Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 763

بَابُ الْمَوَاقِيْتِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْمَوَاقِيْتِ

Zujajat al-Masabih 763Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٣ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعَمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِبْرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلْتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيْرَاطٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيْرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلْتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيْرَاطٍ قِيْرَاطٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُوْنَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ. أَلَا لَكُمُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ. فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً؟ قَالَ اللهُ تَعَالَى: فَهَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقَّكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ اللهُ تَعَالَى: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُعْطِيْهِ مَنْ شِئْتُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَاسْتَدَلَّ بِهِ عُلَمَاؤُنَا تَقْوِيَةٌ لِقَوْلِ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ : إِنَّ أَوَّلَ الْعَصْرِ بِصَيْرُوْرَةِ ظِلَّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، إِذْ لَا يُتَصَّوَرُ أَنْ يَكُوْنَ النَّصَارَى أَكْثَرَ عَمَلًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا بِاعْتِبَارِ هَذِهِ الْمُدَّةِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3459 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ہمارے علماء نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں استدلال کیا ہے کہ نماز عصر کا ابتدائی وقت اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہر شئے کا سایہ (سایہ اصلی چھوڑ کر) اس شئے کے دو مثل ہوجائے کیونکہ اگر عصر کا وقت ایک مثل پر قرار دیا جائے تو ایک مثل سے غروب تک زیادہ مدت ہوتی ہے اور دوپہر سے ایک مثل تک تھوڑی مدت حالانکہ اس حدیث میں جو مثال دی گئی ہے اس میں نصاریٰ کی مدت جو دوپہر سے عصر تک ہے اس کو زیادہ بتایا گیا ہے اور عصر سے مغرب تک کی مدت کو جو اس امت کی مدت ہے کم بتایا گیا ہے اس طرح 7 اس سے ثابت ہوا کہ عصر کا وقت دو مثل کے بعد شروع ہوتا ہے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12