Hadith 593a
Volume 1This language is not yet available for this narration.
كِتَابُ الطَّهَارَةِ · Chapter 9
59 narrations · In source reading order
This language is not yet available for this narration.
This language is not yet available for this narration.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
This language is not yet available for this narration.
This language is not yet available for this narration.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
This language is not yet available for this narration.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
العربية
العربية
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اور صاحب عنایہ اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں آدمی کے بال کے پاک ہونے پر دلیل ہے۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) Regarding the statement: "The Messenger of Allah ﷺ prohibited wearing the skins of wild animals..." This prohibition is considered one of the haram (forbidden) acts according to Imam al-Shafi'i. This is because using such skins before tanning is not allowed, as they are impure. After tanning, if the skin still has hair, it is also considered impure because, according to al-Shafi'i, the tanning does not purify the hair since tanning does not alter the state of the hair. Alternatively, some scholars view this prohibition as one of discouragement (tanzih) according to Imam Abu Hanifa. This is because, for him, hair is pure. He also argued that wearing the skins of wild animals and riding on them is a practice of tyrants, non-Arabs, and the wealthy, which is not appropriate for righteous people, hence it is disliked but not prohibited. Imam Abu Hanifa's opinion on wearing the skins of wild animals, including fox fur, is based on the view that such skins, when tanned, are not impure. In his view, the purification of the animal is achieved by its slaughter, and the tanning process can be regarded as a form of ritual purification. He also mentioned that the skins of all wild animals, once properly tanned, may be used to make items like saddles or prayer mats. This is stated in Al-Mabsoot and Al-Muhit by Imam Abu Hanifa.
(۱) قوله : نهى رسول الله ﷺ عن لبس جلود السباع إلخ : هذا النهي نهي تحريم عند الشافعي؛ لأن استعمالها إما قبل الدباغ فلا يجوز؛ لأنها نجسة. وإما بعده فإن كان عليه الشعر فهي أيضًا نجسة؛ لأن الشعر لا يطهر بالدباغ عنده؛ لأن الدباغ لا يغير الشعر عن حاله، أو النهي نهي تنزيه. هذا عند أبي حنيفة؛ لأن الشعر طاهر عنده، فإن لبس جلود السباع والركوب عليها من دأب الجبابرة والأعاجم وعمل المترفين، فلا يليق بأهل الصلاح، ويكره، أخذته من المرقاة». ولعدم نجاستها قال في العالمكيرية»: عن أبي حنيفة الله لا بأس بلبس قلنسوة الثعالب، كذا في المبسوط». وعن أبي حنيفة الله أنه قال: لا بأس بالفرو من السباع كلها، وغير ذلك من الميتة المدبوغة والمذكاة، وقال: ذكاتها دباغها، كذا في المحيط». ولا بأس بجلود النمر والسباع كلها إذا دبغت أن يجعل منها مصلّى أو ميسرة السرج، كذا في «الملتقط».
ف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں کے پہننے اور ان پر سوار ہونے سے ممانعت فرمائی ہے، اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ یہ بھی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نہی تحریمی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ درندوں کے چمڑوں کا استعمال دباغت کے قبل جائز نہیں، اس لئے کہ وہ نجس ہیں۔ اب رہا یہ کہ دباغت کے بعد کیا کیا جائے؟ اگر درندوں کے چمڑوں پر بال ہوں تو وہ چمڑے بھی نجس ہیں، اس لئے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بالوں کو دباغت دینے سے بال پاک نہیں ہوتے کیونکہ دباغت سے بالوں کی اصلی حالت نہیں بدلتی، اس حدیث میں جو نہی وارد ہے اس سے نہی تنزیہی مراد ہے اور یہ مسلک امام ابوحنیفہؒ کا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بال امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پاک ہیں اور حدیث میں نہی اس لئے آئی ہے کہ درندوں کے چمڑوں کو پہننا اور ان کے چمڑوں پر سوار ہونا سرکش لوگوں اور عجمی کفار اور عیش پرستوں کا دستور ہے لہذا نیک لوگوں کے لئے ان کا استعمال مناسب نہیں، اس لئے کہ وہ تنزیہی ہے۔ (میں نے اس مضمون کو مرقات سے اخذ کیا ہے۔) درندوں کے چمڑوں کے ناپاک نہ ہونے کے متعلق عالمگیر یہ میں وضاحت ہے کہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح منقول ہے کہ لومڑیوں کے چمڑوں کی ٹوپی کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں اور مبسوط میں بھی اسی طرح مذکور ہے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے درندوں کے پوستین اور دیگر مردار جانوروں کے دباغت دئے ہوئے چمڑوں اور اسی طرح ذبح کئے ہوئے جانوروں کے چمڑوں کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں اگرچہ کہ ان کو دباغت نہ دی گئی ہو اس لئے کہ ان کا ذبح کرنا ہی دباغت دینا ہے۔ چنانچہ محیط میں یہی مذکور ہے، نیز تیدوے اور دوسرے درندوں کے چمڑوں کے استعمال میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ ان کو دباغت دی جائے پھر ان سے جانماز یا زین کا چار جامہ بنایا جائے، یہ ملتقط میں مذکور ہے۔ 12
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) Regarding the statement: "He disliked the price of the skins of wild animals," Al-Mazhar explained that this was before the tanning due to their impurity. However, after tanning, there is no dislike. In the Fatawa Qazi Khan, it is mentioned that the sale of the skins of dead animals is invalid if they are not slaughtered or tanned. This is also mentioned in Al-Mirqat.
(۱) قوله: كره ثمن جلود السباع: قال المظهر ذلك قبل الدباغ لنجاستها، أما بعده فلا كراهة. وفي فتاوى قاضي خان» أن بيع جلود الميتات باطل، إذا لم تكن مذبوحة أو مدبوغة. كذا في «المرقاة».
ف: ابو الملیح رضی اللہ عنہ نے درندوں کے چمڑوں کی قیمت کے استعمال کو مکروہ کہا ہے، اس بارے میں مظہر نے کہا ہے کہ قیمت کا لینا اس وقت مکروہ ہوگا کہ چمڑے کی دباغت نہ ہوئی ہو، اس لئے کہ قبل دباغت چمڑا نجس رہتا ہے لیکن دباغت کے بعد اس کو فروخت کر کے قیمت کا حاصل کرنا مکروہ نہیں ہے، اور فتاوائے قاضی خان میں صراحت ہے کہ مردہ جانوروں کے چمڑوں کا فروخت کرنا باطل اور ناجائز ہے بشرطیکہ وہ جانور ذبح کئے ہوئے نہ ہوں، یا ان کے چمڑوں کو دباغت نہ ہوئی ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
العربية
العربية
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ راستہ کا کیچڑ عموم بلویٰ کی وجہ سے معاف ہے۔12
العربية
The statement "He used to tend to the sheep" indicates the abrogation of the ruling in the hadith of the two men from the tribe of Urayni. The indication that the hadith of the Urayni tribe is abrogated by this narration is that the mutilation mentioned in the hadith of the Urayni tribe has been abrogated by consensus, as it was a practice in the early days of Islam. This is mentioned in "Nur al-Anwar."
(۱) قوله: كان يرعى الغنم فيه دلالة على نسخ حكم حديث العرينيين، والذي يدل على كون حديث العرينيين منسوخا بهذا الحديث: أن المثلة التي تضمنها حديث العرينيين منسوخة بالاتفاق؛ لأنها كانت في ابتداء الإسلام. قاله في «نور الأنوار».
ف: یہ حدیث دراصل حدیث ”عُرَيْنِيِّين“ کے اس جزو کی ناسخ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عرینہ کو اونٹوں کے پیشاب کے پینے کی اجازت دی تھی اور ”عُرَيْنِيِّين“ کا واقعہ اس طرح پیش آیا تھا۔ وادی عرینہ کے چند لوگ جب مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو ان کو آب و ہوا موافق نہ آئی جس سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور ان کے پیٹ پھول گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں کی جگہ چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا کریں، اس طریقہ سے جب ان کو صحت حاصل ہوگئی تو سب کے سب مرتد ہوگئے اور چرواہوں کو قتل کر ڈالا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تلاش میں ایک جماعت روانہ فرمائی اور اس جماعت نے ان لوگوں کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر کردیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئے جائیں اور آنکھوں میں سلائی پھیر دی جائے اور ان کو دھوپ میں چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائیں۔ ”عُرَیْنِیِّینَ“ کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں، ایک تو مثلہ کرنے کی اجازت اور دوسرے وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کے پیشاب کے پاک ہونے اور پینے کا ثبوت، اہل عرینہ کے واقعہ کے پہلے جز ء، مثلہ کرنے کا حکم بالاتفاق منسوخ ہے حدیث ”عُرَیْنِیِّینَ“ کا ایک جز ء یعنی مثلہ کرنے کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا جو بالاتفاق منسوخ ہوگیا، اب رہا دوسرا جز ء یعنی وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب کا پینا اور اس کا پاک ہونا تو حدیث ”عُرَیْنِیِّینَ“ کا یہ دوسرا جز ء بھی ان دونوں حدیثوں سے منسوخ ہے ایک تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ الصدر حدیث (اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ“) پیشاب سے بچو چونکہ بالعموم عذاب قبر اسی سے ہوتا ہے۔ اور دوسرے حاکم کی وہ حدیث جس کی صحت پر سب محدثین متفق ہیں اور جس کے الفاظ یہ ہیں: ( كَانَ يَرْعَى الْغَنَمَ وَلَا يَتَنَزَّهُ مِنْ بَوْلِهِ فَحِينَئِذٍ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ“)۔ وہ صحابی بکریاں چرایا کرتے اور بکریوں کے پیشاب سے نہیں بچتے تھے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیشاب سے بچو کیونکہ اکثر عذاب قبر پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔) تو یہ دونوں حدیثیں حدیث عُرَنیین کے دوسرے جز جو گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پیشاب کے پینے اور ان کے پاک سے متعلق ہے ناسخ ہیں۔ الغرض ثابت ہو گیا کہ مثلہ کرنا حرام ہے اور وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک ہے اور ان کے پیشاب کا پینا بھی حرام ہے۔ (نورالانوار، قمرالاقمار)12۔
العربية
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The phrase "or whatever it is" refers to the tanning process. In "Radd al-Muhtar," it is mentioned that tanning can be done using sunlight or similar methods, referred to as "tanning by judgment." This points to a difference with Imam Shafi'i's opinion, and the indication is that there is no difference between the two types of tanning in their rulings, except for one. According to the "al-Bahr," the only distinction is that if the leather undergoes real tanning, it doesn't return to being impure even if water touches it afterward, which is agreed upon in all narrations. However, for "tanning by judgment," there are two views. The stronger opinion is that it does not return to being impure, as stated in "Qahistani" from the "Mudammirat." The difference in opinion in "Mukharrarat al-Nazil" is limited to cases where the tanning by judgment happens before washing with water; if it happens after washing, then there is no disagreement that the impurity doesn't return.
Note 1
(۱) قوله : أو ما كان : وقال في رد المحتار: ولو بشمس أي ونحوه من الدباغ الحكمي. وأشار به إلى خلاف الإمام الشافعي، وإلى أنه لا فرق بين نوعي الدباغة في سائر الأحكام. قال في البحر»: إلا في حكم واحد، وهو أنه لو أصابه الماء بعد الدباغ الحقيقي لا يعود نجسا باتفاق الروايات، وبعد الحكمي فيه روايتان. اهـ والأصح عدم العود، قهستاني» عن «المضمرات». وقيد الخلاف في مختارات النازل بما إذا دبغ بالحكمي قبل الغسل بالماء، قال: فلو بعده لا تعود نجاسته اتفاقا.
Note 1
ف: چمڑے سے اس کی بدبو اور ناپاک رطوبتوں کے دور کرنے کو دباغت کہتے ہیں، واضح رہے کہ دباغت کی دو قسمیں ہیں (1) حقیقی (2) حکمی۔ دباغت حقیقی یہ ہے کہ چمڑے کو دواؤں کے ذریعہ مثلاً نمک، انار کے چھلکے، مازو اور کیکر یعنی ببول کے پتوں سے پاک کیا جائے، اور دباغت حکمی یہ ہے کہ چمڑے کو دھوپ میں اس طرح تپایا جائے یا مٹی اور راکھ میں اس طرح روندا جائے کہ اس کی بدبو اور رطوبت دور ہوجائے۔ دباغت حقیقی سے چمڑا ہمیشہ کے لئے پاک ہوجاتا ہے اور اس کی نجاست پھر عود نہیں کرتی البتہ دباغت حکمی میں اختلاف ہے اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دو روایتیں منقول ہیں: ایک یہ کہ نجس رطوبت پانی کی تری کی وجہ سے عود کر جائے گی تو چمڑا پھر نجس ہوجاتا ہے، دوسری روایت یہ ہے کہ دباغت حکمی کے بعد چمڑا دوبارہ پانی میں تر ہوجائے اور رطوبت ظاہر ہوجائے تو یہ رطوبت جو ظاہر ہوئی ہے اصلی پہلے کی رطوبت نہیں ہے کیوں کہ چمڑے کی اصلی رطوبت دھوپ یا مٹی یا راکھ سے جاچکی تھی اس وجہ سے چمڑے کو نجس نہیں قرار دیا جاسکتا اور اسی دوسرے قول پر (جس سے چمڑے کا پاک رہنا ثابت ہوتا ہے) فتویٰ ہے۔ (شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ، غیاث اللغات۔) البتہ ”مختارات النوازل“ میں یہ صراحت ہے کہ دباغت حکمی میں اگر چمڑے کو دباغت سے پہلے پانی سے دھولیا جائے اور پھر دھوپ یا مٹی یا راکھ کے ذریعہ دباغت دی جائے تو چمڑے کی نجاست بالاتفاق عود نہیں کرے گی اور یہ دباغت حکمی دباغت حقیقی کے مثل ہوجائے گی۔ 12