العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٣٤ - وَعَنْهَا (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ حُنَيْنٍ وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرُ، فَهَبَّتْ رِيحٌ، فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ قَالَتْ: بَنَاتِي، وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ ؟ قَالَتْ: فَرَسُ، قَالَ: «وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ: «فَرَسُ لَهُ جَنَاحَانِ؟ قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةُ، قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4932 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں گڑیوں کے کھیلنے کا ذکر ہے گڑیاں کپڑے کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کو لڑکیاں بناتی ہیں ان کی شادی کرتی ہیں یہ بچوں کا کھیل ہے اور ان میں پوری صورت نہیں ہوتی اس لیے ان پر تصویر کا حکم نہیں اور لڑکیوں کو ان کا کھیلنا درست رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال اخلاق تھا کہ آپ بچوں پر شفقت فرماتے اور کھیل کود سے ان کو منع نہ فرماتے یہی وجہ ہے کہ آپ نے حضرت عائشہ کو گڑیاں کھیلنے، اُن کی ہمجولی لڑکیوں کے آنے سے اور کھیلنے سے نہیں روکا۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس کھیل سے لڑکیوں کی تربیت ہوتی ہے۔ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ شاید کہ گڑیوں کا قصہ تصویروں کے حرام ہونے سے پہلے کا ہو اور پھر جو تصویریں حرام ہو گئیں تو وہ بھی حرام ہو گئیں۔ (حاشیہ مشکاۃ)12