Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

Hadith 6015

بَابُ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ

In this book

Current reading

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

بَابُ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ

Zujajat al-Masabih 6015Volume 5

العربية

Typed, pending editorial approval
٦٠١٥ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ1 النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ، حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرِينَ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3800 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

the people

(1) The statement “the people”: Meaning the people of Islam, as they are the essence of humanity. The statement “will increase, and the Ansar will decrease”: At-Turbushti said: Because the Ansar are those who sheltered and supported the Messenger of Allah (ﷺ) in times of weakness and hardship. This status is unique to them, unattainable by those who come later. As each of them passes, there is no replacement, so others increase while they decrease. At-Tibi said: This also applies to the Migrants who migrated from Makkah to Madinah. It is more apparent to take it literally, as the Migrants and their descendants multiplied, spread, and ruled lands, unlike the Ansar. This is evident among the Ashraf, Alawites, Abbasids, Banu Khalid, and others. The statement “something”: Meaning a small portion of authority. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فإن الناس: أي أهل الإسلام؛ لأنهم خلاصة الناس. وقوله: يكثرون ويقل الأنصار» قال التوربشتي؛ لأن الأنصار هم الذين أووا رسول الله الله ونصروه في حال الضعف والعسرة. وهذا أمر قد انقضى زمانه لا يلحقهم اللاحق ولا يدرك شأوهم السابق، فكلما مضى منهم واحد مضى من غير بدل، فيكثر غيرهم ويقلون. قال الطيبي: وهذا المعنى، أي التقليل قائم في حق المهاجرين الذين هاجروا من مكة إلى المدينة. ولعل الحمل على الحقيقة أظهر؛ لأن المهاجرين وأولادهم كثروا وتبسطوا في البلاد وانتشروا فيها وملكوها بخلاف الأنصار، انتهى. وهذا أمر مشاهد في الأشراف والعلويين والعباسية وبني خالد وأمثالهم. وقوله: شيئًا» أي قليلا من الولاية. التقطته من المرقاة».

Note 1

(64) قوله: فان الناس۔ سے مراد اہل اسلام ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی اصل ہیں۔ قوله: يكثرون ويقل الانصار. امام تورپشتی نے بیان کیا ہے کہ انصار وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جگہ کا انتظام کیا اور کمزوری اور تنگی کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس کا زمانہ گزر چکا ہے نہ بعد میں آنے والے کی ان تک رسائی ہو سکتی ہے اور نہ ہی کوئی پہلے والا ان کی رفتار کو پا سکتا ہے۔ پس جب بھی ان میں سے کوئی انتقال کر گئے تو ان کا کوئی بدل نہ رہا۔ پس اسی وجہ سے دوسرے لوگ بڑھ رہے ہیں اور وہ کم ہو رہے ہیں۔ علامہ طیبی نے بیان کیا ہے کہ یہ معنی یعنی تقلیل ان مہاجرین کے حق میں بھی ثابت ہے جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی تھی اور حقیقت پر محمول کرنا راجح ہے کیونکہ مہاجرین اور ان کی اولاد بڑھتے گئے اور شہروں میں پھیلتے گئے اور انہیں پھیل گئے اور ان کے مالک بن گئے برخلاف انصار کے۔ اور یہ بات سادات علوی اور عباسی حضرات اور بنو خالد اور ان جیسے خاندانوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وقوله: شيئا۔ یعنی تھوڑا سا بھی اقتدار۔ (مرقات)