And the Statement of Allah Almighty: "And stand before Allah in devotion" (Al-Baqarah: 238) and His Statement: "Those who are humble in their prayers" (Al-Mu'minun: 2).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 537a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلَامِ
النَّاسِ“ (یہ نماز ہے اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت (کسی طرح) ٹھیک نہیں، اس بارے
میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں کلام ناس کی نماز میں ممانعت مطلقاً مذکور ہے
کہ جس میں عمداً یا سہواً واقف سے ہو یا ناواقف سے ہو کسی قسم کی قید نہیں ہے اور اس طرح مطلقاً
ممانعت میں ہمارے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ نماز میں کلام ناس عمداً ہو یا سہواً اصلاح نماز کے لئے
ہو یا کسی اور غرض کے لئے واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے یہ سب نماز کو باطل کر دیتے ہیں، جیسا
کہ ہدایہ میں مذکور ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناواقف شخص سے نماز کے بعد ارشاد
فرمایا کہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس میں کسی قسم کا کلام ناس کسی طرح ٹھیک نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہ ارشاد مطلق ہونے کی وجہ سے ایسا ہی نماز کے منافی اور مفسد ہے، جیسا کہ نماز میں کھانا پینا نماز
کے منافی اور مفسد ہے۔
صاحب عنایہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا
شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی ہیئت ہی ایسی ہے کہ اس میں
کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت کا نہ ہونا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ نماز میں طہارت کا ہونا ضروری
ہے تو جس طرح بغیر طہارت کے نماز جائز نہیں ہوتی اسی طرح کلام ناس سے بھی نماز جائز نہیں ہوتی،
اور یہ ایک واضح بات ہے۔ (عنایہ کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) جامع الآثار میں لکھا ہے کہ یہ ایک مسلمہ
قاعدہ ہے کہ نکرہ جب نفی کے تحت واقع ہوتا ہے تو اس سے عموم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اس قاعدہ کو پیش
نظر رکھ کر حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ پر
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ شَیْءٌ نکرہ ہے اور نفی یعنی ”لَا يَصْلُحُ“، کے تحت واقع ہے جس سے
وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ہر قسم کا کلام ناس عمداً ہو کہ سہواً ہو، واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص
سے نماز کے منافی اور مفسد ہوگا۔ (جامع الآثار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
اب رہی یہ بات کہ پھر کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم
نہیں دیا تو اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں ان صحابی کو نماز کے
لوٹانے کے حکم کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو واقعۃً نماز
کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم تو دیا ہو لیکن انہوں نے اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں کیا
ہے۔ (امام طحاوی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کی تائید ترمذی کے قول اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اس
حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت خود ترمذی نے اس طرح کی ہے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے پیچھے اس طرح بات چیت کر لیا کرتے تھے کہ ایک ساتھی اپنے پاس والے ساتھی سے بول لیا
کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ”وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ“ (نماز میں اللہ کے سامنے خاموش
ہو کر کھڑے رہو) پھر ہم لوگوں کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اور بولنے سے منع کیا گیا۔
امام ترمذی اس حدیث کی روایت کر کے فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث
حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور سب علماء کہتے ہیں کہ جو شخص نماز میں جان بوجھ کر یا
بھول کر بات کر لے تو وہ نماز کو لوٹائے، امام سفیان ثوری اور امام ابن مبارک کا یہی قول ہے۔ (ترمذی
کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
خلاصہ بحث یہ ہے کہ امام طحاوی رحمة اللہ علیہ نے معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعادہ کا
حکم فرمانا ممکن بتلایا ہے لیکن ترمذی کے اس مذکورہ قول سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم یقیناً ہوا
ہوگا۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: جامع الآثار میں کہا ہے کہ اس حدیث میں ”وَنُهِيْنَا عَنِ الْكَلَامِ“ یعنی ہم کو (نماز میں)
بات چیت کرنے سے منع کیا گیا کا ارشاد مطلق ہے کہ اس میں عمداً سہواً واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص
سے ہو اصلاح نماز کے لئے ہو یا کسی اور غرض سے کسی قسم کی قید نہیں ہے اس لئے نماز میں بات کرنے کی
ممانعت ہر قسم کے کلام سے متعلق ہوگی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 368 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: شرح منیہ میں لکھا ہے کہ نمازی کا ہاتھ یا سر کے اشارہ سے سلام کا جواب دینا مکروہ ہے، اس
سے معلوم ہوتا ہے کہ اشارہ سے سلام کا جواب دینے کی یہ حدیث اس زمانہ سے متعلق ہے جبکہ نماز میں
بات چیت کرنا منسوخ نہیں ہوا تھا اور جب نماز میں بات چیت کرنا منسوخ ہو گیا تو نماز میں اشارہ سے
سلام کا جواب دینا بھی منسوخ ہو جائے گا کیونکہ اشارہ بھی کلام کی طرح ہے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابن الملک نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کی حالت میں
نمازی کو چھینک آجائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ زبان سے الحمدللہ کہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ نمازی
چھینک آنے پر الحمدللہ دل سے کہے یا خاموشی اختیار کرے، نہ تو دل سے الحمدللہ کہے اور نہ زبان سے۔
یہ مرقات میں مذکور ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 562 (unverified) 97% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 386 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: شرح النقایہ میں کہا ہے کہ نماز میں ایسی ہیئت اختیار کرنا جس سے ترک خشوع و خضوع ہو
مکروہ ہے مثلاً نماز میں کپڑوں کے ساتھ یا جسم کے ساتھ یا بالوں کے ساتھ کھیلنا اور ایسے ہی نماز میں
ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا جس کو تشبیک کہتے ہیں، مکروہ ہے اور اسی طرح
انگلیوں، چٹخانا بھی مکروہ ہے، اور توابع نماز جیسے مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنا یا نماز کے لئے گھر سے
باوضو مسجد کی طرف جانا وغیرہ ان حالتوں میں تشبیک ایسے ہی مکروہ ہے جیسے کہ عین نماز میں مکروہ ہے،
نماز میں ہوں یا توابع نماز ہر دو حالتوں میں تشبیک مکروہ تحریمی ہے، یہ رد المحتار میں مذکور ہے اور اعلاء
السنن میں لکھا ہے کہ خارج نماز اگر کسی ضرورت سے مثلاً انگلیوں کی راحت کے لئے تشبیک کی جائے تو
یہ جائز ہے جیسا کہ بخاری کی اس حدیث سے ضرورتاً تشبیک کی اجازت ثابت ہوتی ہے، ابوموسیٰ اشعری
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے
لئے بنیاد کی طرح ہے اور آپ نے (بطریق مثال) اپنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں
میں ڈال کر تشبیک فرمائی۔ البتہ بغیر کسی ضرورت کے خارج نماز بطور عبث تشبیک کی جائے تو یہ مکروہ
تنزیہی ہے۔ (یہ مضمون اعلاء السنن سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 545a (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 1219 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں لفظ ”خصر“ جو مذکور ہے اس کے معنی کولہوں پر ہاتھ رکھنا ہیں، اور
اس معنی کو اکثر اہل علم نے اختیار کیا ہے اس کے علاوہ ”خصر“ کے معنی عصاء پر ٹیک دینے کے بھی لئے
گئے ہیں۔ ردالمختار میں لکھا ہے کہ نماز میں کولہوں پر ہاتھ رکھنا مکروہ تحریمی ہے، اور خارج نماز کولہوں پر
ہاتھ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے اور مرقات میں کہا ہے کہ نماز میں بلا ضرورت عصاء پر ٹیک دینا مکروہ ہے اور
عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ ضرورتاً جیسے بوڑھے یا بیمار وغیرہ نماز میں بجز عصاء وغیرہ پر ٹیک دینے کے قیام
پر قادر نہ ہوں تو ایسے لوگ بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بجائے عصا وغیرہ پر ٹیک دے کر قیام کریں۔ (عمدۃ
القاری کی عبارت ختم ہوئی۔) اور خارج نماز عصاء پر ٹیک دینا مباح ہوگا جس پر دلیل قرآن مجید میں
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ہے (سورہ طٰہٰ پ16 ع1 میں)”هِيَ عَصَايَ اَتَوَكَّؤُا عَلَيْهَا“
(یہ میرا عصاء ہے جس پر ٹیک دیا کرتا ہوں) اصول میں ثابت ہے کہ قرآن کسی چیز کو بیان کرنے کے
بعد اس کو رد نہ کرے تو وہ چیز ہماری شریعت میں بھی مباح رہتی ہے اسی لئے خارج نماز عصا پر ٹیک دینا
مباح ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1207 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 546a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
If you must do it, do it only once.
(1) His statement: "If you must do it, do it only once." Therefore, it is said in "Sharh An-Naqayah": Leveling the pebbles is disliked, except once.
Note 1
قوله
(۱) قوله: إن كنت فاعلا فواحدة لذلك قال في شرح النقاية»: وكره قلب الحصى أي تسويته؛ ليسجد عليه، إلا مرة.
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت میں سجدہ کی جگہ سے بلا ضرورت کنکریوں کا
صاف کرنا مطلقاً مکروہ ہے اور ضرورت کی حالت میں ایک مرتبہ صاف کرنے کی اجازت ہے کیونکہ اس
سے ضرورت رفع ہو جائے گی اور اس کے بعد دوبارہ ایسا کرنا فضول ہوگا۔ (شرح نقایہ، اعلاء السنن۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ بحالت نماز بلا ضرورت سجدہ کی جگہ سے کنکریاں صاف نہ
کرے اس لئے کہ نماز کی حالت میں ہر عمل قلیل بلا عذر مکروہ ہے، اس لئے معلوم کرنا چاہئے کہ عمل قلیل
کیا ہے اور عمل کثیر کیا ہے؟ عمل کثیر یہ ہے کہ جس کے کرنے والے کو دور سے دیکھنے والے سمجھیں کہ یہ
نماز میں نہیں ہے، جیسے نماز کی حالت میں دونوں ہاتھوں سے عمامہ باندھنا وغیرہ اس سے نماز فاسد
ہوجاتی ہے، البتہ بحالت نماز ایسا عمل کثیر جو اعمال نماز سے ہو جیسے ایک رکعت میں دو رکوع یا تین
سجدے کرنا، اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، اس لئے کہ یہ اعمال نماز سے ہے، اسی طرح ایسے عمل کثیر سے
بھی نماز فاسد نہیں ہوتی جو اصلاح نماز کے لئے ہو، جیسے نماز کی حالت میں وضوء ٹوٹ جانے سے وضوء
کرنے کے لئے چلنا اگرچہ کہ یہ بھی عمل کثیر ہے مگر اصلاح نماز کے لئے ہے اس لئے اس سے بھی نماز
فاسد نہیں ہوگی۔
اور عمل قلیل یہ ہے کہ جس کے کرنے والے کے متعلق دور سے دیکھنے والے کو شک ہو کہ یہ نماز
میں ہے یا نہیں، جیسے نمازی کی حالت میں سجدہ کی جگہ سے ایک ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنا اگر
بلا ضرورت کنکریاں صاف کی جائیں تو نماز مکروہ ہوگی البتہ ضرورت پر صرف ایک بار کنکریاں صاف کی
جاسکتی ہیں۔ (ردالمختار، اعلاء السنن۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 516 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 543a (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.460
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: التعلیق المجید میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف میں کوئی ایسی چیز مذکور نہیں ہے جو قواعد شرع
شریف کے خلاف ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز میں بچوں کے جسم اور ان کے کپڑے، جب تک نجاست کا
یقین نہ ہو پاک ہی سمجھے جائیں گے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بچی کو اٹھانا طہارت کی شرط کے
خلاف نہ ہوگا اسی طرح نماز کے اندر عمل قلیل ایک ہی رکن میں تین مرتبہ نہ کیا جائے بلکہ متفرق ارکان
میں متفرق طور پر کیا جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی یہاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ایسا ہی
متفرق ارکان میں متفرق طور پر ہوا ہے اس لئے مفسد نماز نہیں۔ یہ شرح الزرقانی میں مذکور ہے اور
ردالمحتار میں بھی اسی طرح حلیہ سے منقول ہے اور عمدۃ القاری میں بدائع کے حوالے سے مذکور ہے کہ ہم
میں سے کسی کے لئے بھی ضرورت کے وقت ایسا عمل قلیل مکروہ نہیں البتہ بلا ضرورت نماز میں عمل قلیل
مکروہ ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 461 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 541a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے ”فَأَخَذْتُهُ“ (میں نے اس جن کو پکڑ لیا) پکڑنا عمل قلیل ہے جو
ضرورت سے تھا اس لئے یہ عمل قلیل مفسد نماز نہیں۔ (عمدۃ القاری۔)
اور مرقات میں ہے کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ یہ حدیث شریف اس بات پر بھی دلالت کرتی
ہے کہ جنات کا جسم نجس نہیں ہے اس لئے جنات کو نماز کی حالت میں پکڑنا طہارت کی شرط کے خلاف
نہ ہوگا، اس لئے اس سے بھی نماز باطل نہیں ہوگی۔ ابن الملک نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ
بھی ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز میں اگر نمازی کے دل میں ایسے افعال کا وسوسہ پیدا ہو جو افعال نماز
سے نہ ہوں تو اس سے بھی نماز فاسد نہیں ہوتی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 921 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 390 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں سانپ اور بچھو کو نماز کی حالت میں مارنے کا جو حکم ہوا
ہے وہ مطلق حکم ہے اور اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے اس لئے ان کے مارنے میں ایک ضرب سے کام لیا
جائے یا متعدد ضربات سے نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ کہ یہ عمل کثیر ہے، ایسا ہی ان کے مارنے میں تین یا
تین سے زائد قدم جانا پڑے تو اس سے بھی نماز فاسد نہ ہوگی، اگرچہ کہ یہ بھی عمل کثیر ہے، ایسا (قبلہ سے
سینہ پلٹ جانے پر نماز کے فاسد نہ ہونے کا یہ مسئلہ فتح اللہ المعین علی شرح ملا مسکین، الکنز، نور الایضاح،
مراقی الفلاح اور حاشیہ طحطاوی سے ماخوذ ہے۔) ہی ان کے مارنے میں سینہ قبلہ سے پلٹ جائے تو بھی
نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ کہ یہ عمل بھی مفسد نماز ہے اس لئے کہ یہ سب عمل کثیر اصلاح نماز کے لئے کئے
جا رہے ہیں، اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو ضرر کے اندیشہ سے دل بٹ جائے گا اور اطمینان و جمعیت باقی
نہیں رہے گی اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ نماز میں وضو ٹوٹ جانے سے اصلاح نماز کے لئے عمل کثیر
کر کے وضو کرنے کی غرض سے چلنے کی اجازت ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ نماز کی حالت میں سانپ اور بچھو کو مارنے سے متعلق دو حکم ہیں، ایک مستحب
اور دوسرے واجب، اگر خود نمازی کو ان سے ضرر کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں ان کو مارنا مستحب ہوگا،
برخلاف اس کے اگر خود نمازی کو ان سے ضرر کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں ان کو مارنا واجب ہوگا اور اگر
ان کے ضرر کے اندیشہ سے نماز توڑ دی جائے تو بھی درست ہے، اگر نماز توڑے بغیر ان کو مار ڈالا جائے
تو ان کے مارنے کے لئے نماز جہاں سے چھوڑی گئی تھی پھر وہیں سے شروع کی جائے، نئے سرے سے
پھر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
(درمختار، ردالمحتار، ہدایہ، فتح القدیر، عنایہ، عمدۃ الرعایۃ، اعلاء السنن، فتح اللہ المعین علی شرح ملا
مسکین، الکنز، مراقی الفلاح شرح نور الایضاح برحاشیہ طحطاوی۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He opened it for me and then returned to his place of prayer.
(1) His statement: "He opened it for me and then returned to his place of prayer." It is mentioned in "Al-Hilyah" in the chapter on disliked actions: Walking during prayer is either without an excuse or with an excuse. If it is without an excuse and is excessive and continuous, it invalidates the prayer, even if one does not turn away from the Qiblah. If it is excessive but not continuous, or if it is minimal, and one turns away from the Qiblah, the prayer is invalidated due to the contradiction without necessity; otherwise, it is not. It is disliked because what invalidates in large amounts is disliked in small amounts without necessity.
If it is with an excuse, such as for purification due to an unexpected impurity or during the prayer of fear, it does not invalidate the prayer and is not disliked, whether minimal or excessive, and whether one turns away from the Qiblah or not. If it is for other reasons and one turns away from the Qiblah, the prayer is invalidated, whether minimal or excessive. If one does not turn away, minimal walking does not invalidate the prayer and is not disliked, but excessive and continuous walking invalidates it. As for non-continuous excessive walking, there is disagreement over whether it invalidates or is disliked. Reflect on this. (Summarized)
It is also said in this Chapter on What appears is that non-continuous excessive walking is neither invalidating nor disliked if it is for an excuse, absolutely.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ففتح لي ثم رجع إلى مصلاه: وذكر في الحلية» في فصل المكروهات»: أن المشي لا يخلو إما أن يكون بلا عذر أو بعذر، فالأول إن كان كثيرًا متواليا تفسد وإن لم يستدبر القبلة، وإن كان كثيرًا غير متوال، بل تفرق في ركعات أو كان قليلا، فإن استدبرها فسدت صلاته للمنافي بلا ضرورة، وإلا فلا، وكُره لما عرف أن ما أفسد كثيره کره قليله بلا ضرورة.
وإن كان بعذر، فإن كان للطهارة عند سبق الحدث أو في صلاة الخوف، لم يفسدها ولم يكره، قل أو كثر استدبر أو لا. وإن كان لغير ما ذكر، فإن استدبر معه فسدت، قل أو كثر. وإن لم يستدبر، فإن قل لم يُفسد ولم يكره، وإن كان كثيرًا متلاحقا أفسد، وأما غير المتلاحق ففي كونه مفسدا أو مكروها خلاف، فتأمل، انتهى ملخصا. وقال في هذا الباب: والذي يظهر أن الكثير الغير المتلاحق غير مفسد ولا مكروه إذا كان لعذر مطلقا.
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں تین چیزیں قابل غور ہیں: (1) ایک یہ کہ دروازہ کھولنا،
(2) دوسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے لئے چلنا اور (3) تیسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے بعد پھر اپنی جگہ
پر واپس ہونا، دروازہ کھولنے کے بارے میں بحر الرائق میں لکھا ہے کہ دروازہ کا بند کرنا تو عمل کثیر ہے لیکن
دروازہ کا کھولنا عمل کثیر نہیں بلکہ یہ عمل قلیل ہے، اس لئے یہاں جو دروازہ کھولا گیا ہے عمل قلیل ہونے
سے مفسد نماز نہیں ہوا۔
دوسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے لئے چلنا، تو اس بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ حجرہ
مبارک اس قدر تنگ تھا کہ دروازہ کھولنے کے لئے ایک یا دو قدم سے زیادہ چلنے کی گنجائش ہی نہ تھی،
اس لئے حدیث شریف میں دروازہ کھولنے کے لئے چلنے کا جو ذکر ہے وہ ایک یا دو قدم چلنے کی وجہ سے
عمل کثیر نہیں ہوگا بلکہ عمل قلیل ہی ہے، اس لئے یہ بھی مفسد نماز نہیں ہوا۔
تیسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے بعد اپنی جگہ پر واپس ہونا، تو اس بارے میں مرقات میں لکھا
ہے کہ دروازہ کھولنے کے لئے آگے چلنا اور پھر واپس ہونا عمل کثیر تو ہے مگر اس لئے مفسد نماز نہیں کہ یہ
چلنا اور واپس ہونا پے در پے نہیں تھا، اس لئے کہ دروازہ کھولنے میں ایک رکن کی ادائی کے مقدار وقت
صرف ہونے کے بعد واپسی ہوئی اور نماز میں ایک رکن کی مقدار ٹھہر ٹھہر کر چلنا پے در پے نہ ہونے
سے مفسد نماز نہیں ہوتا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ نماز کی حالت میں بقدر ایک مصلّٰی (یعنی قدم
سے لے کر سجدہ کی جگہ) قبلہ رخ ایک یا دو قدم میں چل کر ایک رکن کی ادائی کی مقدار ٹھہرنے کے بعد
پھر اتنا ہی چلنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، چونکہ اس حدیث شریف میں بھی ایسا ہی ہوا ہے اس لئے یہ
عمل بھی مفسد نماز نہیں ہوا۔
ف(2): حلیہ کی فصل مکروہات میں مذکور ہے کہ نماز کی حالت میں مشی یعنی چلنے کی دو صورتیں
ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ نمازی نماز میں بلا عذر چلے اور دوسرے یہ کہ نمازی کا نماز میں چلنا کسی عذر کی وجہ
سے ہو، نماز میں بلا عذر چلنے کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ چلنا کثیر ہو، اور پے در پے ہو تو اس صورت
میں نماز فاسد ہوجائے گی اگرچہ کہ نمازی قبلہ رخ ہی کیوں نہ چلے، دوسرے یہ چلنا کثیر ہو لیکن پے
در پے نہ ہو، بلکہ کئی رکعتوں میں متفرق طور پر چلا ہو تو اس صورت میں اگر نمازی کا سینہ قبلہ کی طرف سے
پلٹ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر نمازی کا سینہ قبلہ کی طرف سے نہ پلٹے تو نماز فاسد نہیں ہوگی
بلکہ مکروہ ہوگی، اگر نمازی نے نماز میں بلا عذر مشی قلیل کی اور اس کا سینہ قبلہ کی طرف سے پلٹ جائے تو
مشی قلیل ہونے کے باوجود بھی نماز فاسد ہوجائے گی، اگر سینہ قبلہ کی طرف سے نہ پلٹا ہو تو نماز مکروہ ہوگی۔
واضح ہو کہ مذکورہ صورتیں نماز میں بلا عذر چلنے کی تھیں اب نماز میں عذر کے ساتھ چلنے کی
صورتیں ملاحظہ ہوں۔
اگر نماز کی حالت میں مشی عذر کی وجہ سے ہو جیسے نماز میں وضوء ٹوٹنے کی صورت میں وضوء
کرنے کی خاطر چلا ہو یا صلاۃ خوف یعنی جہاد میں جو نماز ادا کی جاتی ہے اس میں چلنے کی نوبت آئی ہو یا
نماز کی حالت میں (سانپ اور بچھو کو مارنے کے لئے چلنے کی ضرورت ہوئی ہو تو ان صورتوں میں نماز میں
چلنے سے نماز نہ تو فاسد ہوگی اور نہ مکروہ ہوگی، خواہ مشی قلیل ہو یا کثیر ہو، اور چلنے میں سینہ قبلہ کی طرف
سے پلٹا ہو یا نہ ہو، ان مذکورہ صورتوں میں یعنی صلاۃ خوف یا نمازی کا حدث کے بعد وضوء کے لئے مشی
کرنا یا سانپ اور بچھو کو مارنے کے لئے نماز میں چلنا ان کے علاوہ اگر کسی اور عذر کے بناء پر نمازی نے
مشی قلیل کی ہو، یا مشی کثیر جس میں اس نے اپنا سینہ قبلہ کی جانب سے پلٹ دیا ہو تو اس سے نماز فاسد
ہو جائے گی، اگر نماز کی حالت میں عذر کی وجہ مشی قلیل کی ہو تو اس سے نہ تو نماز فاسد ہوتی ہے نہ مکروہ،
بشرطیکہ چلنے میں نمازی کا سینہ قبلہ کی جانب سے نہ پلٹا ہو، اگر نماز میں عذر کی وجہ سے مشی کثیر ہو اور پے
درپے ہو تو یہ مشی نماز کو فاسد کردے گی اور اگر مشی کثیر ہو لیکن پے درپے اور متواتر نہ ہو تو ایسی مشی کے
مفسد نماز ہونے یا مکروہ ہونے میں اختلاف ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمازی نے نماز میں مشی
کثیر کی ہو، جو پے درپے نہ ہو تو وہ نماز کو فاسد نہیں کرتی اور نہ تو اس سے نماز مکروہ ہوتی ہے بشرطیکہ یہ مشی
مطلق عذر کی بناء پر کی گئی ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2995b (unverified) 94% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 3289 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ نمازی کو نماز میں جب جمائی آجائے تو جہاں تک
ہوسکے جمائی کو روکنا چاہئے واضح ہو کہ جمائی کو روکنے کے کئی تدبیریں ہیں، ایک تدبیر یہ ہے کہ جمائی
کے وقت یہ خیال کیا جائے کہ انبیاء علیہم السلام کو جمائی نہیں آتی تو اس خیال سے جمائی رک جاتی
ہے، خلاصہ میں لکھا ہے کہ دانتوں سے ہونٹ کو دبا کر بھی جمائی کو روکنا چاہئے اور مجتبیٰ میں مذکور ہے کہ
نماز میں اگر بحالت قیام جمائی آجائے تو سیدھے ہاتھ کی پشت کو منہ پر رکھ کر جمائی کو روکے اور قیام کے
سوا نماز کے کسی اور رکن میں جمائی آجائے تو بائیں ہاتھ کی پشت کو منہ پر رکھ کر جمائی کو روکنا چاہئے اور
خارج نماز جمائی آنے کی صورت میں جمائی کو روکنے کی جو صورتیں اوپر بیان کی گئی ہیں ان سب کو اختیار
کیا جاسکتا ہے۔ (یہ پورا مضمون ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 370 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر
شیطان کی طرف سے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تمام چیزیں جب نماز میں واقع ہوں تو شیطان کی خوشی کا سبب ہوتی ہیں اول
الذکر تین چیزوں یعنی چھینک، اونگھ اور جمائی سے تو نماز مکروہ ہوتی ہے اور آخر الذکر تین چیزوں یعنی
حیض، قے اور نکسیر سے تو نماز فاسد ہی ہوجاتی ہے۔
اس حدیث شریف میں دوسری اور چیزوں کے ساتھ نماز میں چھینک آنے کو جو شیطان کی
طرف سے ہونا ارشاد ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حالت میں چھینک آنے سے توجہ الی اللہ، حضور
قلب اور استغراق میں فرق پیدا ہوجاتا ہے ورنہ خارج نماز تو چھینک پسندیدہ ہے جیسا کہ ایک حدیث
شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ“(اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے۔)
خلاصہ بحث یہ ہے کہ چھینک خارج نماز مطلقاً محبوب ہے اور داخل نماز مطلقاً مکروہ
ہے۔(مرقات، اشعۃ اللمعات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 429 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں کہا ہے کہ نمازی کی ہر حالت میں اور بالخصوص دعاء کے
وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا مکروہ ہے۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدة القاری میں لکھتے ہیں کہ
تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دعاء کے وقت نماز میں آسمان کی طرف نظریں اٹھانا مکروہ ہے، البتہ
خارج نماز دعاء کے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھانے کے بارے میں اختلاف ہے، قاضی شریح اور
ایک جماعت نے خارج نماز بھی دعاء کے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھانے کو مکروہ قرار دیا ہے لیکن
اکثر علماء نے اس کی اجازت دی ہے اور ان حضرات کا استدلال یہ ہے کہ جس طرح کعبۃ اللہ قبلہ نماز
ہے، اسی طرح آسمان قبلہ دعاء ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 381 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(کیوں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے سامنے نہایت عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔)
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ف(1): شرح النقایہ میں کہا ہے کہ نماز کی حالت میں پیشانی پر سے مٹی کو پونچھنا مکروہ ہے،
البتہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد پیشانی پر سے مٹی کو پونچھنا مکروہ نہیں بلکہ عبادت کو چھپانے کی خاطر
ریاکاری و شہرت سے بچنے کے لئے پیشانی کی مٹی کو بعد نماز کے پونچھ لینا مستحب ہے۔
ف(2): عرف شذی میں بحر کے حوالے سے لکھا ہے کہ نماز میں پھونک مارنے کے بارے میں
مذہب حنفی میں دو قول ہیں، ایک قول تو یہ ہے کہ نماز میں آواز کے ساتھ پھونک مارنے سے نماز فاسد
ہوجاتی ہے ورنہ نہیں، اور دوسرا قول یہ ہے کہ نماز میں اس طرح پھونک ماری جائے جس سے حروف ظاہر
ہوتے ہوں تو نماز فاسد ہوجائے گی ورنہ نہیں، اور صاحب بحر نے اسی دوسرے قول کو اختیار کیا ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ نماز میں دھیمی آواز سے رونا یا بڑی آواز سے رونا اگر یہ آخرت کے خیال سے
اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور امید کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ کسی درد یا دنیوی مصیبت کی وجہ سے ہوں تو ان
سے نماز فاسد ہو جائے گی، اس لئے کہ اس سے افسوس اور بے قراری کا اظہار ہوتا ہے اور یہ فعل
حقیقت میں شکایت ہے کہ گویا نمازی کہہ رہا ہے کہ میری مدد کرو اور نماز میں ایسا کہنا نماز کے اندر کلام
ہوا، اور کلام سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، اس کے برخلاف نماز میں دھیمی آواز سے رونا یا بڑی آواز سے
رونا آخرت کے خیال سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف یا امید کی وجہ سے ہو تو یہ حقیقت میں دعاء اور ثناء ہے
اور اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (شرح نقایہ، مرقات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1221 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Then let them resume their prayer, etc.
(1) His statement: "Then let them resume their prayer, etc." means that if someone is afflicted with a natural bodily occurrence that necessitates ablution during prayer, they should leave immediately, perform ablution without engaging in anything unnecessary, and then resume their prayer according to the Hanafi school, provided nothing invalidating occurs. If they are following an imam, their ruling is like that of a follower (muqtadi): they do not recite, do not perform sahw (prostration of forgetfulness), and their obligation does not change by intending to establish the prayer. They begin by making up what they missed, unlike someone who joins late, and then follow the imam if they can catch up; otherwise, they follow and then pray what they missed without recitation. The other three Imams (Maliki, Shafi'i, and Hanbali) disagreed, stating that if an involuntary occurrence happens during prayer, the prayer is invalidated. This is mentioned in "Sharh Al-Munyah" with additional details.
Note 1
قوله
(۱) قوله : ثم ليين على صلاته إلخ يعني من سبقه حدث سماوي من بدنه موجب للوضوء في الصلاة انصرف من فوره وتوضأ من غير أن يشتغل بشيء غير ضروري في وضوئه، وبنى على صلاته عند الحنفية إن لم يعرض له ما ينافيها لهذا الحديث، وإن كان مقتديا فحكمه كمؤتم، فلا يأتي بقراءة ولا سهو، ولا يتغير فرضه بنية إقامة، ويبدأ بقضاء ما فاته عكس المسبوق، ثم يتابع إمامه إن أمكنه إدراكه، وإلا تابعه، ثم صلى ما فاته بلا قراءة. وخالفنا الأئمة الثلاثة؛ فإنهم قالوا: إذا سبقه الحدث وهو في الصلاة من غير اختياره بطلت صلاته. كذا في شرح المنية» مع زيادة.
Note 1
ف(1): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں وضوء ٹوٹ جانے سے نماز کی جگہ سے ہٹ
کر وضوء کر کے پہلی نماز پر بناء کرنا جائز ہے، واضح ہو کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابہ کرامؓ اور تابعین کا
اجماع ہے، چنانچہ ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں صحابہ میں سے حضرت علی بن ابی طالب، ابوبکر
صدیق، سلمان فارسی، ابن عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے اور تابعین میں سے حضرت علقمہ، طاؤس،
سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر، شعبی، ابراہیم نخعی، عطاء مکحول اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہم اجمعین سے
بناء کرنے کے ثبوت پر متعدد روایتیں کی ہیں، اسی وجہ سے بعض علماء نے کہا ہے کہ بناء کرنے کے اس
مسئلہ پر صحابہ کرام کا اجماع ہے کیونکہ بناء کا جواز حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، عبداللہ ابن مسعود، عبداللہ
بن عمر، عبداللہ بن عباس، انس اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے نیز فقہاء و تابعین میں
سے حضرات اوزاعی، ابن ابی لیلیٰ، حسن بصری، سفیان ثوری اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہم بھی
جواز بناء کے قائل ہیں۔ (بنایہ یعنی عینی ہدایہ۔)
ف(2): واضح ہو کہ نماز میں حدث ہونے کی دو صورتیں ہیں (1) اختیاری (2) غیر اختیاری،
اختیاری حدث اس حدث کو کہتے ہیں کہ جس کے واقع ہونے میں بندے کے اختیار کو دخل ہو، مثلاً کوئی
شخص نماز میں قہقہہ کے ساتھ ہنسے یا اپنے بدن پر کوئی ضرب لگا کر خون نکالے یا عمداً اخراج ریح کرے،
ان سب صورتوں میں نماز فاسد ہو جائے گی، حدث غیر اختیاری اس حدث کو کہتے ہیں جس میں نمازی
کے ارادے کے بغیر خود بخود حدث واقع ہو جیسے ریح، پیشاب، پاخانہ، مذی وغیرہ کا خود بخود نکلنا تو اس
صورت میں مصلی کو چاہئے کہ وہ فوراً اپنی جگہ سے ہٹ کر وضوء کے لئے چلا جائے اگر بقدر ادائی ایک
رکن بلا عذر ٹھہرا رہے تو نماز فاسد ہو جائے گی اور بنا صحیح نہ ہوگی اور بنا صحیح ہونے کے لئے یہ بھی ضروری
ہے کہ کسی رکن کو حالت حدث میں ادا نہ کرے اور اسی طرح کسی رکن کو چلنے کی حالت میں بھی ادا نہ کرے
اور وضوء کرنے اور وضوء کے لئے جانے کے دوران میں کوئی ایسا فعل نہ کرے جو نماز کے منافی ہو یا وضوء
کے ضروریات سے نہ ہو اور وضوء کے بعد اپنی نماز کو جس رکن پر چھوڑا تھا اسی رکن سے شروع کرے اور
اس رکن کا اعتبار نہ کرے جس میں حدث ہوا ہے۔
اگر نمازی منفرد ہے تو بعد وضوء کے جہاں وضوء کیا ہے وہیں قریب میں نماز پڑھ سکتا ہو تو وہیں
نماز پوری کر لے اور یہی افضل ہے اور چاہے تو پہلے جہاں نماز پڑھ رہا تھا وہاں جا کر نماز پوری کرے یہ
بھی درست ہے۔
اگر نمازی جس کو حدث لاحق ہوا ہو وہ مقتدی ہے تو اس کا حکم اس مدرک کے حکم کی طرح ہے جو
ابتداء نماز سے شریک جماعت رہا ہو، اس لئے ایسا مقتدی وضوء کے بعد جب اپنی باقی ماندہ نماز کی تکمیل
کرنا چاہے تو وہ چونکہ مدرک کی طرح ہے اور چونکہ مدرک امام کے پیچھے قرأت نہیں کرتا اس لئے یہ
مقتدی بھی قرأت پڑھنے کے موقع پر نہ الحمد پڑھے اور نہ سورہ ضم کرے بلکہ الحمد اور ضم سورہ کی مقدار
خاموش قیام کر کے رکوع میں چلا جائے مقتدی کے لئے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ امام نماز سے
فارغ ہو چکا ہو، اور جماعت ختم ہو چکی ہے اور اگر امام ابھی نماز پڑھ رہا ہے تو مقتدی کو چاہئے کہ وہ
جماعت میں شریک ہو کر امام کے سلام پھیرنے تک امام کے ساتھ نماز ادا کرے اور امام کے نماز سے
فارغ ہونے کے بعد مقتدی مذکورہ بالا طریقہ پر اپنی باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر امام کو نماز میں
حدث لاحق ہو تو امام کو چاہئے کہ وہ مقتدیوں میں سے جس کو اہل سمجھتا ہے اشارہ کر کے خلیفہ بنائے اور
خود وضوء کرنے کے لئے فوراً چلا جائے اور وضوء کے بعد اگر جماعت کو پا لے تو یہ مقتدی بن کر جماعت
میں شریک ہو جائے اور جماعت ہو چکی ہو تو اوپر بتائے ہوئے طریقہ پر اپنی باقی ماندہ نماز کی تکمیل
کر لے۔
(شرح المنیہ، درمختار، ردالمحتار، ہدایہ، عالمگیری۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ (یہ نماز ہے اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت (کسی طرح) ٹھیک نہیں، اس بارے میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں کلام ناس کی نماز میں ممانعت مطلقاً مذکور ہے کہ جس میں عمداً یا سہواً واقف سے ہو یا ناواقف سے ہو کسی قسم کی قید نہیں ہے اور اس طرح مطلقاً ممانعت میں ہمارے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ نماز میں کلام ناس عمداً ہو یا سہواً اصلاح نماز کے لئے ہو یا کسی اور غرض کے لئے واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے یہ سب نماز کو باطل کر دیتے ہیں، جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناواقف شخص سے نماز کے بعد ارشاد فرمایا کہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس میں کسی قسم کا کلام ناس کسی طرح ٹھیک نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مطلق ہونے کی وجہ سے ایسا ہی نماز کے منافی اور مفسد ہے، جیسا کہ نماز میں کھانا پینا نماز کے منافی اور مفسد ہے۔ صاحب عنایہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی ہیئت ہی ایسی ہے کہ اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت کا نہ ہونا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ نماز میں طہارت کا ہونا ضروری ہے تو جس طرح بغیر طہارت کے نماز جائز نہیں ہوتی اسی طرح کلام ناس سے بھی نماز جائز نہیں ہوتی، اور یہ ایک واضح بات ہے۔ (عنایہ کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) جامع الآثار میں لکھا ہے کہ یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ نکرہ جب نفی کے تحت واقع ہوتا ہے تو اس سے عموم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اس قاعدہ کو پیش نظر رکھ کر حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ شَیْءٌ نکرہ ہے اور نفی یعنی ”لَا يَصْلُحُ“، کے تحت واقع ہے جس سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ہر قسم کا کلام ناس عمداً ہو کہ سہواً ہو، واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے نماز کے منافی اور مفسد ہوگا۔ (جامع الآثار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اب رہی یہ بات کہ پھر کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا تو اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کے حکم کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو واقعۃً نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم تو دیا ہو لیکن انہوں نے اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (امام طحاوی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کی تائید ترمذی کے قول اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت خود ترمذی نے اس طرح کی ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس طرح بات چیت کر لیا کرتے تھے کہ ایک ساتھی اپنے پاس والے ساتھی سے بول لیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ”وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ“ (نماز میں اللہ کے سامنے خاموش ہو کر کھڑے رہو) پھر ہم لوگوں کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اور بولنے سے منع کیا گیا۔ امام ترمذی اس حدیث کی روایت کر کے فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور سب علماء کہتے ہیں کہ جو شخص نماز میں جان بوجھ کر یا بھول کر بات کر لے تو وہ نماز کو لوٹائے، امام سفیان ثوری اور امام ابن مبارک کا یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) خلاصہ بحث یہ ہے کہ امام طحاوی رحمة اللہ علیہ نے معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعادہ کا حکم فرمانا ممکن بتلایا ہے لیکن ترمذی کے اس مذکورہ قول سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم یقیناً ہوا ہوگا۔