And the words of Allah the Almighty: "Indeed, prayer has been decreed upon the believers a decree of specified times." (An-Nisa: 103) and His words: "And establish the prayer at the two ends of the day and at the approaches of the night." (Hud: 114) and His words: "Establish the prayer at the decline of the sun until the darkness of the night and the Qur'an at dawn. Indeed, the Qur'an at dawn is ever witnessed." (Al-Isra: 78) and His words: "And glorify the praises of your Lord before the rising of the sun and before its setting, and during the night and at the ends of the day, that you may be pleased." (Ta-Ha: 130) and His words: "So glorify Allah when you enter the evening and when you enter the morning, and to Him be praise in the heavens and the earth, and in the afternoon and when you are at noon." (Ar-Rum: 17)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Muwatta Malik 6 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Unnumbered commentary
Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height
The statement "Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height" is explained in "Al-Siraj" by Shaykh al-Islam, where the preferred approach is to not delay Dhuhr until the shadow is equal to the height. It is also advised not to pray Asr until the shadow reaches twice the height. This way, one ensures that both prayers are performed within their respective times according to consensus (Ijma'), as mentioned in "Radd al-Muhtar."
Note 1
قوله
(۱) قوله: صل الظهر إذا كان ظلك مثلك والأحسن ما في «السراج» عن شيخ الإسلام: أن الاحتياط أن لا يُؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلى العصر حتى يبلغ المثلين؛ ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، كذا في «رد المحتار».
Note 1
ف: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے الفاظ ”صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ
مِثْلَكَ“ نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مثل
ہوجائے۔ حدیث کے ان الفاظ سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ نماز ظہر کا شروع کرنا اس وقت بھی جائز ہے
جب کسی چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کو چھوڑ کر اس چیز کے ایک مثل کو پہنچ جائے اور یہ ایک واضح بات
ہے کہ جب نماز ایک مثل پر شروع کی جائے گی تو باقی نماز ایک مثل کے بعد ہی ادا ہوگی، اگر ایک مثل
کے بعد ظہر کا وقت باقی نہیں رہتا ہے تو پھر یہ نماز جو ایک مثل کے بعد ادا ہو رہی ہے اس کا شمار ادا میں ہوگا
یا قضا میں؟ حدیث شریف سے تو یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایک مثل کے بعد بھی ادا ہونے والی نماز کا شمار ادا
میں ہوگا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی رہتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔
Note 2
نماز ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ بخاری شریف کے ان مذکورہ الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ
التُّلُولَ“ سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں (1) ایک تو یہ چیز کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی
رہتا ہے اور یہ لفظ ”اَبْرِدْ“ (نماز ظہر کو) ٹھنڈی کر کے پڑھو سے حاصل ہوا کیوں کہ ٹھنڈک ایک مثل
کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اور حدیث کے باقی الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (یہاں
تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جائے) ان الفاظ سے (2) دوسری یہ چیز ثابت ہو رہی ہے کہ نماز ظہر کا
وقت سایہ ٹیلوں کے برابر ہونے تک باقی رہتا ہے اور یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب کہ سایہ دو مثل کو
پہنچ جائے تو اس سے ثابت ہوا کہ نماز ظہر کا وقت دو مثل پر ختم ہو جاتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔
ف: واضح ہو کہ مذکورہ فائدہ (1) میں نماز ظہر کے وقت کے بارے میں جو وضاحت کی گئی ہے
وہ از راہ تحقیق ہے اس لئے مناسب یہ ہے کہ شیخ الاسلام نے سراج میں جو لکھا ہے اسی پر عمل ہو اور وہ یہ
ہے کہ گو ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی رہتا ہے لیکن احتیاط اس میں ہے کہ نماز ظہر کو ایک مثل سے
پہلے ختم کر دیں اور نماز عصر اس وقت تک نہ پڑھی جائے جب تک کہ دو مثل نہ ہو جائیں اس سے دونوں
نمازیں بالاجماع اپنے اپنے وقت پر ادا ہوں گی یہ رد المحتار میں مذکور ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3459 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ہمارے علماء نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں
استدلال کیا ہے کہ نماز عصر کا ابتدائی وقت اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہر شئے کا سایہ (سایہ اصلی چھوڑ کر)
اس شئے کے دو مثل ہوجائے کیونکہ اگر عصر کا وقت ایک مثل پر قرار دیا جائے تو ایک مثل سے غروب
تک زیادہ مدت ہوتی ہے اور دوپہر سے ایک مثل تک تھوڑی مدت حالانکہ اس حدیث میں جو مثال دی
گئی ہے اس میں نصاریٰ کی مدت جو دوپہر سے عصر تک ہے اس کو زیادہ بتایا گیا ہے اور عصر سے مغرب
تک کی مدت کو جو اس امت کی مدت ہے کم بتایا گیا ہے اس طرح 7 اس سے ثابت ہوا کہ عصر کا وقت دو
مثل کے بعد شروع ہوتا ہے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 612b (unverified) 72% confidence · Validation similarity: 0.516
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
It was abrogated
(1) The statement "It was abrogated" in the author's original work reads: "Both were abrogated."
Note 2
(2) You might ask: What is the true nature of abrogation here? What you mention is a possibility, and does abrogation take place based on a possibility? I would respond that the true nature of abrogation here is that both prohibition and permission came together in this case. The prohibitive reports and narrations are widespread, while those regarding permission are not as widely reported. It is well known from the principle that when prohibition and permission coexist, the action must be according to the prohibition, and the permission is considered abrogated. This is because the abrogator is the later one, and there is no doubt that prohibition follows permission, as the default ruling for things is permissibility, and prohibition is an exception. The reverse would result in two abrogations, which is not possible. This was stated by al-‘Ayni. Understand this, for it is a delicate point that has become clear to me through divine illumination.
If you ask: The prohibition mentioned only applies to voluntary prayers, not to the making up of obligatory prayers. I would respond that the hadith of Imran bin Husayn—narrated by al-Bukhari, Muslim, and others—shows that a missed prayer falls under the prohibition of prayer at the time of sunrise and sunset. Imran said: "We traveled with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition—or, he said, in a campaign—and when it was the last part of the night, we stopped to rest. We did not wake up until the heat of the sun had awoken us." The narration shows that the Fajr prayer was delayed until after sunrise, and it was not prayed before the sun rose. This indicates that the prohibition is general and applies to both obligatory and voluntary prayers. The specific mention of voluntary prayers is an unwarranted preference. This is discussed in "Umdat al-Qari."
Note 1
ف: اس حدیث میں نماز عصر کے آخری وقت کے بارے میں مسلم کی ایک روایت جو عبداللہ
بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے یہ ہے: (وَقْتُ الْعَصْرِ مَالَمْ تَغْرُبِ الشَّمْسُ) نماز
عصر کا وقت غروب آفتاب تک رہتا ہے (اور غروب ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے) اور نماز فجر کی ابتداء اور
انتہا کے بارے میں امام احمد اور ترمذی کی یہ (2) حدیث مروی ہے:
”عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ“.
نماز فجر کا ابتدائی وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور نماز فجر کا آخری
وقت طلوع آفتاب سے ختم ہو جاتا ہے اور وہ اوقات جن میں نمازوں کا پڑھنا ممنوع ہے۔
اس بارے میں بخاری و مسلم کی متفقہ ایک حدیث یہ ہے:
(3) ”عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوةَ حَتَّى تَبْرُزَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ
الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوةَ حَتَّى تَغِيبَ ، وَلَا تَحَيَّنُوا لِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا
فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ“۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ جب آفتاب کا کنارہ ہونے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو
چھوڑ دو، یہاں تک کہ آفتاب خوب ظاہر ہو جائے (اس کا اندازہ فقہاء نے سورج کے ایک نیزہ برابر
طلوع ہونے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو چھوڑ دو یہاں تک کہ پورا
آفتاب ڈوب جائے اور آفتاب طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو کیوں کہ آفتاب
شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
ان تینوں حدیثوں نمبر (1,2,3) کو پیش نظر رکھ کر ذیل کی حدیث کا مطالعہ کیا جائے جس کو
بخاری اور مسلم نے بالاتفاق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:
”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ
أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ“۔
جو طلوع آفتاب سے پہلے نماز صبح کی ایک رکعت کو پائے تو وہ صبح کو پوری نماز پا لیا، اور جو غروب
آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت پا لیا تو وہ عصر کی پوری نماز پا لیا۔
اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ جو طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اسی طرح
غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لے اور اس نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کر لی تو
وہ فجر اور عصر کی پوری پوری نماز پا لیا۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی یہ حدیث
اور اسی مضمون کی جو دوسری حدیث مروی ہے ان دونوں حدیثوں کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں
حدیثیں مذکور الصدر تینوں حدیثوں سے تعارض کی بناء پر منسوخ ہیں کیوں کہ صدر کی تینوں حدیثیں متواتر
ہیں اور یہ دونوں متعارض حدیثیں اس درجہ کو نہیں پہنچتیں، اس لئے یہ دونوں متعارض حدیثیں صدر کی تینو
ں متواتر حدیثوں سے منسوخ ہیں، ان دونوں متعارض حدیثوں کے منسوخ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ
ان تینوں حدیثوں سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں۔
(1) ایک یہ کہ طلوع اور غروب کے وقت نماز ناجائز ہے اور (2) دوسرے یہ کہ فجر اور عصر کا
وقت طلوع اور غروب تک رہتا ہے اس کے برخلاف ان دونوں متعارض حدیثوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ
طلوع اور غروب کے وقت نماز جائز ہے اور دوسرے یہ کہ فجر اور عصر کا وقت طلوع اور غروب کے وقت
باقی رہتا ہے جو صریح تعارض ہے، اس کے علاوہ ان دونوں متعارض حدیثوں کا منسوخ ہونا مسلم کی ایک
اور حدیث ”صَلِّ الصَّلٰوةَ لِوَقْتِهَا“ (ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا کرو) سے بھی ثابت ہوتا ہے
کیوں کہ ان دونوں متعارض حدیثوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ نماز اپنے وقت سے متجاوز ہو کر ادا
ہو رہی ہے اور یہ مسلم کی اس روایت کے صریحاً خلاف ہے۔
علاوہ ازیں کتاب اللہ کی آیت ”إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا“
(یقیناً نماز مسلمانوں پر بقید وقت فرض ہے) (سورۃ نساء،پ:5،ع:15، آیت نمبر:103)
یہ آیت بھی ان دونوں متعارض حدیثوں کے منسوخ ہونے پر قوی حجت ہے کیونکہ ان دونوں
متعارض حدیثوں سے غیر وقت میں نماز ادا کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے اس کے برخلاف آیت مذکورہ
سے صرف یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر ہی ادا کیا جائے۔
واضح ہو کہ صدر کی تینوں حدیثیں جو عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابو ہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم
سے مروی ہیں ان تینوں حدیثوں سے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں متعارض ہو رہی
تھیں، اس تعارض کو علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس طرح دور فرمایا کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں
حدیثیں منسوخ ہیں، اس کی تفصیلی بحث ابھی سطور بالا میں آپ کی نظر سے گزر چکی ہے، اب ذیل میں
امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس تعارض کو کس طرح دور فرمایا ہے اس کو سنئے:۔
امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن لوگوں کے
بارے میں نہیں ہیں جنہوں نے فجر کی یا عصر کی نماز دیر کر کے ادا کی ہو یہاں تک کہ ایک رکعت کے ادا
کرنے کے بعد طلوع یا غروب ہو گیا اور انہوں نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کی ہو بلکہ یہ
دونوں حدیثیں واجب العمل ہیں اور منسوخ نہیں ہیں اور ان دونوں حدیثوں کا حکم اس قسم کے لوگوں
سے متعلق ہے جیسے نابالغ لڑکے جو آفتاب کے طلوع یا غروب سے پہلے ایسے وقت میں بالغ ہوں کہ ان
کو طلوع یا غروب سے پہلے صرف اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جا سکتی ہے تو ایسے وقت
میں بالغ ہونے والے لڑکے پر اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور اس نماز کی قضاء اس پر لازم
ہوگی، نماز کے واجب ہو جانے کا سبب نماز کے وقت کا مل جانا ہے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اور
یہاں بالغ ہونے والے لڑکے کو تھوڑا وقت مل گیا ہے اس لئے اس پر نماز واجب ہوگی ایسا ہی ”مَنْ
أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن حیض والی عورتوں کے بارے میں ہیں جو طلوع یا غروب سے
پہلے پاک ہو جائیں اور ان کو طلوع یا غروب سے پہلے اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جا سکتی
ہے تو ان پر بھی اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گی۔ اور بالکل اسی
طرح ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن نو مسلموں سے بھی متعلق ہیں جو طلوع یا غروب
سے پہلے اسلام قبول کر لیں اور طلوع یا غروب سے پہلے اسلام لانے کے بعد ان کو اتنا وقت مل گیا کہ اس میں
ایک رکعت ادا ہو سکتی ہے تو ان پر بھی اس وقت کی نماز فرض ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گے۔
اس پر دلیل یہ ہے کہ حدیث میں لفظ ”أَدْرَكَ“، مذکور ہے جس کے معنی پانے کے ہیں نہ کہ
نماز پڑھنے کے اگر طلوع یا غروب سے پہلے ایک رکعت نماز پڑھ لینے سے طلوع یا غروب کے بعد باقی
نماز کا پڑھنا جائز ہوتا اور یہ نماز ادا نماز میں محسوب ہوتی تو ”مَنْ أَدْرَكَ“ کی بجائے“ ”مَنْ
صَلّٰى“ جو نماز پڑھنا ارشاد ہوتا، یہاں بجائے ”مَنْ صَلّٰى“ کے ارشاد ہوا ہے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“،
(جس نے ایک رکعت پالی) یعنی جس نے ایک رکعت کا وقت پا لیا تو ایسا شخص جو ایسے وقت میں ایک
رکعت پا لیا ہو وہ پوری نماز کا پانے والا سمجھا جائے گا اور اس پر اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ
شخص اس نماز کی قضا کرے گا۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 612a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
When the horizon turns dark
(1) The statement: "When the horizon turns dark": In Al-Istikhara, it is said that "the twilight" refers to the whiteness of the sky, and this was the view of Abu Bakr, Mu'adh ibn Jabal, and Aisha. I said: [Narrated by Abdul Razzaq from Abu Huraira and Umar ibn Abd al-Aziz, and al-Bayhaqi only narrated the red twilight from Ibn Umar, and the full narration is in his work. When the narrations and reports contradict each other, the time for Maghrib should not be determined by doubt, as mentioned in Al-Hidaya and others.
The scholar Qasim stated that the opinion of the Imam is the most correct, and it is followed in Al-Bahr. However, the general practice of people today in many areas is based on the opinion of the two (other scholars), which has been supported in Al-Nahr following Al-Naqaya, Al-Waqaya, Al-Durr, Al-Islah, Durar al-Bihar, Al-Imdad, Al-Mawahi, Sharh al-Burhan, and others who have explicitly stated that this is the view upon which fatwas are given. In Al-Siraj, it is mentioned that the opinion of these two is broader, while the opinion of the Imam is more cautious, as noted in Radd al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: حين يسود الأفق: قال في الاختيار»: «الشفق»: البياض، وهو مذهب الصديق ومعاذ بن جبل وعائشة قلت: ورواه عبد الرزاق عن أبي هريرة وعن عمر بن عبد العزيز، ولم يرو البيهقي الشفق الأحمر إلا عن ابن عمر، وتمامه فيه. وإذا تعارضت الأخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك، كما في الهداية» وغيرها. قال العلامة قاسم فثبت أن قول الإمام هو الأصح، ومشي عليه في البحر». ولكن تعامل الناس اليوم في عامة البلاد على قولهما، وقد أيده في النهر» تبعا لـ «النقاية» و«الوقاية» و«الدر» و «الإصلاح» و درر البحار» و«الإمداد» و«المواهب» وشرحه البرهان» وغيرهم مصرحين بأن عليه الفتوى. وفي «السراج»: قولهما أوسع، وقوله أحوط. كذا في رد المحتار».
Note 1
ف: ”كِتَابُ الاِخْتِيَار“ میں لکھا ہے کہ شفق سے مراد سفید شفق ہے اس سے معلوم ہوا کہ
سفیدی ختم ہونے تک مغرب کا وقت رہتا ہے اور سفیدی ختم ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوجاتا
ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق، معاذ بن جبل اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے اور
صاحب درالمختار کہتے ہیں کہ اس کی روایت عبدالرزاق نے ابوہریرہ اور عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہما
سے بھی کی ہے۔ اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے شفق سے سفید شفق مراد لی ہے۔ البتہ شفق سے
سرخ شفق مراد ہونے کی روایت بیہقی نے صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کی ہے اور اس حدیث کی پوری
روایت بیہقی میں موجود ہے اور اس لئے صاحبین نے شفق سے سرخ شفق مراد لیا ہے۔
”ہدایہ“ وغیرہ میں مذکور ہے کہ جب احادیث و آثار میں تعارض پیدا ہوگیا کہ شفق سے کیا
مراد لیں؟ شفق کے بارے میں کسی حدیث سے سفیدی اور کسی حدیث سے سرخی معلوم ہوتی ہے تو شک
پیدا ہوگیا اس لئے اس شک کی وجہ سے سرخ شفق کے غائب ہونے سے مغرب کا وقت ختم نہیں ہوگا۔
علامہ قاسم نے فرمایا ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول صحیح ترین قول ہے اور ”بحرالرائق“ نے
اسی کو اختیار کیا ہے، لیکن اس زمانہ میں اکثر ممالک میں لوگوں کا تعامل صاحبین کے قول پر ہوچلا ہے۔
نہر نے نقایہ، وقایہ، درہ، الاصلاح، دررالبحار، الامداد، المواہب اور اس کی شرح البرہان نے
بھی ان ساری کتابوں کے حوالے سے صاحبین کے قول کی تائید کی ہے اور ان سب نے صراحت کی ہے
کہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہی ہے اور سراج میں مذکور ہے کہ صاحبین کے قول پر عمل کرنے میں سہولت
ہے اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے قول پر عمل کرنے میں احتیاط ہے یہ پورا مضمون ردالمحتار سے ماخوذ
ہے۔ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ اس اختلاف کی وجہ سے اولیٰ یہ ہے کہ نماز مغرب سرخ شفق تک ادا کر لی
جائے اور نماز عشاء سفید شفق کے ختم ہونے کے بعد شروع کی جائے تاکہ ہر دو نمازیں مغرب اور عشاء
بالاتفاق اپنے اپنے وقت پر ادا ہو جائیں۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 638 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
most of the night,
(1) Regarding the phrase "most of the night," At-Tahawi, in his explanation of the Athar, made a good point. His summary is as follows: From the collection of narrations, it appears that the last time for Isha is when Fajr (dawn) begins. This is because Ibn Abbas, Abu Musa al-Ash'ari, and Abu Sa'id al-Khudri narrated that the Prophet ﷺ delayed it until a third of the night. Abu Huraira and Anas also narrated that he delayed it until midnight, while Ibn Umar narrated that it was delayed until two-thirds of the night had passed. Aisha narrated that he delayed it until most of the night had passed. All these narrations are found in the Sahih collections. Therefore, it is established that the entire night is a valid time for the Isha prayer, as stated by the scholar Al-Aini in his explanation of "Al-Hidayah."
Note 1
(۱) وقوله: عامة الليل وتكلم الطحاوي في شرح الآثار ههنا كلامًا حَسَنًا، ملخصه: أنه قال: يظهر من مجموع الأحاديث أن آخر وقت العشاء حين يطلع الفجر، وذلك أن ابن عباس وأبا موسى الأشعري وأبا سعيد الخدري رووا: «أن النبي ﷺ أخرها إلى ثلث الليل»، وروى أبو هريرة وأنس لهما : أنه أخرها حين انتصف الليل»، وروى ابن عمر الله أنه أخرها حين ذهب ثلثا الليل». وروت عائشة : أنه أعتم بها حتى ذهب عامة الليل»، وكل هذه الروايات في الصحيح، قال: فثبت بذلك أن الليل كله وقت له، قاله العلامة العيني في شرح الهداية».
Note 1
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الآثار میں اس مقام پر ایک بڑی اچھی بات لکھی ہے جس
کا خلاصہ یہ ہے کہ ان جملہ احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز عشاء کا آخری وقت صبح صادق
کے طلوع ہونے تک رہتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ ابن عباسؓ، ابو موسیٰ اشعریؓ، ابو سعید خدری رضی اللہ
عنہم نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کی ادائی میں ایک تہائی شب تک تاخیر فرمائی
ہے اور ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں نصف
نصف شب تک تاخیر فرمائی ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
نماز عشاء میں اس وقت تک تاخیر فرمائی کہ رات کا دو تہائی حصہ گزر چکا تھا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ
عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر فرمائی، یہاں تک کہ رات ختم ہونے
کے قریب تھی۔ یہ تمام روایتیں صحیح میں مذکور ہیں۔ اس بناء پر امام طحاوی نے وضاحت کی ہے کہ ان
احادیث کی روشنی میں یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ پوری رات نماز عشاء کا وقت ہے۔ اس کو علامہ عینی رحمۃ
اللہ علیہ نے ہدایہ کی شرح میں ذکر کیا ہے۔
Commentary and footnotes (4)
Unnumbered commentary
The statement "Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height" is explained in "Al-Siraj" by Shaykh al-Islam, where the preferred approach is to not delay Dhuhr until the shadow is equal to the height. It is also advised not to pray Asr until the shadow reaches twice the height. This way, one ensures that both prayers are performed within their respective times according to consensus (Ijma'), as mentioned in "Radd al-Muhtar."
Note 1
(۱) قوله: صل الظهر إذا كان ظلك مثلك والأحسن ما في «السراج» عن شيخ الإسلام: أن الاحتياط أن لا يُؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلى العصر حتى يبلغ المثلين؛ ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، كذا في «رد المحتار».
Note 1
ف: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے الفاظ ”صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ“ نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مثل ہوجائے۔ حدیث کے ان الفاظ سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ نماز ظہر کا شروع کرنا اس وقت بھی جائز ہے جب کسی چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کو چھوڑ کر اس چیز کے ایک مثل کو پہنچ جائے اور یہ ایک واضح بات ہے کہ جب نماز ایک مثل پر شروع کی جائے گی تو باقی نماز ایک مثل کے بعد ہی ادا ہوگی، اگر ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی نہیں رہتا ہے تو پھر یہ نماز جو ایک مثل کے بعد ادا ہو رہی ہے اس کا شمار ادا میں ہوگا یا قضا میں؟ حدیث شریف سے تو یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایک مثل کے بعد بھی ادا ہونے والی نماز کا شمار ادا میں ہوگا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی رہتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔
Note 2
نماز ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ بخاری شریف کے ان مذکورہ الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں (1) ایک تو یہ چیز کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی رہتا ہے اور یہ لفظ ”اَبْرِدْ“ (نماز ظہر کو) ٹھنڈی کر کے پڑھو سے حاصل ہوا کیوں کہ ٹھنڈک ایک مثل کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اور حدیث کے باقی الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جائے) ان الفاظ سے (2) دوسری یہ چیز ثابت ہو رہی ہے کہ نماز ظہر کا وقت سایہ ٹیلوں کے برابر ہونے تک باقی رہتا ہے اور یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب کہ سایہ دو مثل کو پہنچ جائے تو اس سے ثابت ہوا کہ نماز ظہر کا وقت دو مثل پر ختم ہو جاتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔ ف: واضح ہو کہ مذکورہ فائدہ (1) میں نماز ظہر کے وقت کے بارے میں جو وضاحت کی گئی ہے وہ از راہ تحقیق ہے اس لئے مناسب یہ ہے کہ شیخ الاسلام نے سراج میں جو لکھا ہے اسی پر عمل ہو اور وہ یہ ہے کہ گو ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی رہتا ہے لیکن احتیاط اس میں ہے کہ نماز ظہر کو ایک مثل سے پہلے ختم کر دیں اور نماز عصر اس وقت تک نہ پڑھی جائے جب تک کہ دو مثل نہ ہو جائیں اس سے دونوں نمازیں بالاجماع اپنے اپنے وقت پر ادا ہوں گی یہ رد المحتار میں مذکور ہے۔