العربية
Typed, pending editorial approval
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «أَرْبَعُ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ: قَلْبُ شَاكِرٌ ، وَلِسَانُ ذَاكِرٌ، وَبَدَنُ عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرُ، وَزَوْجَةً لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ خیانت نہ کرنے والی بیوی شوہر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ ابن ماجہ کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ بیوی ایسی ہو کہ جو آخرت کے کام میں مدد کرے عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کہ وہ بیوی کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے اور گھر کے تمام کام عورت انجام دے لیتی ہے۔ جس کی وجہ سے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے۔ اگر بیوی نہ ہو تو گھر کے کاموں کی وجہ سے عبادت کی فرصت کم ملتی ہے۔ بعض عورتیں بڑی نیک اور عابدہ ہوتی ہیں ان کی وجہ سے مرد بھی زاہد اور عابد بن جاتا ہے۔ بعض زاہدائیں بھی ہوتی ہیں کہ اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)