العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦١١ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قُبِضَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ1 وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: ثَلَاثُ وَسِتِّينَ أَكْثَرُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2348d (unverified) 60% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “Abu Bakr at sixty-three”: his caliphate lasted two years and four months. His statement: “Umar at sixty-three”: Mishkat’s author said: He was stabbed by Abu Lu’lu’ah, the slave of Al-Mughira ibn Shu’ba, in Madinah on Wednesday, four days before the end of Dhul-Hijjah, year 23. He was buried on Sunday, the tenth of Muharram, year 24, aged sixty-three, the most accurate report. His caliphate lasted ten and a half years. As for Uthman, he was buried on Saturday night in Al-Baqi, aged eighty-two. It is also said eighty-eight or otherwise. His caliphate lasted twelve years. As for Ali, he was appointed caliph on the day Uthman departed from this world, Friday, eighteen days into Dhul-Hijjah, year 35. He was struck by Abdur-Rahman ibn Muljam Al-Muradi in Kufa on Friday morning, seventeen days into Ramadan, year 40, and departed from this world three nights later, buried at dawn, aged sixty-three. It is also said sixty-five, seventy, or fifty-eight. His caliphate lasted four years, nine months, and some days. Perhaps Anas did not mention Ali, as he was still alive, or his age was not confirmed to him. Allah knows best. At-Tirmidhi narrated from Jarir, from Mu’awiya, who said in a sermon: “The Messenger of Allah (ﷺ) returned to his Lord at sixty-three, as did Abu Bakr and Umar, and I am sixty-three,” meaning he expected to depart from this world at that age to align with them. In Jami’ Al-Usul: Mu’awiya was sixty-three when narrating this but did not depart then, living to seventy-eight. Mirk said: He wished but did not attain his desire, departing near eighty. I say: He achieved the reward of alignment despite living longer, as a believer’s intention is better than his deed. His statement: “Muhammad ibn Ismail Al-Bukhari said: ‘Sixty-three’”: in the genitive as a quotation, meaning the narration of sixty-three is more common. Imam Ahmad also favored this narration. The Messenger of Allah (ﷺ) was born in the Year of the Elephant, as is well-known, and Qadi Iyad claimed consensus on this. They agreed he was born on a Monday in Rabi’ Al-Awwal, differing on whether it was the second, eighth, or tenth. He returned to his Lord on Monday, the twelfth of Rabi’ Al-Awwal, in the forenoon, may Allah’s blessings and peace be upon him. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله وأبو بكر : وهو ابن ثلاث وستين، وكانت خلافته سنتين وأربعة أشهر. وقوله: وعمر وهو ابن ثلاث وستين قال مؤلف المشكاة»: طعنه أبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة بالمدينة يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد عاشر محرم سنة أربع وعشرين، وله من العمر ثلاث وستون، وهو أصحما قيل في عمره، وكانت خلافته عشر سنين ونصفا. وأما عثمان فدفن ليلة السبت بالبقيع ، وله يومئذ من العمر اثنتان وثمانون سنة. وقيل : ثمان وثمانون وقيل : غير ذلك، وكانت خلافته اثنتي عشرة سنة. وأما علي فاستخلف يوم قتل عثمان، وهو يوم الجمعة لثمان عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين، وضربه عبد الرحمن بن ملجم المرادي بالكوفة صبيحة الجمعة لسبع عشرة خلت من شهر رمضان سنة أربعين، ومات بعد ثلاث ليال من ضربته، ودفن سحرا، وله من العمر ثلاث وستون سنة. وقيل: خمس وستون. وقيل: سبعون. وقيل: ثمان وخمسون، وكانت خلافته أربع سنين وتسعة أشهر وأياما. ولعل أنسا لم يذكر عليا مع أن الصحيح في عمره أنه ثلاث وستون؛ لأنه؛ إذ ذاك في قيد الحياة، أو لأنه ما تحرر عنده، والله أعلم. وروى الترمذي عن جرير عن معاوية أنه سمعه يخطب قال: مات رسول الله ، وهو ابن ثلاث وستين، وأبو بكر وعمر كذلك، وأنا ابن ثلاث وستين أي وأنا متوقع أن أموت في هذا السن موافقة لهم، ففي جامع الأصول: كان معاوية في زمان نقله هذا الحديث في هذا السن ولم يمت فيه، بل مات وله ثمان وسبعون سنة. قال ميرك: تمنى لكن لم ينل مطلوبه، بل مات وهو قريب من ثمانين. قلت لكن حصل مرغوبه من ثواب التوافق الذي هو موجود مع زيادة عمره وأمله، فنية المؤمن خير من عمله. وقوله: «قال محمد بن إسماعيل البخاري: «ثلاث» بالجر على الحكاية والتقدير رواية ثلاث وستين أكثر، أي رواية من غيرها، ورجح الإمام أحمد أيضًا هذه الرواية، وولد رسول الله ﷺ عام الفيل على الصحيح المشهور، وادعى القاضي عياض الإجماع عليه، واتفقوا على أنه ولد يوم الاثنين في شهر ربيع الأول، واختلفوا هل هو ثاني الشهر أم ثامنه أم عاشره، وتوفي يوم الاثنين في ثاني عشر ربيع الأول ضحى، صلوات الله وسلامه عليه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(6) قولہ: وابوبکر وهو ابن ثلاث وستین سنۃ۔ (اور حضرت ابوبکر کا بھی جب کہ آپ ترسٹھ(63) سال کے تھے) جب کہ آپ کی خلافت دو سال چار مہینے تھے۔ وقولہ وعمر وهو ابن ثلاث وستین۔ صاحب مشکوٰۃ نے فرمایا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤہ نے بروز چہارشنبہ جب ذوالحجہ کے ختم کو چار دن باقی تھے 23ہجری مدینہ منورہ میں آپ کو شہید کردیا اور اتوار کے دن دس(10) محرم چوبیس24ہجری کو تدفین عمل میں آئی، آپ کی عمر بھی ترسٹھ(63) سال تھی آپ کی عمر کے بارے میں یہی قول قابل ترجیح ہے اور آپ کی خلافت دس سال چھ مہینے رہی۔ اب رہے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو آپ عنہ کی شب بقیع میں دفن کئے گئے اس وقت آپ کی عمر82بیاسی سال تھی اور ایک قول میں(88)اٹھاسی پر آٹھ سال ہے آپ کی عمر کے بارے میں اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں اور آپ کی خلافت بارہ(12)سال رہی۔ اب رہے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن خلیفہ ہوئے اور یہ جمعہ کا دن تھا ذوالحجہ کی18تاریخ پینتیس(35)ہجری تھی، آپ کو شہر کوفہ میں (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے 17 رمضان المبارک40 چالیس ہجری جمعہ کی صبح شہید کردیا اور تین راتیں گزرنے کے بعد اسی حملہ کی وجہ آپ وصال پاگئے اور بوقت سحر تدفین عمل میں آئی اور اس وقت آپ کی عمر شریف ترسٹھ(63) سال تھی، ایک قول میں پینسٹھ(65)، ایک قول میں ستر(70) اور ایک قول کے مطابق آپ کی عمر شریف اٹھاون(58) سال تھی اور آپ کی خلافت چار(4) سال نو(9) ماہ اور چند دن رہی اور ہوسکتا ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی بقید حیات تھے حالانکہ راجح قول یہی ہے کہ آپ کی عمر63 سال تھی، یا اس لئے کہ آپ کے پاس یہ بات ثابت نہیں تھی۔ اور اللہ بہتر جاننے والا ہے۔ (7) امام ترمذی نے روایت کیا ہے حضرت جریر نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال63 سال کی عمر میں ہوا، اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بھی یہی عمر تھی۔ اور اس وقت میں بھی63 سال کا ہوں یعنی میں توقع رکھتا ہوں کہ میں بھی ان حضرات کی موافقت میں اسی عمر میں انتقال کر جاؤں گا۔ اور کتاب جامع الاصول میں ہے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر بھی اس حدیث شریف کو بیان کرتے وقت یہی تھی لیکن اس عمر میں آپ کا وصال نہیں ہوا بلکہ آپ کا وصال(78) اٹھتر سال کی عمر میں ہوا، اور ایک قول میں ہے آپ کی عمر(86) چھیاسی سال تھی، علامہ میرک نے کہا ہے کہ آپ نے تمنا کی مگر مطلوب حاصل نہیں ہوا بلکہ آپ نے تقریباً(80) اسی سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ میں کہتا ہوں: لیکن ان کو ان کی پسند کی چیز حاصل ہوگئی کیونکہ ان کی عمر کی زیادتی میں ان کی تمنا کے تو افق کا ثواب مل گیا تو مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ قولہ: قال محمد بن اسماعيل البخاري ثلاث . (محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا ترسٹھ سال...) لفظ ”ثلاث“ زیر کے ساتھ ہے اور تقدیری عبارت اس طرح ہے: رواية ثلاث وستين اکثر یعنی ترسٹھ سال کی روایت دوسری روایتوں سے زیادہ ہے اور امام احمد نے اسی روایت کو ترجیح دی ہے۔ راجح اور مشہور قول کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عام الفیل میں ہوئی اور قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، علماء (حاشیہ پچھلے صفحے سے) نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ماہ ربیع الاول میں دوشنبہ کے دن پیدا ہوئے اور اس بات میں اختلاف ہے کہ کیا وہ مہینہ کی آٹھ تاریخ ہے یا نو یا دس۔ اور آپ کا وصال مبارک بارہ ربیع الاول دوشنبہ کے دن چاشت کے وقت ہوا، آپ پر اللہ تعالیٰ کے درود اور سلام ہوں۔ (مرقات)۔