العربية
Typed, pending editorial approval
٧٥٣ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشَّرْكِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ، فَإِنْ تَرَكَهَا فَقَدْ أَشْرَكَ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1080 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ حدیث نمبر (20) اس بات پر دلیل ہے کہ تارک صلوٰۃ اس لئے کافر نہیں قرار دیا جا سکتا کہ وہ منکر صلوٰۃ نہیں۔ اس حدیث میں تارک صلوٰۃ کی وعید پر ارشاد ہے ”اِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَ اِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ“ (اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کی مغفرت فرما دیں اور چاہیں تو اس کو عذاب دیں) ان الفاظ سے بخوبی ظاہر ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہیں تو تارک صلوٰۃ کی مغفرت فرما دیں گے اگر تارک صلوٰۃ کافر ہوتا تو کسی حال میں بھی اس کی مغفرت نہیں ہو سکتی اس لئے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ تارک صلوٰۃ کافر نہیں ہوتا بلکہ کفر کے قریب پہنچ جاتا ہے اسی بناء پر اس باب میں اس مضمون کی جو حدیثیں موجود ہیں اور ان میں ”فَقَدْ كَفَرَ اور فَقَدْ اَشْرَكَ“ کے الفاظ ہیں ان کا ترجمہ کفر سے قریب پہنچ جانے اور شرک سے قریب پہنچ جانے سے کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذہب حنفی میں تارک صلوٰۃ کو قتل نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو زدوکوب کر کے قید میں رکھا جاتا ہے تا کہ وہ توبہ کر کے نماز کا عادی بن جائے۔ (اشعۃ اللمعات)12۔