العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦١٤ - وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ (رحمه الله) قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّكَّرُ، قُلْتُ: يَقُوْلُوْنَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ، فَقَالَ لِي جَابِرٌ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ ، قَالَ : جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا 1فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، فَرَفَعْتُ2 رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَكَّرُونِي، فَدَكَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، فَنَزَلَتْ: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّكَّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ وَثِيَابَكَ فَطَهَّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُر﴾ْ قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَقَالَ عَلِيٌّ الْقَارِي رَحِمَهُ اللهُ الْبَارِي: الظَّاهِرُ أَنَّ اقْرَأْ3 أَوَّلُهُ الْحَقِيقِيُّ، وَيَا أَيُّهَا الْمُدَّثَرُ. أَوَّلُهُ الْإِضَافِيُّ، وَهُوَ بَعْدَ فَتْرَةِ الْوَحْيِ الْإِلَهِي.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4922 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (8)
Note 1
(1) His statement: “a month”: implies that the pause lasted a month. His statement: “my retreat”: with a kasra on the jim, meaning my seclusion or retreat. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “I raised my head and saw something”: It was previously narrated from Jabir that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) speak about the pause in revelation, saying: “While I was walking, I heard a sound from the sky, raised my gaze, and saw the angel who came to me in Hira…” This clearly refers to the relative first. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: “Read is the true first”: Hence, some scholars said: The claim that “O you who are cloaked” was the first is weak. The correct view is that “Read in the name of your Lord” was the absolute first, as stated in Aisha’s Hadith. “O you who are cloaked” was revealed after the pause, as clarified in Az-Zuhri’s narration from Jabir, supported by his statement: “He spoke about the pause in revelation,” until he said: “Then Allah revealed: ‘O you who are cloaked’.” Nawawi said: The claim of some commentators that Al-Fatiha was the first is invalid. There is discussion, as it could mean the first complete chapter, or the first in Madinah if considered Madinahn, or the first after Read and O you who are cloaked, making its primacy relative. This is supported by his statement: “This was before prayer was made obligatory,” meaning before prayer, whose validity or perfection depends on reciting Al-Fatiha. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: شهرا فيه إشعار بأن أيام الفترة كانت شهرا. وقوله: «جواري» بكسر الجيم، أي مجاورتي واعتكافي. كذا في المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: فرفعت رأسي فرأيت شيئًا: وقد سبق عن جابر أيضًا أنه سمع رسول الله ﷺ يحدث عن فترة الوحي قال: فبينا أنا أمشي سمعت صوتا من السماء، فرفعت بصري، فإذ الملك الذي جاءني بحراء، الحديث. فهو صريح بأن مراده الأول الإضافي. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله : أن «اقرأ» أوله الحقيقي : ولذا قال بعض المحققين : قول من قال : إن أول ما نزل يا أيها المدثر ضعيف والصواب أن أول ما نزل على الإطلاق اقرأ باسم ربك ، كما صرح به في حديث عائشة، وأما «يا أيها المدثر فكان نزولها بعد فترة الوحي، كما صرح به في رواية الزهري عن جابر، ويدل عليه قوله: وهو يحدث عن فترة الوحي إلى أن قال: «فأنزل الله تعالى: يا أيها المدثر. وقال النووي: وقول من قال من المفسرين : إن أول ما نزل الفاتحة فباطل. وفيه بحث؛ لأنه يمكن أن يقال : مراده أول سورة نزلت بكمالها، أو أول سورة بالمدينة على القول بأنها مدنية، أو أول سورة بعد اقرأ والمدثر، فيكون أوليتها أيضًا إضافية، ويؤيده قوله: وذلك أي نزول المدثر قبل أن تفرض الصلاة أي مطلق الصلاة المتوقف صحتها أو كمالها على قراءة الفاتحة، والله أعلم. كذا في «المرقاة».
Note 1
ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ اقرآ کی آیت حقیقت میں پہلی آیت ہے(25) اور ”يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ’’ کی آیت دوسری آیتوں کی بہ نسبت پہلی ہے۔
Note 2
(23) قولہ: شہرًا۔ اس میں اس بات کا اعلان ہے کہ وحی کے موقوف رہنے کا عرصہ ایک مہینہ کا تھا۔ قولہ: جواری۔ جیم کو زیر کے ساتھ یعنی میری مجاورت اور میرا اعتکاف۔ (مرقات)۔ (24) فرفعت رأسی فرأیت شیئا (میں اپنا سر اوپر اٹھایا تو ایک چیز دیکھا) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول یہ بات گزر چکی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی موقوف رہنے کی مدت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چل رہا تھا کہ آسمان سے ایک آواز سنا اور اپنی نگاہ اٹھایا اس فرشتہ کو دیکھا جو حراء میں میرے پاس آیا تھا۔ (الحدیث) اس حدیث شریف سے اس بات کی صراحت ہو جاتی ہے کہ یہاں اولیت اضافی ہے یعنی پہلی آیت سے وحی موقوف ہونے کی مدت کے بعد پہلی آیت مراد ہے۔ (مرقات)۔ (25) قولہ: ان اقرأ اوله الحقیقی۔ (اقرآ کی آیت حقیقی پہلی آیت ہے) اسی لئے بعض محققین نے کہا ہے جنہوں نے ”يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ“ کو پہلی آیت کہا ہے ان کا قول ضعیف ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ اول علی الاطلاق یعنی سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت ”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ“ ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے، اب رہا آیت ”يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ“ کا نزول تو وہ فترت وحی کے بعد ہے، اور جیسا کہ امام زہری نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وهو يحدث من فترة الوحى سے ”يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ“ تک کے الفاظ اس کی تائید کرتے ہیں، اور امام نووی نے فرمایا مفسرین کرام میں سے جنہوں نے یہ کہا کہ سب سے پہلے سورہ فاتحہ نازل ہوئی ہے یہ قول صحیح نہیں ہے، لیکن اس میں بحث ہے، اس لئے کہ ہو سکتا ہے ان کی مراد یہ ہو کہ سب سے پہلی مکمل نازل ہونے والی سورت سورہ فاتحہ ہے یا (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اس قول کے مطابق کہ سورہ فاتحہ مدنی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ مدینہ میں نازل ہونے والی سب سے پہلی سورت ہو۔ یا سورہ اقرأ اور سورہ المدثر کے بعد نازل ہونے والی پہلی سورت ہو تو اس کی اولیت بھی اولیت اضافی ہوگی۔ اور حدیث شریف کے ان الفاظ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ مدثر کی یہ آیتیں نماز کے فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ یعنی وہ نماز جس کی صحت یا اس کا کمال سورہ فاتحہ کی تلاوت پر موقوف ہے۔ اور اللہ بہتر جاننے والا ہے۔ (مرقات)۔