Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3325

Chapter on the Treatment of Women and the Rights of Each

In this book

Current reading

Marriage

Chapter on the Treatment of Women and the Rights of Each

Zujajat al-Masabih 3325Volume 2

English

Abdullah ibn Zam‘ah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “None of you should whip his wife like whipping a slave, then sleep with her at the end of the day.” Then he admonished them regarding their laughter about flatulence, saying: “Why does one of you laugh at what he himself does?” Agreed upon.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٣٢٥ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «لَا يَجْلِدُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ، ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ: «إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4405Noor 4406
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ پیٹے پھر دن کے آخری حصہ میں اس سے جماع کرے۔ اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ تم میں سے کوئی اس بات کا ارادہ کرتا ہے کہ اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارے اور پھر شاید کہ وہ دن کے آخری حصہ میں اس سے ہم بستر ہو پھر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ان لوگوں کو نصیحت فرمائی جو ہوا کے خارج ہونے پر ہنستے تھے تو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسے کام (یعنی ہوا خارج ہونے) پر کیوں ہنستا ہے جس کو وہ خود کرتا ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4942 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5204 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2855 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف میں شوہر کو تاکید ہے کہ بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ شام کو پھر اس سے صحبت کرے۔ یہ بات شرعاً اور عقلاً مناسب نہیں کہ جس کو اپنے پاس لٹائے اس کو ایسی سخت مار مارے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حتی المقدور بیوی پر ہاتھ نہ اٹھاوے اور اگر ایسا ہی سخت قصور کرے تو زبان سے خفا ہو، یا ساتھ سونا چھوڑ دے، اس پر بھی نہ مانے تو ہلکی مار مارے۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)۔ ⟦?⟧ اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ہوا خارج ہونے پر ہنسنے والوں کو اس لیے تنبیہ فرمائی کہ انسان کو ایسے فعل پر جو خود اس سے سرزد ہوتا ہو نہیں ہنسنا چاہئے، اس لیے کہ دوسرے پر ہنسنا بے ادبی ہے اور دوسرے کو شرمندہ کرنا ہے اور یہ اخلاق سے بعید بات ہے۔