Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

Hadith 2959

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

Zujajat al-Masabih 2959Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٩٥٩ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيُعَجِّلْ»1. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1732 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Let him hasten...

(1) The statement: "Let him hasten..." indicates the obligation of immediacy (ʿala al-fawr), the view of Abu Yusuf and Malik. The opposing view (of Muhammad and Ash-Shafiʿi) permits delay, provided one does not die before performing it. The practical difference lies in whether delaying is sinful (fatwa follows the first view). (Badhl al-Majhud, Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فليعجل : هذا يَدلُّ على وجوبه على الفور. قاله في بذل المجهود». قال في «المرقاة»: والأصح عندنا أن الحج واجب على الفور، وهو قول أبي يوسف ومالك حمله، وعن أبي حنيفة لله ما يدلُّ عليه، وهو ما ورى ابن شجاع عنه : أن الرجل يجد ما يحج به وقصد التزوج أنه يحج به. وقال محمد الله - وهو رواية عن أبي حنيفة وقول الشافعي -: إنه على التراخي، إلا أن جواز تأخيره مشروط عند محمد بأن لا يفوت، يعني لو مات ولم يحج أثم. ولأبي يوسف أن الحج في وقت معين من السنة، والموت فيها ليس بنادر فيضيق عليه الاحتياط، لا لانقطاع التوسع بالكلية، فلو حج في العام الثاني كان مؤديا باتفاقهما ، ولو مات قبل العام الثاني كان آثما باتفاقهما. وثمرة الخلاف بينهما إنما تظهر في حق تفسيق المؤخر ورد شهادته عند من يقول بالفور، وعدم ذلك عند من يقول بالتراخي، كذا حققه الشمني.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حج علی الفور فرض ہے جیسا کہ بذل المجہود میں مذکور ہے اور مرقات میں لکھا ہے کہ صحیح ترین قول یہ ہے کہ حج علی الفور واجب ہے اور یہ قول امام ابو یوسف اور امام مالک رحمہما اللہ کا ہے۔ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابوحنیفہ کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ حج علی التراخی فرض ہے یعنی فرضیت کے دوسرے سال بھی حج ادا کیا جا سکتا ہے۔ اور امام شافعی بھی علی التراخی فرضیت کے قائل ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ کے پاس حج کے فرض ہونے کے بعد اس صورت میں تاخیر جائز ہے جب کہ حج کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو، یعنی اگر فرض ہونے کے بعد حج ادا کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ گنہگار ہوگا۔ ائمہ کرام کے درمیان حج کی فرضیت علی الفور یا التراخی کا جو اختلاف ہے اس کا اثر یہ ہے کہ جن حضرات کے پاس حج علی الفور واجب ہے تو فرضیت کے بعد فوراً حج ادا نہ کرنے والا فاسق ہوگا اور اس کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ اس کے برخلاف جن ائمہ کے پاس حج علی التراخی واجب ہے ان کے پاس فرضیت حج کے بعد تاخیر سے حج ادا کرنے والا فاسق نہ ہوگا اور اس کی گواہی بھی قبول ہوگی، لیکن اگر حج کے فرض ہونے کے بعد حج ادا کرنے سے پہلے وہ مرجائے تو بالاتفاق ایسا شخص سب کے پاس گنہگار ہوگا۔ یہ تحقیق علامہ شمنی رحمہ اللہ نے بیان فرمائی ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ حج فرض ہونے کے بعد چاہئے کہ حج فوراً ادا کرلیا جائے۔12