بغیر خود بخود حدث واقع ہو جیسے ریح، پیشاب، پاخانہ، مذی وغیرہ کا خود بخود نکلنا تو اس صورت میں مصلی کو چاہئے کہ وہ فوراً اپنی جگہ سے ہٹ کر وضوء کے لئے چلا جائے اگر بقدر ادائی ایک رکن بلا عذر ٹھہرا رہے تو نماز فاسد ہو جائے گی اور بنا صحیح نہ ہوگی اور بنا صحیح ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کسی رکن کو حالت حدث میں ادا نہ کرے اور اسی طرح کسی رکن کو چلنے کی حالت میں بھی ادا نہ کرے اور وضوء کرنے اور وضوء کے لئے جانے کے دوران میں کوئی ایسا فعل نہ کرے جو نماز کے منافی ہو یا وضوء کے ضروریات سے نہ ہو اور وضوء کے بعد اپنی نماز کو جس رکن پر چھوڑا تھا اسی رکن سے شروع کرے اور اس رکن کا اعتبار نہ کرے جس میں حدث ہوا ہے۔ اگر نمازی منفرد ہے تو بعد وضوء کے جہاں وضوء کیا ہے وہیں قریب میں نماز پڑھ سکتا ہو تو وہیں نماز پوری کر لے اور یہی افضل ہے اور چاہے تو پہلے جہاں نماز پڑھ رہا تھا وہاں جا کر نماز پوری کرے یہ بھی درست ہے۔ اگر نمازی جس کو حدث لاحق ہوا ہو وہ مقتدی ہے تو اس کا حکم اس مدرک کے حکم کی طرح ہے جو ابتداء نماز سے شریک جماعت رہا ہو، اس لئے ایسا مقتدی وضوء کے بعد جب اپنی باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرنا چاہے تو وہ چونکہ مدرک کی طرح ہے اور چونکہ مدرک امام کے پیچھے قرأت نہیں کرتا اس لئے یہ مقتدی بھی قرأت پڑھنے کے موقع پر نہ الحمد پڑھے اور نہ سورہ ضم کرے بلکہ الحمد اور ضم سورہ کی مقدار خاموش قیام کر کے رکوع میں چلا جائے مقتدی کے لئے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ امام نماز سے فارغ ہو چکا ہو، اور جماعت ختم ہو چکی ہے اور اگر امام ابھی نماز پڑھ رہا ہے تو مقتدی کو چاہئے کہ وہ جماعت میں شریک ہو کر امام کے سلام پھیرنے تک امام کے ساتھ نماز ادا کرے اور امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد مقتدی مذکورہ بالا طریقہ پر اپنی باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر امام کو نماز میں حدث لاحق ہو تو امام کو چاہئے کہ وہ مقتدیوں میں سے جس کو اہل سمجھتا ہے اشارہ کر کے خلیفہ بنائے اور خود وضوء کرنے کے لئے فوراً چلا جائے اور وضوء کے بعد اگر جماعت کو پا لے تو یہ مقتدی بن کر جماعت میں شریک ہو جائے اور جماعت ہو چکی ہو تو اوپر بتائے ہوئے طریقہ پر اپنی باقی ماندہ نماز کی تکمیل کر لے۔ (شرح المنیہ، درمختار، ردالمحتار، ہدایہ، عالمگیری۔)