العربية
Typed, pending editorial approval
۱۷۳۹ - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه): إِنَّمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا (النساء: (۱۰۱) فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا1 صَدَقَتَهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 686a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The phrase “accept His charity” implies obligation, supporting Abu Hanifah’s view that shortening prayers is mandatory, while completing them is improper. – Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: فاقبلوا وأمر فاقبلوا» ظاهره الوجوب، فيؤيد قول أبي حنيفة: إن القصر عزيمة والإتمام إساءة». قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ“، یعنی سفر میں قصر کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ یعنی اس کا احسان ہے، تم اس احسان کو قبول کرلو، اس ارشاد گرامی میں ”فَاقْبَلُوا“ امر کا صیغہ ہے اور عموماً امر وجوب کے لئے ہوتا ہے تو اس حدیث سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہے اور قصر نہ کرکے پورے چار رکعت پڑھنا گناہ ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)