Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 40

(اس باب میں سفر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان ہے)

Section: (2)

42 narrations · In source reading order

Hadith 1736

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2005
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا سفر کر رہے تھے، جب مدینہ شریف سے نکل رہے تھے تو وہ ظہر کا وقت تھا تو آپ) ظہر کے چار رکعت پڑھائے (حالانکہ آپ سفر کا ارادہ کر چکے تھے، ظہر کو اس وجہ سے قصر نہیں فرمائے کہ ابھی آپ (آبادی سے باہر نہیں ہوئے تھے) جب حضور ذو الحلیفہ پہنچے (تو عصر کا وقت ہوگیا تھا تو ذوالحلیفہ میں عصر کو قصر کر کے) عصر کو دو رکعت پڑھائے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اپنی بستی سے باہر ہونے کے بعد نمازوں میں قصر شروع کرنا چاہئے، اور اسی طرح راستہ میں بھی قصر کیا کریں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Almighty says: “When you travel through the land, there is no blame on you for shortening the prayers, if you fear persecution by the disbelievers. Indeed, the disbelievers are your open enemies.” (Qur’an 4:101)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1089 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 690a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1737

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2006
ابو حرب ابن ابی اسود دیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (سفر کا ارادہ کر کے) بصرہ سے نکلے (ابھی آپ آبادی ہی میں تھے، اور آبادی سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ظہر کا وقت ہوگیا باوجود سفر کا ارادہ کرنے کے) ظہر کے چار رکعت پڑھائے (اور قصر نہیں کئے) اور فرمایا کہ اگر ہم اس جھونپڑی سے آگے بڑھ جاتے (جو کہ آبادی کا آخری حصہ ہے) تو ہم ظہر کو قصر کر کے دو رکعت پڑھتے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)

Hadith 1738

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2007
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع ادا فرما رہے تھے) جب منٰی میں پہنچے تو (وہاں چار رکعت والی نماز قصر کر کے) دو رکعت پڑھائے، حالانکہ ہماری تعداد حجۃ الوداع میں اس قدر کثیر تھی کہ پہلے کبھی ایسی نہ تھی، اور ہم کو کفار سے بھی کوئی خوف نہیں تھا، ہم بہت امن و اطمینان سے تھے۔ (باوجود اس کے پھر حضورؐ ہم کو چار رکعت والی فرض نماز کو قصر کر کے دو رکعت پڑھائے، اس سے معلوم ہوا کہ تعداد کا کم ہونا اور کفار سے خوف کا ہونا قصر کی شرط نہیں ہے، بہرحال سفر میں قصر کرنا ضروری ہے، اب رہا جب تم کہیں سفر کرو (جس کی مقدار تین منزل یعنی 48 میل (97 کلومیٹر) ہو تو تم پر گناہ نہیں (بلکہ ضروری ہے کہ تم چار رکعت والی فرض نماز یعنی ظہر و عصر و عشاء میں) قصر کرو (یعنی چار کی جگہ دو پڑھا کرو) بے شک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں اس آیت میں بظاہر قصر کے لئے خوف ہونے کی جو قید معلوم ہو رہی ہے وہ اتفاقی قید ہے، ضروری قید نہیں ہے چونکہ سفر میں اکثر خوف رہا کرتا ہے، اس لئے اتفاقی طور پر آیہ شریفہ میں خوف کی قید مذکور ہے اگر قصر کے لئے خوف ضروری ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر باوجود امن کے قصر نہ فرماتے۔ حضور کا حجۃ الوداع کے موقع پر امن کی حالت میں قصر فرمانا اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ قصر کے لئے خوف ہونا ضروری نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1083 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 696a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1739

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2008
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تم کو خوف ہو کہ نماز پڑھنے کی حالت میں کفار تم پر حملہ کر دیں گے تو تم (چار رکعت والی) فرض نمازوں میں قصر کیا کرو، اب (جبکہ کفار کے حملہ کا خوف باقی نہ رہا اور) لوگ امن و چین کی زندگی بسر کر رہے ہیں (تو آیت شریفہ میں قصر کے لئے خوف کی جو قید تھی باقی نہ رہنے سے قصر کا حکم بھی باقی نہ رہنا چاہئے۔ پھر نماز قصر سے کیوں پڑھی جا رہی ہے) (یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تم جس چیز سے تعجب کر کے مجھ سے پوچھ رہے ہو، میں نے بھی اسی طرح تعجب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو حضور والا نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ خدائے تعالیٰ کی عنایت اور احسان ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے تم پر آسانی کررہے ہیں (تم کیوں سختی میں مبتلا ہورہے ہو) ان کی اس آسانی کو قبول کرلو (سفر میں خوف ہو یا نہ ہو ہر حال میں قصر کیا کرو)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 686a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

accept His charity

(1) The phrase “accept His charity” implies obligation, supporting Abu Hanifah’s view that shortening prayers is mandatory, while completing them is improper. – Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فاقبلوا وأمر فاقبلوا» ظاهره الوجوب، فيؤيد قول أبي حنيفة: إن القصر عزيمة والإتمام إساءة». قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ“، یعنی سفر میں قصر کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ یعنی اس کا احسان ہے، تم اس احسان کو قبول کرلو، اس ارشاد گرامی میں ”فَاقْبَلُوا“ امر کا صیغہ ہے اور عموماً امر وجوب کے لئے ہوتا ہے تو اس حدیث سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہے اور قصر نہ کرکے پورے چار رکعت پڑھنا گناہ ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)

Hadith 1740

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2009
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے لئے مدینہ شریف سے نکل کر مکہ معظمہ پہنچے (مکہ معظمہ سے عرفات مزدلفہ اور منیٰ ہوتے ہوئے پھر مدینہ منورہ واپس ہوئے) اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعت والی فرض نماز کو قصر کرکے دو رکعت ہی پڑھاتے رہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ مکہ معظمہ میں (داخل ہونے کے بعد حج سے فارغ ہوکر مکہ معظمہ سے نکلنے تک) کتنے دن کا قیام رہا تو حضرت انس نے جواب دیا کہ دس دن! (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اس قول سے
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1081 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

We stayed for ten days

(2) The statement “We stayed for ten days” invalidates the four-day limit, as this occurred during the Farewell Pilgrimage. They intended to stay longer for completing rites. – Al-Ta’liq al-Mumjad. Al-Mirqat states: This Hadith contradicts Al-Shafi’i’s view that one must complete prayers after four days. Abu Hanifah said: Shorten prayers unless intending to stay fifteen days, a view traced to Ibn Abbas and Ibn Umar.

Note 2

قوله

(۲) قوله: أقمنا بها عشرا : هذا الحديث مما يدلُّ على فساد التحديد بأربعة أيام؛ لأنه إنما هو في حجة الوداع. فتعين أنهم نووا الإقامة أكثر من أربعة أيام؛ لأجل قضاء النسك. قاله في التعليق الممجد». وقال في «المرقاة»: والحديث بظاهره ينافي مذهب الشافعي من أنه إذا قام أربعة أيام يجب الإتمام. وقال أبو حنيفة: يقصر ما لم ينو الإقامة خمسة عشر يوما، وهو مأثور عن ابن عباس وابن عمر .

Note 1

معلوم ہوا کہ اگر کسی مقام پر دس روز کے لئے قیام کیا جائے تو وہ وطن اقامت نہیں بنے گا اس لئے کہ حضور مکہ معظمہ میں دس دن اقامت فرمائے اور چار رکعت والی فرض نمازوں کا قصر کرکے دو رکعت ہی پڑھتے رہے، اگر یہ وطن اقامت بن جاتا تو آپ قصر نہیں کرتے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) ف: واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لئے جب مکہ معظمہ شریف لائے تو ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ تھی، 5/6 اور 7 تاریخ تک یہ تین دن آپ مکہ معظمہ میں ٹھہرے۔ آٹھویں کو منٰی روانہ ہوئے اور نویں کو عرفات پہونچے اور دسویں کو پھر منٰی میں لوٹ آئے اور گیارہویں بارہویں کو وہاں رہے اور تیرہویں کو پھر مکہ معظمہ لوٹ آئے اور چودھویں کو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ اس سے بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف تین دن مکہ معظمہ میں قیام فرمائے تھے، اس لئے نماز قصر کرتے رہے، اگر چار دن مکہ میں رہتے تو نماز قصر نہیں فرماتے بلکہ پوری نماز پڑھتے۔ یہ خیال اس وقت صحیح ہوتا کہ حضور تین دن مکہ میں رہ کر مدینہ کو مکہ ہی سے رخصت ہوجاتے حالانکہ ایسا نہیں ہوا حضور مکہ سے رخصت نہیں ہوئے۔ عرفات جا کر منٰی میں آئے۔ اور منٰی سے فرض طواف کے لئے پھر مکہ میں آئے۔ فرض طواف سے فارغ ہو کر منٰی میں تشریف لائے، منٰی سے طواف وداع کے لئے پھر مکہ میں آئے اور اس کے بعد مکہ سے مدینہ شریف کو روانہ ہوئے، مکہ میں حضور کا بار بار تشریف لانا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مکہ سے رخصت نہیں ہوئے اسی لئے انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکہ میں آپ کا قیام دس دن رہا۔ مکہ میں (4) دن نہیں بلکہ (10) دن قیام فرما رہے اور نمازوں کو قصر کرتے رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ (4) دن ہوں، یا (10) دن کسی مقام پر رہنے سے وہ مقام وطن اقامت نہیں بنتا اس لئے قصر پڑھنا چاہئے۔ چنانچہ اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی مقام پر (15) دن یا (15) دن سے زائد رہنے کی نیت کرنے سے وہ مقام وطن اقامت ہوجاتا ہے اور وہاں نماز قصر نہیں کرنا چاہئے۔ (مرقات۔ اشعۃ اللمعات)۔

Hadith 1741

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2010
مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما (سفر میں) کہیں 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرلینے تو آپ (چار رکعت والی نمازوں کو) قصر نہ کر کے پوری چار رکعت پڑھتے تھے (اس سے ثابت ہوا کہ کسی مقام پر 15 دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کرلینے سے وہ وطن اقامت بن جاتا ہے)۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)

Hadith 1742

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2011
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم سفر کرتے ہوئے کسی مقام پر پہنچو، اور وہاں 15 دن (یا اس سے زائد) قیام کی نیت کر لو تو تم چار رکعت والی فرض نمازوں (میں قصر نہ کرو) بلکہ چار رکعت ہی پڑھا کرو اور اگر تم قیام کی مدت معین نہ کرسکو (اور مہینوں آج نکلیں گے کل نکلیں گے سوچتے سوچتے ہیں گزر جائیں) تو تم کو قصر ہی کرنا چاہئے۔ (اس کی روایت امام محمد نے، ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کتاب الآثار میں کی ہے اور آثار السنن میں ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔)

Hadith 1743

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2012
ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم سفر کرتے ہوئے کسی شہر میں پہنچو، اور وہاں 15 دن (یا اس سے زائد) قیام کی نیت کر لو تو تم چار رکعت والی فرض نمازوں میں (قصر نہ کرو) بلکہ چار رکعت ہی پڑھا کرو، اگر تم قیام کی مدت معین نہ کرسکو (اور مہینوں آج نکلیں گے یا کل نکلیں گے گزر جائیں) تو تم کو قصر ہی کرنا چاہئے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1744

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2013
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو) مقام تبوک میں بیس روز قیام فرمائے اور (چار رکعت والی فرض نمازوں میں) قصر فرماتے رہے (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دارالحرب میں
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1235 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

بحالت جنگ 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا موقع ہو تو بھی وہ وطن اقامت نہیں بنے گا۔ اگرچہ کہ اقامت کی نیت کی گئی ہو، اس لئے کہ دارالحرب محل اقامت اور سکونت نہیں ہے، کیونکہ ہمیشہ یہ احتمال رہتا ہے کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہونے سے یا اور ممالک کی فتح کے لئے آگے وہ بڑھ جائیں یا پھر مسلمان وہاں سے واپس ہو جائیں۔ اس لئے دارالحرب میں اقامت کی نیت کا اعتبار نہیں قصر ہی کرتے رہنا چاہئے)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)

Hadith 1745

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2014
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ (ہم جہاد کرتے ہوئے آذربائیجان پہنچے اس وقت آذربائیجان دارالحرب تھا) برف باری شروع ہوئی جس کی وجہ سے راستے بند ہو گئے۔ چھ مہینے تک، ہم کو وہیں رہنا پڑا۔ اور ہم قصر ہی کرتے رہے (حالانکہ چھ مہینے ایک

[Narrated by al-Bayhaqi in al-Ma’rifah with a sahih chain.]

Commentary and footnotes (1)

Note 1

مقام میں ٹھہرنا ہوا تھا مگر دارالحرب اور حالت جنگ ہونے کی وجہ سے نہ تو اقامت کا اثر ہوا اور نہ اقامت کی نیت کا اور ہم قصر ہی کرتے رہے)۔ (اس حدیث کی روایت بیہقی نے معرفہ میں سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)

Hadith 1746

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2015
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ عبدالملک بن مروان کے ساتھ ملک شام میں دو مہینے رہے (آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کب واپسی ہوتی ہے اسی خیال میں دو مہینے گزر گئے اسی وجہ سے آپ اقامت کی نیت نہیں کئے اور قصر کر کے چار رکعت والی فرض نمازوں کو دو دو رکعت پڑھتے رہے۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)

Hadith 1747

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2016Noor 2017
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور نے اور میں نے سفر میں ظہر کے فرض دو رکعتیں پڑھیں اور ظہر کے فرض کے بعد کی دو سنتیں بھی پڑھے ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔) اور ترمذی کی اور ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر اور حضر میں رہا ہوں اور میں آپ کے ساتھ نماز پڑھا ہوں، حضور نے اور میں نے حضر میں ظہر کے فرض چار رکعت پڑھے ہیں اور اس کے بعد دو رکعت سنت بھی اداء کئے ہیں اور سفر میں ظہر کے فرض حضور نے اور میں نے دو رکعت پڑھے ہیں اور فرض کے بعد دو رکعت سنت بھی اداء کئے ہیں، اور سفر میں حضور نے اور میں نے عصر کے فرض دو رکعت پڑھے ہیں اور حضور عصر کے فرض کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھتے، اور حضور نے اور میں نے حضر میں اور سفر میں مغرب کے فرض کے تین رکعتیں ہی پڑھے ہیں، مغرب کے فرض میں نہ تو حضر میں کمی ہوئی اور نہ سفر میں اور یہی دن کی وتر ہے اور حضور نے اور میں نے مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت اداء کئے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 550 (unverified) 88% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 551 (unverified) 82% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

(1) In Al-Durr Al-Mukhtar: A traveler may perform voluntary prayers (Sunnah) if in a state of safety and stability. If in fear or fleeing, it is preferred to omit them, as this omission is permitted due to valid excuse.

Note 1

قوله

(۱) قوله: بعدها ركعتين: وفي الدر المختار» ويأتي المسافر بالسنن إن كان في حال أمن وقرار، وإلا بأن كان في خوف وفرار لا يأتي بها هو المختار؛ لأنه ترك لعذر.

Hadith 1748

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2018
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ 18 سفر کیا ہوں میں نے حضور کو زوال کے بعد ظہر سے پہلے زوال کے بعد پڑھی جانے والی دو نفلیں ترک کرتے نہیں دیکھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1222 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ مسافر سنن مؤکدہ کو اطمینان ہو اور جلدی نہ ہو تو بغیر قصر کئے کے پوری پڑھے اور اگر جلدی ہو اور اطمینان نہ ہو یا ساتھیوں کے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو پوری سنتوں کو ترک کر سکتا ہے۔ سنن غیر مؤکدہ کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر جلدی نہ ہو اور اطمینان ہو تو ایسی نفلوں کو بھی پڑھ سکتا ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں زوال کے بعد پڑھی جانے والی دو نفلوں کو ادا، فرمایا ہے اور اگر جلدی ہو اور اطمینان نہ ہو یا ساتھیوں سے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو غیر مؤکدہ سنتوں کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔ (درمختار)12

Hadith 1749

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2019
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے فرزند جن کا نام عبیداللہ تھا تو سفر میں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے اور ان کو منع نہیں فرماتے تھے۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1349 (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 353 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1349

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں نوافل اگر اطمینان ہو تو پڑھ سکتے ہیں اور اگر جلدی ہو تو چھوڑ سکتے ہیں، بہرحال قصر فرض کے واسطے ہے اور سنن مؤکدہ اور نوافل میں قصر نہیں ہے۔ پڑھیں تو بغیر قصر کے پوری رکعتیں پڑھیں اور اگر نہ پڑھیں تو پوری رکعتیں ترک کر دیں۔

Hadith 1750

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2020
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اور آپ کی امت کے لئے) (ظہر، عصر اور عشاء میں) حضر (حضر میں چار رکعت کا فرض ہونا آخری حالت کے لحاظ سے ہے، ورنہ ابتداء میں سفر اور حضر میں نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی، جس کی تفصیل حدیث 380 میں مذکور ہے، اس حدیث کی روایت ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمائی ہے۔12) میں چار رکعت فرض کئے گئے اور سفر میں (ان نمازوں میں ابتداء ہی سے دو رکعت ہی فرض کئے گئے اس لئے اگر کوئی بحالت سفر ظہر، عصر اور عشاء میں دو رکعت زیادہ کر کے چار رکعت پڑھے گا تو گنہگار ہوگا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضر میں فرض کے پہلے اور فرض کے بعد جو سنت پڑھی جاتی ہیں سفر میں بھی فرض کے بعد کی، اور پہلے کی سنتیں (اگر اطمینان ہو اور جلدی نہ ہو تو بغیر قصر کئے کے) پوری پڑھا کرتے تھے (اگر جلدی ہو تو بغیر قصر کئے کے پوری رکعتوں کے ساتھ سنتوں کو ترک فرماتے تھے)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1751

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2021Noor 2022
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نمازوں کے ادا کرنے میں بڑا اہتمام فرماتے تھے) ہر نماز کو اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، کبھی کوئی نماز بے وقت ادا نہیں فرمائے (اور بے وقت کر کے کسی دوسری نماز کے ساتھ جمع بھی نہیں کئے۔ آپ کیسے بے وقت نماز ادا کرتے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا“ (مومنوں پر ہر نماز کا وقت مقرر ہے، بے وقت کر کے نہیں اور ابوداؤد کی ایک دوسری روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1682 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1289a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

پڑھنا چاہئے)۔ حضور، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیسا خلاف کرتے، اسی لئے ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، کبھی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے تھے، بعض حدیثوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع کئے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ آپ ایک نماز کو اس کے اخیر وقت میں ادا فرمائے ہیں اور دوسری نماز کو اس کے شروع وقت میں پڑھے ہیں، یوں ہر نماز اپنے وقت پر ادا فرمائے، جن حدیثوں سے دو نمازوں کا جمع ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا یہ مطلب ہے، نہ کہ حقیقی طور پر جمع کرنا، بے وقت کر کے ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ جمع کرنے کے دو قسم ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ ایک نماز کا وقت گزرنے دے کر دوسری نماز کے ساتھ جمع کر کے پڑھنا۔ کبھی حضور ایسی نماز ادا نہیں کئے ہیں) صرف مزدلفہ میں مغرب کا وقت گزرنے کے بعد عشاء کے ساتھ ملا کر دونوں نمازیں پڑھی گئیں (حنفی بھی اس پر عمل کر کے اس طرح کا جمع مزدلفہ میں کیا کرتے ہیں، دوسری قسم یہ ہے کہ وقت ہونے کے پہلے ایک نماز کو دوسرے نماز کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اس طرح سے بھی حضور کبھی نماز ادا نہیں فرمائے ہیں، صرف عرفات میں عصر کا وقت ہونے کے پہلے عصر (اس حدیث شریف میں مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنے کا ذکر ہے اور عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، مگر راوی نے اس کی ذکر نہیں کیا ہے۔ چونکہ دوسری احادیث میں ظہر و عصر کو جمع کرنے کا ذکر موجود ہے، اس لئے یہاں اس کو بیان کیا گیا) کو ظہر کے ساتھ پڑھے ہیں۔ حنفی بھی ایسا ہی کر کے عرفات میں دونوں نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے پڑھتے ہیں، بجز ان دو موقعوں کے کبھی کوئی نماز آپ بے وقت ادا نہیں فرمائے ہیں، بے وقت نماز ادا کرنا تو بڑی چیز ہے، کبھی نماز کو اس کے مستحب وقت کے سوا ادا نہیں فرمائے) صرف مزدلفہ میں صبح کے فرض کا مستحب وقت چھوڑ کر صبح صادق ہوتے ہی اول وقت ”غَلَسَ“،، یعنی اندھیرے میں صبح کے فرض ادا فرمائے (اور منٰی کی طرف تشریف لے گئے۔ حنفی بھی ایسا ہی مزدلفہ میں صبح کی نماز کا مستحب وقت چھوڑ کر اول وقت ”غَلَسَ“،، میں صبح کے فرض ادا کیا کرتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور ابوداؤد اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے)

Hadith 1752

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2023Noor 2024
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خوب یاد رکھو کہ (کسی وقت) نیند کی وجہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے تو کوئی قصور نہیں (بروقت نماز نہ پڑھنے کا گناہ تو نہیں ہوگا مگر اس نماز کی قضاء کرنا ضروری ہوگا) البتہ بیداری میں (سفر (جیسا کہ جامع الآثار میں مذکور ہے۔12) کی وجہ سے نماز نہ پڑھ کر) اتنی دیر کیا کہ دوسری نماز کا وقت ہوگیا تو ایسا شخص قصور وار ہوگیا (اور اس پر اس نماز کی قضاء بھی لازم ہوگی اور گنہگار بھی ہوگا) (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور مسلم کی ایک اور روایت میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہی سے اس طرح مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی وقت نیند کی وجہ سے (اگر کسی نماز کا وقت گزر جائے) اور نماز قضاء ہوجائے تو کوئی قصور نہیں، قصور تو اس شخص کا ہے جو بیدار رہ کر (جیسا کہ جامع الآثار میں مذکور ہے۔12 (سفر کی وجہ سے) کسی نماز کو وقت پر نہ پڑھ کر اتنی دیر کیا کہ دوسری نماز کا وقت آگیا (تو ایسا شخص گنہگار ہوگا اور اس کو نماز کی قضاء بھی کرنا پڑے گا ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسافر کو ایک نماز بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس طرح نمازوں کو جمع کرنے والا گنہگار ہوگا)۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے بھی اسی طرح کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 681a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1753

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2025
عثمان بن عبداللہ بن موہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ (ہر چیز میں تفریط ہوتی ہے) نماز میں تفریط کرنے سے کیا مراد ہے تو ابو ہریرہ رضی اللہ نے جواب دیا کہ نماز میں تفریط کرنا یہ ہے کہ ایک نماز کو (اس کے وقت پر نہ پڑھ کر) اتنی دیر کرنا کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے، اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مسافر کا ایک نماز کو بروقت نہ پڑھ کر اتنی دیر کرنا کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے اور دوسری نماز کے ساتھ اس نماز کو ادا کرنا تفریط ہے اس لئے دونوں نمازوں کو اس طرح جمع کرنا جائز نہیں)۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)

[Narrated by Al-Tahawi with a sahih chain]

Hadith 1754

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2026Noor 2027
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے تو ظہر کو (ایسے وقت) پڑھتے کہ وہ ظہر کا اخیر (جیسا کہ علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12) وقت ہوتا تھا اور عصر کا وقت شروع ہوتے ہی عصر ادا فرماتے تھے، اور مغرب ایسے وقت پڑھتے جبکہ مغرب کا اخیر وقت ہوتا، اور عشاء کا وقت شروع ہوتے ہی نماز عشاء ادا فرماتے تھے۔ اور امام احمد کی دوسری روایت ابن ابی شیبہ کی روایت کی جیسی اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے تو ظہر کو ایسے وقت پڑھتے کہ وہ ظہر کا آخر وقت ہوتا تھا اور عصر کا وقت شروع ہوتے ہی عصر کے فرض کو جلد ادا فرماتے اور مغرب ایسے وقت پڑھتے جبکہ مغرب کا آخر وقت ہوتا، اور عشاء کا وقت شروع ہوتے ہی نماز عشاء جلد ادا فرماتے تھے۔(اس
Commentary and footnotes (2)

Note 1

(اس کی روایت امام طحاوی اور امام احمد اور حاکم نے کی ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔)

Note 2

حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کسی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے تھے بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرما کر صورۃً دو نمازوں کو جمع کئے ہیں، واقعی طور پر ایک نماز کا وقت گزرنے کے بعد یا اس کا وقت ہونے کے پہلے دو نمازوں کو جمع نہیں کئے ہیں)

Hadith 1755

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2029
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے اپنے دور خلافت میں تمام ممالک محروسہ میں یہ گشتی جاری فرما دی تھی جس کا مضمون یہ تھا کہ مسلمانوں کو روکا جائے کہ (سوائے عرفات اور مزدلفہ کے) دو نمازیں بیک وقت (ایک نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ) جمع کر کے نہ پڑھا کریں اور ان کو معلوم کروا دیں کہ اس طرح دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر کے پڑھنا کبیرہ گناہ ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے اور اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)

Hadith 1756

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2030
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ عادت تھی کہ آپ نفل نماز سواری پر ادا فرماتے تھے، جب وتر ادا کرنا چاہتے تو سواری سے اتر کر زمین پر پڑھا کرتے تھے (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں نفل نماز پڑھنا ثابت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر واجب ہے مثل فرض کے وتر کو بھی زمین پر ادا کرنا ضروری ہے، اگر وتر سنت ہوتی تو وتر کو بھی نوافل کی طرح سواری پر ادا کیا جاتا)۔ (اس کی روایت دارقطنی اور امام احمد نے کی ہے۔)

Hadith 1757

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2031
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھا کرتے تھے (اس لئے کہ نفل نماز سواری پر جائز ہے) پھر جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر زمین پر وتر ادا فرماتے تھے۔ (اس لئے کہ فرض اور وتر بغیر ضرورت کے سواری پر جائز نہیں اور حضرت ابن عمر یقین سے فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح نفل نماز سواری پر اور وتر زمین پر پڑھا کرتے تھے، حضرت ابن عمر کے اس طرح فرمانے سے حدیث مرفوع ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل سے بھی وتر کا وجوب اور سفر میں نفل نماز پڑھنے کا ثبوت مل گیا)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے صحیح سند کے ساتھ کی ہے۔)

[Narrated by Al-Tahawi with a sahih chain]

Hadith 1758

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2032
مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (ایک دفعہ) حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ مکہ معظّمہ سے مدینہ منورہ کا سفر کر رہے تھے، اور میں بھی حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ نوافل سواری پر پڑھ رہے ہیں اور رکوع اور سجدہ اشارہ سے (اس طرح) ادا کر رہے ہیں (کہ رکوع کے لئے سر تھوڑا جھکاتے تھے اور سجدہ کے لئے رکوع سے زیادہ سر جھکاتے تھے) مگر جب آپ فرض اور وتر پڑھتے تو ان نمازوں کو سواری سے اتر کر زمین پر اداء کرتے تھے، میں حضرت ابن عمر سے دریافت کیا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ سواری پر نماز پڑھتے ہیں تو آپ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں ہوتا ہے بلکہ مدینہ منورہ کی طرف ہوتا ہے (حالانکہ قبلہ رو ہونا تو نماز میں ضروری ہے) حضرت ابن عمر نے جواب دیا: جیسے تم مجھ کو دیکھ رہے ہو کہ قبلہ رخ چھوڑ کر جس طرف سواری چل رہی ہے اس طرف رخ کر کے نوافل پڑھتا ہوں، ایسا ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہوں کہ آپ نفل نماز سواری پر اشارہ سے پڑھا کرتے تھے، خواہ سواری کا رخ کسی بھی سمت ہوتا۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے کی ہے اور امام محمد نے بھی مؤطا میں اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1337 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1337

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) A resident or traveler may perform voluntary prayers while riding outside city limits, gesturing in whichever direction the mount faces, even if it does not initially face the Qibla. This is because if prayer is valid without facing the Ka’bah, it is also permissible to begin without facing it. ‘Bahr’ clarifies this and contrasts it with Al-Shafi’i’s view, which requires facing the Qibla initially, as mentioned in ‘Al-Sharnabalaliah.’ It is also noted in ‘Al-Hilyah’ from ‘Ghayat Al-Suruji’ that this is the narration of Ibn al-Mubarak, and it is mentioned in ‘Jawami’ Al-Fiqh.’ After citing the Hadiths, it is concluded that the preferred view is to recommend this practice when there is no hardship, based on the Hadith of Anas. ‘Al-Durr Al-Mukhtar’ and ‘Al-Ikhtiyar’ are derived from these sources.

Note 1

قوله

(۱) قوله: حيث كان وجهه: يتنفّل المقيم والمسافر راكبا خارج المصر) محل القصر (مؤميا) إلى أي جهة توجهت دابته، ولو ابتدء عندنا)، يعني أنه لا يشترط استقبال القبلة في الابتداء؛ لأنه لما جازت الصلاة إلى غير جهة الكعبة جاز الافتتاح إلى غير جهتها. «بحر» واحترز عن قول الشافعي الله فإنه يقول : يشترط في الابتداء أن يوجهها إلى القبلة، كما في «الشرنبلالية». قلت: وذكر في الحلية» عن «غاية السروجي: أنما هذا رواية ابن المبارك، وذكرها في جوامع الفقه». ثم ذكر بعد سياقه الأحاديث: أن الأشبه استحباب ذلك عند عدم الحرج عملا بحديث أنس. «الدر المختار» وارد المحتار ملتقط منهما.

Note 1

ف: در مختار میں لکھا ہے کہ نفل نماز اشارہ کے ساتھ سواری پر مسافر اور مقیم دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ شہر سے باہر ہوں، اور سواری پر نفل نماز پڑھنے کے لئے نہ تو شروع نماز میں قبلہ رو ہونا ضروری ہے اور نہ درمیان نماز میں۔

Hadith 1760

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2033
محمد بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر نفل نماز پڑھا کرتے تھے اور سواری کا رخ قبلہ کی طرف نہ ہوتا تھا (نہ شروع نماز میں اور نہ درمیان نماز میں)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1099 (unverified) 85% confidence · Validation similarity: 0.629

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1761

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2034
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ جب وہ شام سے لوٹ کر (بصرہ کو) آ رہے تھے تو ہم ان کے استقبال کے لئے نکلے جب ہم مقام عین التمر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ گدھے پر سوار ہیں اور نفل نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کا رخ (قبلہ کی طرف نہیں ہے بلکہ) قبلہ سے بائیں سمت کو ہے میں نے عرض کیا کہ آپ قبلہ کو چھوڑ کر اور طرف رخ کے نماز پڑھ رہے تھے تو حضرت انس نے فرمایا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (سواری پر) قبلہ کے سوا کسی اور طرف رخ کر کے نفل نماز پڑھتے نہ دیکھتا تو میں بھی ایسا ہی قبلہ کے سوا کسی اور طرف رخ کئے ہوئے نماز نہیں پڑھتا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1100 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 702 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1762

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2035
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی کسی ضرورت سے بھیجا تھا جب میں واپس ہوا تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں (حالانکہ وہ سمت قبلہ کی نہیں تھی) اور آپ کے سجدہ کا اشارہ رکوع کے اشارہ سے کسی قدر نیچا ہوتا تھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1227 (unverified) 78% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1763

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2036
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ (ابتداءً) سفر اور حضر میں نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی، پس سفر کی نماز تو اسی حال پر (دو رکعت ہی) رہی (اس لئے کوئی سفر میں چار رکعت پڑھے تو گنہگار ہوگا) اور حضر کی نماز کو اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دیا گیا (سوائے مغرب کے کہ وہ شروع ہی سے تین رکعت ہیں، اس لئے کہ وہ دن کی وتر ہے اور اسی لئے مغرب میں قصر نہیں ہے اور ایسا ہی صبح کے فرض ابتداء سے دو رکعت ہی ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 685a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi.

(1) "Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi."

Note 1

قوله

(۱) قوله : في الحضر والسفر : قال إمامنا أبو حنيفة : سفر الطاعة والمعصية سواء في الرخص؛ لإطلاق نصوص الرخصة، ولأنه فلما كان حكم الإتمام يجب له في الإقامة بالإقامة خاصة، لا بطاعة ولا بغيرها، كان كذلك يجيء في النظر أن يكون حكم التقصير يجب له في السفر بالسفر خاصة، لا بطاعة ولا غيرها قياسًا. كذا في فتح القدير» و «الطحاوي».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ابتداء میں سفر اور حضر میں دو، دو رکعت فرض ہوئے تھے، سفر کی نماز اسی حال پر دو رکعت ہی رہی اور حضر کی نماز کو اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دیا گیا۔ واضح ہو کہ مقیم پر حضر میں صرف اقامت کی وجہ سے چار رکعت فرض کئے گئے ہیں اور اسی طرح مسافر پر صرف سفر کی وجہ سے دو رکعت فرض کئے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مقیم پر حضر میں چار رکعت فرض ہونے کی علت صرف اقامت کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت یعنی مقیم پر حضر میں اس کے مقیم ہونے کی حیثیت سے چار رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر حضر میں چار رکعت فرض نہیں ہیں، اسی طرح مسافر پر سفر میں دو رکعت فرض ہونے کی علت صرف سفر کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں ہے، نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت یعنی مسافر پر سفر میں اس کے مسافر ہونے کی حیثیت سے دو رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر سفر میں دو رکعت فرض نہیں ہیں، اقامت کی حالت میں مقیم پر چار رکعت فرض ہونے پر سب ائمہ کا اتفاق ہے، البتہ مسافر پر سفر میں جو دو رکعت فرض ہیں اس بارے میں بعض ائمہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اگر مسافر کسی طاعت مثلاً حج کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کے لئے قصر کی اجازت ہونی چاہئے اور اگر مسافر کسی گناہ جیسے ڈاکہ زنی وغیرہ کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کو پوری نماز پڑھنا چاہئے اور اس کے لئے قصر کا حکم مناسب نہیں، ہمارے امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقیم پر صرف اقامت کی وجہ سے جب چار رکعت فرض ہوئے ہیں اور اس چار رکعت کے فرض ہونے میں اقامت کی حالت کے سوا کسی اور حالت طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ نہیں ہے تو پھر مسافر کے لئے کس بنا پر قصر کرنے کے لئے سفر کی حالت کے سوا طاعت یا گناہ کی حالت کا ہونا ضروری سمجھا جا رہا ہے مسافر پر بھی صرف سفر کی حالت کی وجہ سے ہی دو رکعت کا حکم دیا جانا ضروری ہے اگر قصر کے لئے مسافر پر حالت سفر کے سوا کسی اور حالت یعنی طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ ضروری سمجھا جائے تو احادیث کے مطلق حکم کے خلاف ہوگا، چنانچہ مذکورہ صدر کی حدیث شریف کے مطلق حکم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقیم کے لئے چار رکعت کا حکم اس کی اقامت کی وجہ سے ہے، اور مسافر کے لئے دو رکعت کا حکم اس کے سفر کی حالت کی وجہ سے ہے۔ اسی لئے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ سفر خواہ اطاعت کے لئے ہو یا گناہ کے لئے، ہر دو حالتوں میں قصر کرنا ضروری ہے، اس کے بعد آنے والی حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (یہ مضمون فتح القدیر اور طحاوی سے ماخوذ ہے)۔

Hadith 1764

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2037
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نماز فرض کی تو (مغرب کے سوا باقی نمازوں کو سفر اور حضر میں) دو دو رکعتیں فرض کی تھیں، بعد میں حضر کی نماز (سوائے فجر کے) اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دی گئیں مگر سفر جیسے دو رکعت فرض کی گئی تھی ویسے ہی دو رکعت باقی رہی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 685b (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1765

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2038
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے حضر میں چار رکعت (اس طرح) فرض کئے (کہ پہلے دو رکعت فرض کئے پھر اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دئے) اور سفر میں دو رکعتیں فرض کئے (اور سفر کے یہ دو رکعت ہمیشہ کے لئے دو رکعت ہی رہے) اور خوف کی حالت میں (نماز اس طرح فرض کی گئی کہ (امام کے ساتھ) ایک رکعت (اور تنہا ایک رکعت)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 687a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.