Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ النِّكَاحِ

Hadith 3382

بَابٌ

In this book

Current reading

كِتَابُ النِّكَاحِ

بَابٌ

Zujajat al-Masabih 3382Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۳۸۲ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِي بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ نَعَمْ، قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «اسْمَعُوْا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَالله أَغْيَرُ مِنِّي». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1498b (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں حضرت سعد کا یہ کہنا کہ میں زبانی قتل کر دوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت نہ تھی بلکہ اظہارِ قول ان کی طبعی غیرت کی وجہ سے تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اس جذبۂ غیرت کو پسند بھی فرمایا ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت تو کفر ہے۔ (لمعات) ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بدکاری کے وقت قتل کرنے سے عند اللہ گناہ نہیں لیکن اگر گواہ نہ ہوں گے تو حاکم قصاص لے گا ایسے موقع میں بہتر تو یہ ہے کہ آدمی صبر و تحمل سے کام لے، یا تو گواہ فراہم کرے یا پھر لعان کر کے یا طلاق دے دے جیسا کہ اوپر کی حدیثوں میں حضرت ہلال بن امیہ اور عویمر عجلانی نے صبر و تحمل سے کام لے کر احکام شریعت کے مطابق لعان کیا۔12