Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 2

Chapter on Prayer Times

23 narrations · In source reading order

Hadith 758

Volume 1

English

Hammam narrated: I heard Ata' bin Abi Rabah say: "A man came to the Prophet ﷺ and asked him about the times of prayer. He instructed him to witness the prayer with him. He prayed Fajr and hurried, then he prayed Dhuhr and hurried, then he prayed Asr and hurried, then he prayed Maghrib and hurried, then he prayed Isha and hurried. The next day he prayed all the prayers and delayed them. Then the Prophet ﷺ said to the man: 'The time between my two prayers in these two times is the full time for each prayer.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٥٨ - عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيْتِ الصَّلَاةِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْهَدَ الصَّلَاةَ مَعَهُ، فَصَلَّى الصُّبْحَ فَعَجَلَ ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ فَعَجَلَ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ فَعَجَلَ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَعَجَلَ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ فَعَجَّلَ ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا مِنَ الْغَدِ فَأَخَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: «مَا بَيْنَ صَلَاتِي فِي هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتُ كُلُّهُ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 853
ہمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ان کو صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق سوال کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ آپ کے ساتھ نمازوں میں شریک رہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز صبح ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی پھر نماز ظہر ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی! پھر نماز عصر ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی پھر نماز مغرب ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی پھر نماز عشاء ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی پھر دوسرے دن پانچوں نمازیں ادا فرمائیں اور ہر نماز کو اس کے آخر وقت ادا فرمائی۔ بعد ازاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں دنوں کی میری نمازوں کو تم نے دیکھا ہے (اور تم کو ان دونوں دنوں کی ہر نماز کا اول وقت اور آخر وقت معلوم ہو گیا) تو ان دونوں دنوں کی ہر نماز کے اول وقت اور آخر وقت کے درمیان کا پورا وقت ہر نماز کا وقت ہے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah the Almighty: "Indeed, prayer has been decreed upon the believers a decree of specified times." (An-Nisa: 103) and His words: "And establish the prayer at the two ends of the day and at the approaches of the night." (Hud: 114) and His words: "Establish the prayer at the decline of the sun until the darkness of the night and the Qur'an at dawn. Indeed, the Qur'an at dawn is ever witnessed." (Al-Isra: 78) and His words: "And glorify the praises of your Lord before the rising of the sun and before its setting, and during the night and at the ends of the day, that you may be pleased." (Ta-Ha: 130) and His words: "So glorify Allah when you enter the evening and when you enter the morning, and to Him be praise in the heavens and the earth, and in the afternoon and when you are at noon." (Ar-Rum: 17)

Hadith 759

Volume 1

English

Abu Jurayj narrated from Sulayman bin Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: "The time for Dhuhr prayer is when the sun has passed its zenith."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٥٩ - وَعَنْ أَبِي جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «صَلَاةُ الظَّهْرِ حِيْنَ تَمِيلُ الشَّمْسُ». رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُرْسَلًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 854
ابن جریج رضی اللہ عنہ، سلیمان بن موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز ظہر کا وقت آفتاب کے ڈھلنے سے شروع ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے مرسلاً کی ہے۔)

Hadith 760

Volume 1

English

Abu Huraira narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Indeed, prayer has an early and a late time. The earliest time for Dhuhr prayer is when the sun has passed its zenith, and the latest time for it is when the time for Asr has entered."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٠ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِيْنَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَآخِرُ وَقْتِهَا حِيْنَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 855
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نماز کے لئے ایک اول وقت ہے اور ایک آخر وقت اور نماز ظہر کا ابتدائی وقت یہ ہے کہ جب آفتاب ڈھل جائے اور نماز ظہر کا آخری وقت وہ ہے کہ جب وقت عصر آجائے۔ (اس کی روایت ترمذی اور امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 151 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 761

Volume 1

English

Abdullah bin Rafi, the freed slave of Umm Salama (the wife of the Prophet ﷺ), narrated from Abu Huraira that when he was asked about the time of prayer, Abu Huraira said: "I will inform you. Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height, and pray Asr when your shadow is twice your height." [Narrated by Malik with a Sahih chain of narration] Abdul-Razzaq narrated something similar in a mursal form, and he also narrated it as a marfu' (elevated) hadith in "Al-Tamhid". Based on the apparent meaning of this hadith, it is confirmed that the time for performing Dhuhr prayer begins when the shadow becomes equal to the length of the object, and the time remains valid even after the shadow reaches twice the length. In another narration from Bukhari, marfu' (elevated) narration: "He said to him: 'Delay the prayer until the shadow is equal to the length of the object.'" Abu Hanifah relied on this hadith for delaying Dhuhr prayer until the shadow reaches the height of the object.

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦١ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ - مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا أُخْبِرُكَ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ1، وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَيْكَ. رَوَاهُ مَالِكُ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ. وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ نَحْوَهُ مَوْقُوْفًا، وَرَوَى عَنْهُ مَرْفُوْعًا فِي التَّمْهِيْدِ»، فَثَبَتَ بِظَاهِرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ أَدَاءَ الظُّهْرِ حِيْنَ صَارَ الظُّلُّ مِثْلًا يَجُوْزُ، وَيَبَقَى وَقْتُ الظُّهْرِ بَعْدَ الْمِثْلِ أَيْضًا. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ مَرْفُوْعًا : فَقَالَ لَهُ: «أَبْرِدْ حَتَّى سَاوَى الظُّلُّ الثَّلُوْلَ، احْتَجُوْا لِأَبِي حَنِيفَةَ بِهَذَا الْحَدِيْثِ، أَمَرَ فِيْهِ بِإِبْرَادِ الظُّهْرِ حَتَّى سَاوَى الظُّلُّ التَّلُوْلَ، وَلَا يَحْصُلُ ذَلِكَ الْإِبْرَادُ إِلَّا إِذَا بَلَغَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 856Noor 857
عبداللہ بن رافع رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وقت نماز کے متعلق دریافت کیا تھا تو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تم کو ظہر اور عصر کے نمازوں کا وقت بتلاتا ہوں، نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مثل ہوجائے اور نماز عصر اس وقت ادا کرو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے دو مثل ہوجائے۔ (اس کی روایت امام مالک نے اسناد صحیح کے ساتھ کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اسی طرح مرفوعاً کی ہے اور تمہید میں بھی عبداللہ بن رافع سے ہی مرفوعاً اسی طرح مروی ہے۔) بخاری شریف کی ایک روایت میں مرفوعاً مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے فرمایا ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (نماز ظہر کو) ٹھنڈی کر کے پڑھو یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جائے (اور جب سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جاتا ہے تو دو مثل ہو جاتا ہے اور
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 6 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Unnumbered commentary

Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height

The statement "Pray Dhuhr when your shadow is equal to your height" is explained in "Al-Siraj" by Shaykh al-Islam, where the preferred approach is to not delay Dhuhr until the shadow is equal to the height. It is also advised not to pray Asr until the shadow reaches twice the height. This way, one ensures that both prayers are performed within their respective times according to consensus (Ijma'), as mentioned in "Radd al-Muhtar."

Note 1

قوله

(۱) قوله: صل الظهر إذا كان ظلك مثلك والأحسن ما في «السراج» عن شيخ الإسلام: أن الاحتياط أن لا يُؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلى العصر حتى يبلغ المثلين؛ ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، كذا في «رد المحتار».

Note 1

ف: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے الفاظ ”صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ“ نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مثل ہوجائے۔ حدیث کے ان الفاظ سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ نماز ظہر کا شروع کرنا اس وقت بھی جائز ہے جب کسی چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کو چھوڑ کر اس چیز کے ایک مثل کو پہنچ جائے اور یہ ایک واضح بات ہے کہ جب نماز ایک مثل پر شروع کی جائے گی تو باقی نماز ایک مثل کے بعد ہی ادا ہوگی، اگر ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی نہیں رہتا ہے تو پھر یہ نماز جو ایک مثل کے بعد ادا ہو رہی ہے اس کا شمار ادا میں ہوگا یا قضا میں؟ حدیث شریف سے تو یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایک مثل کے بعد بھی ادا ہونے والی نماز کا شمار ادا میں ہوگا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی رہتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔

Note 2

نماز ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ بخاری شریف کے ان مذکورہ الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں (1) ایک تو یہ چیز کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی رہتا ہے اور یہ لفظ ”اَبْرِدْ“ (نماز ظہر کو) ٹھنڈی کر کے پڑھو سے حاصل ہوا کیوں کہ ٹھنڈک ایک مثل کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اور حدیث کے باقی الفاظ ”اَبْرِدْ حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جائے) ان الفاظ سے (2) دوسری یہ چیز ثابت ہو رہی ہے کہ نماز ظہر کا وقت سایہ ٹیلوں کے برابر ہونے تک باقی رہتا ہے اور یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب کہ سایہ دو مثل کو پہنچ جائے تو اس سے ثابت ہوا کہ نماز ظہر کا وقت دو مثل پر ختم ہو جاتا ہے اور یہی حنفی مذہب ہے۔ ف: واضح ہو کہ مذکورہ فائدہ (1) میں نماز ظہر کے وقت کے بارے میں جو وضاحت کی گئی ہے وہ از راہ تحقیق ہے اس لئے مناسب یہ ہے کہ شیخ الاسلام نے سراج میں جو لکھا ہے اسی پر عمل ہو اور وہ یہ ہے کہ گو ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی باقی رہتا ہے لیکن احتیاط اس میں ہے کہ نماز ظہر کو ایک مثل سے پہلے ختم کر دیں اور نماز عصر اس وقت تک نہ پڑھی جائے جب تک کہ دو مثل نہ ہو جائیں اس سے دونوں نمازیں بالاجماع اپنے اپنے وقت پر ادا ہوں گی یہ رد المحتار میں مذکور ہے۔

Hadith 762

Volume 1

English

Narrated by Jabir bin Abdullah (may Allah be pleased with him), he said: "The Prophet (peace be upon him) prayed 'Asr when the shadow of everything was equal to its size."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٢ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ [الْعَصْرَ] حِيْنَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِسَنَدٍ لَا بَأْسَ بِهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 858
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ (سایہ اصلی کو چھوڑ کر) دو مثل کو پہنچ گیا تھا۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے ایسی سند کے ساتھ کی ہے جو قابل قبول ہے۔)

Hadith 763

Volume 1

English

Narrated by Ibn Umar (may Allah be pleased with him), he reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Your lifespan is similar to the lifespans of those who came before you, from the time of the 'Asr prayer until sunset. Your situation is like that of the Jews and Christians. It is like a man who employed workers and said: 'Who will work for me until midday for one qirat?' The Jews worked until midday for one qirat. Then he said: 'Who will work for me from midday until the 'Asr prayer for one qirat?' The Christians worked from midday until the 'Asr prayer for one qirat. Then he said: 'Who will work for me from the 'Asr prayer until sunset for two qirats?' You are those who work from the 'Asr prayer until sunset for two qirats, two qirats. You will have double the reward.' The Jews and Christians became angry and said: 'We worked more, but we received less.' Allah, the Exalted, said: 'Did I wrong you in any way?' They said: 'No.' Allah, the Exalted, said: 'This is My grace. I give it to whom I will.'" [Narrated by al-Bukhari] This hadith supports the view of our scholar Imam Abu Hanifah: "The beginning of 'Asr is when the shadow of everything becomes equal to its size," as it is inconceivable that the Christians worked more than this Ummah except by considering this time period.

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٣ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعَمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِبْرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلْتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيْرَاطٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيْرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلْتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيْرَاطٍ قِيْرَاطٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُوْنَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ. أَلَا لَكُمُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ. فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً؟ قَالَ اللهُ تَعَالَى: فَهَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقَّكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ اللهُ تَعَالَى: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُعْطِيْهِ مَنْ شِئْتُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَاسْتَدَلَّ بِهِ عُلَمَاؤُنَا تَقْوِيَةٌ لِقَوْلِ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ : إِنَّ أَوَّلَ الْعَصْرِ بِصَيْرُوْرَةِ ظِلَّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، إِذْ لَا يُتَصَّوَرُ أَنْ يَكُوْنَ النَّصَارَى أَكْثَرَ عَمَلًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا بِاعْتِبَارِ هَذِهِ الْمُدَّةِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 859
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری چھوٹی عمریں تم سے پیشتر کے امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہیں جتنا وقت عصر سے لے کر غروب آفتاب تک ہوا کرتا ہے اور تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال (اللہ تعالیٰ کے ساتھ) ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند کام کرنے والوں کو کام میں اُجرت پر لگایا اور یہ کہا کہ کون میرا کام صبح سے دوپہر تک ایک ایک قیراط اُجرت پر کرے گا؟ تو یہود صبح سے دوپہر تک ایک ایک قیراط اُجرت پر کام انجام دیتے رہے، پھر اس شخص نے کہا دوپہر سے لے کر نماز عصر تک ایک ایک قیراط اُجرت پر کون میرا کام کرے گا؟ تو نصاریٰ دوپہر سے لے کر نماز عصر تک ایک ایک قیراط کی اُجرت پر کام کرتے رہے، پھر اس شخص نے کہا کہ کون میرا کام نماز عصر سے لے کر آفتاب کے ڈوبنے تک دو دو قیراط کی اُجرت پر انجام دے گا؟ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) خوب سن لو کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک عمل کرتے ہیں، پھر سن لو کہ تم ہی دوہرے اجر کے مستحق ہو، یہود و نصاریٰ اس پر ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم تو زیادہ عمل کریں اور اُجرت کم پائیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے حق کے ادا کرنے میں تم پر کچھ ظلم کیا ہے؟ یہود و نصاریٰ نے جواب دیا کہ نہیں! بس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دوگنا اجر دینا میرا فضل ہے جس کو چاہوں دیدوں۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3459 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ہمارے علماء نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں استدلال کیا ہے کہ نماز عصر کا ابتدائی وقت اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہر شئے کا سایہ (سایہ اصلی چھوڑ کر) اس شئے کے دو مثل ہوجائے کیونکہ اگر عصر کا وقت ایک مثل پر قرار دیا جائے تو ایک مثل سے غروب تک زیادہ مدت ہوتی ہے اور دوپہر سے ایک مثل تک تھوڑی مدت حالانکہ اس حدیث میں جو مثال دی گئی ہے اس میں نصاریٰ کی مدت جو دوپہر سے عصر تک ہے اس کو زیادہ بتایا گیا ہے اور عصر سے مغرب تک کی مدت کو جو اس امت کی مدت ہے کم بتایا گیا ہے اس طرح 7 اس سے ثابت ہوا کہ عصر کا وقت دو مثل کے بعد شروع ہوتا ہے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12

Hadith 764

Volume 1

English

Narrated by Abdullah bin Amr bin al-As (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The time for the 'Asr prayer is until the sun turns yellow and its first horn sets." [Narrated by Muslim] In another narration: "The time for the 'Asr prayer is until the sun sets." Al-‘Ayni, in his commentary on the hadith of "Whoever catches a rak'ah..." said: "It has been widely reported from the Prophet (peace be upon him) that it is prohibited to pray at the time of sunrise and sunset unless it has been widely reported that prayer is permitted at that time. This indicates that the permission for prayer at those times has been abrogated by the widely reported prohibitions." This is further supported by what is found in Muslim's narration: "Pray the prayer at its appointed time," and this was chosen by the author of "Radd al-Muhtar." Imam al-Tahawi, in his explanation of the hadith "Whoever catches a rak'ah..." said: "It is possible that the meaning of 'catching' refers to children who reach maturity before sunrise, menstruating women who become pure, and Christians who embrace Islam. This is because when 'catching' is mentioned in this narration without reference to the prayer, it refers to those we have mentioned, and those similar to them, as being those who catch this prayer. Therefore, it is obligatory for them to make up the prayer, even if the remaining time of the prayer is less than the time in which they would normally perform it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «وَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصَفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُط قَرْنُهَا الْأَوَّلُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: «وَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَغْرُبِ الشَّمْسُ». وَقَالَ الْعَلَامَةُ الْعَيْنِيُّ فِي حَدِيْثِ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً إِلخ»: إِنَّهُ قَدْ تَوَاتَرَتِ الْآثَارُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِالنَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَغُرُوْبِهَا مَا لَمْ تَتَوَاتَرْ بِإِبَاحَةِ الصَّلَاةِ عِنْدَ ذَلِكَ. فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ مَا كَانَ فِيْهِ الْإِبَاحَةُ كَانَ مَنْسُوْخًا (١،٢) بِمَا كَانَ فِيهِ التَّوَاتُرُ بِالنَّهْيِ. وَيُؤَيِّدُهُ مَا وَقَعَ فِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاخْتَارَهُ صَاحِبُ رَدَّ الْمُحْتَارِ». وَقَالَ الْإِمَامُ الحَافِظ الطَّحَاوِيُّ فِي تَأْوِيلِ حَدِيْثِ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً إِلخ: إِنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُوْنَ مَعْنَى الْإِدْرَاكِ فِي الصَّبْيَانِ الَّذِينَ يُدْرِكُوْنَ - يَعْنِي يَبْلُغُوْنَ - قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَالْحَيَّضِ اللَّاتِي يَطْهُرْنَ، وَالنَّصَارَى الَّذِينَ يُسْلِمُوْنَ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ فِي هَذَا الْأَثَرِ الْإِدْرَاكَ وَلَمْ يَذْكُرِ الصَّلَاةَ فَيَكُوْنُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ وَمَنْ أَشْبَهُهُمْ مُدْرِكِينَ لِهَذِهِ الصَّلَاةِ، فَيَجِبُ عَلَيْهِمْ قَضَاؤُهَا، وَإِنْ كَانَ الَّذِي بَقِيَ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْتِهَا أَقَلَّ مِنَ الْمِقْدَارِ الَّذِي يُصَلُّوْنَهَا فِيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 860Noor 861
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز عصر کا وقت اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک کہ آفتاب کا رنگ زرد نہ پڑ جائے اور آفتاب کا پہلا کنارہ ڈوب نہ جائے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور مسلم کی دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ نماز عصر کا وقت اُس وقت تک رہتا ہے جب تک کہ آفتاب ڈوب نہ جائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 612b (unverified) 72% confidence · Validation similarity: 0.516

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

It was abrogated

(1) The statement "It was abrogated" in the author's original work reads: "Both were abrogated."

Note 2

(2) You might ask: What is the true nature of abrogation here? What you mention is a possibility, and does abrogation take place based on a possibility? I would respond that the true nature of abrogation here is that both prohibition and permission came together in this case. The prohibitive reports and narrations are widespread, while those regarding permission are not as widely reported. It is well known from the principle that when prohibition and permission coexist, the action must be according to the prohibition, and the permission is considered abrogated. This is because the abrogator is the later one, and there is no doubt that prohibition follows permission, as the default ruling for things is permissibility, and prohibition is an exception. The reverse would result in two abrogations, which is not possible. This was stated by al-‘Ayni. Understand this, for it is a delicate point that has become clear to me through divine illumination. If you ask: The prohibition mentioned only applies to voluntary prayers, not to the making up of obligatory prayers. I would respond that the hadith of Imran bin Husayn—narrated by al-Bukhari, Muslim, and others—shows that a missed prayer falls under the prohibition of prayer at the time of sunrise and sunset. Imran said: "We traveled with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition—or, he said, in a campaign—and when it was the last part of the night, we stopped to rest. We did not wake up until the heat of the sun had awoken us." The narration shows that the Fajr prayer was delayed until after sunrise, and it was not prayed before the sun rose. This indicates that the prohibition is general and applies to both obligatory and voluntary prayers. The specific mention of voluntary prayers is an unwarranted preference. This is discussed in "Umdat al-Qari."

Note 1

ف: اس حدیث میں نماز عصر کے آخری وقت کے بارے میں مسلم کی ایک روایت جو عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے یہ ہے: (وَقْتُ الْعَصْرِ مَالَمْ تَغْرُبِ الشَّمْسُ) نماز عصر کا وقت غروب آفتاب تک رہتا ہے (اور غروب ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے) اور نماز فجر کی ابتداء اور انتہا کے بارے میں امام احمد اور ترمذی کی یہ (2) حدیث مروی ہے: ”عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ“. نماز فجر کا ابتدائی وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور نماز فجر کا آخری وقت طلوع آفتاب سے ختم ہو جاتا ہے اور وہ اوقات جن میں نمازوں کا پڑھنا ممنوع ہے۔ اس بارے میں بخاری و مسلم کی متفقہ ایک حدیث یہ ہے: (3) ”عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوةَ حَتَّى تَبْرُزَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوةَ حَتَّى تَغِيبَ ، وَلَا تَحَيَّنُوا لِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آفتاب کا کنارہ ہونے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو چھوڑ دو، یہاں تک کہ آفتاب خوب ظاہر ہو جائے (اس کا اندازہ فقہاء نے سورج کے ایک نیزہ برابر طلوع ہونے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو چھوڑ دو یہاں تک کہ پورا آفتاب ڈوب جائے اور آفتاب طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو کیوں کہ آفتاب شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ ان تینوں حدیثوں نمبر (1,2,3) کو پیش نظر رکھ کر ذیل کی حدیث کا مطالعہ کیا جائے جس کو بخاری اور مسلم نے بالاتفاق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ“۔ جو طلوع آفتاب سے پہلے نماز صبح کی ایک رکعت کو پائے تو وہ صبح کو پوری نماز پا لیا، اور جو غروب آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت پا لیا تو وہ عصر کی پوری نماز پا لیا۔ اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ جو طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اسی طرح غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لے اور اس نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کر لی تو وہ فجر اور عصر کی پوری پوری نماز پا لیا۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی یہ حدیث اور اسی مضمون کی جو دوسری حدیث مروی ہے ان دونوں حدیثوں کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں حدیثیں مذکور الصدر تینوں حدیثوں سے تعارض کی بناء پر منسوخ ہیں کیوں کہ صدر کی تینوں حدیثیں متواتر ہیں اور یہ دونوں متعارض حدیثیں اس درجہ کو نہیں پہنچتیں، اس لئے یہ دونوں متعارض حدیثیں صدر کی تینو ں متواتر حدیثوں سے منسوخ ہیں، ان دونوں متعارض حدیثوں کے منسوخ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان تینوں حدیثوں سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں۔ (1) ایک یہ کہ طلوع اور غروب کے وقت نماز ناجائز ہے اور (2) دوسرے یہ کہ فجر اور عصر کا وقت طلوع اور غروب تک رہتا ہے اس کے برخلاف ان دونوں متعارض حدیثوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ طلوع اور غروب کے وقت نماز جائز ہے اور دوسرے یہ کہ فجر اور عصر کا وقت طلوع اور غروب کے وقت باقی رہتا ہے جو صریح تعارض ہے، اس کے علاوہ ان دونوں متعارض حدیثوں کا منسوخ ہونا مسلم کی ایک اور حدیث ”صَلِّ الصَّلٰوةَ لِوَقْتِهَا“ (ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا کرو) سے بھی ثابت ہوتا ہے کیوں کہ ان دونوں متعارض حدیثوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ نماز اپنے وقت سے متجاوز ہو کر ادا ہو رہی ہے اور یہ مسلم کی اس روایت کے صریحاً خلاف ہے۔ علاوہ ازیں کتاب اللہ کی آیت ”إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا“ (یقیناً نماز مسلمانوں پر بقید وقت فرض ہے) (سورۃ نساء،پ:5،ع:15، آیت نمبر:103) یہ آیت بھی ان دونوں متعارض حدیثوں کے منسوخ ہونے پر قوی حجت ہے کیونکہ ان دونوں متعارض حدیثوں سے غیر وقت میں نماز ادا کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے اس کے برخلاف آیت مذکورہ سے صرف یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر ہی ادا کیا جائے۔ واضح ہو کہ صدر کی تینوں حدیثیں جو عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابو ہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں ان تینوں حدیثوں سے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں متعارض ہو رہی تھیں، اس تعارض کو علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس طرح دور فرمایا کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں منسوخ ہیں، اس کی تفصیلی بحث ابھی سطور بالا میں آپ کی نظر سے گزر چکی ہے، اب ذیل میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس تعارض کو کس طرح دور فرمایا ہے اس کو سنئے:۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن لوگوں کے بارے میں نہیں ہیں جنہوں نے فجر کی یا عصر کی نماز دیر کر کے ادا کی ہو یہاں تک کہ ایک رکعت کے ادا کرنے کے بعد طلوع یا غروب ہو گیا اور انہوں نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کی ہو بلکہ یہ دونوں حدیثیں واجب العمل ہیں اور منسوخ نہیں ہیں اور ان دونوں حدیثوں کا حکم اس قسم کے لوگوں سے متعلق ہے جیسے نابالغ لڑکے جو آفتاب کے طلوع یا غروب سے پہلے ایسے وقت میں بالغ ہوں کہ ان کو طلوع یا غروب سے پہلے صرف اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جا سکتی ہے تو ایسے وقت میں بالغ ہونے والے لڑکے پر اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور اس نماز کی قضاء اس پر لازم ہوگی، نماز کے واجب ہو جانے کا سبب نماز کے وقت کا مل جانا ہے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اور یہاں بالغ ہونے والے لڑکے کو تھوڑا وقت مل گیا ہے اس لئے اس پر نماز واجب ہوگی ایسا ہی ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن حیض والی عورتوں کے بارے میں ہیں جو طلوع یا غروب سے پہلے پاک ہو جائیں اور ان کو طلوع یا غروب سے پہلے اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جا سکتی ہے تو ان پر بھی اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گی۔ اور بالکل اسی طرح ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، والی دونوں حدیثیں اُن نو مسلموں سے بھی متعلق ہیں جو طلوع یا غروب سے پہلے اسلام قبول کر لیں اور طلوع یا غروب سے پہلے اسلام لانے کے بعد ان کو اتنا وقت مل گیا کہ اس میں ایک رکعت ادا ہو سکتی ہے تو ان پر بھی اس وقت کی نماز فرض ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ حدیث میں لفظ ”أَدْرَكَ“، مذکور ہے جس کے معنی پانے کے ہیں نہ کہ نماز پڑھنے کے اگر طلوع یا غروب سے پہلے ایک رکعت نماز پڑھ لینے سے طلوع یا غروب کے بعد باقی نماز کا پڑھنا جائز ہوتا اور یہ نماز ادا نماز میں محسوب ہوتی تو ”مَنْ أَدْرَكَ“ کی بجائے“ ”مَنْ صَلّٰى“ جو نماز پڑھنا ارشاد ہوتا، یہاں بجائے ”مَنْ صَلّٰى“ کے ارشاد ہوا ہے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“، (جس نے ایک رکعت پالی) یعنی جس نے ایک رکعت کا وقت پا لیا تو ایسا شخص جو ایسے وقت میں ایک رکعت پا لیا ہو وہ پوری نماز کا پانے والا سمجھا جائے گا اور اس پر اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ شخص اس نماز کی قضا کرے گا۔12

Hadith 765

Volume 1

English

Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said, "The first time for Maghrib prayer is when the sun sets, and the last time for it is when the twilight disappears." [Narrated by al-Tirmidhi and Ahmad] In another narration by al-Tabarani, it is mentioned: "Then the call for Maghrib prayer was made when the sun had set, and the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the whiteness of the day nearly disappeared, which is the twilight as seen." Al-Haythami said its chain of narration is Hasan.

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِيْنَ يَغِيْبُ الْأُفُقُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِي: «ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِيْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ حَتَّى كَادَ يَغِيبُ بَيَاضُ النَّهَارِ، وَهُوَ الشَّفَقُ فِيْمَا يُرَى». وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 862Noor 863
1-10/862۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج غروب ہو جائے (اور مغرب کے آخری وقت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے ”حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ“، یعنی) مغرب کا آخری وقت وہ ہے جب کنارہ آسمان سیاہی پھیلنے کی وجہ سے نظر نہ آئے۔ (یعنی سفید شفق غائب ہو جائے۔) (اس کی روایت ترمذی اور امام احمد نے کی ہے۔) اور طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ پھر مغرب کی اذان غروب آفتاب کے وقت دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی اور طویل قرأت سے نماز میں اس قدر تاخیر فرمائی یہاں تک کہ دن کی سفیدی (یعنی سفید شَفَق) قریب تھا کہ غائب ہوجائے، (اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کا آخری وقت سفید شَفَق کے غائب ہونے تک رہتا ہے، اگر مغرب کا آخری وقت سرخ شَفَق کے غائب ہونے تک ہی قرار دیا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب کا جو حصہ سرخ شَفَق کے بعد ادا فرمایا ہے وہ وقت کے بعد ہوگا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔) (بیہقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 151 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 766

Volume 1

English

Narrated Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ would pray Maghrib when the sun had set.

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٦ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 864
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اس وقت پڑھا کرتے تھے جب کہ آفتاب ڈوب جایا کرتا تھا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 767

Volume 1

English

Narrated Salama ibn al-Akwa (may Allah be pleased with him): We used to pray Maghrib with the Messenger of Allah ﷺ when it had disappeared behind the horizon.

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٧ - وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 865
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب غروب آفتاب کے ساتھ ہی پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 768

Volume 1

English

Narrated Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) that the Prophet ﷺ said: "The time for Maghrib prayer lasts until the red twilight disappears." [Narrated by Muslim] In a narration from Anas (may Allah be pleased with him), he asked the Prophet ﷺ, "When should I pray Isha?" The Prophet ﷺ replied, "When the horizon has turned completely dark." In a narration by Abu Dawood, it is mentioned: "Isha should be prayed when the horizon becomes completely dark." Ibn Khuzaymah and others have authenticated this narration.

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٨ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْن عَمْرٍو (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُط ثَوْرُ الشَّفَقِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ : مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ؟ فَقَالَ : «حِيْنَ اسْوَدَّ الْأُفُقُ». وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ مَرْفُوْعًا: «وَيُصَلَّى الْعِشَاءَ حِيْنَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ»1. وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ وَغَيْرُهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 866Noor 867Noor 868
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کا وقت شَفَق کے پھیلاؤ کے ختم ہونے تک رہتا ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز کب پڑھوں؟ تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (نماز عشاء اُس وقت پڑھا کرو) جب آسمان کے کناروں میں سیاہی پھیل جائے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں مرفوعاً مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اُس وقت ادا فرماتے جب افق یعنی کنارہ آسمان میں سیاہی دکھائی دیا کرتی۔ اس حدیث کو ابن خزیمہ اور دیگر محدثین نے صحیح قرار دیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 612a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

When the horizon turns dark

(1) The statement: "When the horizon turns dark": In Al-Istikhara, it is said that "the twilight" refers to the whiteness of the sky, and this was the view of Abu Bakr, Mu'adh ibn Jabal, and Aisha. I said: [Narrated by Abdul Razzaq from Abu Huraira and Umar ibn Abd al-Aziz, and al-Bayhaqi only narrated the red twilight from Ibn Umar, and the full narration is in his work. When the narrations and reports contradict each other, the time for Maghrib should not be determined by doubt, as mentioned in Al-Hidaya and others. The scholar Qasim stated that the opinion of the Imam is the most correct, and it is followed in Al-Bahr. However, the general practice of people today in many areas is based on the opinion of the two (other scholars), which has been supported in Al-Nahr following Al-Naqaya, Al-Waqaya, Al-Durr, Al-Islah, Durar al-Bihar, Al-Imdad, Al-Mawahi, Sharh al-Burhan, and others who have explicitly stated that this is the view upon which fatwas are given. In Al-Siraj, it is mentioned that the opinion of these two is broader, while the opinion of the Imam is more cautious, as noted in Radd al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: حين يسود الأفق: قال في الاختيار»: «الشفق»: البياض، وهو مذهب الصديق ومعاذ بن جبل وعائشة قلت: ورواه عبد الرزاق عن أبي هريرة وعن عمر بن عبد العزيز، ولم يرو البيهقي الشفق الأحمر إلا عن ابن عمر، وتمامه فيه. وإذا تعارضت الأخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك، كما في الهداية» وغيرها. قال العلامة قاسم فثبت أن قول الإمام هو الأصح، ومشي عليه في البحر». ولكن تعامل الناس اليوم في عامة البلاد على قولهما، وقد أيده في النهر» تبعا لـ «النقاية» و«الوقاية» و«الدر» و «الإصلاح» و درر البحار» و«الإمداد» و«المواهب» وشرحه البرهان» وغيرهم مصرحين بأن عليه الفتوى. وفي «السراج»: قولهما أوسع، وقوله أحوط. كذا في رد المحتار».

Note 1

ف: ”كِتَابُ الاِخْتِيَار“ میں لکھا ہے کہ شفق سے مراد سفید شفق ہے اس سے معلوم ہوا کہ سفیدی ختم ہونے تک مغرب کا وقت رہتا ہے اور سفیدی ختم ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق، معاذ بن جبل اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے اور صاحب درالمختار کہتے ہیں کہ اس کی روایت عبدالرزاق نے ابوہریرہ اور عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہما سے بھی کی ہے۔ اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے شفق سے سفید شفق مراد لی ہے۔ البتہ شفق سے سرخ شفق مراد ہونے کی روایت بیہقی نے صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کی ہے اور اس حدیث کی پوری روایت بیہقی میں موجود ہے اور اس لئے صاحبین نے شفق سے سرخ شفق مراد لیا ہے۔ ”ہدایہ“ وغیرہ میں مذکور ہے کہ جب احادیث و آثار میں تعارض پیدا ہوگیا کہ شفق سے کیا مراد لیں؟ شفق کے بارے میں کسی حدیث سے سفیدی اور کسی حدیث سے سرخی معلوم ہوتی ہے تو شک پیدا ہوگیا اس لئے اس شک کی وجہ سے سرخ شفق کے غائب ہونے سے مغرب کا وقت ختم نہیں ہوگا۔ علامہ قاسم نے فرمایا ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول صحیح ترین قول ہے اور ”بحرالرائق“ نے اسی کو اختیار کیا ہے، لیکن اس زمانہ میں اکثر ممالک میں لوگوں کا تعامل صاحبین کے قول پر ہوچلا ہے۔ نہر نے نقایہ، وقایہ، درہ، الاصلاح، دررالبحار، الامداد، المواہب اور اس کی شرح البرہان نے بھی ان ساری کتابوں کے حوالے سے صاحبین کے قول کی تائید کی ہے اور ان سب نے صراحت کی ہے کہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہی ہے اور سراج میں مذکور ہے کہ صاحبین کے قول پر عمل کرنے میں سہولت ہے اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے قول پر عمل کرنے میں احتیاط ہے یہ پورا مضمون ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ اس اختلاف کی وجہ سے اولیٰ یہ ہے کہ نماز مغرب سرخ شفق تک ادا کر لی جائے اور نماز عشاء سفید شفق کے ختم ہونے کے بعد شروع کی جائے تاکہ ہر دو نمازیں مغرب اور عشاء بالاتفاق اپنے اپنے وقت پر ادا ہو جائیں۔12

Hadith 769

Volume 1

English

From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The first time for 'Isha' is when the horizon disappears."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٦٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ حِيْنَ يَغِيْبُ الْأُفُقُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 869
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عشاء کا ابتدائی وقت اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جبکہ کنارۂ آسمان سیاہی پھیلنے سے نظر نہ آئے۔ (اس کی روایت ترمذی اور امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 151 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 770

Volume 1

English

From Aisha (may Allah be pleased with her), she reported that the Prophet (peace be upon him) said: "The time for 'Isha' is when the night fills the belly of every valley."

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۷۰ - وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: وَقْتُ الْعِشَاءِ إِذَا مَلَأَ1 اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 870
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عشاء کا وقت اس وقت ہوتا ہے کہ رات کی تاریکی روئے زمین پر پھیل جائے۔ (اس کا حاصل یہ ہے کہ سفید شفق غائب ہو جائے)۔ (اس کی روایت طبرانی نے الاوسط میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 1

Amala

(1) In the original text of the author: "Amala" (meaning "fills" or "completes").

Note 1

(۱) وفي أصل المؤلف: «أَمْلاً».

Hadith 771

Volume 1

English

Narrated by Aisha (may Allah be pleased with her), she said: "The Prophet ﷺ delayed the prayer one night until most of the night had passed and the people of the mosque had gone to sleep. Then he came out and prayed, saying: 'This is its time, had it not been for the fear of making it difficult for my Ummah.' "

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۷۱ - وَعَنْهَا (رضي الله عنها) أَنَّهَا قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ1 وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَمُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 871
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء میں اتنی تاخیر فرمائی کہ رات ختم ہونے کے قریب تھی اور مسجد کے نمازی سو گئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے اور نماز عشاء ادا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ بے شک رات کا آخری حصہ بھی نمازِ عشاء کا وقت ہے اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسی وقت نماز عشاء پڑھنے کا حکم دیتا۔ (اس کی روایت امام طحاوی، نسائی اور مسلم نے کی ہے۔) (یہ ترجمہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی بنایہ شرح ہدایہ سے ماخوذ ہے۔12)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 638 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

most of the night,

(1) Regarding the phrase "most of the night," At-Tahawi, in his explanation of the Athar, made a good point. His summary is as follows: From the collection of narrations, it appears that the last time for Isha is when Fajr (dawn) begins. This is because Ibn Abbas, Abu Musa al-Ash'ari, and Abu Sa'id al-Khudri narrated that the Prophet ﷺ delayed it until a third of the night. Abu Huraira and Anas also narrated that he delayed it until midnight, while Ibn Umar narrated that it was delayed until two-thirds of the night had passed. Aisha narrated that he delayed it until most of the night had passed. All these narrations are found in the Sahih collections. Therefore, it is established that the entire night is a valid time for the Isha prayer, as stated by the scholar Al-Aini in his explanation of "Al-Hidayah."

Note 1

(۱) وقوله: عامة الليل وتكلم الطحاوي في شرح الآثار ههنا كلامًا حَسَنًا، ملخصه: أنه قال: يظهر من مجموع الأحاديث أن آخر وقت العشاء حين يطلع الفجر، وذلك أن ابن عباس وأبا موسى الأشعري وأبا سعيد الخدري رووا: «أن النبي ﷺ أخرها إلى ثلث الليل»، وروى أبو هريرة وأنس لهما : أنه أخرها حين انتصف الليل»، وروى ابن عمر الله أنه أخرها حين ذهب ثلثا الليل». وروت عائشة : أنه أعتم بها حتى ذهب عامة الليل»، وكل هذه الروايات في الصحيح، قال: فثبت بذلك أن الليل كله وقت له، قاله العلامة العيني في شرح الهداية».

Note 1

ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الآثار میں اس مقام پر ایک بڑی اچھی بات لکھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان جملہ احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز عشاء کا آخری وقت صبح صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ ابن عباسؓ، ابو موسیٰ اشعریؓ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کی ادائی میں ایک تہائی شب تک تاخیر فرمائی ہے اور ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں نصف نصف شب تک تاخیر فرمائی ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں اس وقت تک تاخیر فرمائی کہ رات کا دو تہائی حصہ گزر چکا تھا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر فرمائی، یہاں تک کہ رات ختم ہونے کے قریب تھی۔ یہ تمام روایتیں صحیح میں مذکور ہیں۔ اس بناء پر امام طحاوی نے وضاحت کی ہے کہ ان احادیث کی روشنی میں یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ پوری رات نماز عشاء کا وقت ہے۔ اس کو علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے ہدایہ کی شرح میں ذکر کیا ہے۔

Hadith 772

Volume 1

English

Narrated by Nafi' bin Jubair: Umar wrote to Abu Musa: "Pray Isha at any time of the night you wish, but do not neglect it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۷۲ - وَعَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَر إِلَى أَبِي مُوسَى: وَصَلَّ الْعِشَاءَ أَيَّ اللَّيْلِ شِئْتَ وَلَا تَغْفُلْهَا. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 872
نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام یہ حکم نامہ روانہ فرمایا کہ نماز عشاء رات کے جس حصہ میں چاہیں پڑھئے اور اس نماز کو غفلت کر کے قضاء نہ ہونے دیجئے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)

Hadith 773

Volume 1

English

Narrated by Ubayd bin Jurayj: He asked Abu Huraira, "What is the end time for Isha prayer?" He replied, "When dawn breaks."

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۷۳ - وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا إِفْرَاطُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ؟ قَالَ: طُلُوْعُ الْفَجْرِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 873
عبید بن جریج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز عشاء میں افراط کرنا (یعنی اس قدر تاخیر کرنا جو ناجائز ہے) کیا ہے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نماز عشاء میں اتنی تاخیر کرنا کہ صبح صادق طلوع ہو جائے افراط اور ناجائز ہے۔ (اس لئے کہ صبح صادق کے طلوع ہونے سے نماز عشاء کا وقت باقی نہیں رہا۔) اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔)

Hadith 774

Volume 1

English

Narrated by Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah ﷺ said: "There are two dawns. The first one is like the tail of a fox; it does not permit prayer nor prohibit food. The second one extends across the horizon; it permits prayer and prohibits food."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٧٤ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الْفَجْرُ فَجْرَانِ. فَأَمَّا الَّذِي يَكُوْنُ كَذَنَبِ السَّرْحَانِ فَلَا يُحِلُّ الصَّلَاةَ وَلَا يُحَرِّمُ الطَّعَامَ، وَأَمَّا الَّذِي يَذْهَبُ مُسْتَطِيْلًا فِي الْأُفُقِ فَإِنَّهُ يُحِلُّ الصَّلَاةَ وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ». رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 874
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح دو2 ہیں(1) ایک صبح کاذب اور(2) دوسری صبح صادق) صبح کاذب وہ صبح ہے جس کی روشنی بھیڑیئے کے دُم کی طرح مشرق سے مغرب کی طرف دراز ہوتی ہے(اس کے بعد پھر سیاہی آجاتی ہے اس میں نماز فجر جائز نہیں ہے لیکن سحری کھانا جائز ہے اور صبح صادق وہ صبح ہے جس کی روشنی میں آسمان کے کناروں جنوب و شمال کی طرف پھیلتی ہے۔ (اس کے بعد سیاہی نہیں آتی بلکہ سفیدی بڑھتی جاتی ہے) اس میں نماز صبح جائز ہے اور سحری کھانا ممنوع ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور مسلم کی ایک روایت بھی اسی طرح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1094a (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Al-Mustadrak al-Hakim 687 (unverified) 35% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1985 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1985

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 775

Volume 1

English

Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "The first time for Fajr is when the dawn breaks, and the last time for it is when the sun rises."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٧٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِيْنَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِيْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 875
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز فجر کا ابتدائی وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور سورج طلوع ہونے پر اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 151 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 776

Volume 1

English

Narrated by Abu Sa'id: The Messenger of Allah ﷺ said: "Witr is at night."

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٧٦ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الْوِتْرُ بِلَيْلٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 876
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز وتر رات میں پڑھی جاتی ہے۔ (یعنی یہ رات کی نماز ہے۔) (اس کی روایت امام احمد اور ابویعلیٰ نے کی ہے۔)

Hadith 777

Volume 1

English

Narrated by Mu'adh bin Jabal: The Messenger of Allah ﷺ said: "My Lord has increased me with a prayer, and it is Witr. Its time is between Isha and the rising of dawn."

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۷۷ - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «زَادَنِي رَبِّي صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، وَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 877
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے رب نے میری (امت کیلئے) ایک اور نماز زیادہ فرما دی ہے اور وہ وتر کی نماز ہے اور اس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

Hadith 778

Volume 1

English

Narrated by Aisha: The Messenger of Allah ﷺ prayed Witr from every part of the night: from the beginning, middle, and end, and his Witr prayer ended at dawn.

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۷۸ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 878
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصہ میں نماز وتر ادا فرمائے ہیں اول شب میں وسط شب میں اور آخر شب میں اور آپ کے وتر کی ادائی سحر کے وقت تک بھی پہنچی ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 996 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 745a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 779

Volume 1

English

Narrated by Ibn Umar, from the Messenger of Allah ﷺ: "When dawn breaks, all the night prayers, including Witr, are gone. So make Witr before the rising of dawn."

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۷۹ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَ كُلُّ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ، فَأَوْتِرُوْا قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 879
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب صبح صادق طلوع ہو جائے تو رات کی نماز اور وتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے اس لئے تم نماز وتر کو صبح صادق سے پہلے پڑھ لیا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 469 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1261 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 1261

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 780

Volume 1

English

Narrated by Ibn Umar, from the Prophet ﷺ: "Hasten to pray Witr before dawn."

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۸۰ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) ، عَنِ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 880
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے وتر کے ادا کرنے میں جلدی کرو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 753 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.