ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہو کر بلال رضی اللہ عنہ سے فرمائے: اے بلال بتاؤ کہ تم
ایسا کونسا عمل کئے ہو، جس سے تم کو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اس عمل کو قبول کر کے جنت میں
مراتب عالیہ عطا کرے۔ اس وجہ سے کہ میں نے (معراج کی رات) جنت میں دیکھا کہ تم میرے
آگے آگے ہو اور میں تمہارے نعلین کی کھڑ کھڑاہٹ سن رہا تھا۔ بلال عرض کئے: (حضور! میں کیا اور
میرا عمل ہی کیا، سب حضور کے توجہ عالی کا اثر ہے) کہ مجھے تو یقین ہوئی ہے کہ میں رات دن میں جب
کبھی وضوء کرتا ہوں تو وضوء کے بعد دو رکعت یا جتنے ہو سکے تحیۃ الوضوء پڑھ لیا کرتا ہوں۔
یہ تو بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے۔
اور ترمذی کی روایت میں اس طرح ہے کہ بلال عرض کئے: حضور! جب کبھی میں
بے وضوء ہوتا ہوں تو اس کے ساتھ ہی وضوء کر لیتا ہوں اور میں اپنے اوپر لازم سمجھ لیتا ہوں کہ دو
رکعت تحیۃ الوضوء پڑھ لیا کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ سن کر) فرمائے کہ جنت میں تم
کو مراتب عالیہ ملنے کی یہی تحیۃ الوضوء باعث ہے (اس تحیۃ الوضوء کی وجہ سے تم کو یہ مرتبہ ملا ہے،
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم جس طرح ہم کو قرآن کے سورتوں کی تعلیم دیتے تھے اسی طرح تمام جائز امور میں استخارہ
کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ تم میں سے کوئی شخص جب کسی ایسے
اہم کام کرنے کا ارادہ کرے (جو کبھی کبھی ہوتا ہو، مثلاً سفر، نکاح اور تعمیر وغیرہ اور اس کام کے کرنے یا نہ کرنے
میں اس کو تردّد ہو، اور کوئی صحیح رائے قائم نہیں ہورہی ہو، اور اس کام کے انجام کا خیر یا شر ہونا سمجھ میں نہ آرہا ہو)
تو اس کو (اس طرح استخارہ کرنا چاہئے کہ) پہلے وہ دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے ادا کرے اور (پہلی رکعت
میں سورہ فاتحہ کے بعد ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ
“ پڑھے اور ان دو رکعتوں کے ادا کرنے کے بعد اس طرح دعا کرے:
اے اللہ! میں آپ کے علم کے وسیلے سے آپ سے خیر مانگتا ہوں اور آپ کی قدرت کے
وسیلے سے آپ سے قدرت مانگتا ہوں اور آپ کے فضل عظیم کو آپ سے مانگتا ہوں کیونکہ آپ (جو
چاہیں) کر سکتے ہیں اور میں نہیں کر سکتا اور آپ جانتے ہیں اور میں نہیں جانتا اور آپ تو تمام غیب کی
باتوں کے جاننے والے ہیں، اے اللہ! اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ (جو معاملہ درپیش ہو اس کو
ذہن و دل میں لے آئیں) میرے دین میری معاش اور انجام کار کے لحاظ سے میرے لئے خیر اور
بہتر ہے تو پھر آپ اس کو میرے حق میں مقدر فرما دیجئے اور اس کو میرے لئے آسان کر دیجئے اور اگر
آپ جانتے ہیں کہ یہ کام (کام کو اپنے ذہن و دل میں لے آئیں) میرے دین و دنیا اور میری معاش
اور انجام کے لحاظ سے میرے حق میں برا اور شر ہے تو پھر آپ اسے مجھ سے پھیر دیجئے اور مجھے بھی
اس سے پھیر دیجئے اور جو کچھ میرے حق میں بہتر ہے وہ جہاں بھی ہو اسے میرے لئے مہیا کر دیجئے
پھر اس سے راضی کر دیجئے اور مطمئن کر دیجئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جہاں جہاں ”الامر“، یعنی کام کا لفظ آیا ہے وہاں اپنے
مقصد کی نیت کرے یا زبان سے اپنے مقصد کو بیان کرے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر
رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی (کون ابوبکر؟) وہ جن کی صداقت کی تعریف رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جب کسی شخص سے (خواہ مرد ہو یا عورت) کوئی گناہ
ہو جائے اور اسی وقت یا جب کبھی نادم ہو تو اس کو چاہئے کہ غسل کرے (اگر ٹھنڈے پانی سے غسل
کرے تو زیادہ مناسب ہے اگر اس کو ٹھنڈا پانی مضر ہوتا ہو تو گرم پانی سے غسل کرے، اگر غسل نہ
ہو سکے تو وضو ہی کر لے) اور نماز کے لئے کھڑا ہو (جس کو نماز توبہ یا نماز استغفار کہتے ہیں اور کم
سے کم دو رکعت نماز توبہ کی نیت سے ادا کرے، اس کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ”قُلْ
يٰأَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ پڑھے، اور
تنہائی میں یہ نماز پڑھی جائے تو اس کے لئے بہتر ہے اگر سجدہ میں سر رکھ کر روتے ہوئے یہ دعا
کرے تو زیادہ بہتر ہے اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بنائے اور اپنے تمام گناہوں کو یاد
کرتے ہوئے مصمم ارادہ کرے کہ پھر گناہ نہ کروں گا، اور عرض کرے کہ اے اللہ! مجھے گناہ نہ کرنا
تھا، نفس و شیطان کے دھوکہ سے گناہ کیا اور اب آپ کے در پر آ پڑا ہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
بخشنے والا نہیں اور مجھ عاجز کو آپ کے عذاب کی طاقت نہیں، اس لئے آپ کے غصہ سے ڈر رہا
ہوں۔ اپنے گناہوں سے معذرت چاہتے ہوئے عرض کرتا ہوں الٰہی! آپ کا بھاگا ہوا بندہ آپ
کے در پر آ پڑا ہے، اگر آپ میرے گناہوں کو نہیں معاف کریں گے تو میں کہیں کا نہ رہوں گا آپ
محض اپنے فضل و کرم سے اپنے نبی دربار کے صدقہ سے میرے حال پر بجائے غضب کے رحمت
کی نظر فرمائیے! جو ہو گیا سو ہو گیا، اب گناہ نہ کرنے کا ارادہ کر کے آیا ہوں، آپ مجھے اپنی رحمت
سے مایوس نہ کیجئے میرے تمام گناہوں کو معاف کر دیجئے، آئندہ مجھ کو گناہوں سے بچائے
رکھئے۔ آپ کا نام غفور و غفار ہے، آپ کی شان کے یہی سزاوار ہے، جب بندہ گناہوں سے توبہ
کرتا ہے تو آپ اس پر نہایت مہربان ہو کر اس کے سب گناہ بخش دیتے ہیں، اس لئے میرے بھی
تمام گناہ بخش دیجئے آپ کے فضل و کرم سے امید لگایا ہوا ہوں، اس لئے آپ میرے تمام گناہ
بخش دے کر گناہوں کی جگہ نیکیاں لکھ دیجئے یہ آپ کے فضل و کرم سے کچھ دور نہیں، جب کوئی
گنہگار اس طرح سے نماز پڑھتا اور دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ (بڑے رحیم ہیں اس کے تمام گناہ
معاف کر دیتے ہیں (اور اس کے گناہوں کے بدلے نیکیاں لکھ دیتے ہیں) (صدر میں جو ارشاد
ہوا ہے اس کی تائید میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذیل کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
(سورہ آل عمران پ4ع14، آیت نمبر:13-136)
وَالَّذِينَ اِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ
يَّغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اللّٰهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلٰى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ اُولٰئِكَ جَزَآؤُهُمْ
مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِينَ
اور وہ لوگ جن کا حال یہ ہے کہ (بہ تقاضائے بشریت) جب کوئی کبیرہ گناہ کر بیٹھتے ہیں یا کوئی
صغیرہ گناہ کر کے اپنے دین کا نقصان کر لیتے ہیں تو خدا کے غضب کو یاد کر کے اپنے کئے پر نادم ہوتے
اور پچھتاتے ہیں اور بہت گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں، خدا کے سوا
بندوں کے گناہوں کا معاف کرنے والا اور ہے ہی کون؟ اور جو گناہ کرتے ہیں اس پر جان بوجھ کر
اصرار نہیں کرتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کی صورت میں ملتا ہے اور
آخرت میں ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں
گے اور توبہ کر کے نیک کام کرنے والوں کے لئے کیسے اچھے اجر ہیں۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اس کی روایت کی ہے لیکن ابن ماجہ میں
اس آیت کا ذکر نہیں ہے۔)
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کسی مصیبت کی وجہ سے بے چین ہو جاتے یا کسی کام میں مشکلات آنے سے غمگین
ہوتے تو اس کا علاج اس طرح کرتے کہ آپ نماز میں مشغول ہو جاتے (تاکہ نماز کی وجہ سے یکسوئی
حاصل ہو، اور سارے غم غلط ہو جائیں اللہ کی طرف لو لگ جانے سے کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کا
کچھ اثر نہیں ہوتا اور نماز شروع کرنے سے ”وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ“ کے حکم کی تعمیل
ہو جاتی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگ رہا ہو یا کسی شخص
سے کچھ چاہتا ہو کہ اس کی یہ حاجت جلد پوری ہو، اور اس کا جو مقصد ہے وہ جلد حاصل ہو جائے تو
اس کو چاہئے کہ سنتوں اور مستحبات کی پابندی کے ساتھ اچھا وضوء کرے اور صلاۃ حاجت کی نیت
سے دو رکعت پڑھے، پھر اللہ تعالیٰ کی تعریف جو اس سے ہو سکے بیان کرے اس کے بعد نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے (اگر درود ابراہیمی جو التحیات کے بعد پڑھا جاتا ہے اس کو
پڑھے تو بہت بہتر ہے) پھر یہ دعا کرے:
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بڑے بردبار ہیں (قصوروں کو دیکھتے جاتے ہیں مگر جلد اس کی سزا
نہیں دیتے) وہ کریم ہیں (کہ بجائے سزا دینے کے اور نعمتیں دیتے جاتے ہیں تا کہ بندہ ان کے
احسانات سے شرمندہ اور نادم ہو کر جو کیا ہے اس سے توبہ کرے)
اے عظمت والے عرش کے رب! (جو کوئی مانگے اس کو دینا آپ کے پاس کچھ مشکل نہیں) میں
اللہ کی (بخل سے اور ہر عیب سے) پاکی بیان کرتا ہوں۔ اور سب تعریفیں تمام جہانوں کے رب اللہ کو
سزاوار ہیں۔ میں آپ سے آپ کی رحمت کو واجب کرنے والی نیکیاں (کرنے کی توفیق) مانگتا ہوں
اور آپ کی مغفرت (دلانے والے) بڑے بڑے عظمت والے کام اور ہر نیک کام میں سے غنیمت
والا کام مانگتا ہوں۔ اور میں ہر برائی سے سلامتی مانگتا ہوں آپ میرے کسی بھی گناہ کو معاف کئے بغیر
نہ چھوڑئیے اور نہ کسی فکر و پریشانی کو کھولے اور دور کئے چھوڑئیے۔ اور نہ میری کسی حاجت کو جو آپ کی
بھی پسندیدہ ہے اسے پورا کئے بغیر نہ چھوڑئیے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابو وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ ابن
مبارک رضی اللہ عنہ سے صلاۃ التسبیح کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ (صلاۃ التسبیح کہ وہ
اوقات کے سوا جس وقت چاہے اور جس روز چاہے پڑھی جاسکتی ہے اور صلاۃ التسبیح کا جمعہ کے دن
زوال سے پہلے پڑھنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ صلاۃ التسبیح کی نیت سے چار رکعت اس
طرح پڑھے کہ) تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء یعنی ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ
اسْمُكَ وَتَعَالٰى جَدُّكَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ“ پڑھنے کے بعد (15) مرتبہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ (جیسا کہ بعض روایت میں یہ اضافہ مذکور
ہے۔ مرقات ج۔ 12) وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ“ پڑھے اس کے بعد ”اَعُوذُ
بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“ اور ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ پڑھکر سورہ فاتحہ اور ضم سورہ
کر کے (10) مرتبہ یہی مذکورہ تسبیح پڑھے، پھر رکوع کرے اور رکوع میں (رکوع کی تسبیح کے بعد 10
مرتبہ یہی مذکورہ تسبیح پڑھے، پھر رکوع سے سر اٹھا کر (سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور رَبَّنَا لَكَ
الْحَمْدُ کہنے کے بعد) قومہ میں (10) مرتبہ یہی مذکورہ تسبیح پڑھے، پھر سجدہ میں جائے اور سجدہ کی
تسبیح پڑھنے کے بعد (10) مرتبہ یہی تسبیح پڑھے، پھر سجدہ سے سر اٹھا کر جلسہ میں ”رَبِّ اغْفِرْلِيْ“
پڑھنے کے بعد (10) مرتبہ یہی تسبیح پڑھے، پھر دوسرے سجدہ میں جائے اور سجدہ کی تسبیح پڑھنے کے
بعد یہی تسبیح (10) بار پڑھے، اس طرح ایک رکعت میں (75) بار یہ تسبیح ہوئی (دوسرے سجدے سے
سر اٹھانے کے بعد نہ تو بیٹھے اور نہ مذکورہ تسبیح پڑھے بلکہ دوسرے سجدہ سے اٹھتے ہی دوسری رکعت کا
قیام شروع کرے (اور باقی تین رکعتوں کی ہر رکعت میں اسی طرح مذکور تسبیح کو (75) بار پڑھتا جائے
یعنی ہر رکعت کے شروع میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ سے پہلے (15) بار اور ضم سورہ کے بعد (10) بار
(رکوع میں (10) بار، قومہ میں (10) بار، پہلے سجدہ میں (10) بار، جلسہ میں (10) بار، اور دوسرے
سجدہ میں (10) بار اس طرح ہر رکعت میں (75) بار مذکورہ تسبیح پڑھا کرے، اور قعدہ اولیٰ اور قعدہ
آخرہ میں تسبیح پڑھنے کی ضرورت نہیں، اگر کسی شخص کو صلاۃ التسبیح میں سہو ہو جائے تو وہ سہو کے سجدوں
میں اس مذکورہ تسبیح کو نہ پڑھے کیونکہ صلاۃ التسبیح میں (300) بار مذکورہ تسبیح پڑھنا چاہئے اور وہ
ہو چکے، اگر کسی رکن میں اس مذکورہ تسبیح کی مقررہ تعداد میں سہواً کمی ہو جائے تو بعد کے کسی رکن میں
اس کی تعداد تکمیل کرے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے گناہ تمہارے روئے زمین کے باشندوں کے گناہوں سے بھی زیادہ
ہوں گے تب بھی اللہ تعالیٰ اس نماز کی بدولت تمہارے گناہ بخش دیں گے۔
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے گناہ کثرت میں ریت کے ٹیلہ کے برابر بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ اس صلاۃ
التسبیح کی برکت سے تمہارے گناہ معاف فرما دیں گے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا
کہ یا رسول اللہ کس میں طاقت ہے کہ روزانہ یہ نماز پڑھ سکے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم
روزانہ پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو ہر جمعہ کو پڑھ لیا کرو اور اگر جمعہ کو بھی نہ ہو سکے تو مہینہ میں ایک
دفعہ ہی پڑھ لیا کرو (اگر مہینہ میں ایک بار بھی نہ پڑھ سکو تو) آپ نے فرمایا کہ سال میں ایک ہی بار پڑھ لو۔
5/2001-2002۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت میں اعمال کا حساب لیا جائے گا تو سب اعمال
کے حساب سے پہلے نماز کا حساب شروع کیا جائے گا (دیکھا جائے گا کہ اس کی فرض نماز صحیح ہوئی ہے
یا نہیں اگر اس کی فرض) نماز تمام ارکان اور سنتوں کی پابندی کے ساتھ ادا ہوئی ہے تو اس کی نماز
قبول ہوگی اور اس کو پورا پورا ثواب دیا جائے گا اور وہ حساب میں کامیاب ہو جائے گا اگر اس کی
(فرض) نماز میں کچھ ایسی خرابیاں ہوئی ہوں کہ جس کے سبب سے اس کی نماز ناقص ہوئی ہے تو وہ
بڑے خسارہ میں ہوگا، ثواب بھی نہیں ملے گا (اور عذاب کا مستحق ہو جائے گا) اللہ تعالیٰ (بڑے کریم
ہیں) اس وقت محض اپنے فضل و کرم سے فرشتوں سے کہیں گے کہ میرے فرشتو! دیکھو میرے بندے
کے نامۂ اعمال میں فرض کے بعد کچھ سنن اور نوافل بھی ہیں تو اس فرض کے نقصان کی تلافی ان سنتوں
اور نوافل سے کردو (اور اس کی فرض نماز کا ثواب اس کو پورا پورا دے دو تاکہ وہ عذاب سے نجات
پائے) یہی حال دوسرے عبادات کا بھی ہے (اگر فرض روزوں میں کچھ نقصان آگیا ہو تو نفل
روزوں سے اس نقصان کو دور کر دیں گے، کامل روزوں کا ثواب عطا فرمائیں گے۔ ایسے ہی فرض
زکات میں کچھ نقصان آگیا ہو تو نفل خیرات سے فرض زکات کے نقصان کو پورا کر دیں گے اور وہ
کامل زکوٰۃ کے ثواب کا مستحق ہو جائے گا۔ اسی طرح دوسرے اعمال کی بھی یہی کیفیت ہوگی یعنی ان
کے فرائض کے نقصان کو نوافل سے پورا کیا جائے گا (اس لئے بندہ پر لازم ہے کہ فرض نمازوں کے
سوا نفل نمازیں بھی پڑھا کرے اسی طرح فرض روزوں کے سوا نفل روزے بھی رکھا کرے۔ اور فرض
زکات کے سوا نفل خیرات بھی دیا کرے تاکہ قیامت کے دن فرضوں میں کچھ نقصان نکلے تو نفل سے
وہ نقصان پورا کر دیا جائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور امام احمد نے بھی دوسرے راوی سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (یوں تو اللہ تعالیٰ ہر ذاکر کے ذکر کو سنتے ہیں مگر کم سے کم دو رکعت پڑھنے والا
جب اپنی رکعتوں میں قرآن پڑھتا ہے تو اس کے قرآن پڑھنے کو بہت غور اور رعایت و توجہ سے سنتے
ہیں (جیسا نماز میں قرآن پڑھنے کو سنتے ہیں، ایسا کسی چیز کو توجہ سے نہیں سنتے) تلاوت قرآن کے سوا
سب عبادتوں میں نماز اللہ تعالیٰ کو ایسی پسند ہے کہ جب تک بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے نماز پڑھتا ہوا
کھڑا رہتا ہے تو اس کے سر پر رحمتیں نازل کرتے رہتے ہیں (جیسے کوئی بادشاہ اپنے کسی نوکر کی
خدمت کو پسند کرتا ہے تو اس کے سر پر جواہر نثار کرتا رہتا ہے) اور بندہ ہر عبادت سے اللہ تعالیٰ سے
قرب حاصل کرتا ہے لیکن بندہ جب نماز میں قرآن پڑھتا ہے تو اس کو جتنا قرب اس وقت اللہ تعالیٰ
سے حاصل ہوتا ہے کسی اور وقت اتنا قرب حاصل نہیں ہوتا۔
(اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضوء کے بعد دو رکعت تحیۃ الوضوء پڑھنا مستحب ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے)۔