العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٢٥ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «لَا يَجْلِدُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ، ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ: «إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4942 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5204 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2855 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں شوہر کو تاکید ہے کہ بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ شام کو پھر اس سے صحبت کرے۔ یہ بات شرعاً اور عقلاً مناسب نہیں کہ جس کو اپنے پاس لٹائے اس کو ایسی سخت مار مارے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حتی المقدور بیوی پر ہاتھ نہ اٹھاوے اور اگر ایسا ہی سخت قصور کرے تو زبان سے خفا ہو، یا ساتھ سونا چھوڑ دے، اس پر بھی نہ مانے تو ہلکی مار مارے۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)۔ ⟦?⟧ اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ہوا خارج ہونے پر ہنسنے والوں کو اس لیے تنبیہ فرمائی کہ انسان کو ایسے فعل پر جو خود اس سے سرزد ہوتا ہو نہیں ہنسنا چاہئے، اس لیے کہ دوسرے پر ہنسنا بے ادبی ہے اور دوسرے کو شرمندہ کرنا ہے اور یہ اخلاق سے بعید بات ہے۔