العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٢٢ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْتَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخَنَّ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3330 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1470 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں دو واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ ایک یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غذا کیلئے من وسلویٰ نازل ہوتا تھا من حلوہ کی طرح ایک شیریں چیز ہوتی تھی اور سلویٰ تیتر بٹیر کی طرح ایک چھوٹا پرندہ ہوتا تھا۔ بنی اسرائیل بغیر محنت اور مشقت کے ان کو کھاتے رہے ان پر یہ پابندی تھی کہ جتنا چاہیں کھالیں لیکن ذخیرہ نہ بنائیں، وہ بڑے حریص تھے۔ بچے ہوئے کھانے کو ذخیرہ بنانا شروع کیا تو وہ سڑنے لگا اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل ایسا نہ کرتے تو کبھی گوشت نہ سڑتا۔ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ حضرت حواء علیہا السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے خیانت یہ کی کہ ان کو درخت کے کھانے پر آمادہ کیا جس سے منع کیا گیا تھا اگر وہ درخت نہ کھلاتیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے میں خیانت اور نافرمانی نہ کرتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند سے بھی خیانت اور نافرمانی نہ کرتی۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)12