العربية
Typed, pending editorial approval
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 26 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1519 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 83a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: "Which deed is best..." affirms that faith includes both belief and action.
Note 2
(2) The statement: "Then what? He said: Hajj Mabroor." The preference depends on context: If societal needs (e.g., defense) are greater, jihad supersedes. Likewise, aiding the needy or supporting scholars may outweigh voluntary Hajj.
Note 1
(۱)قوله: أي العمل أفضل إلخ فيه الدلاة على أن الإيمان قول وعمل، قد ذكرنا تحقيقه في أول كتاب الإيمان، وإن شئت التفصيل فارجع إليه.
Note 2
(۲) قوله : ثم ماذا؟ قال: حج مبرور : قال الرحمتي والحق التفصيل فما كانت الحاجة فيه أكثر والنفعة فيه أشمل فهو الأفضل، كما ورد حجة أفضل من عشر غزوات، ورد عكسه فيحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجا إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل، وإذا كان الفقير مضطرًا أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي ﷺ فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعُمر وبناء ربط . قاله رد المحتار».
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ حج مبرور کے بارے میں درمنثور میں علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اصبہانی نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کی ہے: ان سے دریافت کیا گیا کہ حج مبرور کیا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ حج کرنے کے بعد حاجی میں دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے رغبت بڑھ جائے۔اھ اور حج مبرور کی نشانی یہ ہے کہ حج کے بعد حاجی کا حال بدل جائے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے اور عبادات کی پابندی کرے اور منکرات اور منہیات سے بچتا رہے اور جن گناہوں کو حج سے پہلے کرتا تھا ان کو چھوڑ دیوے۔ اشعۃ اللمعات میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔12 ف(2): حج مبرور کے بارے میں صاحب رد المحتار نے حمقانی کے حوالہ سے ایک بڑی واضح تقریر فرمائی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یوں تو ہر عبادت کا الگ الگ ثواب اور مرتبہ متعین ہے لیکن حالات کے اعتبار سے جس عمل کی ضرورت ہو، اور جس کا نفع عام ہو وہی افضل اور اعلیٰ قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ ایک روایت یہ ہے کہ ایک حج دس غزوات سے افضل ہے اور یہ بھی مروی ہے کہ ایک غزوہ دس حج سے افضل ہے تو اس کا تعلق نفس اعمال سے اور اشخاص کے حالات سے ہوگا مثلاً ایک شخص بڑا بہادر ہے اور جنگوں میں مہارت رکھتا ہے تو ایسے شخص کے لئے نفل حج سے جہاد افضل ہے اس کے بر خلاف ایک ایسا شخص ہے جو دلیر نہیں ہے اور جہاد میں کام نہیں کر سکتا تو اس کے لئے جہاد سے حج کرنا افضل ہے اور سرحدوں پر رباط کی ضرورت ہے تو صدقات اور نفل حج سے افضل یہ ہے کہ رباط بنائے جائیں اور قوم میں غرباء کی کثرت ہے یا نیک لوگ محتاج ہیں یا سادات کرام غربت میں مبتلا ہیں تو ان حالات میں نفل عمروں اور نفل حج سے، بہتر یہ ہے کہ اپنے مال کو ان حضرات پر خرچ کرے۔12