Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 40

بَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ

Section: (2)

42 narrations · In source reading order

Hadith 1736

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٣٦ - عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ صَلَّى الظُّهْرَ بِالمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرِ بذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Almighty says: “When you travel through the land, there is no blame on you for shortening the prayers, if you fear persecution by the disbelievers. Indeed, the disbelievers are your open enemies.” (Qur’an 4:101)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1089 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 690a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1737

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۳۷ - وَعَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِي أَنَّ عَلِيًّا (رضي الله عنه) خَرَجَ مِنَ الْبَصْرَةِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا لَوْ جَاوَزْنَا هَذَا الخص لَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ نَحْوَهُ.

Hadith 1738

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۳۸ - وَعَنْ حَارَثَةَ بْنِ وَهْبِ الْخُزَاعِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ - وَنَحْنُ أَكْثَرُ مَا كُنَّا قَطُّ وَآمَنُهُ - بِمِنِّي رَكْعَتَيْنِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1083 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 696a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1739

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۳۹ - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه): إِنَّمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا (النساء: (۱۰۱) فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا1 صَدَقَتَهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 686a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

accept His charity

(1) The phrase “accept His charity” implies obligation, supporting Abu Hanifah’s view that shortening prayers is mandatory, while completing them is improper. – Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فاقبلوا وأمر فاقبلوا» ظاهره الوجوب، فيؤيد قول أبي حنيفة: إن القصر عزيمة والإتمام إساءة». قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ“، یعنی سفر میں قصر کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ یعنی اس کا احسان ہے، تم اس احسان کو قبول کرلو، اس ارشاد گرامی میں ”فَاقْبَلُوا“ امر کا صیغہ ہے اور عموماً امر وجوب کے لئے ہوتا ہے تو اس حدیث سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہے اور قصر نہ کرکے پورے چار رکعت پڑھنا گناہ ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)

Hadith 1740

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٠ - عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) يَقُوْلُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ. قُلْتُ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَقَمْنَا2 بِهَا عَشْرًا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1081 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

We stayed for ten days

(2) The statement “We stayed for ten days” invalidates the four-day limit, as this occurred during the Farewell Pilgrimage. They intended to stay longer for completing rites. – Al-Ta’liq al-Mumjad. Al-Mirqat states: This Hadith contradicts Al-Shafi’i’s view that one must complete prayers after four days. Abu Hanifah said: Shorten prayers unless intending to stay fifteen days, a view traced to Ibn Abbas and Ibn Umar.

Note 2

قوله

(۲) قوله: أقمنا بها عشرا : هذا الحديث مما يدلُّ على فساد التحديد بأربعة أيام؛ لأنه إنما هو في حجة الوداع. فتعين أنهم نووا الإقامة أكثر من أربعة أيام؛ لأجل قضاء النسك. قاله في التعليق الممجد». وقال في «المرقاة»: والحديث بظاهره ينافي مذهب الشافعي من أنه إذا قام أربعة أيام يجب الإتمام. وقال أبو حنيفة: يقصر ما لم ينو الإقامة خمسة عشر يوما، وهو مأثور عن ابن عباس وابن عمر .

Note 1

معلوم ہوا کہ اگر کسی مقام پر دس روز کے لئے قیام کیا جائے تو وہ وطن اقامت نہیں بنے گا اس لئے کہ حضور مکہ معظمہ میں دس دن اقامت فرمائے اور چار رکعت والی فرض نمازوں کا قصر کرکے دو رکعت ہی پڑھتے رہے، اگر یہ وطن اقامت بن جاتا تو آپ قصر نہیں کرتے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) ف: واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لئے جب مکہ معظمہ شریف لائے تو ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ تھی، 5/6 اور 7 تاریخ تک یہ تین دن آپ مکہ معظمہ میں ٹھہرے۔ آٹھویں کو منٰی روانہ ہوئے اور نویں کو عرفات پہونچے اور دسویں کو پھر منٰی میں لوٹ آئے اور گیارہویں بارہویں کو وہاں رہے اور تیرہویں کو پھر مکہ معظمہ لوٹ آئے اور چودھویں کو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ اس سے بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف تین دن مکہ معظمہ میں قیام فرمائے تھے، اس لئے نماز قصر کرتے رہے، اگر چار دن مکہ میں رہتے تو نماز قصر نہیں فرماتے بلکہ پوری نماز پڑھتے۔ یہ خیال اس وقت صحیح ہوتا کہ حضور تین دن مکہ میں رہ کر مدینہ کو مکہ ہی سے رخصت ہوجاتے حالانکہ ایسا نہیں ہوا حضور مکہ سے رخصت نہیں ہوئے۔ عرفات جا کر منٰی میں آئے۔ اور منٰی سے فرض طواف کے لئے پھر مکہ میں آئے۔ فرض طواف سے فارغ ہو کر منٰی میں تشریف لائے، منٰی سے طواف وداع کے لئے پھر مکہ میں آئے اور اس کے بعد مکہ سے مدینہ شریف کو روانہ ہوئے، مکہ میں حضور کا بار بار تشریف لانا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مکہ سے رخصت نہیں ہوئے اسی لئے انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکہ میں آپ کا قیام دس دن رہا۔ مکہ میں (4) دن نہیں بلکہ (10) دن قیام فرما رہے اور نمازوں کو قصر کرتے رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ (4) دن ہوں، یا (10) دن کسی مقام پر رہنے سے وہ مقام وطن اقامت نہیں بنتا اس لئے قصر پڑھنا چاہئے۔ چنانچہ اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی مقام پر (15) دن یا (15) دن سے زائد رہنے کی نیت کرنے سے وہ مقام وطن اقامت ہوجاتا ہے اور وہاں نماز قصر نہیں کرنا چاہئے۔ (مرقات۔ اشعۃ اللمعات)۔

Hadith 1741

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤١ - وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ (رضي الله عنهما) كَانَ إِذَا جَمَعَ عَلَى إِقَامَةِ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَتَمَّ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

Hadith 1742

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٢ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: إِذَا كُنْتَ مُسَافِرًا فَوَطَنْتَ نَفْسَكَ عَلَى إِقَامَةِ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَأَتْمِمِ الصَّلَاةَ، وَإِنْ كُنْتَ لَا تَدْرِي مَتَى تَطْعَنُ فَاقْصِرْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ فِي كِتَابِ الْآثَارِ) عَنْ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ فِي آثَارِ السُّنَنِ»: إِسْنَادُهُ حَسَنُ.

Hadith 1743

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٣ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهم) قَالَا: إِذَا قَدِمْتَ بَلْدَةً وَأَنْتَ مُسَافِرُ وفِي نَفْسِكَ أَنْ تُقِيمَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَأَكْمِلِ الصَّلَاةَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ لَا تَدْرِي مَتَى تَظْعَنُ فَاقْصِرْهَا. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

Hadith 1744

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٤ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصِرُ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1235 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

بحالت جنگ 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا موقع ہو تو بھی وہ وطن اقامت نہیں بنے گا۔ اگرچہ کہ اقامت کی نیت کی گئی ہو، اس لئے کہ دارالحرب محل اقامت اور سکونت نہیں ہے، کیونکہ ہمیشہ یہ احتمال رہتا ہے کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہونے سے یا اور ممالک کی فتح کے لئے آگے وہ بڑھ جائیں یا پھر مسلمان وہاں سے واپس ہو جائیں۔ اس لئے دارالحرب میں اقامت کی نیت کا اعتبار نہیں قصر ہی کرتے رہنا چاہئے)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)

Hadith 1745

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٥ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) ، قَالَ : ارْتَجَ عَلَيْنَا التَّلْجُ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فِي غَزَاةٍ، فَكُنَّا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الْمَعْرِفَةِ» بِسَنَدٍ صَحِيحٍ.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

مقام میں ٹھہرنا ہوا تھا مگر دارالحرب اور حالت جنگ ہونے کی وجہ سے نہ تو اقامت کا اثر ہوا اور نہ اقامت کی نیت کا اور ہم قصر ہی کرتے رہے)۔ (اس حدیث کی روایت بیہقی نے معرفہ میں سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)

Hadith 1746

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٦ - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (رضي الله عنه) أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ بِالشَّامِ شَهْرَيْنِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

Hadith 1747

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٧ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيَّ ﷺ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ1. وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ الله فِي الحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا، وَالْمَغْرِبَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاء ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَلَا يَنْقُصُ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ، وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 550 (unverified) 88% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 551 (unverified) 82% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

(1) In Al-Durr Al-Mukhtar: A traveler may perform voluntary prayers (Sunnah) if in a state of safety and stability. If in fear or fleeing, it is preferred to omit them, as this omission is permitted due to valid excuse.

Note 1

قوله

(۱) قوله: بعدها ركعتين: وفي الدر المختار» ويأتي المسافر بالسنن إن كان في حال أمن وقرار، وإلا بأن كان في خوف وفرار لا يأتي بها هو المختار؛ لأنه ترك لعذر.

Hadith 1748

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٨ - وَعَنِ الْبَرَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ : صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا، فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ الظَّهْرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1222 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ مسافر سنن مؤکدہ کو اطمینان ہو اور جلدی نہ ہو تو بغیر قصر کئے کے پوری پڑھے اور اگر جلدی ہو اور اطمینان نہ ہو یا ساتھیوں کے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو پوری سنتوں کو ترک کر سکتا ہے۔ سنن غیر مؤکدہ کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر جلدی نہ ہو اور اطمینان ہو تو ایسی نفلوں کو بھی پڑھ سکتا ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں زوال کے بعد پڑھی جانے والی دو نفلوں کو ادا، فرمایا ہے اور اگر جلدی ہو اور اطمینان نہ ہو یا ساتھیوں سے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو غیر مؤکدہ سنتوں کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔ (درمختار)12

Hadith 1749

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٤٩ - وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدِ اللهِ بْن عُمَرَ (رضي الله عنه) كَانَ يَرَى ابْنَهُ عُبَيْدَ اللهِ يَتَنَفَّلُ فِي السَّفَرِ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1349 (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 353 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1349

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں نوافل اگر اطمینان ہو تو پڑھ سکتے ہیں اور اگر جلدی ہو تو چھوڑ سکتے ہیں، بہرحال قصر فرض کے واسطے ہے اور سنن مؤکدہ اور نوافل میں قصر نہیں ہے۔ پڑھیں تو بغیر قصر کے پوری رکعتیں پڑھیں اور اگر نہ پڑھیں تو پوری رکعتیں ترک کر دیں۔

Hadith 1750

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٠ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَدْ فُرِضَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ الصَّلَاةُ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، فَكَمَا يَتَطَوَّعُ هَهُنَا قَبْلَهَا وَمِنْ بَعْدِهَا فَكَذَلِكَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

Hadith 1751

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥١ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ صَلَّى صَلَاةً لِغَيْرِ وَقْتِهَا إِلَّا بِجَمْعِ، فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعِ، وَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ما نَحوه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1682 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1289a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

پڑھنا چاہئے)۔ حضور، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیسا خلاف کرتے، اسی لئے ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، کبھی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے تھے، بعض حدیثوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع کئے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ آپ ایک نماز کو اس کے اخیر وقت میں ادا فرمائے ہیں اور دوسری نماز کو اس کے شروع وقت میں پڑھے ہیں، یوں ہر نماز اپنے وقت پر ادا فرمائے، جن حدیثوں سے دو نمازوں کا جمع ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا یہ مطلب ہے، نہ کہ حقیقی طور پر جمع کرنا، بے وقت کر کے ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ جمع کرنے کے دو قسم ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ ایک نماز کا وقت گزرنے دے کر دوسری نماز کے ساتھ جمع کر کے پڑھنا۔ کبھی حضور ایسی نماز ادا نہیں کئے ہیں) صرف مزدلفہ میں مغرب کا وقت گزرنے کے بعد عشاء کے ساتھ ملا کر دونوں نمازیں پڑھی گئیں (حنفی بھی اس پر عمل کر کے اس طرح کا جمع مزدلفہ میں کیا کرتے ہیں، دوسری قسم یہ ہے کہ وقت ہونے کے پہلے ایک نماز کو دوسرے نماز کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اس طرح سے بھی حضور کبھی نماز ادا نہیں فرمائے ہیں، صرف عرفات میں عصر کا وقت ہونے کے پہلے عصر (اس حدیث شریف میں مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنے کا ذکر ہے اور عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، مگر راوی نے اس کی ذکر نہیں کیا ہے۔ چونکہ دوسری احادیث میں ظہر و عصر کو جمع کرنے کا ذکر موجود ہے، اس لئے یہاں اس کو بیان کیا گیا) کو ظہر کے ساتھ پڑھے ہیں۔ حنفی بھی ایسا ہی کر کے عرفات میں دونوں نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے پڑھتے ہیں، بجز ان دو موقعوں کے کبھی کوئی نماز آپ بے وقت ادا نہیں فرمائے ہیں، بے وقت نماز ادا کرنا تو بڑی چیز ہے، کبھی نماز کو اس کے مستحب وقت کے سوا ادا نہیں فرمائے) صرف مزدلفہ میں صبح کے فرض کا مستحب وقت چھوڑ کر صبح صادق ہوتے ہی اول وقت ”غَلَسَ“،، یعنی اندھیرے میں صبح کے فرض ادا فرمائے (اور منٰی کی طرف تشریف لے گئے۔ حنفی بھی ایسا ہی مزدلفہ میں صبح کی نماز کا مستحب وقت چھوڑ کر اول وقت ”غَلَسَ“،، میں صبح کے فرض ادا کیا کرتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور ابوداؤد اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے)

Hadith 1752

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٢ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَمَّا إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطُ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيْءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطُ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقْظَةِ أَنْ يُؤَخِّرَ صَلَاةً حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ صَلَاةٍ أُخْرَى. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 681a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1753

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٣ - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) مَا التَّفْرِيطُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: أَنْ تُؤَخِّرَ حَتَّى يَجِيْءَ وَقْتُ الْأُخْرَى. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

Hadith 1754

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٤ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَيُقَدِّمُ الْعَصْرَ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُقَدِّمُ الْعِشَاءَ رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاكِمُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُؤَخِّرُ الظَّهْرَ وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ فِي السَّفَرِ. وَفِيْهِ مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، وَثَقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ. قَالَ الْعَلَّامَةُ الْعَيْنِيُّ: لَيْسَ الْمُرَادُ مِنْهُ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ، وَلَكِنَّ الْمُرَادَ مِنْهُ أَنْ يُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ إِلَى آخِرِ وَقْتِهَا ثُمَّ يُصَلَّيْهَا، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، وَهُوَ جَمْعُ بَيْنَهُمَا صُورَةً لَا وَقْتًا.
Commentary and footnotes (2)

Note 1

(اس کی روایت امام طحاوی اور امام احمد اور حاکم نے کی ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔)

Note 2

حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کسی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے تھے بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرما کر صورۃً دو نمازوں کو جمع کئے ہیں، واقعی طور پر ایک نماز کا وقت گزرنے کے بعد یا اس کا وقت ہونے کے پہلے دو نمازوں کو جمع نہیں کئے ہیں)

Hadith 1755

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٥ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه) أَنَّهُ كَتَبَ فِي الْآفَاقِ يَنْهَاهُمْ أَنْ يَجْمَعُوْا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي وَقْتِ وَاحِدٍ كَبِيرَةُ مِنَ الْكَبَائِرِ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ فِي الْمُوْظَا وَصَحَّحَهُ.

Hadith 1756

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٦ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ (رضي الله عنهما) يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوْتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَأَحْمَدُ.

Hadith 1757

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٧ - وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُؤْتِرُ بِالْأَرْضِ، وَيَزْعَمُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ بِإِسْنَادٍ صَحِيح.

Hadith 1758

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٨ - وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ صَحِبَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ (رضي الله عنهما) مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ يُؤْمِنُ إِيْمَاءً، إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ وَالْوِتْرَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْزِلُ لَهُمَا، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاتِهِ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لِي: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ 1 كَانَ وَجْهُهُ يُؤْمِيُّ إِيْمَاءً. رَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ، وَرَوَى مُحَمَّد فِي الْمُوْطَأَ نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1337 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1337

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) A resident or traveler may perform voluntary prayers while riding outside city limits, gesturing in whichever direction the mount faces, even if it does not initially face the Qibla. This is because if prayer is valid without facing the Ka’bah, it is also permissible to begin without facing it. ‘Bahr’ clarifies this and contrasts it with Al-Shafi’i’s view, which requires facing the Qibla initially, as mentioned in ‘Al-Sharnabalaliah.’ It is also noted in ‘Al-Hilyah’ from ‘Ghayat Al-Suruji’ that this is the narration of Ibn al-Mubarak, and it is mentioned in ‘Jawami’ Al-Fiqh.’ After citing the Hadiths, it is concluded that the preferred view is to recommend this practice when there is no hardship, based on the Hadith of Anas. ‘Al-Durr Al-Mukhtar’ and ‘Al-Ikhtiyar’ are derived from these sources.

Note 1

قوله

(۱) قوله: حيث كان وجهه: يتنفّل المقيم والمسافر راكبا خارج المصر) محل القصر (مؤميا) إلى أي جهة توجهت دابته، ولو ابتدء عندنا)، يعني أنه لا يشترط استقبال القبلة في الابتداء؛ لأنه لما جازت الصلاة إلى غير جهة الكعبة جاز الافتتاح إلى غير جهتها. «بحر» واحترز عن قول الشافعي الله فإنه يقول : يشترط في الابتداء أن يوجهها إلى القبلة، كما في «الشرنبلالية». قلت: وذكر في الحلية» عن «غاية السروجي: أنما هذا رواية ابن المبارك، وذكرها في جوامع الفقه». ثم ذكر بعد سياقه الأحاديث: أن الأشبه استحباب ذلك عند عدم الحرج عملا بحديث أنس. «الدر المختار» وارد المحتار ملتقط منهما.

Note 1

ف: در مختار میں لکھا ہے کہ نفل نماز اشارہ کے ساتھ سواری پر مسافر اور مقیم دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ شہر سے باہر ہوں، اور سواری پر نفل نماز پڑھنے کے لئے نہ تو شروع نماز میں قبلہ رو ہونا ضروری ہے اور نہ درمیان نماز میں۔

Hadith 1759

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٥٩ - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَالِمٌ: وَأَخَّرَ ابْنُ عُمَرَ الْمَغْرِبَ، وَكَانَ اسْتَصْرَخَ عَلَى امْرَأَتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةُ، فَقَالَ: سِرْ. فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةُ. فَقَالَ: سِرْ، حَتَّى سَارَ مِيْلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يُصَلِّي إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ. وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ يُقِيمُ الْمَغْرِبَ، فَيُصَلِّيْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ، فَيُصَلَّيْهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1092 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1760

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٦٠ - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ، وَهُمْ رَاكِبُ فِي غَيْرِ الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1099 (unverified) 85% confidence · Validation similarity: 0.629

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1761

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٦١ - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (رضي الله عنه) حِيْنَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ، فَلَقِيْنَاهُ بِعَيْنِ الثَّمَرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ. فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَقَالَ: لَوْلَا إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَفْعَلُهُ لَمْ أَفْعَلْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1100 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 702 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1762

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٦٢ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي حَاجَتِهِ، فَجِئْتُ وَهُمْ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَيَجْعَلُ السُّجُوْدَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1227 (unverified) 78% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1763

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٦٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) زَوْجِ النَّبِيِّ للهِ أَنَّهَا قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ 1 فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 685a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi.

(1) "Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi."

Note 1

قوله

(۱) قوله : في الحضر والسفر : قال إمامنا أبو حنيفة : سفر الطاعة والمعصية سواء في الرخص؛ لإطلاق نصوص الرخصة، ولأنه فلما كان حكم الإتمام يجب له في الإقامة بالإقامة خاصة، لا بطاعة ولا بغيرها، كان كذلك يجيء في النظر أن يكون حكم التقصير يجب له في السفر بالسفر خاصة، لا بطاعة ولا غيرها قياسًا. كذا في فتح القدير» و «الطحاوي».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ابتداء میں سفر اور حضر میں دو، دو رکعت فرض ہوئے تھے، سفر کی نماز اسی حال پر دو رکعت ہی رہی اور حضر کی نماز کو اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دیا گیا۔ واضح ہو کہ مقیم پر حضر میں صرف اقامت کی وجہ سے چار رکعت فرض کئے گئے ہیں اور اسی طرح مسافر پر صرف سفر کی وجہ سے دو رکعت فرض کئے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مقیم پر حضر میں چار رکعت فرض ہونے کی علت صرف اقامت کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت یعنی مقیم پر حضر میں اس کے مقیم ہونے کی حیثیت سے چار رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر حضر میں چار رکعت فرض نہیں ہیں، اسی طرح مسافر پر سفر میں دو رکعت فرض ہونے کی علت صرف سفر کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں ہے، نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت یعنی مسافر پر سفر میں اس کے مسافر ہونے کی حیثیت سے دو رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر سفر میں دو رکعت فرض نہیں ہیں، اقامت کی حالت میں مقیم پر چار رکعت فرض ہونے پر سب ائمہ کا اتفاق ہے، البتہ مسافر پر سفر میں جو دو رکعت فرض ہیں اس بارے میں بعض ائمہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اگر مسافر کسی طاعت مثلاً حج کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کے لئے قصر کی اجازت ہونی چاہئے اور اگر مسافر کسی گناہ جیسے ڈاکہ زنی وغیرہ کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کو پوری نماز پڑھنا چاہئے اور اس کے لئے قصر کا حکم مناسب نہیں، ہمارے امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقیم پر صرف اقامت کی وجہ سے جب چار رکعت فرض ہوئے ہیں اور اس چار رکعت کے فرض ہونے میں اقامت کی حالت کے سوا کسی اور حالت طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ نہیں ہے تو پھر مسافر کے لئے کس بنا پر قصر کرنے کے لئے سفر کی حالت کے سوا طاعت یا گناہ کی حالت کا ہونا ضروری سمجھا جا رہا ہے مسافر پر بھی صرف سفر کی حالت کی وجہ سے ہی دو رکعت کا حکم دیا جانا ضروری ہے اگر قصر کے لئے مسافر پر حالت سفر کے سوا کسی اور حالت یعنی طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ ضروری سمجھا جائے تو احادیث کے مطلق حکم کے خلاف ہوگا، چنانچہ مذکورہ صدر کی حدیث شریف کے مطلق حکم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقیم کے لئے چار رکعت کا حکم اس کی اقامت کی وجہ سے ہے، اور مسافر کے لئے دو رکعت کا حکم اس کے سفر کی حالت کی وجہ سے ہے۔ اسی لئے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ سفر خواہ اطاعت کے لئے ہو یا گناہ کے لئے، ہر دو حالتوں میں قصر کرنا ضروری ہے، اس کے بعد آنے والی حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (یہ مضمون فتح القدیر اور طحاوی سے ماخوذ ہے)۔

Hadith 1764

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٦٤ - وَعَنْهَا (رضي الله عنه) قَالَتْ: فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ حِيْنَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأَوْلَى رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 685b (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1765

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٦٥ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 687a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.