Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں نہ آنے والوں کو منافق فرمایا، اس سے
جماعت کا وجوب ثابت ہوا اور نماز کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب بھی اس سے ظاہر ہو رہا ہے کیوں
کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غیر حاضری مسجد پر ہی یہ سخت وعید فرمائی۔ اگر گھر کی جماعت
کافی ہوتی تو مسجد میں نہ آنے پر یہ وعید نہ ہوتی۔ (اعلاء السنن)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 644 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 651b (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز باجماعت میں
شریک نہ ہونے والوں کے مکانات کو آگ لگا دوں۔ ابن قیم نے کہا ہے کہ اس قسم کی یہ وعید ظاہر ہے
کہ صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتی، اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کی جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی اور جماعت کے ترک
کی اجازت نہ دی، اگرچہ کہ اذان سننے والا نابینا ہو، اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کا مسجد میں
ادا کرنا واجب ہے۔ (مرقات، ابن ہمام اور عینی)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ ”اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو
عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دینے کا حکم دیتا“ اس سے
ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا جماعت سے ادا کرنا عورتوں اور بچوں پر واجب نہیں ہے، اگر عورتوں اور بچوں
کے گھروں میں ہوتے ہوئے نماز میں نہ آنے والوں کی وجہ سے گھر جلا دئیے جاتے تو ان کے ساتھ یہ
بے قصور بھی جن پر جماعت واجب نہ تھی جل جاتے، اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں
کے جلانے کا ارادہ ترک فرما دیا۔
ف(2): اس حدیث شریف میں نماز باجماعت میں شرکت کے لئے مسجد میں حاضر نہ
ہونے والوں کے بارے میں ارشاد ہے ”أَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ“
(میں اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والے بے عقلوں کے
گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں) یہاں ان لوگوں کے لئے حرف ”من“ کی بجائے ”ما“ کا
استعمال فرمایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ حرف ”ما“ کا استعمال غیر ذوی العقول کے لئے ہوتا ہے
اور ”من“ کا استعمال ذوی العقول کے لئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذوی العقول کے لئے
حرف ”ما“ کا استعمال فرمانا اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسجد کی نماز باجماعت میں
شریک نہ ہونے والے واقعۃً بے عقل ہیں۔ (مرقات)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اس
لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کے اجازت طلب کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی
اجازت نہیں دی، اب رہی یہ بات کہ نابینائی جماعت میں حاضر ہونے کے لئے عذر ہے تو اس بارے میں
تحقیق یہ ہے کہ عذر دو قسم کے ہیں: ایک وہ عذر کہ جن کی وجہ سے جماعت میں آنا تو ممکن ہے لیکن آنے میں
مشقت اور سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس لئے اس صورت میں جماعت میں حاضر ہونے کا وجوب تو باقی
رہتا ہے اگر تکلیف اور مشقت کی وجہ سے جماعت میں حاضر نہ ہو تو رخصت ہے اور اجازت ہے۔
چنانچہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں حاضر نہ
ہونے کی جو اجازت دی ہے وہ اس لئے ہے کہ نابینائی عذر ہے، اگر کوئی نابینا ہونے کی وجہ سے حاضر
جماعت نہ ہو تو اس کے لئے رخصت ہے لیکن وجوب باقی ہے اور مشقت اور تکلیف کے باوجود
جماعت میں حاضر ہو تو اس کے لئے عزیمت ہے، یعنی بڑی ہمت کی بات ہے اور ثواب کثیر کے حصول
کا باعث ہے اور نابینا کے جماعت میں حاضر ہونے کی عزیمت پر صدر کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے جو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کو اجازت طلب
کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی اجازت نہیں دی۔ اب رہا جماعت میں حاضر نہ ہونے کے
عذر کی دوسری قسم وہ عذر ہے جس کی وجہ سے جماعت میں حاضر ہونا ممکن ہی نہیں ہے جیسے فالج وغیرہ۔
اس عذر میں عذر والے سے جماعت میں شریک ہونے کا وجوب بھی ساقط ہو جاتا ہے اور جماعت میں
نہ آنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (مرقات، ردالمحتار اور اعلاء السنن)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دو شخصوں سے بھی جماعت قائم ہو جاتی ہے مگر ہیئت جماعت کا کمال تین
سے شروع ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک امام بنے اور دو مقتدی ہو کر اس کے پیچھے کھڑے رہیں، اس
لئے حدیث شریف میں تین مردوں کا ذکر ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ
جماعت سے نماز پڑھنے کو لازم کر لو، کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کو پھاڑ کھاتا ہے جو گلے سے علیحدہ ہو جاتی
ہے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث سے بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 666 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 697a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تعلیق ممجد میں مذکور ہے کہ سردی اور ہوا اور اسی قسم کی چیزوں کے پیش آنے پر جماعت میں
نہ آنے کی رخصت و اجازت ہے اور یہ رخصت شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی جانب سے ہم کو آرام اور
سہولت پہنچانے کے طور پر ہے لیکن نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب باقی ہے اس لئے کوئی
شخص تکلیف اور مشقت کے باوجود جماعت میں آئے تو یہ اس کے لئے عزیمت ہے اور بڑے ثواب کا
باعث ہے اس لئے کہ بہت سی حالتوں میں جماعت میں آنے کی فضیلت اور جماعت میں نہ آنے کی
وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 560a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
حالت میں پیشاب یا پاخانہ کا سخت تقاضہ ہو جائے تو ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ نماز توڑ کر- جیسا کہ
ردالمحتار میں مذکور ہے-12- بعد فراغت نماز پڑھے اور اگر نماز شروع نہیں کیا ہے اور اس کو سخت
تقاضہ ہو رہا ہے تو وہ نماز شروع نہ کرے بلکہ پیشاب یا پاخانہ سے فارغ ہو کر نماز پڑھے، اس لئے کہ
پیشاب یا پاخانہ کے تقاضہ کے باوجود نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے)۔
(اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 90 (unverified) 96% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 357 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
میں لکھا ہے کہ قعدۂ اخیرہ کی دعاء میں اپنے والدین، اساتذہ اور عامۃ المسلمین کو بھی شریک کرے)
دوسرے یہ کہ کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت نہ جھانکے، اگر کسی نے ایسا کیا تو گویا اس نے گھر
والوں سے خیانت کی (کیوں کہ اجازت صرف اسی لئے رکھی گئی ہے کہ گھر والوں کی ناقابل دید
حالت یا بے پردگی میں ان پر نظر نہ پڑے) اگر ایسا کیا تو (گھر والوں کے منشاء کے خلاف کیا) اور
اس طرح جھانک کر ان سے خیانت کی۔ تیسرے (پاخانہ یا) پیشاب کی حاجت کے وقت نماز نہ
پڑھے جب تک کہ ان سے فارغ ہو کر ان کے دباؤ سے ہلکا نہ ہو جائے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
(یہ عزیمت ہے اور بڑے ثواب کی بات ہے اور بعض حدیثوں میں پہلے کھانا کھانے اور اس
کے بعد جماعت میں شریک ہونے کا جو ذکر ہے وہ رخصت اور اجازت پر محمول ہے، پس دونوں قسم
کی حدیثوں میں تعارض نہ رہا)۔ (اس حدیث کی روایت امام بغوی نے شرح السنۃ میں کی ہے۔)
ف: امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جس شان کے صحابی ہیں
وہ تو سب کو معلوم ہے تو ایسے جلیل القدر صحابی کا نماز فجر کے فرض کی اقامت ہونے اور امام کے قرأت
شروع کرنے کے باوجود فجر کی سنتوں کو جماعت سے دور ہٹ کر ادا کرنا اور پھر جماعت میں شریک
ہونا، اس سے معلوم ہوا کہ سابق کی حدیث جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں فجر کی سنتوں
کو جو مستثنیٰ کیا گیا ہے انہوں نے اسی پر عمل کیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو مستثنیٰ کیا گیا
ہے یعنی ”إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ“ حدیث مرفوع ہی کا ٹکڑا ہے اس کے علاوہ حضرت حذیفہ اور حضرت
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو دیکھا اور
اس پر انکار نہیں فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ
عنہ کے اس عمل سے موافقت رکھتے تھے ورنہ خاموش نہیں رہتے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جتنا اندر گھر میں چھپ کر نماز پڑھے اتنا اس
کے لئے بہتر ہے، اس لئے کہ عورت پردہ کی چیز ہے اور لفظ ”عورت“ کے معنی اور مفہوم میں چھپنا داخل ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں نہ آنے والوں کو منافق فرمایا، اس سے جماعت کا وجوب ثابت ہوا اور نماز کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب بھی اس سے ظاہر ہو رہا ہے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غیر حاضری مسجد پر ہی یہ سخت وعید فرمائی۔ اگر گھر کی جماعت کافی ہوتی تو مسجد میں نہ آنے پر یہ وعید نہ ہوتی۔ (اعلاء السنن)