English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that Sa‘d ibn Ubadah said: “If I found a man with my wife, I would not touch him until I brought four witnesses.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Yes.” He said: “No, by the One who sent you with the truth, I would hasten to him with the sword before that.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Listen to what your leader says. He is zealous, and I am more zealous than him, and Allah is more zealous than me.”
العربية
Typed, pending editorial approval
۳۳۸۲ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِي بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ نَعَمْ، قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «اسْمَعُوْا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَالله أَغْيَرُ مِنِّي». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4502
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی
اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو (زنا کرتے ہوئے) پاؤں تو (کیا)
میں اس کو یوں ہی (بغیر قتل کے) چھوڑ دوں گا یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں؟ (یہ سن کر) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں (تم کو چار گواہ لانے پڑیں گے) تو انہوں نے کہا ایسا نہیں
ہوسکے گا (اس لیے کہ میری طبیعت کے لحاظ سے یہ عمل ناقابل برداشت ہے) اس ذات کی قسم جس
نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا ہے میں اس پر (گواہ لانے سے) پہلے ہی تلوار سے اس کو قتل ہی
کر دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حاضرین سے) فرمایا: سنو! تمہارا سردار کیا کہہ
رہا ہے یقیناً وہ غیرت مند ہے اور میں اس سے بڑھ کر غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ
غیرت مند ہیں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1498b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں حضرت سعد کا یہ کہنا کہ میں زبانی قتل کر دوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت نہ تھی بلکہ اظہارِ قول ان کی طبعی غیرت کی وجہ سے تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اس جذبۂ غیرت کو پسند بھی فرمایا ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت تو کفر ہے۔ (لمعات) ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بدکاری کے وقت قتل کرنے سے عند اللہ گناہ نہیں لیکن اگر گواہ نہ ہوں گے تو حاکم قصاص لے گا ایسے موقع میں بہتر تو یہ ہے کہ آدمی صبر و تحمل سے کام لے، یا تو گواہ فراہم کرے یا پھر لعان کر کے یا طلاق دے دے جیسا کہ اوپر کی حدیثوں میں حضرت ہلال بن امیہ اور عویمر عجلانی نے صبر و تحمل سے کام لے کر احکام شریعت کے مطابق لعان کیا۔12