And the saying of Allah, the Almighty: "Establish the prayer," and His saying: "And establish the prayer, indeed prayer prohibits immorality and wrongdoing." (Al-Ankabut: 45), and His saying: "And command your family to establish prayer and be patient in it," and His saying: "Your ally is none but Allah and His Messenger, and those who believe, those who establish prayer," and His saying: "And they who are [constantly] on their prayer, they will be in gardens, honored." (Al-Ma'arij: 34-35), (Al-Ma'idah: 55).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث اور اس کے بعد والی حدیثوں میں نماز اور دیگر عبادات کی وجہ سے گناہوں کے
مٹا دیئے جانے کا جو ذکر ہے اس سے صغیرہ گناہ مراد ہیں نہ کہ کبیرہ، کیونکہ گناہ کبیرہ کی معافی کیلئے
باتفاق اہل سنت والجماعت توبہ ضروری ہے۔ (ماخوذ از مرقات ولمعات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 526 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2763b (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.499
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
پانچوں نمازوں کی طرف اس طرح اشارہ ہو رہا ہے کہ ”طَرَفَيِ النَّهَارِ“ ’دن کے دونوں طرف میں‘
طرف اول سے نماز فجر اور طرف آخر سے نماز ظہر اور عصر اور ”زُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ“ رات کے قریبی
ساعتوں سے نماز مغرب اور عشاء مراد ہے) اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا
یہ میرے ہی لئے ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ میری تمام امت کیلئے ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6823 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2764 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں سائل سے جس گناہ کے سرزد ہونے کا ذکر ہے، انہوں نے اس کو اپنے
خیال میں گناہ کبیرہ سمجھا اور اسی خیال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس گناہ کی پاداش میں
حد جاری کر دی جائے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ وحی معلوم فرما لیا کہ وہ گناہ ایسا نہیں ہے کہ
جس پر حد جاری کی جائے اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ وہ گناہ نماز
باجماعت ادا کرنے کی وجہ سے معاف ہو گیا ہے، اس لئے اب حد جاری کرنے کی ضرورت باقی نہیں
رہی۔ (یہ لمعات سے ماخوذ ہے۔12)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1080 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ حدیث نمبر (20) اس بات پر دلیل ہے کہ
تارک صلوٰۃ اس لئے کافر نہیں قرار دیا جا سکتا کہ وہ منکر صلوٰۃ نہیں۔
اس حدیث میں تارک صلوٰۃ کی وعید پر ارشاد ہے ”اِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَ اِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ“ (اللہ
تعالیٰ چاہیں تو اس کی مغفرت فرما دیں اور چاہیں تو اس کو عذاب دیں) ان الفاظ سے بخوبی ظاہر ہو رہا
ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہیں تو تارک صلوٰۃ کی مغفرت فرما دیں گے اگر تارک صلوٰۃ کافر ہوتا تو کسی حال میں
بھی اس کی مغفرت نہیں ہو سکتی اس لئے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ تارک صلوٰۃ کافر نہیں
ہوتا بلکہ کفر کے قریب پہنچ جاتا ہے اسی بناء پر اس باب میں اس مضمون کی جو حدیثیں موجود ہیں اور ان
میں ”فَقَدْ كَفَرَ اور فَقَدْ اَشْرَكَ“ کے الفاظ ہیں ان کا ترجمہ کفر سے قریب پہنچ جانے اور شرک
سے قریب پہنچ جانے سے کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذہب حنفی میں تارک صلوٰۃ کو قتل نہیں کیا جاتا بلکہ
اس کو زدوکوب کر کے قید میں رکھا جاتا ہے تا کہ وہ توبہ کر کے نماز کا عادی بن جائے۔ (اشعۃ اللمعات)12۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ منافقین نماز کے پڑھنے، جماعت میں حاضر ہونے اور اسلام کے ظاہری احکام
کی تابعداری کرنے کی وجہ سے مسلمانوں سے مشابہت رکھتے ہیں اسی لئے منافقین کو امن دیا جاتا ہے
کہ ان کو قتل نہیں کیا جاتا اور ان پر احکام اسلام جاری ہوتے ہیں تو جس نے نماز جیسی عمدہ ترین عبادت
چھوڑ دی تو اس کا کفر و نفاق ظاہر ہو گیا اور وہ جن رعایتوں کا مستحق تھا اس کا یہ استحقاق باقی نہ رہا۔12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں بچوں کے درمیان بستروں کے جدا کرنے کا جو ذکر ہے اس سے مراد یہ
ہے کہ جب بچے دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو بھائی، بہن کے بستر الگ الگ کر دیئے جائیں۔ (اشعۃ
اللمعات اور مرقات۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث اور اس کے بعد والی حدیثوں میں نماز اور دیگر عبادات کی وجہ سے گناہوں کے مٹا دیئے جانے کا جو ذکر ہے اس سے صغیرہ گناہ مراد ہیں نہ کہ کبیرہ، کیونکہ گناہ کبیرہ کی معافی کیلئے باتفاق اہل سنت والجماعت توبہ ضروری ہے۔ (ماخوذ از مرقات ولمعات۔)