Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3334

Chapter on the Treatment of Women and the Rights of Each

In this book

Current reading

Marriage

Chapter on the Treatment of Women and the Rights of Each

Zujajat al-Masabih 3334Volume 2

English

Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) returned from the expedition of Tabuk or Hunayn, and there was a curtain in her alcove. A wind blew, lifting a corner of the curtain, revealing Aishah’s dolls. He said, “What is this, O Aishah?” She said, “My dolls.” He saw among them a horse with wings made of cloth and said, “What is this in their midst?” She said, “A horse.” He said, “What is this on it?” She said, “Wings.” He said, “A horse with wings?” She said, “Have you not heard that Sulayman had horses with wings?” She said: He laughed until I saw his molars. Narrated by Abu Dawud.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٣٣٤ - وَعَنْهَا (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ حُنَيْنٍ وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرُ، فَهَبَّتْ رِيحٌ، فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ قَالَتْ: بَنَاتِي، وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ ؟ قَالَتْ: فَرَسُ، قَالَ: «وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ: «فَرَسُ لَهُ جَنَاحَانِ؟ قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةُ، قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4419
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک یا غزوۂ حنین سے واپس تشریف لائے تو (آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ) حضرت عائشہ کے گھر کے (ایک گوشہ میں) محراب پر پردہ پڑا ہوا تھا (جس میں کھلونے اور گڑیاں تھیں) جب ہوا چلی تو ہوا نے طاق کے پردہ کے ایک کنارہ سے حضرت عائشہ کے کھلونوں اور گڑیوں کو ظاہر کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یا عائشہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے کہا یہ میری گڑیاں ہیں اور آپ نے ان گڑیوں کے درمیان ایک گھوڑا دیکھا جس کے دو کپڑے کے پر ہیں تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے پھر دریافت فرمایا وہ کیا چیز ہے جس کو میں ان (گڑیوں) کے درمیان دیکھ رہا ہوں؟ ام المؤمنینؓ نے جواب دیا یہ گھوڑا ہے! آپ نے پھر دریافت فرمایا (کیا) گھوڑے کے بھی دو پر ہوتے ہیں تو ام المؤمنینؓ نے جواب دیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گھوڑے تھے جن کو پر تھے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی کچلیوں کو میں نے دیکھ لیا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4932 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں گڑیوں کے کھیلنے کا ذکر ہے گڑیاں کپڑے کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کو لڑکیاں بناتی ہیں ان کی شادی کرتی ہیں یہ بچوں کا کھیل ہے اور ان میں پوری صورت نہیں ہوتی اس لیے ان پر تصویر کا حکم نہیں اور لڑکیوں کو ان کا کھیلنا درست رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال اخلاق تھا کہ آپ بچوں پر شفقت فرماتے اور کھیل کود سے ان کو منع نہ فرماتے یہی وجہ ہے کہ آپ نے حضرت عائشہ کو گڑیاں کھیلنے، اُن کی ہمجولی لڑکیوں کے آنے سے اور کھیلنے سے نہیں روکا۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس کھیل سے لڑکیوں کی تربیت ہوتی ہے۔ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ شاید کہ گڑیوں کا قصہ تصویروں کے حرام ہونے سے پہلے کا ہو اور پھر جو تصویریں حرام ہو گئیں تو وہ بھی حرام ہو گئیں۔ (حاشیہ مشکاۃ)12