Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

Hadith 494

بَابُ الْغُسْلِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

بَابُ الْغُسْلِ

Zujajat al-Masabih 494Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٩٤ - وَعَنْ عَلِيَّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلُهَا فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ». قَالَ عَلِيٌّ : فَمِنْ1 ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي، فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي، ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَسَكَتَ عَنْهُ. وَفِي التَّلْخِيْصِ الْحَبِيْرِ: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ. وَقَالَ عَلِيُّ الْقَارِي: وَالْحَدِيثُ حَسَنٌ، فَيَقْوَى بِهِ حَدِيْثُ التَّرْمِذِي السَّابِقُ، مَعَ أَنَّ الضُّعْفَ فِيْهِ إِنَّمَا هُوَ فِي إِسْنَادِ التَّرْمِذِيِّ، دُوْنَ إِسْنَادَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَوَى أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يُكَرِّرًا فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 249 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

This footnote could not be resolved in the source.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فمن ثم عاديت إلخ : قال الشيخ ابن حجر : ولا يخفي أن فعله إذا كان مخالفًا لسنته وبقية الخلفاء من عدم الحلق إلا بعد فراغ النسك يكون رخصة لا سنة.

Note 1

غُسل میں سر کے بالوں کے نیچے تک پانی نہ پہنچنے کی وعید سن کر میں نے اپنے سر کے بالوں سے دشمن جیسا معاملہ کیا، جس طرح ایک دشمن دوسرے دشمن کو مار ڈالتا ہے، اسی طرح میں نے اپنے سر کے بال مونڈھ دیئے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت صحت کی علامت ہے اور تلخیص حبیر میں مذکور ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سر منڈوایا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سر میں بال رکھتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل رخصت اور اجازت پر محمول ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ تمام سر کا منڈوانا مستحب اور تمام سر کے بالوں کا رکھنا سنت ہوگا لیکن اس بحث سے حج کا مسئلہ خارج ہوگا وجہ یہ ہے کہ احکام حج سے فراغت کے بعد سر کا منڈوانا سنت ہے۔