ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس
بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے
لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے
ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ
پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 751a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں جو ارشاد ہوا ہے کہ رات کی نمازوں میں آخری نماز وتر ہونی چاہئے تو
واضح رہے کہ یہ حکم مستحب ہے اس لئے وتر کے بعد اگر کوئی نماز ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتے ہیں کیونکہ
حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت ادا فرمایا کرتے تھے۔ (اشعۃ
اللمعات)12۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 648a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.
(1) “His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: منسوخ مضى تحقيقه في باب المواقيت».
Note 1
ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی
اس حدیث سے منسوخ ہے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو طلوع
آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اسی طرح غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل گئی اور
اس نے باقی نماز کو طلوع یا غروب کے بعد ادا کرلی تو اس کو فجر اور عصر کی پوری پوری نماز مل گئی ”مَنْ
أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے متعارض ہورہی ہے کیونکہ ”
مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث میں تاخیر صلوٰۃ کا جواز مذکور ہے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر
حدیث سے تاخیر صلوٰۃ کا عدم جواز ثابت ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں سے کوئی
ایک حدیث منسوخ قرار پائے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے منسوخ نہیں ہوسکتی کہ ام
المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (حدیث نمبر:51/931) سے بصراحت ثابت ہے کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری عمر شریف میں کبھی کسی نماز میں تاخیر نہیں فرمائی بلکہ ہر نماز کو ہمیشہ اس کے
مستحب وقت پر ادا فرمایا ہے، اس لئے ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث ناسخ ہے اور ”مَنْ
أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث منسوخ۔ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کے منسوخ ہونے کی تفصیلی
بحث اور مزید ناسخ حدیثوں کا ذکر ”بَابُ الْمَوَاقِيْتِ“ کی حدیث نمبر (9/861) کے فائدہ میں مذکور
ہے؛ ملاحظہ فرمایا جائے۔12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ایسے زمانہ میں جب کہ حکام نمازوں میں تاخیر کرکے نمازوں کو مکروہ اوقات میں ادا کرتے
ہوں تو مناسب یہ ہے کہ نمازیں تنہا مستحب اوقات میں ادا کرلی جائیں اور پھر حکام کے ساتھ نماز
باجماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہوجائیں یہ واضح رہے کہ نفل کی نیت سے شرکت صرف ظہر اور
عشاء کی حد تک رہے گی کیوں کہ فجر اور عصر کے بعد نفل نمازیں جائز نہیں اور تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد
نفل کی نیت سے مغرب کی نماز میں شرکت اس لئے ناجائز ہے کہ نفل نماز تین رکعت والی نہیں ہوا کرتی،
اگر ایک رکعت کے اضافہ سے نفل کی چار رکعتیں پوری کرلی جائیں تو امام کی نماز کے خلاف ہوتا ہے، یہی
وجہ ہے کہ تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی جماعت میں شریک ہونا ناجائز ہے
اگرچہ کہ مغرب کی نماز کے بعد نفل نمازیں ادا کرسکتے ہیں۔ (اشعۃ اللمعات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 597 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 684a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Whoever forgets a prayer or sleeps through it...
(2) The statement: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it..." Imam Al-Shafi'i used this narration as evidence to allow the performance of missed prayers during the time when it is prohibited to pray. However, according to our position, it is disliked to pray during these prohibited times, whether it is a missed prayer, obligatory, or voluntary, because it is not necessary to pray immediately upon remembering. The main point here is that remembering the prayer makes it obligatory to perform it. If one remembers it during the prohibited time and delays it until the prohibited time has passed, then they would be acting in accordance with both hadiths—this one and the one that forbids praying during the prohibited times. I took this from "Umdat al-Qari," and it is supported by the hadith regarding the practice of resting, which comes later.
Note 2
قوله
(۲) قوله: من نسي صلاة أو نام عنها إلخ احتج به الشافعي على جواز قضاء الفوائت في الوقت المنهي عن الصلاة فيه، وعندنا كره تحريمها صلاة مطلقا، ولو قضاء أو واجبة أو نفلا في هذه الأوقات المنهية؛ لأنه ليس بلازم أن يصلي في أول حال الذكر، غاية ما في الباب أن ذكره سبب لوجوب القضاء، فإذا ذكرها في الوقت المنهي وأخرها إلى أن يخرج ذلك وصلّى، يكون عاملا بالحديثين، أحدهما هذا، والآخر حديث النهي في الوقت المنهي عنه. أخذته من عمدة القاري، ويؤيده حديث التعريس الذي يأتي بعده.
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا نیند کی وجہ سے نماز ادا نہ کر سکے
اور اس نماز کا وقت گزر جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب وہ اس نماز کو یاد کرے اسی وقت پڑھ لے اس
سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے استدلال کیا ہے کہ ممنوعہ اوقات میں قضا نمازوں کا ادا کرنا اس لئے
جائز ہے کہ حدیث میں وارد ہے کہ جب نماز یاد آ جائے پڑھ لے، چونکہ نماز ممنوعہ اوقات میں یاد آئی ہے
اس لئے ممنوعہ اوقات میں ہی نماز ادا ہونی چاہئے یہ امام شافعی رحمۃ علیہ کا قول ہے لیکن ہمارے پاس ان
اوقات ممنوعہ میں فوت شدہ نماز یاد بھی آ جائے تو اس کا ان اوقات میں ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے خواہ وہ نماز
قضا ہو یا ادا ہو یا نفل۔ اس حدیث سے ہمارے پاس فوت شدہ نماز کے یاد آتے ہی اس کا وجوب ثابت
ہوتا ہے نہ کہ اس نماز کا اسی وقت ادا کرنا، اور چونکہ دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ ممنوعہ اوقات میں
نمازوں کا ادا کرنا ناجائز ہے اس لئے ممنوعہ اوقات کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے فوت شدہ نمازوں کو
ممنوعہ اوقات میں ادا نہیں کیا جائے گا بلکہ ممنوعہ اوقات کے بعد وہ نمازیں ادا ہوں گی اور یہی وہ صورت
ہے جس سے دونوں حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے اس کے برخلاف انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر عمل
کر کے ممنوعہ اوقات میں فوت شدہ نمازوں کے یاد آتے ہی فوراً انہی اوقات میں نمازیں ادا کر لی
جائیں تو اس حدیث پر عمل ہو جاتا ہے مگر ممنوعہ اوقات والی حدیث پر عمل نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں ہمارے
قول کی تائید حدیث تعریس سے بھی ہوتی ہے جو آگے آ رہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سفر میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم راستہ میں آرام فرمائے یہاں تک کہ سورج نکل پڑا
اور نماز فجر قضا ہو گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ فوراً سب اس جگہ سے کوچ کریں چنانچہ آگے
جا کر سورج کے بلند ہونے کے بعد فوت شدہ نماز فجر ادا کی گئی۔ اگر ممنوعہ اوقات میں نماز کے یاد آتے
ہی نماز کا اسی وقت پڑھ لینا جائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر طلوع آفتاب کے ساتھ ہی
نماز پڑھ کر آگے کوچ فرماتے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا جو حنفی مسلک پر قوی دلیل
ہے۔ (عمدۃ القاری)12۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 465 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1431 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1188 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں وتر کے فوت ہو جانے پر ارشاد ہو رہا ہے: ”فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ“، یعنی
جب نماز وتر یاد آ جائے تو پڑھ لے اور یہی انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (قضاء نماز کب ادا کرنا چاہئے والی
حدیث دو احادیث) میں فرض نماز کے بھول جانے پر بھی اسی قسم کے الفاظ وارد ہیں اور وہ یہ ہیں: ”أَنْ
يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا“، یعنی جب نماز کو یاد کر لے تو اسی وقت پڑھ لے جب وتر کیلئے ایسے الفاظ
استعمال کئے گئے ہیں جیسے فرض نماز کیلئے تو اس سے وتر کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔12۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 680a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ میں دو قرأت:
(1) ایک لِذِكْرِي (راء کے زیر اور یا متکلم کے ساتھ) اور دوسرے ”لِذِكْرَى“ (راء کے
زبر اور الف مقصورہ کے ساتھ)۔
ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (58/938) میں پہلی قرأت ”لِذِكْرِي“ کے لحاظ سے
ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کی حدیث (60/940) میں دوسری قرأت
لِلذِّكْرَى کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس آیت سے
جو استدلال فرمایا ہے وہ دوسری قرأت کی بناء پر جو راوی کے تصرف سے ”لِلذِّكْرَى“ ہوگیا ہے۔
چنانچہ ابوداؤد نے اسی روایت میں ”لِلذِّكْرَى“ کہا ہے اور ابن شہاب جن کو زہری کہا جاتا ہے اور جو
اس حدیث کے راوی ہیں وہ بھی للذِّكرى کی قرأت پڑھا کرتے تھے۔ (التعلیق الممجد میں تنویر کے
حوالہ سے ایسا ہی نقل کیا گیا ہے۔)12
ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی سواریوں کو اس مقام سے لے کر
چلے یہاں تک کہ اس وادی سے باہر ہوگئے، چاہے تو یہ تھا کہ فوت شدہ نماز کو وہیں ادا کرتے اور پھر روانہ
ہوتے ایسا نہ کر کے وہاں سے روانہ ہوئے اور نماز اس وقت ادا فرمائی جب کہ آفتاب ایک نیزہ بلند ہوچکا
تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ممنوعہ اوقات میں نمازِ ادا آتے ہی نماز نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ ممنوع وقت گزرنے
کے بعد فوت شدہ نماز کو ادا کرنا چاہئے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ (عمدة القاری۔)12
(1) His saying: "And from Ibn Umar..." These hadiths are meant to clarify the rulings regarding making up missed prayers for the one who follows the proper sequence. Ibn al-Humam in Fath al-Qadir and the author of Bahr al-Ra'iq in the commentary on al-Manar have lengthy discussions on what our scholars have concluded regarding the condition of performing the missed prayer before the regular prayer for the validity of the performance. Those who wish may refer to them.
Note 1
قوله
(۱) قوله: وعن ابن عمر إلخ هذه الأحاديث لبيان الأحكام المتعلقة بقضاء الصلوات الفائتة لصاحب الترتيب. ولابن الهمام في فتح القدير وصاحب البحر الرائق» في شرح المنار» كلام طويل على ما ذهب إليه أصحابنا من اشتراط أداء القضاء قبل الأداء لصحة الأداء، من شاء فليراجع إليهما.
Note 1
ف: یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں صاحب ترتیب کے احکام سے متعلق ہیں جو فوت
شدہ نمازوں کو ادا کرنا چاہتا ہے، اس بارے میں مذہب حنفی یہ ہے وقتی نماز صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ
قضا نماز پہلے ادا کی جائے کیوں کہ صاحب ترتیب کیلئے ترتیب اس طرح فرض ہے کہ وہ پہلے قضا نماز ادا
کرے پھر وقتی نماز ادا کرے اس کی وضاحت نہایت شرح و بسط سے ابن الہمام نے فتح القدیر میں اور
صاحب بحر الرائق نے شرح المنار میں کی ہے تفصیل کیلئے ان کتب کا مطالعہ کیا جائے۔12
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔