Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1730

Chapter on Voluntary Prayers

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Voluntary Prayers

Zujajat al-Masabih 1730Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1995
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی (کون ابوبکر؟) وہ جن کی صداقت کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جب کسی شخص سے (خواہ مرد ہو یا عورت) کوئی گناہ ہو جائے اور اسی وقت یا جب کبھی نادم ہو تو اس کو چاہئے کہ غسل کرے (اگر ٹھنڈے پانی سے غسل کرے تو زیادہ مناسب ہے اگر اس کو ٹھنڈا پانی مضر ہوتا ہو تو گرم پانی سے غسل کرے، اگر غسل نہ ہو سکے تو وضو ہی کر لے) اور نماز کے لئے کھڑا ہو (جس کو نماز توبہ یا نماز استغفار کہتے ہیں اور کم سے کم دو رکعت نماز توبہ کی نیت سے ادا کرے، اس کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ”قُلْ يٰأَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ پڑھے، اور تنہائی میں یہ نماز پڑھی جائے تو اس کے لئے بہتر ہے اگر سجدہ میں سر رکھ کر روتے ہوئے یہ دعا کرے تو زیادہ بہتر ہے اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بنائے اور اپنے تمام گناہوں کو یاد کرتے ہوئے مصمم ارادہ کرے کہ پھر گناہ نہ کروں گا، اور عرض کرے کہ اے اللہ! مجھے گناہ نہ کرنا تھا، نفس و شیطان کے دھوکہ سے گناہ کیا اور اب آپ کے در پر آ پڑا ہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 406 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1395 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1324 (unverified) 82% confidence

Mishkat (candidate) 1324

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

بخشنے والا نہیں اور مجھ عاجز کو آپ کے عذاب کی طاقت نہیں، اس لئے آپ کے غصہ سے ڈر رہا ہوں۔ اپنے گناہوں سے معذرت چاہتے ہوئے عرض کرتا ہوں الٰہی! آپ کا بھاگا ہوا بندہ آپ کے در پر آ پڑا ہے، اگر آپ میرے گناہوں کو نہیں معاف کریں گے تو میں کہیں کا نہ رہوں گا آپ محض اپنے فضل و کرم سے اپنے نبی دربار کے صدقہ سے میرے حال پر بجائے غضب کے رحمت کی نظر فرمائیے! جو ہو گیا سو ہو گیا، اب گناہ نہ کرنے کا ارادہ کر کے آیا ہوں، آپ مجھے اپنی رحمت سے مایوس نہ کیجئے میرے تمام گناہوں کو معاف کر دیجئے، آئندہ مجھ کو گناہوں سے بچائے رکھئے۔ آپ کا نام غفور و غفار ہے، آپ کی شان کے یہی سزاوار ہے، جب بندہ گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو آپ اس پر نہایت مہربان ہو کر اس کے سب گناہ بخش دیتے ہیں، اس لئے میرے بھی تمام گناہ بخش دیجئے آپ کے فضل و کرم سے امید لگایا ہوا ہوں، اس لئے آپ میرے تمام گناہ بخش دے کر گناہوں کی جگہ نیکیاں لکھ دیجئے یہ آپ کے فضل و کرم سے کچھ دور نہیں، جب کوئی گنہگار اس طرح سے نماز پڑھتا اور دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ (بڑے رحیم ہیں اس کے تمام گناہ معاف کر دیتے ہیں (اور اس کے گناہوں کے بدلے نیکیاں لکھ دیتے ہیں) (صدر میں جو ارشاد ہوا ہے اس کی تائید میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذیل کی یہ آیت تلاوت فرمائی: (سورہ آل عمران پ4ع14، آیت نمبر:13-136) وَالَّذِينَ اِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اللّٰهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلٰى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۝ اُولٰئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِينَ ۝ اور وہ لوگ جن کا حال یہ ہے کہ (بہ تقاضائے بشریت) جب کوئی کبیرہ گناہ کر بیٹھتے ہیں یا کوئی صغیرہ گناہ کر کے اپنے دین کا نقصان کر لیتے ہیں تو خدا کے غضب کو یاد کر کے اپنے کئے پر نادم ہوتے اور پچھتاتے ہیں اور بہت گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں، خدا کے سوا بندوں کے گناہوں کا معاف کرنے والا اور ہے ہی کون؟ اور جو گناہ کرتے ہیں اس پر جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کی صورت میں ملتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور توبہ کر کے نیک کام کرنے والوں کے لئے کیسے اچھے اجر ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اس کی روایت کی ہے لیکن ابن ماجہ میں اس آیت کا ذکر نہیں ہے۔)