Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1430

بَابُ الْجَمَاعَةِ وَفَضْلِهَا

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْجَمَاعَةِ وَفَضْلِهَا

Zujajat al-Masabih 1430Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٣٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدُ يَقُوْدُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَنْ يُرَخَّصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَأَجِبْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 653 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1054 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 1054

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کے اجازت طلب کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی اجازت نہیں دی، اب رہی یہ بات کہ نابینائی جماعت میں حاضر ہونے کے لئے عذر ہے تو اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ عذر دو قسم کے ہیں: ایک وہ عذر کہ جن کی وجہ سے جماعت میں آنا تو ممکن ہے لیکن آنے میں مشقت اور سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس لئے اس صورت میں جماعت میں حاضر ہونے کا وجوب تو باقی رہتا ہے اگر تکلیف اور مشقت کی وجہ سے جماعت میں حاضر نہ ہو تو رخصت ہے اور اجازت ہے۔ چنانچہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں حاضر نہ ہونے کی جو اجازت دی ہے وہ اس لئے ہے کہ نابینائی عذر ہے، اگر کوئی نابینا ہونے کی وجہ سے حاضر جماعت نہ ہو تو اس کے لئے رخصت ہے لیکن وجوب باقی ہے اور مشقت اور تکلیف کے باوجود جماعت میں حاضر ہو تو اس کے لئے عزیمت ہے، یعنی بڑی ہمت کی بات ہے اور ثواب کثیر کے حصول کا باعث ہے اور نابینا کے جماعت میں حاضر ہونے کی عزیمت پر صدر کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کو اجازت طلب کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی اجازت نہیں دی۔ اب رہا جماعت میں حاضر نہ ہونے کے عذر کی دوسری قسم وہ عذر ہے جس کی وجہ سے جماعت میں حاضر ہونا ممکن ہی نہیں ہے جیسے فالج وغیرہ۔ اس عذر میں عذر والے سے جماعت میں شریک ہونے کا وجوب بھی ساقط ہو جاتا ہے اور جماعت میں نہ آنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (مرقات، ردالمحتار اور اعلاء السنن)۔